شارل بودلیئر نے کہا تھا کہ ہم میں سے ہر شاعر نے کبھی نہ کبھی یہ خواب دیکھا ہے کہ ایسی نثر لکھی جائے جس میں وزن اور قافیہ نہ ہو مگر اس میں موسیقیت ہو جو دل کے احساسات، روح کی کیفیت اور ذہن کی اچانک لہروں کو اپنے اندر سمو سکے۔
مائیکل مورس کے مطابق “اسے بچپن سے پرندوں سے بہت محبت رہی ہے پرندوں کے رنگ، آوازیں، پر اور ان کی قسمیں اسے ہمیشہ متاثر کرتی رہی ہیں۔ جو لوگ پرندوں کا مشاہدہ کرتے ہیں وہ ہر نئی قسم کو الگ نام دے کر اپنی فہرست میں شامل کرتے ہیں۔ لیکن مجھے سب سے زیادہ دلچسپی ایسے پرندوں میں رہی جو دو مختلف اقسام کے ملنے سے بنتے ہیں جنہیں ہائبرڈ کہا جاتا ہے اس کا مزید کہنا ہے کہ “یہی بات ادب پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ جب میری دلچسپی موسیقی اور تصویروں سے ہٹ کر زبان کی طرف آئی تو میں ایک ادبی ہائبرڈ یعنی نثری نظم کا دلدادہ ہو گیا۔”
نثری نظم کیا ہوتی ہے؟ اس سوال کا سیدھا جواب دینا مشکل ہے۔ اگر آپ کسی شاعر سے پوچھیں تو وہ شاید مسکرا دے۔ عام طور پر شاعر نثری نظم کو مثالوں اور استعاروں کے ذریعے سمجھاتے ہیں۔
مشہور شاعر چارلس سیمک کے مطابق “نثری نظم کئی چیزوں کا ملاپ ہوتی ہے: غنائی شاعری، کہانی، پریوں کی داستان، تمثیل، لطیفہ اور ڈائری… سب ایک ساتھ۔”
ایک اور نقاد ایڈ ہرش کہتے ہیں کہ “نثری نظم دکھنے میں نثر جیسی ہوتی ہے مگر سوچتی شاعری کی طرح ہےسیمک کی ایک نثری نظم کی مثال میں وہ بتاتا ہے کہ دو مختلف دنیاؤں کی تصویریں ایک ہی پیراگراف میں آ جاتی ہیں اور ان کے درمیان کوئی واضح وضاحت نہیں ہوتی۔ یہی نثری نظم کا خاص انداز ہے اسے پیراڈاکس کہتے ہیں یعنی جملوں کو اس طرح ساتھ رکھنا کہ قاری خود ان کے درمیان تعلق تلاش کرے عام کہانی میں “کیونکہ”، “پھر”، “جب” جیسے الفاظ ہوتے ہیں مگر نثری نظم میں یہ کم ہوتے ہیں جس سے قاری چونک جاتا ہے اور سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔”
نثری نظم کہانی سے زیادہ احساس اور خیال کو اہمیت دیتی ہے۔ یہ واقعات سنانے کے بجائے تصویروں اور ذہنی ربط کے ذریعے بات کرتی ہے۔ اسی لیے ایک ہی نثری نظم میں خواب، یاد، خوف اور حقیقت ایک ساتھ آ سکتے ہیں۔ اسی طرح نثری نظم نہ پوری نظم ہے نہ مکمل نثر۔ یہ اکثر مبہم ہوتی ہے جلد ختم نہیں ہوتی اور قاری کو سوچ میں چھوڑ دیتی ہے۔
نثری نظم پرانی ادبی حدود کے خلاف بغاوت کرتی ہے مگر مکمل آزادی کے باوجود اسے ادب کی روایت سے جڑا رہنا پڑتا ہے اس کی ابتدا فرانسیسی شاعر لوئیس برتران سے ہوئی جنہوں نے تصویری پیراگراف لکھے بعد میں شارل بودلیئر نے اس صنف کو مشہور کیا اور روایتی شاعری کے خلاف لکھا۔
بودلیئر کے بعد ران بو اور مالارمے جیسے شاعروں نے اس صنف کو آگے بڑھایا اور پھر یہ بیسویں صدی کے کئی شاعروں تک پہنچی۔ امریکہ میں رابرٹ بلاس ، ایڈیسن ، لوئس گلک ، چارلس سیمک ، اسٹائن اور ولیم کارلوس ولیمز نے بھی نثری نظمیں لکھیں ۔
عالمی ادب کی اس لہر نے جب اردو کا رخ کیا تو یہاں بیسویں صدی کے وسط میں روایتی شعری ڈھانچوں کے خلاف ایک خاموش مگر توانا بغاوت نے جنم لیا۔ اردو میں نثری نظم کا باقاعدہ نقشِ اول سجاد ظہیر کے شعری مجموعے “پگھلا نیلم” (1964) کی صورت میں سامنے آیا۔ سجاد ظہیر نے شعوری طور پر نثری نظم کو ایک صنف کے طور پر متعارف کرایا اور ثابت کیا کہ قافیہ و ردیف کی بیساکھیوں کے بغیر بھی بلند پایہ شاعری ممکن ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ احمد ہمیش ، عبد الرشید نے اس صنف کو ایک مخصوص دانشورانہ لب و لہجہ عطا کیا جس نے اردو کے ادبی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا کہ آیا وزن کے بغیر بھی کوئی تخلیق “نظم” کہلانے کی حقدار ہے یا نہیں۔1960ء اور 70ء کی دہائی اردو نثری نظم کے لیے ایک باقاعدہ “تحریک” کا درجہ رکھتی ہے۔ اس دور میں احمد ہمیش ایک قد آور شخصیت بن کر ابھرے جنہوں نے نثری نظم کو محض ایک تجربہ نہیں بلکہ ایک مکمل احتجاجی اور باغیانہ اسلوب بنا دیا۔ احمد ہمیش، قمر جمیل ، عبد الرشید جیسے قلم کاروں نے مل کر اس تحریک کو توانا کیا۔ قمر جمیل نے تو نثری نظم کو “خالص شاعری” قرار دیتے ہوئے اس کے حق میں بھرپور علمی مقدمہ لڑا۔ اس تحریک نے شاعر کو مصرعوں کی گنتی سے آزاد کر کے احساس کی سچائی تک پہنچنے کا براہِ راست راستہ دکھایا۔
آج اردو نثری نظم اپنے بچپن اور لڑکپن کے مراحل طے کر کے ایک توانا جوانی میں داخل ہو چکی ہے۔ آج بہت سے اہم نثری نظم نگاروں نے اس صنف کو وہ معنوی گہرائی عطا کر دی ہے کہ اب یہ اردو شاعری کے بنیادی دھارے کا حصہ بن چکی ہے۔
بلاشبہ آج بھی نثری نظم زندہ ہے اور بہت سے معروف شاعر اس صنف میں لکھ رہے ہیں۔ اس کے باوجود نثری نظم ہمیشہ بحث کا موضوع رہی ہے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ نظم نہیں بلکہ نثر ہے میرے خیال میں بھی یہی الجھن اور بحث دراصل نثری نظم کی پہچان ہے۔ یہ صنف سوال اٹھاتی ہے، حدیں توڑتی ہے اور قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
اس پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہے کہ بےشک نثری نظم اردو ادب کی ایک نسبتاً جدید صنف ہے جو نثر اور نظم دونوں کی خصوصیات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ روایتی شاعری کی طرح بحر، وزن یا قافیہ کی پابندی نہیں کرتی لیکن اس کے باوجود اس میں ایک شعری فضا، جمالیاتی بہاؤ اور تخیلاتی گہرائی پائی جاتی ہے۔ نثری نظم بظاہر نثر کی طرح لکھی جاتی ہے مگر اپنے باطن میں نظم کی طرح جذباتی، علامتی اور صوتیاتی حسن رکھتی ہے۔ سادہ الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ نثری نظم، نثر میں چھپی ہوئی نظم ہے۔
اگرچہ یہ نثر کی طرح لکھی جاتی ہے لیکن اس میں شعریت یعنی احساس، تخیل اور جذبے کی شدت موجود ہوتی ہے جو عام نثر میں نہیں ہوتی نثری نظم میں علامتی اور استعاراتی اظہار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ علامتیں، استعارے اور تصویری زبان ہی اس نظم کو محض نثر نہیں بننے دیتے بلکہ ایک معنوی تجربہ بناتے ہیں۔ نثری نظم کا ہر جملہ ایک مرکزی خیال یا تجربے کے گرد گھومتا ہے جس سے اس میں فکری وحدت پیدا ہوتی ہے۔
اس صنف میں آہنگ اور موسیقیت اگرچہ بحر یا وزن کی صورت میں نہیں پائی جاتی لیکن زبان کی داخلی روانی، صوتی ترتیب، تکرار اور جملوں کے بہاؤ سے ایک باطنی آہنگ جنم لیتا ہے۔ نثری نظم کی ایک اور خوبی اس کا اختصار ہے؛ کم الفاظ میں گہرا تاثر اور کثیر المعنی تجربہ پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں بیان نہیں بلکہ تاثر غالب ہوتا ہے قاری نظم کو پڑھ کر کسی واقعے کی روداد نہیں سنتا بلکہ ایک داخلی تجربے سے گزرتا ہے۔
نثری نظم میں زبان عام نثر کی نہیں ہوتی، بلکہ یہ شاعرانہ، غیر روایتی اور کبھی تجریدی بھی ہو سکتی ہے۔ جیسے: “ہوا نے میرا نام مٹایا، مگر مٹی نے اسے یاد رکھا۔” یہ سطر نثر کے دائرے میں ہونے کے باوجود اپنے اندر شاعری کی لطافت اور گہرائی رکھتی ہے۔ آزاد نظم اور نثری نظم میں بنیادی فرق یہ ہے کہ آزاد نظم مصرعوں کی صورت میں لکھی جاتی ہے اور کسی نہ کسی حد تک بحر یا صوتی آہنگ رکھتی ہے جبکہ نثری نظم مکمل طور پر نثر کی صورت میں ہوتی ہے لیکن اس میں آہنگ اور شعریت باطن میں بسی ہوتی ہے۔
شاعرانہ نثر اور نثری نظم کے درمیان فرق بہت باریک مگر بنیادی ہے۔ شاعرانہ نثر دراصل نثر ہی ہوتی ہے مگر اس میں زبان کا حسن، لَے، نرمی اور تصویریت شامل ہو جاتی ہے۔ جملے مکمل ہوتے ہیں، کہانی یا منظر موجود رہتا ہے مگر اس منظر کو بیان کرنے کا انداز جذبات سے لبریز ہوتا ہے مقصود یہ نہیں کہ ہر لفظ علامت بن جائے بلکہ یہ کہ قاری کے دل میں کسی کیفیت یا منظر کی خوبصورتی اتر جائے جیسے ناول یا خاکے میں منظر بیان ہو مگر اس میں نرمی، سحر اور شعریت گھلی ہو۔
اس کے برعکس نثری نظم نظم ہی ہوتی ہے بس اس کا قالب نثری ہوتا ہے اس میں مصرعے یا اوزان نہیں ہوتے لیکن ہر جملے میں ایک اندرونی ردھم، علامتی گہرائی اور روحانی یا تجریدی تاثر موجود ہوتا ہے یہ کسی منظر یا کہانی کو بیان نہیں کرتی بلکہ کسی احساس، لمحے یا ماورائی کیفیت کو ظاہر کرتی ہے یہاں لفظ صرف لفظ نہیں رہتا ایک علامت، ایک خاموش صدا یا ایک داخلی مکالمہ بن جاتا ہے نثری نظم میں بیان نہیں ہوتا، صرف تاثر ہوتا ہے اور یہی تاثر نظم کا دل بنتا ہے۔
اس فرق کو محسوس کرنے کے لیے ایک چھوٹی سی مثال لیجیے فرض کیجیے شام کے وقت ایک کھڑکی سے باہر دیکھا جا رہا ہے شاعرانہ نثر میں یہ منظر یوں محسوس ہو گا:
“کھڑکی کے پار شام اتر رہی ہے سورج کی آخری کرنیں دیواروں پر پگھل رہی ہیں ہوا میں نمی ہے اور ایک مانوس سی تھکن دور کسی گلی سے بچوں کے ہنسنے کی آواز آتی ہے جیسے وقت کچھ دیر کے لیے رک گیا ہو۔”
یہ نثر ہے مگر زبان میں شاعری کی خوشبو ہے۔ یہاں منظر اور احساس کو خوبصورتی سے دکھانے کا مقصد ہے۔
اب یہی منظر نثری نظم میں کچھ یوں بدل جائے گا:
“کھڑکی کے پار شام نہیں اترتی، بس روشنی تھک کر خود کو مٹا دیتی ہے ، دیواریں سانس لیتی ہیں، ہوا کے اندر ایک خاموش دعا تیرتی ہے شاید وقت نے ابھی آنکھ بند کی ہے یا میں ہی دیکھنے سے انکار کر چکی ہوں۔”
یہاں سب کچھ علامت بن گیا ہے روشنی، دیواریں، وقت سب کسی باطنی احساس یا اندرونی مکالمے کی صورت میں موجود ہیں یہ بیان نہیں بلکہ تاثر ہے یہی وہ لمحہ ہے جہاں نثر شاعری کے حدود سے گزر کر نظم بن جاتی ہے۔
نثری نظم کے اسلوب کو سمجھنے کے لیے مزید دو نمونے دیکھیے۔ پہلا نمونہ سادہ مگر شاعرانہ فضا لیے ہوئے ہے:
“بارش رُک گئی ہے، مگر زمین اب تک سانس لے رہی ہے۔ پتے بھیگے ہوئے ہیں، جیسے ان پر کسی نے خواب رکھ دیے ہوں، ہوا میں مٹی کی خوشبو نہیں، یادوں کی مہک ہے۔ کھڑکی کے شیشے پر ایک قطرہ ٹھہرا ہے، شاید وہ آخری آنسو ہو جو آسمان نے زمین کے نام بھیجا تھا ۔”
یہ سطور کسی وزن یا قافیہ میں نہیں بندھی ہوئی، مگر ان میں تصویر، احساس اور داخلی آہنگ موجود ہے۔
دوسرا نمونہ جدید اور علامتی نثری نظم کا ہے:
“شہر کے درمیان ایک بلب ٹمٹماتا رہا، جیسے اندھیرا اپنی آنکھوں میں روتا ہو۔ میں نے دیکھا ۔۔۔ روشنی کو دفن کیا جا رہا ہے، اور ہر شخص اپنی جیب میں اندھیرے کے سکے گن رہا ہے۔ ایک بچہ، جس کے ہاتھوں میں سورج کی لکیر تھی، کہہ رہا تھا: ماں! دن کب نکلے گا؟”
یہ نظم جدید علامتی طرز کی نمائندہ ہے جس میں روشنی امید اور اندھیرا زوال کا استعارہ ہے۔ اس میں شعریت لفظوں کے وزن میں نہیں بلکہ خیال اور علامت میں چھپی ہوئی ہے۔
اسی تسلسل میں ایک تجریدی اور صوفیانہ رنگ کی نثری نظم بھی دیکھیے جو روحانی شعور کے ایک لمحے کو چھوتی ہے:
“رات نے اپنا کاسہ الٹ دیا، اور وقت کی جیب سے چند لمحے زمین پر گر گئے۔ میں نے ایک لمحہ اٹھایا ۔۔۔ وہ نیم گرم تھا، جیسے ابھی ابھی خدا نے چھوا ہو۔ خواب کی زبان میں، ہوا نے مجھ سے کہا: جو دکھتا ہے، وہ فقط آئینے کا سایہ ہے۔ حقیقت وہ سانس ہے جو نہ اندر ہے نہ باہر۔ میں نے اپنی آنکھوں میں چمکتا اندھیرا دیکھا، اور سوچا ۔۔۔ شاید روشنی نے اپنا جسم بدل لیا ہے۔ دور، کسی ویران بستی میں اذان کی بازگشت اب بھی گمشدہ وقت کو پکار رہی ہے۔ اور میں! میں اپنے ہاتھوں میں ریت کی طرح بہتے معنی سمیٹنے کی کوشش کر رہی ہوں ۔۔۔ کہ کہیں ان میں میرا چہرہ بھی تو نہیں دفن؟”
یہ نظم نثری شاعری کے تمام بنیادی لوازمات کو سمیٹے ہوئے ہے۔ اس میں علامتوں کی تجریدی دنیا، باطنی آہنگ، فکری وحدت اور روحانی تلاش کی کیفیت ایک دوسرے میں مدغم ہیں۔ نثری نظم کا حسن اسی میں ہے کہ وہ نثر کی ساخت میں شاعری کی روح پھونک دیتی ہے یوں معنی اور احساس کے درمیان وہ لطیف حد قائم کر دیتی ہے جہاں نثر بھی نظم بن جاتی ہے۔
مختصر یہ کہ نثری نظم دراصل ادب کی وہ سرحدی زمین ہے جہاں نظم اور نثر ایک دوسرے میں تحلیل ہو کر ایک نیا تجربہ جنم دیتے ہیں۔ یہ صنف نہ وزن کی پابند ہے نہ بیانیے کی مگر اس کے باوجود معنی، احساس اور علامت کی ایک گہری وحدت رکھتی ہے۔ نثری نظم واقعات نہیں سناتی بلکہ کیفیت پیدا کرتی ہے؛ یہ قاری کو کسی انجام تک نہیں لے جاتی بلکہ ایک سوال یا ایک خاموش مکالمے میں چھوڑ دیتی ہے یہی اس کی اصل قوت ہے یہ صنف ادب میں آزادی کی علامت بھی ہے اور روایت سے جڑے رہنے کی ذمہ داری بھی۔ شاید اسی لیے نثری نظم کی تعریف آج تک طے نہیں ہو سکی اور شاید ہونی بھی نہیں چاہیے کیونکہ جو صنف سوال اٹھانے کے لیے وجود میں آئی ہو اسے کسی ایک جواب میں قید کرنا خود اس کی روح کے خلاف ہے کہ یہ نثر میں چھپی ہوئی وہ نظم ہے جو صرف پڑھی نہیں جاتی، محسوس کی جاتی ہے۔


