اگر 18ویں ترمیم کمزور یا ختم ہوئی تو صوبوں پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
18ویں ترمیم پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی صوبائی خودمختاری اصلاح سمجھی جاتی ہے۔اگر اس کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو صوبوں کی خود مختاری ختم ہو جائے گی چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی پیدا ہو گی –
اہم سیاسی حقیقت
پاکستان میں آئینی ترمیم صرف قومی اسمبلی سے نہیں ہو سکتی۔
ضروری ہے:
ادارہ شرط
قومی اسمبلی دو تہائی
سینیٹ دو تہائی
بعض معاملات میں صوبائی اسمبلیاں بھی ضروری خاص کر صوبوں کی حدود میں تبدیلی کے لیے صوبائی اسمبلی متعلقہ میں دو تہائی ارکین کی اکثریت
28ویں ترمیم کے تناظر میں
اگر حکومت:
18ویں ترمیم،
صوبائی اختیارات،
یا عدالتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی چاہے،
تو اسے:
PPP کی مکمل حمایت
اتحادیوں کا اتحاد
سینیٹ میں اضافی سپورٹ
بعض صورتوں میں صوبائی اسمبلیوں کی منظوری
درکار ہوگی۔کون “کنگ میکر” ہے؟
جماعت وجہ
PPP سینیٹ + صوبائی اثر
MQM عددی اہمیت
JUI-F آئینی ووٹوں میں وزن
آزاد ارکان close voting میں فیصلہ کن
سینٹ میں پارٹی کی پوزیشن مندرجہ ذیل ہے پاکستان پیپلز پارٹی کی 26 ارکان پاکستان مسلم لیگ کے 20 بی اے پی کے4 ایم کیو ایم پی کے3 اے این پی کے 3 نیشنل پارٹی کا1 پی ایم ایل کیو کا 1 اور آزاد اراکین کی تعداد 5 اور تین نشستیں خالی ہیں اس میں دو تہائی اکثریت کے لیے 64 نشستیں چاہیے
پی ٹی ائی کے 14 اراکین جے یو ائی کے ایف کے7 ایم ڈبلیو ایم کے1 سنی اتحاد کونسل کا1 اور آزاد ارکین کی تعداد 7
اپوزشین کی تعداد 30 بنتی ہے
اور 3 خالی نشستیں ہیں حکمران اتحاد کی تعداد 63 بنتی ہے اس میں سے پیپلز پارٹی کو نکال دے تو حکمران اتحاد کے پاس ٹوٹل ارکین کی تعداد 37 بنتی ہے
جب کی سینٹ میں دو تہائی ارکین کی تعداد 64 چاہے جو پیپلز پارٹی کے بغیر ممکن نہیں
اس وقت قومی اسمبلی کی کل اراکین کی تعداد 336 ہے جس میں چار خالی نشستیں ہیں اس کے بعد ٹوٹل اراکین کی تعداد 332 ہزائی جاتی ہے حکمران ارکان کی تعداد پاکستان مسلم لیگ این کی تعداد 131 پیپلز پارٹی کے 74 ایم کیو ایم پی کی تعداد 22 پی ایم ایل کیو کی5 ائی پی پی کی 4 بی اے پی کے1 ان پی کی1 پی ایم ایل زیڈ کی 1 انڈیپینڈنٹ4 کل حکمران کی تعداد 243 ہو جاتی ہے-اس وقت قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے اراکین کی تعداد درجہ ذیل ہے جے یو ائی ایف کے 10 سنی اتحاد کونسل کے1 بی این پی ایم کے1 ایم ڈبلیو ایم کے1 پی کے ایم اے پی کے1 آزاد ارکین یا پی ٹی آئی کے کی تعداد 75 کل اپوزیشن ارکان کی تعداد 89 ہو جاتی ہے-قومی اسمبلی میں ائین میں ترامیم کے لیے 221 اراکین کی تعداد کی ضرورت ہے اور پیپلز پارٹی کی تعداد اگر نکال دی جائے حکمرانی اتحاد کے بعد 168 اراکین کی تعداد دی ہے پیپلز پارٹی کے بغیر قومی اسمبلی میں بھی ائینی ترمیم ہونا ایک حمقانہ خواب ہے-سندھ اسمبلی میں اس وقت پارٹی پوزیشن کی کیا ہے ٹوٹل سندھ اسمبلی کی سیٹیں 168 ہے پیپلز پارٹی کے پاس 110 ہے ایم کیو ایم پی کے پاس 42 ہیں جی ڈی اے کے پاس3 ہیں جے یو پی کے پاس ایک ہے پی ٹی ائی کے پاس 5 ہے اور7 خالی ہے
سندھ اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کے لیے 112 نشستیں ہونا ضروری ہے پیپلز پارٹی کے پاس 110 ہیں جو دو تہائی اکثریت سے 2 نشستیں کم ہیں اس لیے پیپلز پارٹی کے بغیر سندھ اسمبلی سے کوئی ترمیم احمقانہ خواب کے سوا کچھ نہیں
ایک تجویز یہ بھی سننے میں ارہی ہے کہ صوبوں کی رضامندی صوبوں کے حدود میں تبدیلی کے لیے ائینی شک میں تمیم کر دی جائے کہ صوبوں کی رضامندی ضروری نہیں ہے لیکن اس کے لیے قومی اسمبلی سینٹ میں ترمیم کے لیے دو تہائی ارکین کی تعداد چاہے جو پیپلز پارٹی کے بغیر دیوانے کے خواب ہے اس لیے یہ تجویز بھی بیکار ہے آج کے زمینی حقائق کے مطابق کوئی بھی آئینی ترمیم پیپلز پارٹی کے بغیر ممکن نہیں


