خیبر پختونخوا کی جامعات اور نیا تقرری معیار: ایک بڑا سوال /اے وسیم خٹک

خیبر پختونخوا کی جامعات میں تدریسی یونٹس کے سربراہان، چیئرمینز، ڈائریکٹرز اور پرنسپلز کی تقرری کے لیے جو نیا معیار متعارف کرایا گیا ہے، اس نے اعلیٰ تعلیم کے حلقوں میں ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے۔ اس پالیسی کے مطابق کسی بھی امیدوار کے لیے کم از کم پچیس تحقیقی اشاعتیں، گزشتہ پانچ برسوں میں پانچ تحقیقی مقالے، چھ اشاعتیں بطور پرنسپل آتھر، ایچ انڈیکس، تحقیقی نگرانی اور مضبوط علمی ریکارڈ ضروری قرار دیا گیا ہے۔ بظاہر یہ معیار عالمی جامعات کے مطابق اور تعلیمی معیار بلند کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا خیبر پختونخوا کی تمام سرکاری جامعات اس معیار پر عمل درآمد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں؟

اگر صوبے کی موجودہ جامعات کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال کافی پیچیدہ نظر آتی ہے۔ صوبے میں چند پرانی اور نسبتاً مستحکم جامعات موجود ہیں جن میں جامعہ پشاور، زرعی یونیورسٹی پشاور، خیبر میڈیکل یونیورسٹی، یو ای ٹی پشاور، ہزارہ یونیورسٹی اور عبدالولی خان یونیورسٹی شامل ہیں۔ ان اداروں میں پروفیسرز، ایسوسی ایٹ پروفیسرز، پی ایچ ڈی سپروائزرز اور تحقیقی سرگرمیوں کا ایک مضبوط نظام موجود ہے۔ ایسے اداروں کے لیے اس نوٹیفکیشن کے مطابق اہل امیدوار تلاش کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔

تاہم صوبے کی حقیقت صرف چند بڑی جامعات تک محدود نہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں خیبر پختونخوا میں کئی نئی یونیورسٹیاں قائم کی گئیں، لیکن ان میں سے بہت سی آج بھی مستقل فیکلٹی، تحقیقی انفراسٹرکچر اور مالی وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔ متعدد جامعات میں پروفیسرز اور ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی تعداد انتہائی محدود ہے۔ بعض اداروں میں مستقل اساتذہ کے بجائے وزٹنگ اور کنٹریکٹ فیکلٹی کے ذریعے تدریسی نظام چلایا جا رہا ہے۔ کئی شعبہ جات میں پی ایچ ڈی اساتذہ کی مطلوبہ تعداد دستیاب نہیں جبکہ بعض مقامات پر بی ایس اور ماسٹر سطح کے پروگرام بھی محدود فیکلٹی کے ساتھ چل رہے ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ متعدد جامعات مالی بحران کا شکار ہیں۔ تنخواہوں کی ادائیگی، پنشن واجبات اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی کمی ایک مستقل مسئلہ بن چکی ہے۔ ایسے ماحول میں تحقیق کے لیے سازگار فضا پیدا کرنا اور عالمی معیار کی اشاعتوں کی حوصلہ افزائی کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ جب ایک استاد کو تدریسی بوجھ، انتظامی ذمہ داریوں اور وسائل کی کمی کا سامنا ہو تو اس سے بین الاقوامی معیار کی مسلسل تحقیقی پیداوار کی توقع کرنا آسان نہیں ہوتا۔

نئے معیار میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ سربراہی کے امیدوار کے پاس کم از کم پچیس تحقیقی اشاعتیں ہونی چاہئیں، جن میں چھ بطور پرنسپل آتھر ہوں۔ لیکن اگر کسی یونیورسٹی میں پروفیسرز اور سینئر اساتذہ کی تعداد ہی محدود ہو تو وہاں تین اہل امیدواروں کا پینل بنانا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں تقرریاں تاخیر کا شکار ہو سکتی ہیں یا پھر اداروں کو عبوری انتظامات پر انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔

اصل مسئلہ معیار کا نہیں بلکہ استعداد کا ہے۔ کوئی بھی تعلیمی نظام تحقیق، اشاعت اور علمی قیادت کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ لیکن جب کئی جامعات میں بنیادی تدریسی ڈھانچہ ہی کمزور ہو، مستقل فیکلٹی کی کمی ہو اور تحقیق کے لیے مطلوبہ وسائل دستیاب نہ ہوں تو صرف سخت شرائط نافذ کرنے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
اس وقت خیبر پختونخوا کی جامعات کو دو مختلف زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک طرف وہ ادارے ہیں جن کے پاس سینئر فیکلٹی، تحقیقی کلچر اور بین الاقوامی اشاعتوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ دوسری طرف وہ جامعات ہیں جو ابھی تک بنیادی تعلیمی اور انتظامی استحکام کے مرحلے سے گزر رہی ہیں۔ پہلی قسم کی جامعات اس پالیسی پر نسبتاً بہتر انداز میں عمل کر سکتی ہیں جبکہ دوسری قسم کے اداروں کے لیے یہ معیار فوری طور پر پورا کرنا مشکل نظر آتا ہے۔

حکومت، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ تمام جامعات ایک ہی سطح پر نہیں ہیں۔ اگر واقعی تحقیق اور علمی معیار کو فروغ دینا مقصود ہے تو مستقل فیکلٹی کی بھرتی، خالی آسامیوں کو پر کرنا، تحقیقی فنڈنگ میں اضافہ، پی ایچ ڈی سپروائزرز کی تعداد بڑھانا اور نئی جامعات کے لیے خصوصی سہولتیں فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ بصورت دیگر یہ خطرہ موجود رہے گا کہ اعلیٰ معیار کے یہ ضابطے کاغذوں تک محدود رہ جائیں اور بہت سی جامعات عملی طور پر ان پر عمل درآمد نہ کر سکیں۔

یہ نوٹیفکیشن علمی اعتبار سے ایک مثبت اور بلند معیار کی نمائندگی کرتا ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار صرف قواعد بنانے پر نہیں بلکہ ان حالات پیدا کرنے پر ہے جن میں جامعات واقعی ان معیاروں تک پہنچ سکیں۔ اگر بنیادی مسائل حل نہ کیے گئے تو صوبے کی کئی جامعات کے لیے یہ معیار ایک تعلیمی ہدف کے بجائے ایک انتظامی بحران بن سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں