گلگت بلتستان میں الیکشن 2026 کا نقارہ بجتے ہی معاشرے میں ہل چل مچی ہوئی ہے ، پاکستان کی تمام سیاسی وفاقی اور مذہبی جماعتوں کی اہم قیادت نے خطے میں ڈیرا جمایا ہوا ہے۔ اور گلگت بلتستان میں دودھ اور شہد کی ندیاں نکالنے جیسے تقریروں سے ووٹ کیلئے عام آدمی متاثر کرنے کی کوشش جاری ہے ۔ ان تمام جھوٹے دعووں اور اعلانات سے ہر کر اگر گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی سیاست کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ ان دونوں خطوں کی سیاسی سمت ہمیشہ وفاقی حکومت کے گرد گھومتی رہی ہے۔ اسلام آباد میں جس جماعت کی حکومت ہوتی ہے، عموماً گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی اسی جماعت کے لیے حکومت بنانا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے انتخابات اکثر مقامی عوامی امنگوں سے زیادہ وفاقی سیاسی مفادات کے تابع دکھائی دیتے ہیں۔
اگرچہ مسلہ کشمیر کے تناظر میں آئینِ پاکستان کے مطابق گلگت بلتستان کی آئینی و قانونی حیثیت آج بھی ایک اہم اور متنازعہ مسئلہ ہے، تاہم انتظامی معاملات چلانے کے لیے یہاں ایک سیاسی و حکومتی نظام ضرور قائم کیا گیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ نظام اب تک عوامی توقعات کے مطابق کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا ہے۔ اس ناکامی کی بنیادی وجہ نظریاتی سیاست کا فقدان اور مفاداتی سیاست کا فروغ اور ہوتا کریسی ہے۔
گلگت بلتستان کے انتخابات 2026 اس وقت عوامی بحث کا اہم موضوع بن چکے ہیں۔ موجودہ انتخابی ماحول میں ایک مثبت تبدیلی یہ سامنے آئی ہے کہ وفاقی جماعتوں کے امیدواروں کے ساتھ ساتھ آزاد امیدواروں کی تعداد بھی نمایاں حد تک بڑھ گئی ہے۔ ان آزاد امیدواروں میں وکلا، انجینئرز، پروفیسرز اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ نئی نسل فرسودہ وفاقی مذهبی سیاسی نظام سے بیزار ہو چکی ہے اور خطے میں حقیقی سیاسی تبدیلی چاہتی ہے۔
یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ پورے پاکستان کی طرح گلگت بلتستان میں بھی سیاست رفتہ رفتہ موروثی شکل اختیار کر چکی ہے۔ چند خاندان سیاست کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں اور اقتدار نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کا سیاست میں داخل ہونا امید کی ایک نئی کرن ہے۔
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ نئے امیدوار واقعی عوامی مسائل کے حل کے لیے میدان میں اترے ہیں یا صرف ذاتی مفادات کے حصول کے لیے؟ بدقسمتی سے اب تک زیادہ تر امیدواروں کی جانب سے کوئی جامع منشور سامنے نہیں آیا۔ نہ تو کسی نے گلگت بلتستان کی بین الاقوامی قانونی حیثیت پر واضح موقف پیش کیا ہے اور نہ ہی قدرتی وسائل، معاشی ترقی، ماحولیات، صحت اور تعلیم کے بحران پر کوئی سنجیدہ حکمت عملی دی ہے۔
گلگت بلتستان میں آج بھی میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز کا شدید فقدان ہے۔ بے ہنگم سیاحت نے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کیا ہے۔ قدرتی وسائل پر رائلٹی سے متعلق کوئی واضح معاشی پالیسی موجود نہیں۔ نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں۔ مگر ان بنیادی مسائل پر انتخابی سیاست خاموش دکھائی دیتی ہے۔
افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ آزاد امیدواروں کا وفاقی جماعتوں میں شمولیت ایک طرح سے رواج بن گیا ہے جو کہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ زیادہ تر معاملات میں یہ شمولیت عوامی مفاد کے بجائے ذاتی مفادات، نوکریوں یا سیاسی مراعات کے اصولوں کی سودے بازی ہوتی ہے۔ یہ عمل سیاست، معاشرے اور آنے والی نسلوں کے ساتھ بڑا دھوکا ہے۔
سیاست صرف اقتدار یا چند افراد کی نوکریوں کا نام نہیں۔ سیاست دراصل شعور، تبدیلی اور عوامی بیداری کا نام ہے۔ اگر کوئی امیدوار نظریاتی بنیادوں پر سیاست کرتا ہے تو اسے عارضی شکست سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ آج اگر اس کے پاس پچاس ووٹر ہیں تو کل ہزار بھی ہو سکتے ہیں۔ سیاسی جدوجہد تسلسل مانگتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ گلگت بلتستان کے آزاد اور تعلیم یافتہ امیدوار آپس میں اتحاد قائم کریں۔ اگر ایک حلقے میں چار یا پانچ آزاد امیدوار متحد ہو جائیں تو وہ بڑی جماعتوں کو سخت مقابلہ دے سکتے ہیں۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اکثر حلقوں میں آزاد امیدوار خود وفاقی جماعتوں میں شامل ہونے کے لیے دوڑ لگا رہے ہیں۔ کہیں دعوتوں کی سیاست ہے، کہیں ذاتی ملاقاتوں اور مفادات کے سودے ہو رہے ہیں۔ یہ طرزِ سیاست عوامی خدمت نہیں بلکہ سیاسی تماشا بن چکا ہے۔ اگر واقعی تبدیلی مطلوب ہے تو آزاد امیدواروں کو چاہیے کہ وہ ایک مشترکہ چارٹر آف ڈیمانڈز تیار کریں۔ پہلے اپنے علاقے اور خطے کے بنیادی مسائل پر اتفاق رائے قائم کریں، پھر کسی جماعت کے ساتھ مذاکرات کریں۔ اس طریقے سے عوامی مفادات کا تحفظ ممکن ہو سکتا ہے۔ ورنہ ماضی کی طرح یہ چھوٹے چھوٹے گروہی اتحاد صرف چند افراد کے فائدے تک محدود رہیں گے۔
آج ہمارا معاشرہ اخلاقی زوال، نفرت، تقسیم اور مایوسی کا شکار ہے۔ سیاست دانوں اور باشعور افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کو جوڑنے کا کردار ادا کریں، نہ کہ اسے مزید تقسیم کریں۔ سیاست خدمت، شعور اور اجتماعی بہتری کا راستہ ہونی چاہیے، نہ کہ ذاتی مفادات اور نمائشی طاقت کا ذریعہ۔
گلگت بلتستان کی نئی نسل اگر واقعی تبدیلی چاہتی ہے تو اسے نظریاتی سیاست، اجتماعی اتحاد اور عوامی شعور کے راستے کو اپنانا ہوگا۔ یہی راستہ اس خطے کو ایک بہتر سیاسی، سماجی اور معاشی مستقبل دے سکتا ہے۔


