آج کل میڈیا اور سوشل میڈیا میں 28 ویں ائینی ترمیم کا شور برپا ہے-ہر ایک اپنی مرضی کی کہانی بیان کر رہا ہے اس کو پیپلز پارٹی مخالف مہم میں جوڑ رہا ہے کبھی صدر اصف علی زرداری کے استعفی کے متعلق افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں ابھی تک کوئی حتمی مصدقہ 28 ائینی ترمیم کا مسودہ سامنے نہیں آیا لیکن جو کچھ میڈیا میں چل رہا ہے
اس کے مطابق متوقع آئینی ترامیم کیا ہو سکتی ہیں ان کا جائزہ لیتے ہیں-پاکستان میں “متوقع 28ویں آئینی ترمیم” کے بارے میں ابھی تک کوئی حتمی اور سرکاری مسودہ سامنے نہیں آیا، لیکن سیاسی و قانونی حلقوں میں چند اہم نکات زیرِ بحث رہے ہیں۔ اس لیے جو بھی بات کی جا رہی ہے وہ زیادہ تر قیاس آرائیاں، سیاسی اشارے، یا ابتدائی تجاویز ہیں۔ ممکنہ خدوخال کچھ اس نوعیت کے ہو سکتے ہیں:
ممکنہ نکات
1. عدالتی نظام میں تبدیلیاں
ججز کی تقرری کے طریقۂ کار میں رد و بدل
سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے اختیارات کی نئی تقسیم
آئینی بینچز کو مستقل حیثیت دینا
ازخود نوٹس کے اختیارات کو مزید محدود یا منظم کرنا-Constitutional Court قائم کرنا
سپریم کورٹ کے اختیارات تقسیم
ججز تقرری میں پارلیمنٹ/حکومت کا بڑا کردار
اثر
عدلیہ کا طاقت کا مرکز تبدیل ہو سکتا ہ
1. پارلیمنٹ کی بالادستی
پارلیمنٹ کو بعض آئینی معاملات میں زیادہ اختیار دینا
عدلیہ اور مقننہ کے درمیان اختیارات کی نئی حد بندی
1. الیکشن اور سیاسی نظام
انتخابی اصلاحات
مخصوص نشستوں یا پارٹی ڈیفیکشن قوانین میں تبدیلی
مکنہ تبدیلیاں:
پارٹی ڈیفیکشن قوانین
ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ
نگران حکومت کا نیا ڈھانچہ
نگران حکومتوں کے اختیارات پر نظرِ ثانی
18ویں ترمیم پر جزوی نظرِ ثانی
بحث:
کچھ اختیارات واپس وفاق کو دینا
تعلیم/توانائی/ٹیکس میں وفاقی کردار بڑھانا
اثر
صوبوں کی مزاحمت متوقع
1. صوبائی خودمختاری
18ویں ترمیم کے بعد مرکز اور صوبوں کے اختیارات پر دوبارہ بحث
بعض شعبوں میں وفاق کو زیادہ کردار دینے کی تجاویز
1. احتساب اور ادارہ جاتی ڈھانچہ
نیب یا دیگر احتسابی اداروں کے آئینی اسٹرکچر میں تبدیلی
سول سروس یا بیوروکریسی کے تحفظات و اختیارات
1. قومی سلامتی و داخلی استحکام
دہشت گردی، سائبر سکیورٹی یا ہائبرڈ گورننس سے متعلق نئے آئینی فریم ورک کی تجاویز-نیشنل سکیورٹی اداروں کو آئینی تحفظ
ہائبرڈ گورننس کا باضابطہ فریم ورک
اثر
سول و عسکری تعلقات کا نیا توازن
متوقع 28ویں ترمیم سے کس کو فائدہ ہو سکتا ہے
وفاقی حکومت اختیارات میں اضافہ
پارلیمنٹ عدلیہ پر اثر بڑھ سکتا
اسٹیبلشمنٹ قومی سلامتی ڈھانچے میں آئینی کردار
وفاقی بیوروکریسی مرکزی کنٹرول بڑھ سکتا
عدالتی اصلاح پسند حلقے آئینی عدالت کے قیام سے فائدہ
متوقع 28 آئینی ترمیم سے کس کو نقصان ہو سکتا ہے
صوبے خودمختاری کم ہو سکتی
سپریم کورٹ اختیارات تقسیم ہو سکتے
چیف جسٹس انتظامی طاقت محدود
چھوٹی جماعتیں مرکزی سیاسی کنٹرول بڑھ سکتا
وکلاء کے بعض حلقے عدالتی آزادی پر خدشات
اگر 28ویں ترمیم آتی ہے تو ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں
اختیارات کا حد سے زیادہ ارتکاز
صوبائی خودمختاری کمزور
عدالتی آزادی متاثر
سیاسی انجینئرنگ کے امکانات
چونکہ 28ویں آئینی ترمیم ابھی باضابطہ طور پر پیش نہیں ہوئی، اس لیے اس کے “فائدہ اٹھانے والے” بھی ان نکات پر منحصر ہیں جو آخرکار ترمیم میں شامل ہوں گے۔
لیکن موجودہ سیاسی و آئینی بحث کو دیکھتے ہوئے کچھ طاقتور حلقے اور ادارے ممکنہ طور پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اگر 28ویں ترمیم میں:
صوبائی اختیارات محدود،
یا وفاقی اختیارات بڑھائے گئے،
تو سب سے بڑا سیاسی فائدہ وفاقی حکومت کو ہوگا۔
ممکنہ فائدے
قومی پالیسی پر زیادہ کنٹرول
تعلیم، توانائی، ٹیکس یا سکیورٹی میں مرکز کا کردار بڑھنا
صوبوں پر سیاسی دباؤ بڑھانا آسان
کس قسم کی حکومت کو زیادہ فائدہ؟
وہ حکومت:
جس کے پاس مرکز میں مضبوط اکثریت ہو
اور صوبوں میں بھی اتحادی حکومتیں ہوں-
اگر ترمیم میں:
نیشنل سکیورٹی اسٹرکچر کو آئینی تحفظ،
یا hybrid governance کا باضابطہ ماڈل آیا،
تو اسٹیبلشمنٹ کا ادارہ جاتی کردار مزید مضبوط ہو سکتا ہے-اگر مرکز دوبارہ مضبوط ہوا:
وفاقی سیکریٹریٹ کا کردار بڑھے گا
صوبوں پر administrative influence بڑھ سکتی ہے-سب سے زیادہ خدشات صوبائی حکومتوں کو ہوں گے اگر:
18ویں ترمیم کے اختیارات واپس لیے گئے
مالی خودمختاری کم ہوئی
زیادہ متاثر صوبے
بلوچستان
خیبرپختونخوا
سندھ
کیونکہ یہ صوبے تاریخی طور پر مرکزیت کے خلاف زیادہ حساس رہے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کا متوقع 28ویں آئینی ترمیم پر ردِعمل غالباً بہت محتاط، مشروط اور “18ویں ترمیم کے تحفظ” کے گرد گھومے گا، کیونکہ 18ویں ترمیم PPP کی سب سے بڑی آئینی و سیاسی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔
ابھی چونکہ 28ویں ترمیم کا کوئی آفیشل ڈرافٹ سامنے نہیں آیا، اس لیے PPP نے باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا، لیکن پارٹی کی ماضی کی سیاست اور بیانات کو دیکھتے ہوئے ممکنہ ردِعمل کچھ یوں ہو سکتا ہے:18ویں ترمیم پر “ریڈ لائن”
PPP کی سب سے اہم پوزیشن یہ ہوگی:
“18ویں ترمیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں”
کیونکہ:
یہ ترمیم آصف علی زرداری کے دور میں ہوئی
اسے “شہید بے نظیر بھٹو کے وژن” سے جوڑا جاتا ہے
PPP اپنی سب سے بڑی آئینی کامیابی سمجھتی ہے
اس لیے PPP مخالفت کرے گی اگر:
صوبائی اختیارات واپس لیے جائیں
NFC ایوارڈ کمزور کیا جائے
وفاق کو دوبارہ زیادہ طاقت دی جائے-PPP کی سیاست کا بنیادی ستون:
پارلیمانی جمہوریت،
18ویں ترمیم،
اور صوبائی خودمختاری ہے۔
اس لیے 28ویں ترمیم پر PPP کا ردعمل اس بات پر منحصر ہوگا کہ:
کیا یہ ترمیم صرف institutional reforms تک محدود رہتی ہے،
یا
مرکز کو دوبارہ طاقتور بنانے کی کوشش کرتی ہے۔
متوقع 28 ویں ائینی ترمیم میں یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ صوبوں کے حدود میں تبدیلی کے لیے صوبوں کی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کو بھی ترمیم کر کے سینٹ و قومی اسمبلی میں لے جایا جائے گا صوبوں سے یہ اختیار چھین لیا جائے گا جو کہ ناممکن ہے اس کے لیے بھی قومی اسمبلی اور سینئٹ میں دو تہائی اکثریت چاہے جو پیپلز پارٹی کے بغیر ممکن نہیں


