دن بھر کی تھکن کندھوں پہ اٹھائے
سورج دیو جب شام ڈھلے
دھرتی کی اوٹ میں چھپ جائے
تال و بھنور سے ابھرے
افق پر جھومتے، ابر پارے
بادہ ارغوانی سے
مخمور سارے کے سارے
تیری لال انگارہ آنکھوں سے
ابھرتی نور کی کرنوں سے
سرخ ہو جائیں
تو
غروب آفتاب کے سپنوں سے
سجی اس کی چاہت
رات بھر تیرے پہلو سے
پہلو لگائے، تن کو چھپائے
آرام فرمائے
پھر دھرتی ماں کا یہ شہزادہ
خوابوں سے ماورا، حسن فروزاں سے
تیرے شعلہ بدن کی اوٹ سے
رنگین ہو کر
صبح دم
اک نیا جنم لیتا ہے۔


