نتھنے (حصہ دوم)
تحریر : صادقہ نصیر
رفتہ رفتہ گھر کے بڑے بھی باہر کھانے لگے ۔ وہ سب جونہی کسی باہر کے پبلک باورچی خانوں کے قریب سے گزرتے ان کے نتھنے اتنے متحرک ہونے لگتے کہ گاڑیاں روک کر سب بے ساختہ نتھنوں کو پھیلا کر وہاں میزوں پر جگہ سنبھالتے اور سزلنگ آوازوں کے ساتھ خوشبو ان کے اندر کھانے کےبڑے بڑے آٹے سے بنے آرڈرز انڈیل دیتی ۔ اب تو دوپہر کو سلاد کے پیکٹ ، اور ڈرنکس پر گزارہ ہو جاتا ۔ رات کو بھی گھر کا باورچی خانہ نہ جلتا اور نہ ہی بدبو پھیلتی ۔ رات کو ڈبوں میں کھانا آرڈر ہو جاتا ۔ وہ بھی اس آرام کی عادی ہوگئی تھی ۔ نرگس کے پودوں کو ٹک ٹاک پر بتائی ترکیبوں سے باورچی خانے کے سارے مصالحے ان پودوں کے گملوں میں ڈال دیتی ۔ نرگس کے پودوں کو تو قیمتی مصالحوں کے آمیزے سے سینچتی ۔ باورچی خانہ اچھا بھلا اندرونی سبزہ زار لگنے لگا تھا ۔ باورچی خانے سے اب نہ ابکائ والی بو آتی تھی نہ گندے برتنوں کا ڈھیر لگتا تھا ۔ باورچی خانے کے درو دیوار صاف رہنے لگے ۔ اور زندگی کا شور بھی کم ہوگیا ۔ ہاں گھر میں چہل پہل تب ہوتی جب کھانے کی ڈلیوری ہوتی ۔ سب کے نتھنے پھیل جاتے ۔ “واؤ” اور ” امیزنگ” کی آوازوں سے گھر میں چند لمحوں کے لئے رونق لگتی ۔ سب افراد جن کو ابکائیاں آتی تھیں وہ اشتہا سے مغلوب باہر دروازے پر نگاہیں لگائے بے تابی سے کھانے کی ڈلیوری کا انتظار کرتے ۔
اس کی ممتا کو تسلی ہونے لگی کہ اس کے بچے ابکائی کی شکایت کئے بغیر خوب رغبت سے کھانا کھاتے ہیں اور میٹھے شربت بھی پیتے ہیں ۔ اب اس کو بچوں کے جسموں میں پانی کی کمی کی فکر بھی نہ ہوتی ۔ وہ مجبورا اور لا شعوری طور پر خوش ہونے لگی یہ دیکھ کر کہ جب سےاس کے بیٹے بیٹیاں پیٹ بھر کر کر کھانے لگے ہیں ان کے جسم صحتمند دکھائی دیتے ہیں ۔ اور اس کی زندگی میں بھی آرام کے لمحے مل گئے ۔ باورچی خانے کی چمکدار ٹائلیں ، درو دیوار گندے نہیں ہوتے ۔ ماربل کے بیش قیمت کاونٹر بالکل صاف رہتے ہیں ۔ گھر میں داخل ہوتے ہی پورے گھر میں موم بتی کا اروما مہکتا ہے ۔ اب اسے گھر کے بقیہ حصوں کو صاف اور ٹائڈی رکھنا بھی آسان ہوگیا ہے ۔ اس کے گھر سے اب کبھی دقیانوسی ناسٹیلجیا کے کھانوں کی خوشبو جو ” بدبو ” بن چکی تھی اب نہیں آتی ۔ باورچی خانے کی ” بدبو ” کے ختم ہو جانے سے سب کے نتھنے پرسکون ہوگئے تھے ۔ سب کو نرگس کے پھولوں کی خوشبو سے مہکنے کا موقع ملنے لگا ۔
