سوشل میڈیا پر ویڈیوز، بدتمیزی اور عوامی شعور /اے وسیم خٹک

سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال نے جہاں معلومات تک رسائی آسان بنا دی ہے، وہیں یہ ایک نئی ذمہ داری اور اخلاقی چیلنج بھی ہے۔ سوشل میڈیا کے شر سے اللہ سب کو بچائے۔ تحریک انصاف کے نمائندے کہتے ہیں کہ یہ شعور ہے جو نوجوانوں کو دیا گیا ہے، مگر بدتمیزی کبھی بھی شعور کا درجہ نہیں رکھتی۔ گزشتہ تیرہ سال سے صوبے میں کرپشن کی انتہا ہے، مگر یہ شعور والے حضرات صرف ہسپتالوں کی ناکامیوں یا ویڈیوز کو وائرل کرنے میں مصروف ہیں، جبکہ اصل کرپشن اور بدعنوانی پر روشنی نہیں ڈالی جاتی۔
گزشتہ چند دنوں میں عید کے موقع پر خیبر ٹیچنگ ہسپتال اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کی کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر شئیر ہوئیں، جس سے ایک طوفان بدتمیزی برپا ہوا۔ ہر کوئی اپنے ذاتی تجربات شئیر کرنے لگا: “میرے ساتھ یہ ہوا، میرے ساتھ ایسا ہوا”۔ جن لوگوں کو ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکس نے اچھے سے ٹریٹ کیا، وہ کہتے ہیں کہ یہ تو ان کے فرائض میں شامل ہے یا اس کے پیسے لیتے ہیں۔ مگر یہ حضرات نہیں سمجھتے کہ ڈاکٹر، پیرامیڈیکس اور سیکورٹی گارڈز بھی انسان ہیں۔
صوبے کی آبادی روزبروز بڑھتی جارہی ہے، وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں اور مسائل زیادہ۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر عملے کی کمی ہے۔ قابل اور ماہر لوگ نہیں مل رہے اور سفارشیوں سے میڈیکل کا شعبہ نہیں چلایا جا سکتا۔ چھٹیوں میں ایمرجنسی ہوتی ہے اور تمام شعبہ جات کام نہیں کرتے، مگر عوام پھر بھی اعتراض کرتی ہیں کہ ہسپتال میں سہولیات نہیں، ڈاکٹرز کا رویہ ٹھیک نہیں۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کے مریض کو فوری دیکھ لیا جائے، اور بعض اوقات وہ سفارشیں بھی ڈھونڈ لیتے ہیں، مگر ڈاکٹروں اور نرسوں کے ہاتھ پاؤں محدود ہیں۔
ایک مریض کو جلد دیکھ لیا جائے تو دوسرا ناراض ہو جاتا ہے، اور اسی دوران لوگ موبائل لے کر ویڈیو بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ صبر و تحمل کے بغیر کوئی بھی کام نہیں ہوتا۔ ہسپتال کا ہر عملہ اپنی کوشش میں مصروف رہتا ہے کہ مریض کی جان بچ جائے اور اچھا علاج میسر ہو، مگر یہ سب وقت لیتا ہے۔ باہر ممالک کی مثالیں دینے والے یہ نہ سمجھتے ہیں کہ وہاں آپریشن کے لیے مہینے انتظار کرنا پڑتا ہے، جبکہ یہاں چٹ منگنی پٹ بیاہ کی طرح ہر سہولت فوری ملنے کی توقع کی جاتی ہے، جو عملی طور پر ناممکن ہے۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ عوام اکثر نادرا، پولیس اسٹیشنز، وکلا کے دفاتر، آرمی سنٹرز یا ججز کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، مگر وہاں موبائل تک نہیں اٹھاتے۔ کمزور یا غیر محفوظ جگہوں پر، دو روپے والے مائیک والے لوگ مسیحاؤں کو بدنام کرنے کے لیے موبائل اٹھاتے ہیں اور ویڈیوز بناتے ہیں۔ اسی طرح، بعض لوگ پرائیویٹ کلینک میں ہزاروں روپے دے کر کچھ نہیں کر پاتے، اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ جب اپنے مریضوں کی سفارش کرتے ہیں تو بھی کچھ نہیں ہوتا۔ لیکن جب ان کا اپنا کام نہیں چل رہا ہوتا اور چند ویوز چاہیے ہوتے ہیں، تو وہ ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، ویڈیو بناتے ہیں اور شئیر کرتے ہیں، جو قانون کے مطابق جرم ہے۔
یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ویڈیو یا تصویر بنانا بذاتِ خود جرم نہیں، مگر بغیر اجازت یا کسی کو بدنام کرنے کے لیے ویڈیو/تصویر بنانا اور شئیر کرنا غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کو چاہیے کہ وہ حقیقت کو سمجھیں، صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور بلاوجہ تہمت نہ لگائیں، کیونکہ تہمت لگانے والوں کو اللہ بھی نہیں بخشتا۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا پر شعور اور ذمہ داری صرف معلومات تک رسائی نہیں، بلکہ اخلاقی حدود کی پاسداری، لوگوں کو گمراہ نہ کرنے کا شعور اور صبر و تحمل بھی شامل ہے۔ کسی کی نجی زندگی میں مداخلت یا بدنامی کے لیے ویڈیو بنانا، نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی نقصان دہ ہے۔ سب کو چاہیے کہ حقیقت کو سمجھیں، غیر ضروری الزامات نہ لگائیں اور دوسروں کے کام اور محنت کا احترام کریں۔
مزید یہ کہ، کوئی بھی ویڈیو شئیر کرنے سے پہلے حقیقت سمجھیں اور پھر تہمت لگائیں، کیونکہ تہمت لگانے والوں کو اللہ بھی نہیں بخشتا۔ سوشل میڈیا پر ویوز کے لیے لوگوں کو گمراہ کرنے کی حرکتیں قابلِ مذمت ہیں اور یہ شعور نہیں بلکہ بدتمیزی ہے۔ اصل کام کرنے والوں پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے، بلکہ وہ اپنا کام بخوبی انجام دے رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں