کیا جنوبی افریقہ میں پاکستانیوں کی جان کو خطرہ ہے ؟-محمود اصغر چوہدری

اگر ایک برتن میں آپ کچھ سیاہ چیونٹیوں کو ڈالیں اور بعد میں کچھ سرخ چیونٹیوں کو بھی شامل کر دیں، ساتھ ہی کچھ آٹا وغیرہ بھی ڈال دیں، تو وہ تمام چیونٹیاں بڑے آرام سے وہاں موجود رہیں گی اور کھانا کھائیں گی۔ لیکن جیسے ہی آٹا ختم ہو اور آپ اس برتن کو باہر سے زور سے ہلا دیں، تو وہ چیونٹیاں ایک دوسرے سے الجھ جائیں گی اور ایک دوسرے کو کاٹنا شروع کر دیں گی۔
چیونٹیاں اتنی بے وقوف ہوتی ہیں کہ وہ اس بھوک اور ہلچل کا ذمہ دار ایک دوسرے کو سمجھتی ہیں۔ انہیں اس ‘ہاتھ’ کی کبھی خبر نہیں ہوتی جس نے اس برتن کو ہلایا ہے۔ سرخ والی سمجھے گی کہ کالی دشمن ہے، اور کالی سمجھے گی کہ سرخ دشمن ہے،

انسانی نفسیات کی زبان میں اسے مینوفیکچرڈ ایلویزن یعنی منظم فریب نظر اور سیات کی زبان میں اسے تقسیم کرو اور راج کرو کا وہ خوفناک کھیل کہتے ہیں جہاں مظلوم کا رخ اصل ظالم کی طرف ہونے ہی نہیں دیا جاتا۔

یہ وہ بدبخت اسٹریٹیجی ہے جو دنیا کے اہل سیاست و اہل حکومت صدیوں سے اپناتے آئے ہیں اور کبھی ناکام نہیں ہوئے۔ دنیا بھر کے حکمران اپنی نااہلی چھپانے کے لیے عوام کو انہی میں موجود کسی ‘فرضی دشمن’ سے لڑا کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ تمہارے اصل دشمن ہم نہیں، بلکہ وہ دوسرا گروہ ہے جو تم سے مختلف ہے۔

یورپ کے بعد اب یہی زہریلا کھیل ساؤتھ افریقہ میں کھیلا جا رہا ہے۔ وہی افریقی جو کل تک نسل پرستی کے خلاف متحد تھے، آج اپنے ہی ملک میں معاشی بحران اور مہنگائی کا غصہ تارکین وطن پر نکال رہے ہیں۔ وہاں قوم پرست گروہ یہ پراپیگنڈا کر رہے ہیں کہ غیر ملکی ان کے وسائل اور نوکریوں پر قبضہ کر رہے ہیں۔ اس نفرت کا نتیجہ یہ نکلا کہ غیر ملکیوں کی دکانوں پر حملے، لوٹ مار اور تشدد کا ایک خوفناک سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

خوف کا یہ عالم ہے کہ گھانا کے تقریباً 300 شہری جنوبی افریقہ چھوڑ کر واپس جا چکے ہیں جبکہ 800 کے قریب افراد نے واپسی کے لیے رجسٹریشن کرائی ہے۔ نائجیریا سمیت دیگر افریقی ممالک کے شہری بھی اپنے وطن لوٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

۔ بدقسمتی سے پاکستانی کمیونٹی، جو وہاں چھوٹے کاروبار چلاتی ہے، اس صورتحال کا سب سے بڑا نشانہ بنی ہے۔ متعدد پاکستانی دکاندار ڈکیتیوں اور مسلح حملوں کی زد میں آ کر اپنی جان اور مال دونوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ رہی سہی کسر پاکستانی سوشل میڈیا پھیلا رہا ہے کہ پاکستانیوں کا جنوبی افریقہ میں قتل عام شروع ہوگیا ہے ۔ حالانکہ یہ نفرت صرف پاکستانیوں کے خلاف نہیں ہے

اگرچہ جنوبی افریقہ کی حکومت سرکاری طور پر اس تشدد کی مذمت کرتی ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ تارکین وطن کو تحفظ دینے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ یہ محض امیگریشن کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک گہرا سماجی بحران ہے جس کا بوجھ معصوم مسافر اٹھا رہے ہیں۔

لیکن اس سارے کھیل میں سب سے بڑا المیہ کیا ہے؟ المیہ یہ ہے کہ برتن ہلانے والے جابر ہاتھ ہمیشہ پسِ پردہ رہ کر مسکراتے ہیں، اور برتن کے اندر صرف غریب کا خون بہتا ہے۔

ذرا سوچیے! ان لٹتے ہوئے گھروں، جلتی ہوئی دکانوں اور سڑکوں پر بہتے ہوئے معصوم خون کا حساب کون دے گا؟ وہ پاکستانی نوجوان، جو اپنے بوڑھے والدین کی آنکھوں کے خواب اور بہنوں کی شادیوں کی آس بن کر دیارِ غیر گیا تھا، جب اس کی گولیوں سے چھلنی لاش کسی لکڑی کے تابوت میں بند ہو کر وطن واپس پہنچتی ہے، تو اس بوڑھے باپ کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔ وہ ماں، جو ہر روز جائے نماز پر بیٹھ کر اپنے لختِ جگر کی سلامتی کی دعائیں مانگتی تھی، جب اپنے بیٹے کا بے جان لاشہ دیکھتی ہے، تو اس کی چیخوں سے آسمان بھی کانپ اٹھتا ہے۔

اس کا قصور کیا تھا؟ صرف یہ کہ وہ اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے ایک ایسے ‘برتن’ میں جا بسا تھا جسے وہاں کے ظالم حکمرانوں نے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے ہلا دیا تھا!

جنوبی افریقہ کی سڑکوں پر بکھرا ہوا خون چاہے کسی کالی چیونٹی کا ہو یا سرخ چیونٹی کا، درد دونوں کا ایک جیسا ہے۔ کاش! انسان ان بے عقل چیونٹیوں سے مختلف ہوتا۔ کاش! وہ ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کے بجائے، سر اٹھا کر اس ‘ہاتھ’ کو دیکھ پاتا جو اپنی عیاشیوں کو چھپانے کے لیے نفرت کا یہ تماشا سجاتا ہے۔ جب تک ہم برتن ہلانے والے ہاتھ کو نہیں پہچانیں گے، تب تک غریب یونہی ایک دوسرے کو کاٹتا رہے گا، اور جنازے یوں ہی اٹھتے رہیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ نفرت کے اس برتن کو توڑ دیا جائے، اس سے پہلے کہ یہ برتن انسانیت کا آخری قطرہ بھی پی جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں