فرانسیسی وجودیت/مقصود جعفری

جہاں تک میرا خیال ہے، یہ تو سراسر جاہلیت کا بیانیہ ہے۔۔۔بزرگ ادیب، جناب شمس الدین شمس صاحب نے اپنے بھاری بھرکم چشمے کے پیچھے سے، نوجوان افسانہ نگار ضمیر احمد پر ایسی نظر ڈالی جیسے ضمیر نے ابھی ابھی کسی ادبی میگزین کے سرورق پردال چاول کی ترکیب چھاپ دی ہو۔ضمیر نے ادب سے زیادہ اپنے سر کے بالوں کو اہمیت دی تھی اور اس وقت وہ کافی گھبرایا ہوا تھا۔ وہ شمس صاحب کے ادبی گروہِ اعظمیٰ کے سامنے بیٹھا تھا، جس کا مقصد صرف اور صرف یہ طے کرنا تھا کہ اس سال کس کو “جگت فانی عالمی انعام برائے جدید فکشن” کا حقدار ٹھہرایا جائےگا اور کس کا ناول یا افسانہ ردی کی ٹوکری میں پھینکا جائےگا۔

شمس صاحب کے دائیں ہاتھ پر ڈاکٹر رخشندہ رخش تشریف فرما تھیں، جو ہر بات پر ایک تصدیقی کھانسی کرتی تھیں جس کا مطلب تھا،میں آپ کے بیان کی علمی بنیادوں پر تائید کرتی ہوں، مگر میری کھانسی میں ایک لایعنی رمز بھی ہے۔دیکھیے، ضمیر میاں۔ شمس صاحب نے گلے میں کھنکھار کر کہا۔ آپ کا یہ افسانہ، مچھر کی بائیوگرافی کچّی اُتارن ہے۔ اس میں وہ وجود کا کرب نہیں ہے جو کسی بھی شاہکار کو بین الاقوامی سطح پر پہچان دیتا ہے۔

ضمیر نے ہمت کی۔مگر سر، مچھر کا وجود ہی سب سے بڑا کرب ہے۔ خاص طور پر اگر وہ رات تین بجے آپ کی ناک پر بین الاقوامی سطح کی گنگناہٹ شروع کر دے۔ میں نے اسی کوما بعد جدید مابعد الطبیعاتی عدم تحفظ کے استعارے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ڈاکٹر رخشندہ نے ایک لمبی اور علّامہ اقبالی کھانسی لی۔ نہیں۔ عالمی ادب میں آپ صرف مچھر کو نہیں مار سکتے۔ آپ کو اس مچھر کے مارنے کے بعد محسوس ہونے والی خلا کی ہولناکی کو مارنا ہے، ضمیر! اور وہ بھی کم از کم پانچ صفحات میں۔
شمس صاحب نے میز پر رکھی ہوئی اپنی سگریٹ کی ڈبی پر ہاتھ مارا، جو کہ دراصل کسی بھی اہم فیصلے سے پہلے کا ان کا دستوری عمل تھا۔ آپ کے کردار، مچھر کے والد، کون ہیں؟ وہ کیا کرتے ہیں؟ آپ نے ان کا تاریخی، سماجی اور نفسیاتی تجزیہ کیوں نہیں کیا؟ کیا وہ مچھر کا پدرانہ سایہ ہے یا صرف ایک اڑتا ہوا استعارہ؟

ضمیر نے اپنے دل کو مضبوط کیا اور مسکرا کر بولا۔سر، اس افسانے میں مچھر کا والد ایک ایسا ادیب ہے جس کا کوئی کام چھپتا نہیں اور وہ ساری رات دوسروں کو کاٹ کر اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ اسی لیے وہ وجودی کرب کا شکار ہے۔کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ شمس صاحب کا چشمہ تقریباً میز پر گر گیا۔ ڈاکٹر رخشندہ کی تصدیقی کھانسی درمیان میں ہی رک گئی۔شمس صاحب نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔یہ تو… یہ تو ادبی مافیا پر براہ راست طنز ہے۔

بالکل نہیں، سر۔ ضمیر نے جلدی سے بات سنبھالی۔ یہ عالمی ادبی مافیا پر طنز ہے۔ اردو والوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارا ماحول تو محبت اور خلوص سے بھرا ہوا ہے۔ میں تو اس مچھر کو فرانسیسی وجودیت کے رجحان پر ایک تنقید سمجھ کر لکھا تھا۔شمس صاحب نے گہری سانس لی اور اپنی سگریٹ کی ڈبی کو دوبارہ تھپتھپایا۔ ان کے چہرے پر ایک گہری، رنجیدہ مسکراہٹ آئی۔

بہت خوب، ضمیر میاں! آپ نے تو کمال کر دیا۔ فرانسیسی وجودیت کے رجحان پر تنقید۔ یہ بات چھپنی چاہیے۔ انہوں نے ڈرائنگ روم میں لگے ہوئے ایک پرانے پورٹریٹ کی طرف اشارہ کیا جس پر کسی ایسے ادیب کی تصویر تھی جسے آج تک کسی نے نہیں پڑھا تھا۔آپ کو جگت فانی انعام نہیں ملے گا، لیکن آپ کو ہمارے اگلے سیمینار میں چائے پلانے کی ڈیوٹی ضرور ملے گی۔ اس میں بھی ایک لذتِ الم ہے جسے آپ بین الاقوامی سطح پر محسوس کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر رخشندہ نے مسکرا کر کھانسی لی، جو اب ایک معنی خیز، قبولیت کی کھانسی تھی۔ بالکل، اور آپ فوراً جائیے اور عالمی افسانوی ادب کے معیار کو سامنے رکھ کر، اگلے افسانے کا نام رکھیے۔آلو بخارے میں وجود کی مٹھاس۔

ضمیر احمد نے باہر نکل کر ایک لمبی سانس لی اور اپنے موبائل میں ایک نئی فائل کھولی۔افسانے کا نام: آلو بخارے میں وجود کی مٹھاس: ایک فینسی مچھر کے توسط سے۔

اپنا تبصرہ لکھیں