کتابوں کی الماری/علی عبداللہ

میں اک عرصے بعد اپنی کتابوں کی الماری کے سامنے آ بیٹھا ہوں- یونہی، جیسے کوئی اپنے پرانے دوستوں کے دروازے پر بے مقصد دستک دے دے۔ کمرے میں ہلکی سی خاموشی ہے، مگر یہ خاموشی ویسی نہیں جو سنّاٹے سے پیدا ہو؛ یہ وہ خاموشی ہے جس کے اندر بہت سی آوازیں قید ہوتی ہیں۔

میں نے الماری کے مزید قریب آیا تو یوں لگا جیسے کسی نے ایک لمبی سانس لی ہو۔ کتابیں مجھے دیکھ رہی تھیں۔ کچھ دیر تک تو وہ سب خاموش رہیں، پھر جیسے کسی نے ہمت باندھی اور ایک مدھم سا شکوہ فضا میں ابھرا:
“اتنے دنوں بعد یاد آئی ہے؟”
میں چونک سا گیا۔

سب سے پہلے ناصر کاظمی کی ڈائری نے مجھے دیکھا- وہی مانوس اداسی، وہی شکستہ سی مسکراہٹ۔ اس کے ورق ہلکے سے کانپے، اور اس نے ایک ایسی بےچارگی سے میری طرف دیکھا جیسے کوئی پرانا دوست گلہ بھی نہ کر سکے۔ مگر مجھے محسوس ہوا جیسے وہ کہہ رہی ہو،
“میں تو روز تمہارا انتظار کرتی رہی، تم نے ہی پلٹ کر ہی نہیں دیکھا۔”

میں نظریں چرا گیا۔

اتنے میں ایک اور آواز آئی- کچھ زیادہ زندہ، کچھ زیادہ بے چین۔ یہ انتون چیخوف کے افسانے تھے۔ ان کے صفحات میں جیسے زندگی کی وہی معمولی مگر گہری دھڑکن موجود تھی۔ “آؤ، بیٹھو،” انہوں نے کہا، “تمہیں یاد ہے نا ہم نے کتنی بار انسان کو اس کی کمزوریوں سمیت سمجھنے کی کوشش کی تھی؟ لیکن تم نے ہمیں ادھورا چھوڑ دیا۔” میں نے ہاتھ بڑھایا، مگر پھر رک گیا۔

اسی لمحے، الماری کے ایک کونے سے ایک گہری، اور بہتی ہوئی آواز ابھری، جیسے کسی دریا نے مجھے پکارا ہو۔ میں نے نظر اٹھائی تو یہ ناول “اور ڈان بہتا رہا” تھا۔ “میں تو اب بھی بہہ رہا ہوں،” اس نے کہا، “وقت کے ساتھ، درد کے ساتھ، انسان کی ضد اور محبت کے ساتھ… مگر تم کنارے سے اٹھ کر کہیں اور چلے گئے۔ کیا تمہیں یاد ہے تم کبھی میرے ساتھ بہتے تھے؟”

میں خاموش ہو گیا۔

یہ کتابیں محض کاغذ نہیں تھیں- وہ میرے ماضی کے ٹکڑے تھیں، میرے ادھورے سوال، میرے وہ لمحے جنہیں میں نے خود ہی چھوڑ دیا تھا۔ میں نے آہستہ سے ایک کتاب کو چھوا۔ وہ جیسے دھڑک اٹھی۔ اور پھر ایک سرگوشی ابھری “ہم تمہیں چھوڑ کر نہیں گئے تھے، تم ہی ہمیں چھوڑ آئے تھے- وقت کی مصروف راہوں میں، یا شاید اپنی ہی بےرخی میں۔”

میں نے سر جھکا لیا۔ میں کتابوں کی الماری کے پاس نہیں بلکہ ایک عدالت کے سامنے تھا، جہاں مجھ پر میرے اپنے ہی خواب گواہی دے رہے تھے- میں نے ایک ایک کتاب کو نکالنا شروع کیا، جیسے کوئی اپنے بکھرے ہوئے وجود کو سمیٹنے لگے۔ کمرے کی خاموشی اب ویسی نہیں رہی تھی۔ اب اس میں لفظوں کی ہلکی ہلکی سرگوشیاں تھیں-

میں ابھی ان آوازوں کے ہجوم میں کھڑا تھا کہ جیسے ہر کتاب مجھے اپنے دائرے میں واپس بلانا چاہتی ہو- اچانک ایک اور سرگوشی ابھری، دور سے، بہت دور سے…پہلے پہل وہ مدھم تھی، جیسے کسی پرانے سمندر کی لہریں یادوں کے ساحل سے ٹکرا رہی ہوں۔ آہ۔۔۔یہ تو اوڈیسی تھی- اس نے مجھے پکارا- “تم نے بھی تو ایک سفر شروع کیا تھا… یاد ہے؟
واپسی کا سفر، خود تک پہنچنے کا سفر… مگر تم راستے میں کہیں رک گئے۔”

میں نے آنکھیں موند لیں۔ واقعی، میں نے بھی کتنے سفر ادھورے چھوڑ دیے تھے- نہ کسی جزیرے پر ٹھہرا، نہ کسی طوفان سے مکمل گزر پایا۔ ابھی میں اسی کشمکش میں الجھا ہوا تھا کہ اچانک ایک نہایت دھیمی، مگر مانوس آواز سنائی دی- جیسے کوئی خط کھولا جا رہا ہو…
جیسے کوئی لفظ کاغذ پر آہستہ آہستہ اتر رہا ہو…
میں نے پلٹ کر دیکھا۔ ہائے۔۔۔وہ غبار خاطر تھی- وہ نہ چیخ رہی تھی، نہ مجھے اپنی طرف کھینچ رہی تھی- بس خاموشی سے موجود تھی۔ “آؤ،” اس نے بہت آہستہ کہا، “میں تمہیں شور سے نکال کر تنہائی میں لے چلوں…جہاں لفظ محض الفاظ نہیں رہتے، بلکہ دل کی گواہی بن جاتے ہیں۔”

میں اس کے قریب گیا۔ یہ وہ آواز تھی جو جلدی میں نہیں تھی، جو قائل نہیں کرتی تھی، بلکہ آہستہ آہستہ انسان کے اندر اترتی تھی۔

میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ اور یوں لگا کتابوں کی اس الماری میں۔۔۔۔۔۔میں دنیا نہیں ڈھونڈ رہا…میں خود کو ڈھونڈ رہا ہوں۔

اپنا تبصرہ لکھیں