ہمارے ارد گرد، گرد اور آب کا تانا بانا ہے۔ یہ کوئی نیا نہیں پرانا ہے۔ انجانا نہیں بلکہ جانا پہچانا ہے۔ ان میں ہی چھپا ہمارا آب و دانہ ہے۔ گرد و غبار کس کو پسند ہے ؟ یہ نفرت کا پیمانہ ہے۔ لوگ اس سے نالاں رہتے ہیں۔ کام اس کا دھول چٹانا ہے۔ یہ غبار راہ ہے جسے دیکھ کر انسان یوں پھٹ پڑتا ہے، جیسے گیس کا غبارہ پھٹ گیا ہو۔ پھر دل کا غبار نکالنے کو انسان غصہ کرنے لگتا ہے۔ کیا کریں،غصے کےاظہار کا یہ اک بہانہ ہوتا ہے۔
جیسے مایہ لگے کپڑوں پہ فورآ شکن آجاتی ہے، گرد اڑے تو ماتھے پہ بھی شکن آجاتے ہیں۔ اور پھر تیور بھی بدل جاتے ہیں۔ رہی بات پانی کی تو یہ تو ہماری لائف لائن ہے۔ جب یہ لائن کٹ جاتی ہے تو بڑے بڑے لوگ چھوٹوں کے آگے پانی بھرتے نظر آتے ہیں۔ کوئی گول مٹول ہو یا سڈول وہ بھی بھرتا نظر آتآ ہے ڈول ، بالٹی گوشت کھانے والے کھانا چھوڑ کر بالٹیاں بھرنے کو آتے ہیں۔ واٹر کین بھر نہیں پاتے۔ یہ آب حیات ہے جو صرف پیا ہی نہیں جاتا، نہانے دھونے کے کام بھی آتا ہے۔ جب نہ میسر ہو پانی، تو یاد آجاتی ہے نانی۔ اس لئے بہتر ہے کہ احتجاج کر لیں، اس طرح واٹر کینن سے پانی میں نہانے کا موقع تو ملے گا۔ یوں ایک پنتھ دو کاج ہو جاتے ہیں، ایک مطالبہ پورا ہونے کا اور دوسرا نہانے کا۔ ہیٹ ویو کی شدت کو کم کرنے کا یہ اچھا علاج ہے۔
جب طوفان خاک و گرد کی چاپ ہو اور پھر باد و باراں کا ملاپ ہو، دونوں مل کر گرد و آب بن جاتے ہیں جیسے جھیل میں گرداب بن جاتے ہیں۔ پھر اس گرداب سے، جسے بھنور بھی کہتے ہیں، نکلنے کی تدبیر کی جاتی ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ ہمارا دیس بھی اسی طرح مسلسل مسائل کے گرداب اور بھنور میں پھنسا نظر آتا ہے۔ گویا سارا قصور گرد و آب کا ہے۔ گرد کی وجہ ہمارے ارد گرد خاک، مٹی اور دھول ہے جو ہم بار بار اڑاتے ہیں، بالکل اس طرح جیسے ہم دوسروں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ دوسری چیز پانی ہے جس میں ملی مٹی کی کیچڑ ہم بڑے شوق سے دوسروں پر اس طرح اچھالتے ہیں، جیسے سیاست دان دوسروں پر کیچڑ اچھال رہے ہوں۔ مٹی اور پانی دونوں ہماری ضرورت ہیں، لیکن دونوں کا استعمال صحیح نہ ہو تو دونوں ہمیں کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں۔
مٹی اور پانی دونوں ہمارے کام کی چیزیں ہیں۔ مٹی کے فرش نہ بچھے ہوتے تو جناب ہم کسی کے لئے دیدہ و دل بفرش راہ کیسے کیا کرتے؟ پانی نہ ہوتا تو اپنی غلطیوں پہ کون پانی پانی ہوا کرتا؟ پانی کا وجود نہ ہوتا تو سب کئے کرائے پر کون پانی پھیرتا۔ اس لئے مٹی اور پانی کا جنم جنم کا ساتھ ہے، بلکہ دونوں ایک دوسرے کے لئے جزو لا ہنفک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آگر صرف مٹی ہوتی اس جہاں میں تو بنا پا نی کے فصلیں کیسے اگتیں، کھیتی باڑی کیسے ہوتی۔ اور نوع انسان کی بھوک مٹانے کو فقط مٹی پہ ہی انحصارکرنا پڑتا۔ باغ ہوتے نہ کسی کا دل باغ باغ ہوتا۔ درخت ہوتے نہ کوئی پھل ملتا ہے، نہ یہ جملہ سننے کو ملتا کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ مٹی نہ ہوتی تو گھر بنتے نہ مکان اور عمارتیں۔ نہ کسی کی مٹی پلیت ہوا کرتی۔ یہ دوبئی، قطر، اور سنگا پور کی عمارات کیسے وجود میں آتیں۔ اگر صرف پانی ہوا کرتا تو ہر ایک یہ شعر گنگناتا پھرتا کہ پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات۔۔۔۔ تو جھکا جب غیر کے أگے تو من تیرا نہ تن۔
ہم بھی پانیوں میں مچھلیوں کی طرح رہتے تو مگر مچھوں سے بیر کی وجہ سے ان کا تر نوالہ بنا کرتے۔ یا ہر دم تیرتے رہتے، کیونکہ خشکی پہ اترنے کا امکان نہ ہوتا۔ نہ ہی مٹی کی سوندی سوندی خوشبو کا احساس ہوا کرتا۔ بچوں کے بہلانے کو مٹی کے کھلونے ہوتے، نہ کسی نزاعی معاملے پر مٹی پاؤ کی نصیحت سننےکو ملتی۔ دشمن کےمنصوبوں کو خاک میں ملانے کا موقع ملتا، نہ گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کا سوال پیدا ہوتا۔ مٹی کے لٹو ہوتے نہ گھگھو گھوڑے ملا کرتے۔
نان بنانے کو تنور ہوتا نہ دہی جمانے کے لئےکونڈا ہوتا۔ بس یہ سمجھیں کہ انسان کا کونڈا ہوا کرتا۔ پھر بھی ہم قدر نہیں کرتے، نہ مٹی کی، نہ پانی کی۔۔ کھودتے پہاڑ ہیں نکلتا چوہا ہے۔
پانی ہے کہ ہم سے روٹھتا جا رہا ہے۔ بور کراتے کراتے بورہو جائیں پر نہ نکلے پانی۔۔ پانی کو آنسوؤں کی طرح بہاۓ چلے جاتے ہیں۔ یہ مائع بھی ہے اور مایہ بھی۔ وطن کی مٹی عظیم تر ہے تو، کہنے کے باوجود ہم مٹی کا قرض اتارنے میں ناکام رپتے ہیں۔ قدرت کے بناۓ پانی کے جھرنے اور آبشاریں، ندیاں و دریا اور یہ خوبصورت جھیلیں ہمیں مسحور کرتی ہیں۔
ہمارے پریشان ذہنوں کو شاداب کرتی ہیں، زمین کو سیراب کرتی ہیں۔ پھول پودوں، سبزیوں اور پھلوں کی آبیاری کرتی ہیں۔۔ ہمارے گھروں میں پانی کے نلکے روزوں کے بر خلاف صبح کو کھلتے ہیں تو رات کو جا کے بند ہوتے ہیں۔ ہم پانی کو ضائع کئے جاتے پیں۔ اس بد سلوکی پر پانی بھی بپھر جاتا ہے اور سیلاب کی صورت گھروں میں آ کر سب کچھ غرق کر دیتا ہے سوائے ہاۓ ہاۓ کرنے کے۔ یہ دنیا کچھ بھی نہیں آب و گل کے بغیر۔ یہی حقیقت ہے، یہی مایہ ہے۔ یہی سرمایہ ہے۔ سو قدر کیجئے۔ یہ میرا پاکستان ہے یہ تیرا پاکستان ہے۔ یہ خیال مد نظر نہ رہے تو اس میں ہمارا نقصان ہی نقصان ہے۔
ہم نے، مٹی کے گھروندے ہوں یا کوٹھیاں اور محلات، سب چھوڑ چھاڑ کراس مٹی سے بنی قبرمیں جانا ہے۔ سن لو جان لو اہل تکبر لوٹ جاؤ عاجزی کی طرف، کیونکہ کل مٹی میں مل جانا ہے۔


