بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 838 ارب، یعنی 83,800 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
پاکستان کے کل اضلاع کی تعداد بشمول آزاد کشمیر و گلگت بلتستان 171 ہے۔
بالفرض میری یوٹوپیائی سوچ کے مطابق یہ 83,800 کروڑ روپے 171 اضلاع میں مساوی تقسیم کر دیے جائیں تو فی ضلع 490 کروڑ روپے حصے میں آتا ہے۔ یقیناً بڑے اور چھوٹے اضلاع کے تناسب سے یہ رقم کہیں کم اور کہیں زیادہ بھی کی جا سکتی ہے۔
اب ایک ضلع میں تقریباً اس پانچ ارب سے۔،ایک ارب کا زنانہ، ایک ارب کا مردانہ کارخانہ، فیکٹری، انڈسٹری لگائی جا سکتی ہے۔ باقی تین ارب روپے 3000 نوجوانوں کو فی کس دس لاکھ روپے کا بلا سود کاروباری قرضہ دے دیا جائے۔۔۔ کیا یہ زیادہ بہتر نہیں ہے؟
ملک بھر میں 513000 نوجوان بچے، بچیاں سال بھر میں اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔
ایک ایک ارب کی چھوٹی انڈسٹری بنتے ہوئے بھی ہزاروں لوگوں کو روزگار ملے گا اور انڈسٹری بن جانے کے بعد لاکھوں کو۔
لیکن نہیں۔۔۔ “میں تے ہونڈا ای لے ساں”
کیا مقتدر حضرات نے یہ عظیم مقولہ نہیں سنا ہوا کہ۔۔
“مفت کا کھودنا، زمین کا نقصان”
اور یہ عام مقولہ۔۔۔ “مالِ مفت، دلِ بے رحم”
عالی جناب۔۔۔ بحیثیتِ قوم ہماری جبلت ہے کہ ہمیں مفت میں آگ بھی ملے تو ہم لے لیتے ہیں۔
یقیناً بہت سے مستحق، بزرگ لوگ بھی اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔۔۔ مگر اکثریت ہڈ حرام اور بھکاری ذہنیت بھی ہو رہے ہیں۔
حدیثِ مبارکہ کا مفہوم بھی ہے کہ مچھلی دینے کی بجائے مچھلی پکڑنا سکھانا بہتر ہے۔
قوم کو بھکاری بنائے رکھنا، قطاروں میں لگائے مصروف رکھنا اور پھر ان سے سیاسی فائدے کشید کرنا ہی حقیقی مطمعِ نظر ہے اشرافیہ کا۔
کبھی محترمہ بے نظیر کے نام کو کیش کرانا، کبھی شہباز شریف، تو کبھی احساس پروگرام۔
کوئی نہ آ کر یہ بتائے کہ بیرونی امداد ہی اسی شرط پر ملتی ہے کہ غربا و مساکین میں تقسیم ہوں۔
کیا آپ نے ان بیرونی امداد دہندگان کو یہ تجاویز دی ہیں کہ غربت کی سطح سے نیچے والوں کو روزگار دینے، اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے طریقہ کار بدلا جائے۔؟؟
نہیں، بھکاری رکھا جائے گا؟ اشرافیہ کا مفاد اسی میں ہے۔
اور قوم کے بہت سے نابغے۔۔۔ اپنے اپنے بتوں کی خوشامد میں اس بھیک کلچر کی حمایت کرنے دوڑے چلے آتے ہیں۔
اچھا بتائیں، کوئی ایک مثال دیں کہ بھیک سے کوئی قوم اپنے پاؤں پر کھڑی ہوئی ہو؟
بی آئی ایس پی سے پیسے لینے والے لاکھوں میں سے کوئی ایک۔۔۔؟؟؟ کوئی ایک فرد اپنے پیروں پر کھڑا ہوا ہو اور اس نے آ کر کہا ہو کہ جناب۔۔۔ بس۔۔۔ اب میں برسرِ روزگار ہو گیا ہوں۔ میرا اکاؤنٹ بند کر دیں۔
افلاطون نے مثالی ریاست کا تصور پیش کیا تھا۔
اس کے شاگرد ارسطو نے اسے رد کیا اور کہا کہ زمینی حقائق کے پیشِ نظر مثالی دنیا وجود میں نہیں آ سکتی۔
دونوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔
یار کچھ نہ کچھ مثالی تو دنیا کرنے کی کوشش کرتی ہی رہتی ہے۔۔۔ اسکینڈے نیوین ممالک، خلیجی ریاستیں اور دنیا بھر میں دیگر فلاحی ریاستیں کیا کلی طور پر یہی کچھ کر رہی ہیں۔۔۔؟؟؟ جو ہم کر رہے ہیں۔۔۔؟؟؟
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ۔
اور بحیثیتِ قوم۔
“اساں تے ہونڈا ای لواں گے”


