بولتی آنکھوں کی روانی، ایک کہانی/محمد کوکب جمیل ہاشمی

ہم آنکھوں سے فقط دیکھتے ہی نہیں بلکہ بولتے بھی ہیں۔ آنکھوں کی بولی زبان کی بولی کے برعکس بے آواز و بے زبان ہوتی ہے لیکن یہ زبان کی طرح کبھی غضب ناک اورکبھی مسرور اور مہرباں ہوتی ہے۔۔ آنکھیں جب بولتی ہیں تو سب کو سمجھ بھی آتی ہیں۔ اگر ہمیں اپنی بڑی شان و شوکت پہ ناز ہو تو ہم بڑا بول بولتے ہیں۔ بڑا بول بولنے کے لئے زبان ساتھ نہ دے، تو یہ کام ہماری آنکھیں بخوبی سر انجام دیتی ہیں۔ اگر کوئی غرور اور تکبر کا مارا ہو اور وہ کسی سے ملنا پسند نہ کرتا ہو تو آنکھیں ماتھے پہ رکھ لینے سے اس کا مقصد پورا ہوجاتا ہے۔ اس طرح آنکھوں کا استعمال زبان کا نعم ا لبدل بن جاتا ہے۔
اس کے علاؤہ ہم آنکھوں سے اور بہت سے زبانی کلامی کام لیتے ہیں۔ ہماری مراد آنکھوں کے اشاروں سے ہے۔ جو بات ہم زبان سے کہنا نہیں چاہتے، وہ انکھوں سے کہہ دیتے ہیں۔ کسی سے اظہار خفگی کرنا ہو تو برہم نگاہوں سے گھور گھور کر نارااصی کے تیر برساتے ہیں۔ اور جب کسی کے سامنےشرمندہ ہونا ہو تو آنکھیں ملانے کی بجاۓ ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کی آنکھیں جلالی ہوتی ہیں۔ انہیں دیکھ کر دیکھنے والوں پہ اس طرح خوف طاری ہو جاتا ہے جیسے کوئی مجرم تھانیدار کے سامنے کھڑا لرزہ بر اندام ہو۔

جس طرح قوت گویائی سےمحروم افراد ہاتھوں کے اشارے سے گفتگو کرتے ہیں، اسی طرح کچھ آنکھوں والے اکھیوں ہی اکھیوں میں سب کچھ کہہ جاتے ہیں۔ آن کی آنکھوں کے اشارے ہر طرح کی بات کو نہائت مشاقی سے آنکھوں کو حرکت دے کر کہہ دیتے ہیں۔ آنکھوں کی یہ حرکت کسی کو پسند آۓ یا نہیں مگر یہ اپنی بات کی منظر کشی اس طرح کرتی ہیں کہ داد دینا پڑتی ہے۔ آنکھوں کے اشاروں سے شناسا کی اسی داد و تحسین کا نتیجہ ہے کہ مکالمے میں چھپنے والے کالم اور نگارشات کی اشاعت پر بھی اتنی تعداد میں مناظر نہیں ملتے جتنے آنکھوں کے اشاروں کو بھانپنے والوں کو دکھائی دیتے ہیں۔ بس ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ کوئی دیکھا کرے کہ چشم ابرو، مژگاں کے جھروکوں سے کیا اشارہ کرتی ہے۔

اگر آپ کو کسی کے سامنے عقیدت اور تعظیم کا اظہار کرنا مقصود ہو تو جھکی جھکی آنکھیں اورنیاز مندانہ پلکیں آداب بجا لانے کا کام سر انجام دیتی ہیں۔ مگر حیف ہے ہماری آنکھوں کی ایسی آوارگی پر جب ہم حالت نماز میں ہوں تو یہ ادھر ادھر بھٹکتی رہتی ہیں اور نمازی کا اللہ کے حضور ادب و احترام اور خشوع و خضوع برباد ہو کر رہ جاتا ہے۔ ہم کسی کا کچھ مذاق اڑا رہے ہوں تو تیسرے فرد کی طرف ایک آنکھ کو بھینچ کر اسے باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آنکھ مارنے والا مذاق کر رہا ہے۔ ویسے آنکھ
مارنے کی عادت بہت بری ہوتی ہے، اس لئے ہم اس پر کوئی بات نہیں کرتے۔

ایک اور بہت برا کردار جو ہماری آنکھوں سے تعلق رکھتا ہے، وہ ہے نظر لگانے کا ہے۔ لیکن عمومآ جس کسی کی نظر لگ رہی ہوتی ہے اس کی آنکھ کو اس بات کی خبر نہیں ہوتی کہ اس کے دیکھنے سے کسی کو نظر لگ گئی ہے۔ نظر کبھی ارادی طور پر نہیں لگائی جاتی۔ آنکھیں کسی کونظر ٹکا کر دیکھ لیں تو عمومآ بلا وجہ دوسرے کو نظر لگ جاتی ہے، بالکل ایسے جیسے ایک عرصے سے جاگتی آنکھ ایک لمحے میں لگ جاتی ہے۔ کبھی کبھی کسی کی شکل و صورت دوسرے کو بھا جاۓ اور دیکھنے والی آنکھ اس پر فدا ہوتے ہوۓ تعریفوں کے پل باندھنے لگے تو بھلی صورت والے / والی کوفورا نظر لگ جاتی ہے۔ اس میں بد نیتی شامل نہیں ہوتی لیکن نظر کا تیر ایسا نشانہ پر بیٹھتا ہے کہ اس کوکوئی آئرن ڈوم بھی نہیں روک پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ نظر بد سے کوئی نہیں بچ نہیں پاتا۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ آپ دل ہی دل میں کسی کی تعریف کر رہے ہوں یا زبان سے توصیف کر رہے ہوں تو ماشاء اللہ ضرور کہہ دیا کریں۔

نظر کا لگنا بر حق ہے۔ یہ انسانوں کے علاوہ جنات اور غیبی مخلوقات کی طرف سے بھی لگتی ہے۔ گھر والوں ، ماں باپ کی نظر بھی لگتی ہے اور پرآئے لوگوں کی طرف سے بھی۔ عمومآ بچے زیادہ نظر بد کے شکار ہوتے ہیں۔ بعض بچوں کو اللہ تعالٰی ایسی صفت سے نوازتا ہے کہ وہ جو بھی لباس زیب تن کرتے ہیں۔ انہیں بہت جچتا ہے۔ خوش لباسی اور زیب و زینت نظر بد کو دعوت دیتی ہے۔

اسی طرح جو بچے اسکول میں لائق فائق اور ذہین و فطین ہوتے ہیں، انہیں جلد نظر لگ جاتی ہے۔ نظرلگنے سے کوئی بیمار ہوجاتا ہے، کسی بچے کا دل پڑھائی سے اچاٹ ہو جاتا ہے یا خدا نخواستہ اسے کسی قسم کا کوئی حادثہ پیش آ جاتا ہے۔

جہاں تک خواتین کا تعلق ہے وہ زیادہ تر بھٹکتی نظروں کر اچھی لگتی ہیں۔ خوبصورت خواتین ہوں یا مرد حضرات، انہیں دیکھ کر جن و انس ان پر فریفتہ ہو جاتے ہیں۔ انہیں چاہئیے کہ گھر سے باہر جاتے وقت بالخصوص تقریبات میں جاتے ہوئے اپنے اوپرحفاظت کی دعا ئیں اور آئت الکرسی پڑھ کرضرور دم کر لیا کریں۔ آنکھیں جھوٹ کا پردہ چاک کرنے کے کام آتی ہیں۔ اہل نظر کہتے ہیں کہ جب کوئی جھوٹ بولتا ہے تو آنکھیں جھوٹ کا ساتھ نہیں دیتیں۔ آنکھیں گھورتی ہوں تو سمجھیں کہ ان کو کچھ نا گوار گزر رہا ہے یا کوئی غلط کام ہو رہا ہے۔ تب یہ آنکھیں شعلہ بار ہو کر اپنی نا پسندیدگکا اظہار کرتی ہیں۔ اکثر اوقات بچوں کی مائیں بچوں کو زبانی ڈانٹ ڈپٹ کرنے کی بجائے صرف گھورنے پہ اکتفا کرتی ہیں۔

آنکھوں کا ایک فنکشن یہ بھی ہے کہ یہ سہانے خواب دیکھتی ہیں، ادھر ذرا سی آنکھ لگی ادھر سپنوں میں کھو جاتی پیں۔ کبھی یہ خواب پریشان کرتے ہیں اور کبھی بہت خوشیاں دیتے ہیں۔ دونوں طرح کے جذبات آنکھں سے جھلکتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ آنکھیںں اکثر خواب میں وہی کچھ دیکھتی ہیں جو کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہوتی ہیں۔ آنکھیں رونے دھونے اور آنسو بہانے کے کام بھی آ تی ہیں۔ دلہن سے جب اس کے سرتاج کے لئے ہاں کہلوانے کی خاطر نکاح نامے پر دستخط کرنے کو کہا جاتا ہے تو شرمیلی دلہن آنکھیں بند کئے زار و قطار روتے ہوۓ خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔ دلہن کی اشکبار آنکھوں اور خاموشی کو رضا مندی سمجھ کر نکاح فارم پر دستخط کروا لئے جاتے ہیں اور یوں دلہن کی رضامندی کا اظہار ہو جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں