شاعری زمانے کے آغاز سے ہی انسانی تجربے کا ایک نازک اور گہرا اظہار رہی ہے۔ یہ ہمیشہ سے بدلتے ہوئے سماجی، ثقافتی اور تہذیبی رنگوں کی امین رہی ہے۔شاعری نے ہر دور میں انسانی احساسات و جذبات کے نئے پہلوؤں کو دریافت کیا ہے۔تاہم موجودہ دور میں “جدت” یا “ماڈرن ازم” کا تصور ایک عجیب الجھن کا شکار ہو چکا ہے۔آج کل جدت کا مفہوم محض ظاہری اور سطحی تبدیلیوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اس ظاہر پرستی نے شاعری کی حقیقی معنویت اور گہرائی کو دھندلا دیا ہے۔عام طور پر یہ غلط فہمی پھیل گئی ہے کہ جدید شاعری محض جدید الفاظ کے استعمال کا نام ہے۔ یہ رائے نہ صرف سطحی ہے بلکہ نئی نسل کے لیے گمراہ کن بھی ثابت ہو رہی ہے۔کیونکہ حقیقی جدت کا تعلق زبان کے بیرون سے نہیں ہوتا۔بلکہ یہ تو فکر کے دھارے اور احساس کی گہرائی میں وسعت پیدا کرنے کا نام ہے۔
اس غلط تعبیر کا ایک بڑا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ نئے شاعر ڈکشن کی مصنوعی تبدیلیوں پر توجہ مرکوز کرنے لگے ہیں۔ وہ انگریزی الفاظ اور تراکیب کو بلاوجہ گھسا کر شاعری کو جدید ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ پرانے اور فرسودہ خیالات کو نئے الفاظ کا چولا پہنا دینا ہی کافی ہے۔ یہ درحقیقت فکری پسماندگی اور احساس کی مفلسی کو چھپانے کی ایک عیارانہ ترکیب ہے۔ اس قسم کی شاعری پہلی نظر میں قاری کو ضرور متاثر کر سکتی ہے یہ اسے حیرت اور چونکاہٹ کے احساس سے ضرور دوچار کرتی ہے۔ لیکن جب قاری غور و فکر کرتا ہے تو اس کے سامنے سوچنے کے لیے کوئی پائیدار خیال نہیں ہوتا۔ ایسی شاعری قاری کے ذہن و دل پر کوئی گہرا نقش چھوڑنے میں ناکام رہتی ہے۔ حقیقی جدید شاعر ہونے کا اصل تقاضا کچھ اور ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ شاعر اپنے عہد کی مکمل نفسیاتی تصویر کو سمجھے۔ بلکہ سمجھنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کی بوقلمونی اور اس کی سماجی پیچیدگیوں سے آگاہی بھی حاصل کریں۔
موجودہ دور کے انسان کی وجودی کیفیات کو جاننا بھی ازحد ضروری ہے۔ آج کا انسان ٹیکنالوجی کے اس عروج کے باوجود شدید تنہائی کا شکار ہے۔ اس کی زندگی بے مقصدیت اور بے معنویت کے گہرے احساس سے دوچار ہے۔ اس کے اندر ایک گہرا وجودی بحران برپا ہے جسے وہ بیان نہیں کر پاتا۔ ایک سچے شاعر کا فرض ہے کہ وہ اپنے ہم عصر انسان کی اس داخلی کھوج میں اس کا ساتھی بنے۔ شاعر کو چاہیے کہ وہ عام انسان کے سوالات کو اپنے سوالات بنائے۔ اس کی بے چینی اور تڑپ کو اپنی شاعری کا مرکز و محور قرار دے۔ یہی وہ بنیادی شرط ہے جس پر پائیدار اور کامیاب جدید شاعری تعمیر ہو سکتی ہے۔ آج کل جدید شاعری کے حوالے سے ایک اور غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ آزاد نظم ہی جدت کی معراج ہے۔نثری نظموں کے تجربات کو ہی جدیدیت کی سب سے بڑی کامیابی سمجھ لیا گیا ہے۔ یقیناً ہیئتی تجربات اور نئی شکلیں ایجاد کرنا ادب کے ارتقا کا حصہ ہے۔
لیکن المیہ یہ ہے کہ ان نئی شکلوں کے پیچھے فکر کی وہی پرانی سطحیت کارفرما رہتی ہے۔جذبات کی وہی فرسودہ لہریں ان نئی بوتلوں میں بند کر دی جاتی ہیں۔ لفظی تجربات اور دوسری ثقافتوں کے اثرات کو بے جا اہمیت دے کر شاعری کو پہیلی بنا دیا گیا ہے۔ ایسی شاعری کا مقصد قاری کو حیران و پریشان کرنا ہوتا ہے اس تک کوئی پیغام پہنچانا نہیں۔ اس مصنوعی جدت کے برعکس ایک سچا شاعر وہ ہے جو اپنے دور(آفاقی معنوں میں مستعمل ہے) کے دکھ کو اپنے وجود میں محسوس کرے۔ وہ معاشرے میں پھیلی ہوئی بے چینی اور بے سکونی کو اپنے احساس میں جگہ دے ۔ آفاقی و اجتماعی المیوں، ناانصافیوں اور بحرانوں کو وہ اپنے فن کا موضوع بنائے۔ وہ نہ صرف یہ مسائل دیکھتا ہے بلکہ انہیں اس طرح پیش کرتا ہے کہ اس کا کلام عہد حاضر کا آئینہ بن جاتا ہے۔ اس کی شاعری قاری کو اس کے اپنے وقت اور اس کے اپنے وجود سے روبرو کراتی ہے۔
ادب کی روایت اس بات کی گواہ ہے کہ ہر عہد کے شاعروں میں یہی خوبی پائی جاتی تھی۔ خواہ وہ میر کا دور ہو جنہوں نے ہجر و فراق اور انسانی وجود کے دکھ کو نئی معنویت دی۔ یا پھر غالب ہوں جن کی شاعری تہذیب کے زوال اور وجودی کرب کا احاطہ کرتی ہے۔ جدید اردو شاعری میں میراجی ،ن م راشد،مجید امجد اور منیر نیازی نے بھی اسی روایت کو آگے بڑھایا۔انہوں نے اپنے دور کے انسان کے داخلی بحران اور اس کے سوالات کو اپنا مرکز بنایا۔ ان کی جدت محض اسلوب تک محدود نہ تھی بلکہ ان کا نقطہ نظر ہی بدل چکا تھا۔ انہوں نے نئے الفاظ ایجاد کیےلیکن یہ الفاظ نئے خیالات کی ترجمانی کے لیے تھے۔ لہٰذاشعری جدت کا تعلق فکر کی ندرت اور احساس کی سچائی سے ہے نہ کہ محض لفظی بازی گری سے۔ایک کامیاب جدید شاعر وہی ہے جو اپنے عہد کی روح کے ساتھ ساتھ آفاقی قدروں تک رسائی حاصل کر سکے۔جو اس دور کے دکھوں، خواہشوں، خوابوں اور سوالات کو پہچانتا ہو۔ اور پھر انہیں ایسے الفاظ عطا کرے جو اس دور کی پیچیدہ حقیقتوں کے ترجمان ہوں۔ شاعری کا بنیادی کام محض خوبصورت جملے بازی نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو اپنے وقت عہد کے ساتھ ایک ایماندارانہ اور گہرا مکالمہ قائم کرنے کا نام ہے۔ یہی وہ حقیقی جدت ہے جو عارضی چمک دمک سے بالاتر ہوتی ہے۔ یہی وہ جدت ہے جو اپنے اندر ہمیشہ زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہی وہ جدت ہے جو وقتی طور پر مقبول نہ بھی ہو تو بھی دائمی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔اس لیے نئے شاعروں کو چاہیے کہ وہ ظاہری تبدیلیوں کے بجائے فکری گہرائی پر توجہ دیں۔ انہیں اپنے عہد کے انسان کی آواز بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ تب ہی ان کی شاعری حقیقی معنوں میں جدید کہلانے کی مستحق ہو گی۔ ورنہ محض لفظی تجربوں اور مصنوعی تبدیلیوں کا سلسلہ بے مقصد ہو کر رہ جائے گا۔ اس سے نہ تو ادب میں کوئی اضافہ ہوگا اور نہ ہی قاری کو کوئی فائدہ پہنچے گا۔
مزید یہ کہ شاعر دراصل معاشرے کا ایک حساس ذہن ہوتا ہےجو وقت کے بدلتے ہوئے رنگوں اور آنے والے بحرانوں کو سب سے پہلے محسوس کرتا ہے۔ یہی اس کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ادراک کو اپنے فن کے ذریعے عام لوگوں تک پہنچائے۔ اگر وہ اس فریضے سے غافل ہو جائے تو محض لفظوں کا کاریگر بن کر رہ جاتا ہے مفکر نہیں۔اس تناظر میں جدت کے نام پر ہونے والے تجربات میں توازن برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ شکل اور مواد، دونوں پر یکساں توجہ ہی وہ کسوٹی ہے جس پر پوری ادبی تخلیق کھری اترتی ہے۔ محض نئے الفاظ اور نئی شکلوں کا تجربہ بے مقصد ہو جاتا ہے اگر اس کے پیچھے کوئی فکری ضرورت اور حقیقی جذبہ موجود نہ ہو۔ نئے لکھنے والوں کے لیے روایت کی وہی تخلیقات مثالی نمونہ ہونی چاہئے جنہوں نے اپنے دور کے مسائل کو اپنے فن میں سمویا۔ انہوں نے قاری کو حیران کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس کے ذہن و دل کو جھنجوڑنے کے لیے لکھا۔


