کہیں میری ناک نہ کٹ جائے/ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

ناک انسانی جسم کا اہم عضو ہے۔ناک دو نتھنوں پر مشتمل ہے۔یہ نتھنے عمل تنفس کا اہم حصہ ہیں۔یہ سانس لینے اور خارج کرنے کا ایک قدرتی ذریعہ ہے۔زندگی سانس کی بدولت قائم و دائم رہتی ہے۔اگر خدانخواستہ نتھنوں سے سانس آنا بند ہو جائے تو زندگی کا تصور تاریکی میں بدل جاتا ہے۔ہمارے بدن کے بہت سارے اعضاء ایسے ہیں جو جسمانی تصور کے ساتھ ساتھ سماجی ، تہذیبی ، معاشرتی اور روحانی معانی و مطالب بھی رکھتے ہیں۔ان میں سے ایک ناک بھی ہے جو جسمانی افادیت کے ساتھ ساتھ سماجی تہذیب کا عکس بھی ہے۔
اس ناک کا ماضی، حال اور مستقبل ایک دردناک داستان رکھتا ہے، اس حقیقت کو تاریخ کے جھروکوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔قریب سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔واقعات سے سبق اخذ کیا جا سکتا ہے۔ معاشرتی منظر نامے پر تحقیق کی جا سکتی ہے۔زندگی پر کوئی بیتی ہوئی رُوداد لکھی جا سکتی ہے۔
آپ نے اکثر معاشرے میں لوگوں کو یہ کہتے سُنا ہوگا کہ اگر میں نے یہ کام نہ کیا تو میری ناک کٹ جائے گی۔میری عزت خاک میں مل جائے گی۔میری انا پر سوال اٹھ جائے گا۔کئی ایسے خود ساختہ سوالات جو زندگی کے دُکھ کم کرنے کی بجائے مسلسل اضافہ کرتے ہیں۔ہمارے ہاں سماجی رویوں کا بڑا فقدان ہے۔کائنات کی وسعتوں میں براعظموں سے لے کر ممالک تک اور پھر قوموں تک سب کی معاشی ، اقتصادی ، تہذیبی اور روحانی حالت ایک جیسی نہیں ہے۔یہ وقت کی ناقابل فراموش کہانی ہے جو دکھوں آزمائشوں اور پچیدگیوں سے بھری پڑی ہے۔انسانوں کے درمیان کچھ پھیلے ہوئے ایسے توہمات ہیں جو نسل در نسل جہالت کی آماج گاہ بنے ہوئے ہیں۔انسان فطرتاً نقال پسند ہے۔اُس کا دل و دماغ جس بھی اقدار روایت یا ثقافت کو اپنا لے۔ وہ تواتر و تسلسل کے ساتھ اسے فروغ دینے میں سرگرم ہو جاتا ہے۔کہیں میری ناک نہ کٹ جائے بھی کُچھ ایسی ہی حقیقت پر مبنی المیہ ہے۔دیکھنے ، کہنے اور سُننے کو تو یہ ایک چھوٹی سی بات معلوم ہوتی ہے، لیکن اس کے پس منظر میں جہالت کا دواخانہ ہے جہاں لوگ بغیر کسی تشخیص کے گولیاں کھا کھا کر ذہنی مریض بن گئے ہیں۔پاگل پن کی بھی تو کوئی حد ہوتی ہے، جو انسان کو معاشی طور پر تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہلاکت تک پہنچا دیتی ہے۔
زندگی میں ہر انسان کو سوچ سمجھ کر فضول اقدار و روایات کی پیروی کرنی چاہیے۔اگر وقت اور حالات اجازت دیں تو ناک کی عزت رکھی جا سکتی ہے۔ ورنہ ناک کے نیچے مایوسی، تاریکی، سزا ، دُکھ اور کرب کی ایسی پرچھائیاں ہیں، جو عُمر بھر ختم نہیں ہو سکتیں۔انسان کو اپنی زندگی کا حدود اربعہ اتنا ہی رکھنا چاہیے جتنا وہ باآسانی نبھا سکے۔ بغیر سوچے سمجھے اپنی زندگی کو غلامی کی زنجیروں کے پیچھے باندھ لینا ایسی حماقت ہے جس کا قرض نسلوں تک نہیں اترتا۔
افسوس! یہ کسی ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسے معاشرے کی داستان ہے جو ایسی دلدل میں پھنسا ہوا ہے جہاں سے نکلنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا ایک کنویں میں گرا ہوا مینڈک ہوتا ہے۔اس کی بے بسی اسے باہر نہیں آنے دیتی۔وہ کنویں میں بار بار چکر کاٹ کر زندگی کے دن پورے کر لیتا ہے۔یہ بکھلاہٹ کی کُھلی تصویر ہے جسے گھروں کی اُن دہلیزوں پر دیکھا جا سکتا ہے جو غلط فیصلوں کی وجہ سے قید و بند کی صحبتیں برداشت کر رہے ہیں۔
اگر ہم روز مرہ زندگی میں مثبت سرگرمیوں کو فروغ دیں۔حقیقت پسند باتوں پر عمل کریں تو زندگی کی کئی دیکھی اور ان دیکھی مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔اس سے قبل بہت دیر ہو جائے اور اس مفروضے تک ہماری زندگی اٹک جائے کہ کہیں میری ناک نہ کٹ جائے۔ہوش کے ناخن لے کر ایسے فیصلے کریں جہاں وقتی لذت اور شہرت کی بجائے دیرپا خوش حالی کی امید ہو۔خود فیصلہ کیجئے اور اس فیصلے سے محفوظ ہو جائیں۔تاکہ کل کوئی آپ کی زندگی کے فیصلے نہ کر نہ پائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں