(یہ تحریر ایک بحث کا نتیجہ ہے اس لیے اختلاف کی گنجائش موجود ہے)
تنہائی اور خلوت کے درمیان فرق محض لفظی نہیں بلکہ وجودی نوعیت کا ہے۔ تنہائی اور خلوت کا ایک ہی خارجی مظہر ہو سکتا ہے یعنی دوسروں سے علیحدگی لیکن ان کا دا خلی تجربہ اور تخلیقی افادیت متضاد ہے۔ تنہائی ایک جبری یا حادثاتی کیفیت ہے جس میں انسان دوسروں سے منقطع تو ہو جاتا ہے مگر اس کی توجہ اب بھی انہی دوسروں کی طرف مرکوز رہتی ہے وہ ان کی عدم موجودگی کا درد محسوس کرتا ہے ان کی تو قع رکھتا ہے ان کے فیصلوں سے ڈرتا ہےیا ان کی یاد میں جیتا ہے۔ یہ کیفیت تعلق کی خواہش اور اس کی عدم تکمیلیت سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس خلوت ایک ارادی اور خود ساختہ کیفیت ہے جس میں انسان دوسروں سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے ملنے کے لیے علیحدہ ہوتا ہے۔ یہاں توجہ کا مرکز خود کا اندرونی منظرنامہ ہوتا ہےنہ کہ باہر کا شور یا اس شور کی غیر موجودگی۔ادیب کے لیے یہ امتیاز اور بھی اہم ہو جاتا ہے کیونکہ تخلیقی عمل کا مرکز خود آگہی اور اندرونی مکالمہ ہے۔ جب کوئی ادیب تنہائی میں مبتلا ہوتا ہے ( چاہے وہ معاشرتی بے توجہی کی وجہ سے ہو ادبی حلقوں کی ردّ کی وجہ سے یا محض ذاتی تنہائی کے احساس سے ) تو اس کا ذہن مسلسل باہر(مخصوص معنوں میں)کی طرف دوڑتا رہتا ہے۔ وہ سوچتا ہے لوگ کیا کہیں گے؟ میری تحریر کو کیا پذیرائی ملے گی؟ کیا میں نظر انداز کیا جا رہا ہوں؟ (سوالات مکمل طور پر فطری ہیں) یہ سوالات جتنی دیر ذہن پر چھائے رہتے ہیں اتنی ہی دیر تخلیقی عمل مفلوج رہتا ہے۔ کیونکہ تخلیق کی پہلی شرط ذہن کا باہر سے خالی ہونا ہے اور تنہائی میں ذہن باہر سے خالی نہیں ہوتا بلکہ باہر کے وجود سے بھرا ہوتا ہے صرف اس فرق کے ساتھ کہ وہ وجود موجود نہیں۔ یہ ایک منفی شور ہے جو خاموشی کا بھیس بدل کر ذہن کو کھائے جاتا ہے۔
خلوت اس کے برعکس ایک مثبت خاموشی ہے۔ جب ادیب ارادی طور پر دوسروں سے علیحدگی اختیار کرتا ہے اور یہ علیحدگی کسی رد یا ناکامی کے نتیجے میں نہیں بلکہ ایک منظم عمل کے طور پر ہوتی ہے تو اس کے ذہن سے باہر کی تمام مرکزی جبلتیں اٹھ جاتی ہیں۔ وہ نہ تو تعریف کی امید رکھتا ہےنہ تنقید کا خوف۔ اس لمحے اس کا سامنا صرف اپنے آپ سے ہوتا ہے اپنے خیالات، اپنے جذبات، اپنے سوالات، اپنے تضادات سے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں اصلی تخلیق کار آخر کار سانس لیتا ہے۔ سانس لینے سے مراد یہاں ذہنی بندشوں کا کھلنا ہے۔ جب ذہن مسلسل باہر کی جانب متوجہ رہتا ہے تو وہ سکڑ جاتا ہے کیونکہ اسے اپنا بیشتر توانائی باہر کے محرکات پر ردعمل دینے میں صرف کرنا پڑتی ہے۔ خلوت میں یہ توانائی اندر کی طرف لوٹتی ہے اور ذہن اپنی پوری گنجائش کے ساتھ پھیل سکتا ہے۔تخلیقی عمل کے لیے یہ پھیلاؤ ضروری ہے۔ لکھنا محض الفاظ کو یکے بعد دیگرے رکھ دینے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا عمل ہے جس میں ادیب اپنے اندر کے مناظر کو دیکھتا ہے ان کی شکلیں پہچانتا ہے اور پھر انہیں زبان کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ یہ مناظر اس وقت تک صاف نہیں ہوتے جب تک دنیا کا شور ( یہ شور صرف آوازوں کا نام نہیں بلکہ تو قعات، رسوم، تقاضوں اور خوف کا مجموعہ ہے ) ختم نہ ہو جائے۔ خلوت میں یہ شور ختم ہو جاتا ہے لیکن خالی پن نہیں آتا۔ اس کے برعکس ایک نیا منظر نا مہ ابھرتا ہے( اندرونی منظر نا مہ)۔ یہ منظر نا مہ یادوں، تصورات، جذباتی دھندوں اور فکری سلسلوں سے بنا ہوتا ہے جو روزمرہ کی زندگی میں دب کر رہ جاتے ہیں۔ جب باہر کا شور ہٹتا ہے تو یہ اندرونی زمین اپنی اصلی ساخت کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے اپنی پیچیدگیوں، تضادات اور خوبصور تیوں سمیت۔ اب یہاں ایک اہم منطقی موڑ آتا ہے تنہائی میں ادیب خود شناسی کی طرف نہیں بڑھ سکتا کیونکہ خود شناسی کا آغاز اسی لمحے ہوتا ہے جب باہر کی فکرمندی ختم ہوتی ہے۔ تنہائی خود شناسی میں اس وقت بدلتی ہے جب وہ جبری علیحدگی قبول کر لی جائے اور قبولیت کے اس عمل میں جبر ارادے میں ڈھل جاتا ہے۔ یعنی جب ادیب یہ مان لیتا ہے کہ میرے پاس کوئی نہیں ہے اور یہ ٹھیک ہے بلکہ یہ ضروری ہےتو تنہائی کا درد خلوت کی خوشی میں تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ تبدیلی خود شناسی کے ذریعے ہی ممکن ہوتی ہے کیونکہ خود شناسی کا مطلب ہے اپنی حدود، اپنی تنہائی، اپنے عدم تکمیل کو بغیر کسی دفاع کے دیکھنا۔ جب ادیب ایسا کر لیتا ہے تو پھر وہ تنہائی سے لڑنا بند کر دیتا ہے اور اسے اپنا لیتا ہے۔ اور جب وہ اسے اپنا لیتا ہے تو یہ تنہائی اب تنہائی نہیں رہتی یہ ایک ایسی جگہ بن جاتی ہے جہاں وہ اپنے آپ سے ملتا ہے۔اور یہی اصل کام ہوتا ہے۔ تخلیقی عمل کا مرکز یہی لمحہ ہے جب ادیب نہ تو لکھنے کے لیے بیٹھتا ہے، نہ پڑھنے کے لیے نہ کچھ ثابت کرنے کے لیے بلکہ محض (ہونے) کے لیے۔ اس ہونے کی حالت میں جو کچھ جنم لیتا ہے وہ بعد میں تحریر کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ لیکن یہ ظہور محض تکنیکی عمل نہیں ہے۔ اس سے پہلے ایک طویل اندرونی عمل گزر چکا ہوتا ہے جذبات کی کشاکش، خیالات کی تہہ بندی اور ان تمام شو روں کا خا تمہ جو حقیقی آواز کو دباتے ہیں۔ خلوت اس اندرونی عمل کے لیے واحد ممکن فضا ہے۔
اگر یہاں ہم تخلیقی عمل کو ایک زرعی استعارے سے سمجھیں تو یہ صورت بنتی ہے تنہائی وہ بنجر زمین ہے جہاں بیج ڈالا تو جاتا ہے مگر وہ اگتا نہیں کیونکہ زمین مسلسل باہر کی ہواوں سے اڑ رہی ہوتی ہے۔ خلوت وہ محفوظ مٹی ہے جہاں بیج اپنی رفتار سے ٹوٹتا ہے جڑیں پھیلاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ اگتا ہے یہ سب اس لیے ممکن ہوتا ہے کہ اوپر کی تہہ میں کوئی خلل نہیں ڈالتا۔ ادیب کا اصل کام یہی ہے کہ وہ اپنی خلوت کی مٹی کو زرخیز رکھے نہ کہ یہ کہ وہ ہر روز باہر جا کر اعلان کرے کہ وہ لکھ رہا ہے۔اس منطقی سلسلے کا ایک اہم نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تخلیقی عمل کے لیے بیرونی تنہائی کا ہونا ضروری نہیں بلکہ اندرونی خلوت کا ہونا ضروری ہے۔ بہت سے ادیب بھیڑ بھاڑ میں رہتے ہوئے بھی خلوت میں رہ سکتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے اندر ایک ایسی جگہ بنا رکھی ہوتی ہے جہاں باہر کی کوئی آواز داخل نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس بہت سے لوگ ویرانوں میں جاکر بھی تنہائی کا شکار رہتے ہیں کیونکہ ان کا ذہن اب بھی شہر کے شور سے بھرا ہوتا ہے۔ یہ فرق بنیادی ہے خلوت ذہن کا ایک رویہ ہے مقام کا نام نہیں۔ اور یہ رویہ تبھی ممکن ہوتا ہے جب ادیب تنہائی کے درد کو پہچان کر اسے خوشی میں بدلنا سیکھ لے۔یہ تبدیلی کوئی جادوئی لمحہ نہیں بلکہ ایک مشق ہے۔ ہر بار جب ادیب لکھنے بیٹھتا ہے اسے اپنے اندر کے شور کو پہچاننا ہوتا ہے کون سی آوازیں اس کے ذہن میں گونج رہی ہیں؟ کیا وہ کسی ناقد کی آواز ہے؟ کسی قاری کی تو قع؟ کسی دوست کی رائے؟ کسی معاشرتی اصول کا دباؤ؟ یہ سب آوازیں تنہائی کی پیداوار ہیں یہ اس وقت وجود میں آتی ہیں جب ادیب دوسروں کے ذہن میں اپنی جگہ بنانے کی فکر کرتا ہے۔ خلوت کا مطلب ہے ان تمام آوازوں کو ایک طرف رکھنا یہ جاننا کہ اس وقت نہ تو کوئی سن رہا ہے اور نہ سننے والا ہونا چاہیے۔ صرف اس صورت میں ادیب کی اپنی آواز سنائی دیتی ہے (جو اکثر دب جاتی ہے) بہت نرم ہوتی ہے اور پہلے سننے میں مشکل لگتی ہے۔جب یہ آواز سنائی دینے لگتی ہے تو پھر تخلیقی عمل اپنی اصلی رفتار پکڑتا ہے۔ پھر لکھنا محنت نہیں رہتا بلکہ ایک طرح کی اندرونی ضرورت بن جاتا ہے بالکل اسی طرح جیسے خلوت میں سانس لینا آسان ہو جاتا ہے ویسے ہی لکھنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔ اس مرحلے پر ادیب کو اب تنہائی کا درد محسوس نہیں ہوتا کیونکہ اس نے اپنے آپ کو اتنا قریب سے دیکھ لیا ہوتا ہے کہ دوسروں کی موجودگی یا عدم موجودگی ثانوی ہو جاتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تخلیق اپنے خالص ترین معنی میں رونما ہوتی ہے بغیر کسی دکھاوے کے بغیر کسی توقع کے صرف اس لیے کہ ادیب کے پاس اپنے سوا کوئی نہیں ہے اور یہ “کوئی نہیں” اس کی سب سے بڑی دولت بن جاتی ہے۔
یوں سمجھ لیجیے کہ تنہائی ایک ایسی خام حالت ہے جہاں تخلیق ممکن نہیں مگر اسے عبور کرنا ضروری ہے۔ اور خلوت وہ منزل ہے جہاں پہنچ کر ادیب کو پتہ چلتا ہے کہ تنہائی کا سارا سفر اسے اپنے تک لے آیا تھا۔ اب وہ جانتا ہے کہ تخلیقی عمل کا اصل مرکز باہر کی توجہ حاصل کرنا نہیں بلکہ اندر کی گہرائیوں میں اترنا ہے۔ اور اس گہرائی میں اترنے کا واحد راستہ یہی ہے تنہائی کو خلوت میں بدلنا درد کو خوشی میں شور کو خاموشی میں اور بکھراؤ کو اکٹھے میں۔ یہی کام ہے اور یہ کام خاموشی سے کسی کے دیکھے بغیر اسی خلوت میں ہوتا ہے جہاں ادیب آخر کار اپنے آپ سے ملتا ہے۔