اب بچے بھوک بھوک کی رٹ لگا کر ماں کا دماغ بھی نہ کھاتے ۔ نرگس کے پھولوں نے سب کے نتھنوں کی پلاسٹک سرجری کردی تھی ماں کو سکون ہی سکون تھا ۔ مگر اب اس کی ممتا اپنے بچوں کی آوازوں کی رونق سے محروم تنہا کمرے میں رہتی ۔ اب کسی کو اس کی ضرورت نہیں تھی ۔ بچے باہر سےکھانا آرڈر کرتے ۔ ماں کو بھی تکلفا آواز دیتے ۔ ماں خاموشی سے نرگس کے پھولوں کی خوش بو میں مہکتے کھانے کے لئے بیٹھ جاتی ۔ مگر وہ اب گم سم رہنے لگی ۔ کوئی اس کے کھانے کی تعریف نہ کرتا ۔ بلکہ الٹا اسے اس طرح دیکھتے کہ جیسے وہ آرڈر شدہ کھانوں کی تعریف کرنے کو کہہ رہے ہوں ۔ تو اسےکہنا پڑتا ” آج کا کھانا بہت مزے کا ہے ” ۔ اور پھر پلاسٹک جیسے بے رونق اور بے خوشبو کھانوں کے ٹکڑوں کو بچوں کے سکھائے طریقے سے دانتوں سے کاٹ کر حلق میں انڈیلتی ۔ اور اگلے دن وہ اور اس کا شوہر بیمار ہو جاتے مگر وہ مروتا بچوں کو کچھ نہ کہتے ۔ ۔ پھر پبلک باورچی خانوں کی ریٹنگ ہوتی ۔ ہر مرتبہ باہر کا ایک نیا باورچی خانہ ٹرائی ہوتا ۔
اسے اب بچوں کو کھانے کے آداب نہ سکھانے پڑتے بلکہ بچے اسے سمجھاتے کہ کونسا کھانا کیسے پکڑا جاتا ہے اور چٹنیوں کو ” ڈپ” کہتے ہیں ۔ وہ اسے سمجھاتے کہ فلاں کھانے پر یہ ” ڈپ ” ڈالتے ہیں ۔ اور وہ اداس ہو جاتی کہ کوئی بھی اس کی بنی خالص چٹنیوں کی فرمائائش نہیں کرتا ۔ بلکہ اسے لگتا کہ سب اس کے کھانوں کو ہی نہیں بلکہ اسے بھی بھول چکے ہیں۔ کھانا آرڈر کرنے والے دن وہ اپنے آپ کو کسی احسان تلے دبا ہوا سمجھتی ۔ پھر نتھنوں کی پلاسٹک سرجری کروانے والے سب گھر والے اسے بے کار سمجھنے لگے ۔ لڑکیاں اور لڑکے سب نفسیاتی مریض بننے لگے تھے ۔ معمولی باتوں پر چیختے دھاڑتے ۔ موڈ سونگز میں مبتلا لڑکیاں پیر پٹختی باہر نکل جاتیں اور گھنٹوں بعد خاکی لفافوں میں کھانے لے کر گھر پہنچتیں ۔ اب تو اپنی بیٹیوں کی طرح اسے بھی موڈ سونگز ہونے لگے ۔ اسے یکدم خیال آیا اور اس نےسوچا کہ وہ بے کار نہیں ہے ۔ بلکہ اچھا ہوا کہ بچے باہر سے کھانا کھا لیتے ہیں ۔اس کو اپنی نظموں ، کہانیوں کے لئے مزید وقت مل گیا ہے ۔
لیکن اب جب بھی وہ لکھنے بیٹھتی اس کے پاس کوئ تخلیقی خیال نہ ہوتا ۔ اسے لگا کہ وہ بانجھ ہو گئی ہے ۔ جیسے باورچی خانے کی بدبو سے اس کا گھر صاف ہوگیا ہے اس کا ذہن بھی سلیٹ کی طرح صاف ہوگیا ہے ۔ وہاں کچھ بھی تو نیا خیال نہ تھا کہ وہ کہانی لکھوائے ، مجسمہ بنائے ، یا کوئی رنگین پینٹنگ ۔ یہ سب تو ممتا کے جذبوں اور باورچی خانے میں جلتے آگ کے الاؤ سے نکلتا تھا ۔ اب تو ممتا بھی مر چکی تھی ۔ کوئی بھی اس کو ماں نہ سمجھتا ۔ شاید سب کو پبلک باورچی خانوں سے سب کچھ مل جاتا ہے تبھی اس کے اندر کی عورت بھی مرنے لگی ۔ اس کے شوہر کو بھی باہر سے کھانے مل جاتے ۔ اسے لگا کہ اس کے خاندان کا شیرازہ بکھرنے لگا ہے ۔ اب وہ ایک بے کار سا وجود ہے ۔ یاسیت کا ہلکا ہلکا زہر اس کے وجود میں سرایت کرکے ڈپریشن بنتا جا رہا تھا ۔
ایک دن اس کو عجیب سوجھی وہ گھر کے قریب بازار کے ایک مشہور باورچی خانے میں کام کرنے لگی ۔ جہاں وہ سزلنگ کھانے بناتی اور ڈیپ فرائی تیل میں تلتی اور اجنبی بچوں اور مسافروں کو پیک کرکے دیتی ۔ کمرشل باورچی خانہ خوب چلتا تھا ۔ رات گئے ایک میلا سا نیپکن پکڑ کر دوسرے ہاتھ سے سپرے کرکے خالی چھوڑی میزوں کو صاف کرتی ۔ گھر آتی تو ہر بچہ اپنے نتھنوں کے حساب سے باہر کے باورچی خانوں سے آرڈر کرکے اپنا پیٹ بھر چکا ہوتا ۔ اور اپنے کمروں کی کنڈیاں لگا کر کانوں میں فون لگا کر نو انٹری کا اشارہ دیتا تو وہ بے بس ہو کربے چین سی ہو جاتی ۔ وہ سوچتی کہ نہ جانے اس سے کیا غلطی ہوگئی تھی کہ اس کے بچوں کو اس کے کھانوں سے بد بو آنے لگی تھی ۔ اب بھی تو وہ دوسرے بچوں کو کھانا پیک کرکے دیتی ہے ۔ سب نوجوان لڑکے لڑکیاں بلکہ ہر عمر کے راہی مسافر راہی نتھنے پھیلا کر کھانا پکڑتے ہیں۔ ان سب کی آنکھوں میں چمک ہوتی ۔ مگر وہ کاونٹر پر کھڑے ہوکر جب موقع ملتا لائن میں لگے لوگوں کو دیکھتی تو اسے عجیب سا لگتا۔ لیکن اب تو اس کے نتھنے بھی پلاسٹک کے ہو چکے تھے وہ باہر کے باورچی خانے میں صبح سے شام تک اتنا مصروف رہتی کہ اسے ان سوچوں کا وقت نہ ملتا ۔ وہ ہر ہفتہ اجرت جیب میں ڈالتی ۔
چھٹی والے دن اپنا ہئیر سٹائل درست کرتی ، پیڈی کیور کرواتی اور نیند کی دوا لے کر سو جاتی ۔ کیونکہ اس ککی سجاوٹ کو سراہنے والا کوئی نہ تھا ۔ سب سو چکے تھے ۔ یا کبھی وہ تنہا ہی کسی دوست سے ملنے چلی جاتی ۔ اور اس کے ساتھ کسی قریبی کمرشل باورچی خانے سے کھانا خریدتی اور بے مقصد گفتگو کرکے بلا ضرورت پیٹ بھر کے واپس آجاتی ۔ مگرہفتوں اس کو اپنے بچے نظر نہ آتے ۔ نہ ہی اس کے کھانوں کی تعریف کرنے والا شوہر نہ کوئی مہمان ۔ ہر کوئی اپنے مہمان کو باہر کے باورچی خانوں سے کھلا پلا کر آجاتا ۔ اب گھر میں کوئی مشترکہ مہمان نہ آتا ۔ کوئی دعوت نہ ہوتی ۔ وہ سوچتی کیا سب کے نتھنوں کی پلاسٹک سرجری ہو چکی ہے ۔ کیا میرے شوہر کو بھی میری خوش بو نہیں آتی ۔ اور کیا بچوں کے نتھنے بھی مجھے بھول چکے ہیں ۔ کتنے اچھے دن تھے جب اس کا شوہر بھی اس کے ساتھ کھڑا ہوکر اس کی مدد کرتا ، برتن دھوتا اور ایک دوسرے کی قربت کا دن کو بھی موقع مل جاتا ۔ وہ جب گھر کے باورچی خانے میں مہکتے کھانے بنایا کرتی تھی تو دن بھر کئی تخلیقی خیالات اس کے ذہن میں آتے تھے اور وہ فارغ وقت میں نظمیں لکھتی تھی ، کہانیاں لکھتی اور سب گھر والوں کو سناتی تھی اور اپنی تخلیقی صلاحتوں کو اپنے چولہے کی گرمی سے اجاگر کرتی تھی ۔ اور اب تو وہ کھانے پکانے کی ترکیبیں بھی بھول چکی تھی ۔ اور لکھنا بھی ۔
اب ہفتے کے سات دن وہ باہر کے باورچی خانے پر کھڑی ہوکر اجنبی بچوں اور مسافروں کے کھانے پیک کرتے کرتے اتنا تھک جاتی ہے کہ ایک پل سستانے کو نہیں ملتا ۔ ہاں ہفتے کے آخر میں پیسے ضرور مل جاتے ہیں ۔ اور ان پیسوں سے وہ ان ڈور پودے خرید لاتی اور مصالحوں کی کھاد بنا کر کچن میں رکھے پودوں کو سینچتی ۔ اور نرگس کے پھول اپنی خوش بو سے اسے لبھاتے ہیں ۔ لیکن وہ نہ جانتی تھی کہ ان نرگسی پھولوں کی خوش بو سے اس کے بچوں کے نتھنےاس کی ممتا بھری خوش بھول چکے ہیں ۔ اب دن بدن گلی کے تمام گھروں سے نکلتی نرگس کی بھینی تیز خوشبو گلی میں پھیلنے لگی تھی اور باورچی خانوں کی بھوک بڑھاتی خوشبو بدبو میں بدل چکی تھی ۔ اب ماحولیاتی آلودگی کا خیال بھی تہذیب بن چکا تھا ۔ باورچی خانے کے کھانوں کی بدبو سے ماحول کو پاک کرنے کے لئے لوگ اس بات کا خیال رکھنے کی وجہ سے باورچی خانے میں کھانے کم پکتے ۔ لوگ مہذب ہو چکے تھے ۔
اس کی نوجوان بیٹیاں اور جوان بیٹے سب ہی باہر سے کھاتے ۔ اخراجات بڑھنے لگے ۔ لڑکیاں کاوچ پٹیٹو بننے لگیں ۔ لڑکے ٹین ایج کی چنگھاڑیں نکالتے کب نکل جاتے اسے معلوم نہ ہوتا ۔ اب گھر میں کوئی کام نہ تھا ۔ سجا سجایا آراستہ میوزیم کی طرح کا گھر ۔ اب بے حرکتی کی وجہ سے پھیلتے جسموں نے فٹ ہونے کے لئے جم کا رخ کیا ۔ وہ مری ہوئ ممتا کے ساتھ شام کو گھر آتی تو سب جم جا چکے ہوتے ۔ اس کا دل اب لکھنے ، مصوری کرنے اور مجسمہ سازی سے بھی ابکائی کرنے لگتا ۔ شوہر بھی نرگسی پھولوں کی زہریلی خوشبو سے زہر اگلنے لگا تھا ۔ وہ سوچتی کہ میرا شوہر ، بچے سب دور ہوگئے ۔ میری ممتا کا جذبہ ہی نہیں مرا بلکہ میری گود بھی بدبو دار ہوگئی ہے ۔ شوہر ہر صبح سفید بالوں کے ساتھ باہر سے منگوائےکھانوں کے خالی ڈبے گاربیج کرنے کے لئے کترکتر کر انہیں ری سائیکل میں رکھتا ۔ اس کا مزاج بھی چڑ چڑا اور اجنبی سا ہوگیا تھا ۔ گھر میں خاموشی ، بے اعتنائی اور بے رخی نے ڈیرے ڈال لئے تھے ۔ رابطے محدو ہوگئے تھے ۔ سب کی مصروفیات میں تھیراپسٹ کے پاس جانا بھی باہر کے باورچی خانے کی طرح لازمی ہوگیا تھا ۔ لڑکیاں چہروں پر اگے بالوں کی ویکسنگ پر باقاعدہ جانے لگیں ۔ ان سب خرچوں کو پورا کرنے کے لئے سب نے باہر کے باورچی خانوں میں روزانہ اجرت پر جابز کرنی شروع کردیں ۔ اس نے مزید نرگس کے پھول اگانے شرع کر دئے ۔ ہر بار وہ پودے خریدتی تو ان کی اچھی نشونما کے لئے مختلف مصالحے بھی لاتی ۔ ان کو ایسے گملوں میں ڈالتی جیسے وہ کبھی اپنے گھر کے باورچی خانے میں بچوں کو توانا بنانے کے لئے مختلف اجزائے ترکیب کھانوں میں ڈالتی ۔ گملوں کے پودے ہرے بھرے ہوتے جاتے ۔کچھ میں پھول بھی کھلتے ۔ نرگس کے پھول بھی بھینی خوش بو کی آڑ میں خفیہ طور پر زہر بکھیرتے رہے ۔
