بدلتے وقت میں بلوچستان میں موجود بلوچ سوال مزید پیچیدہ ہو چکا ہے۔ “آپ” اپنی “سٹک اینڈ کیرٹ” پالیسی کے ساتھ وہاں بہتری نہیں لا سکے۔ آپ کیلئے راحت یہ ہے کہ دنیا کا “حقِ خود ارادیت” وغیرہ کی جانب سے دھیان پلٹ گیا ہے، دوسرا بلوچ دہشت گردوں نے بدلتے وقت کو بنا سمجھے جو دہشت گردیاں کی ہیں اسکے نتیجے میں بدلی دنیا میں آپ پہ دباؤ کم ہے۔ پچھلے ایک سال نے فوجی و سفارتی طور پہ آپ کو ایسی پوزیشن پہ لا کھڑا کیا ہے کہ اب آپ جو بھی کریں گے، دنیا آنکھیں بند کر لے گی۔
بلوچ قومی سوال موجود ہے اور شدت کے ساتھ موجود ہے۔ آپ کی انٹیلی جنس وہاں ناکام ہے کیونکہ آپ کو “لوکل سورس” نہیں مل پاتا جو انٹیلیجنس کیلئے بنیادی ضرورت ہے۔ ہر “گمشدہ” کچھ عرصے بعد دہشت گرد نکلتا/نکلتی ہے کیونکہ انکے پاس نظریاتی اور نسلی بنیاد موجود ہے۔ آپ ابھی تک اسکو ایک نسلی دہشت گردی کی تحریک کے طور پہ بھی اسٹبلش نہیں کر پائے، سو آپ کا بیانیہ بھی نہیں چل رہا۔ کچھ قریب تیس لاکھ کے قریب لوگ ہیں جو آپ سے مایوس ہیں، کیا سارے مار لیں گے؟ جو بلوچ دہشت گرد ہیں وہ بھی اتنے ہزاروں میں ہیں کہ مارنا آسان نہیں۔ اور پھر انکی جگہ لینے کو نئے لوگ آ جائیں گے۔ حل فقط دو ہی ہیں تاکہ یہ معاملہ ختم ہو۔
پہلا حل ہے کہ وہی کیجیے جو سینکڑوں سال قبل خود بلوچ نے براہوی کے ساتھ کیا تھا۔ خطے کی ڈیموگرافی بدل دیجیے۔ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ خالی پڑا ہے، یہاں لا کر بسائیے دوسری قومیں اتنی بڑی تعداد میں کہ ان سے لڑنا بلوچ دہشت گردوں کیلئے بھی ممکن نہ رہے۔ انگریز نے بھی تو پنجاب میں “باریں” اسی لیے آباد کی تھیں۔ آباد کار اپنی زمین پھر کب چھوڑتا ہے، یا مرتا ہے یا مارتا ہے۔ دوسرا سندھ پنجاب میں بسے بلوچ قبائل کا “تاریخی و قومی” حق ہے بلوچستان کی زمین پہ، ان کو بھی آباد کیجیے وہاں پہ۔ جب ڈیموگرافی بدلے گی تو بیس تیس سال میں ساتھ رہنا بھی سیکھ لیں گے سب۔
دوسرا حل بھی ہے مگر اس پہ لگتی ہے محنت زیادہ۔ بلوچستان میں گروپس بنائیے۔ وہ بلوچ جو فقط حقوق کی تلاش میں ہیں انکو ان سے علیحدہ کیجئیے جو بیرونی آقاؤں کے اشارے اور فنڈنگ پہ دہشت گردی کر رہے ہیں۔ سیاسی لیڈروں کو مکمل اختیار کے ساتھ آگے کیجیے تاکہ وہ شکوے سنیں، گالی سنیں، سینے سے لگائیں، آنسو پونچھیں۔ وہ سب دیا جائے جو یہ تین چار ملین لوگ مانگیں۔ اور پھر ان ہی کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کی بینڈ بجا دیں۔ انکی فنڈنگ کے رستے بند کیجیے، نظریاتی خوراک بند کیجیے اور ایک مکمل آپریشن ایک ہی بار کر لیجیے۔ یہ حل لمبا، صبر آزما، مہنگا سب کچھ ہی ہے، مگر دل جیتے گا۔ البتہ اس کیلئے آپ کو اپنی “ایس ایچ او لیول” والی ذہنیت سے باہر آنا ہو گا۔


