باہمی فنا کاری
باہمی بقا اور عالمی محبت کے پاسداروں کو
کیا معلوم کہ؛
ہم سب مرے ہوئے لوگ ہیں
ہم کچھ نہیں سوچتے۔ سوچتے ہیں تو کچھ نہیں بولتے ،
بولتے ہیں تو کچھ نہیں تولتے،
تولتے ہیں تو؛ دوسروں کے بولنے کو تولتے ہیں۔
دوسروں کو تول کر ؛
ہم دوسروں کو مار دیتے ہیں ،
یا دوسروں کو کہتے ہیں کہ انہیں ماردو،
اور وہ بے ارتقا بندر کہنا مان لیتے ہیں ۔
باہمی فنا کاری کا سلسلہ
ہم میں سے بہت سے
سوچنے اور بولنے والے لوگوں کو فنا کر چکا ہے۔
ہم سب اب بے زبان لاشیں ہیں ۔
زندہ لوگوں کے لباسوں میں ۔
ناطقہ بند مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ تہذیب کی چیخ ہے۔۔
صادقہ نصیر