یہ زہر اس کی ممتا کا قاتل بنتا جا رہا تھا ۔ آخر وہ ڈپریشن میں مبتلا ہوگئی ۔ اسے غم تھا کہ کسی نے جادو کرکے اس کے بچے اس سے چھین لئے ہیں ۔ اب وہ نہ کہانیاں لکھتی نہ نظمیں ۔ اس کے بچوں کی شادیاں ہوگئیں ۔ بچوں کے بچے پیدا ہونے سے پہلے اسے یکدم خیال آیا کہ ہو نہ ہو یہ نرگس کے پھولوں سے نکلنے والی منحوس خوش بو ہی تو ہے جو اس کے باورچی خانے کے ہر کھانے کو اپنے زہر سے بدبو دار کرتی ہے ۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھی اور اپنے ہونے والے گرینڈ چلڈرن کے دنیا میں آنے سے پہلے ان نرگس کے پھولوں کے زہر سے خلاصی پائے گی ۔ اس نے نرگس کے تمام گملوں سے پھولوں سمیت پودے نوچ کر اکھیڑ دئیے اور گملے پھینک دئے ۔ اپنے باورچی خانے کا چولہا جلایا ۔ مصالحوں کی دھونی دی اس آگ سے ساری زہریلی خوش بو رفتہ رفتہ غائب ہوگئی ۔ اس نے قسم کھالی کہ اس کے بچے تو اس کے کھانوں سے ابکائیاں کرتے تھے مگر اب اپنے گرینڈ چلڈرن کے لئے گھر کے باورچی خانے میں کھانا پکا کر دے گی ۔ اور گھر ایک بار پھر یکجا ہوجائے گا اس کے بچے اور بچوں کے بچے ایک ساتھ مل کر خوشبو والے کھانوں کی خوش بو کی طرف لپکیں گے ۔ تازہ صحت بخش کھانے ۔ اور پودے نکالتے ہی زہریلی خوش بو ختم ہونے لگی ۔ اور اس کی ممتا پر جذباتی حملے کے نشان بھرنے لگے ۔ اب کھانوں کی مہک پھر سے جو پھیلی تو اس کی ممتا کے زخم بھرنے لگے ۔ اور اگلے دن اس کے گھر کے باورچی خانے کی آگ ایسے جلی جیسے زندگی کی آگ ۔ جس کے گرد اس کی کوکھ سے نکلے پودے جمع ہوکر خوب کھاتے اور اس کی آنکھیں اور گال دمکنے لگے ۔ اب اس کو ڈپریشن کی کسی دوا کی ضرورت نہ رہی ۔
نتھنوں پر سے پلاسٹک سرجری کے ٹانکے کھل گئے تھے ۔ لیکن اس نے محسوس کیا کہ ابھی بھی کہیں نرگسی خوشبو کا زہریلا بھپکا اٹھتا ہے جو ننھے کانوں میں اس کے باورچی خانے کے بنے کھانوں سے منع کرنے کے لئے ہلکی سی سرگوشی کرتا ہے ۔ شاید نرگس کے پھولوں کا زہر کسی کے ذہن میں سرایت کرکے چپک گیا ہو ۔ اور وہ نامعلوم نرگسی مزاج کا غیر مرئی وجود ان ننھنوں کے نتھنوں کی بھی پلاسٹک سرجری کر چکا ہے ۔ لیکن اس نے اپنے باورچی خانے کا الاؤ جلائے رکھنے کا مصمم ارادہ قائم رکھا ۔ وہ روزانہ تازہ کھانا بناتی اور شیلٹر ہومز میں مفت ڈلیور کرتی ۔ کئی سکولوں میں بھی اس نے مفت تازہ لنچ کا فراہم کرنے کا اجازت نامہ لے لیا ۔ شاید وہ سمجھنے لگی تھی کہ سارے بچے اس کے ہیں کوئی ایک لقمہ تازہ محبت کا کھا سکیں اور نرگس کے پھول کے زہر کا تریاق ہو سکے ۔. وہ اب بھی ایسا کرتی ہے ۔ وہ دنیا کے بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کی علم بردار ہے مگر تنہا باورچی خانے کے الاؤ کی محبت پر اٹل یقین رکھتی ہے ۔ وہ خاموش سرگوشی سے پیغام دیتی ہے کہ
“باورچی خانے کا چولہا جلاؤ ورنہ خاندان کو ختم کردو”
۔۔۔۔۔۔


