فیمینزم: مغرب کا ردِعمل یا برصغیر کی ضرورت؟-محمد فہد حارث

فیمینزم کی تحریک کا مغرب سے اٹھنا نہ صرف نہایت قرین قیاس تھا بلکہ 1970 کی دہائی سے قبل کے مغرب کی معاشرتی اقدار کا لازمی نتیجہ بھی تھا۔ جب ہم ہالی ووڈ کی تشکیل دی گئی پیریڈ موویز دیکھتے ہیں جن میں 1970 سے پہلے کا مغرب دکھایا گیا ہوتا ہے تو ان میں دو چیزیں لازمی ہوتی ہیں۔
پہلی سیاہ فام لوگوں کے ساتھ روا امتیازی برتاو جہاں ان کی حیثیت کسی جانور سے بھی زیادہ نہیں ہوتی تھی، جہاں ان کے باتھ روم اور کھانے پینے کے برتن تک الگ ہوتے تھے۔ اس سلسلے میں 2017 میں ریلیز ہوئی ہالی ووڈ مووی Hidden Figures نہایت عمدہ روشنی ڈالتی ہے جس میں تین سیاہ فام خواتین کو ناسا میں کام کرتے دکھایا گیا ہے، جنہیں نسلی تفریق کے باعث الگ بیت الخلا، محدود ترقی کے مواقع اور بعض مواقع پر سفید فام ملازمین سے جدا سہولیات استعمال کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔
جبکہ دوسری چیز یہ کہ اس دور کے مغربی معاشروں میں عورتوں کو عموماً مردوں کے مقابلے میں کم صلاحیت اور کم فہم سمجھا جاتا تھا، اور ان کا بنیادی کردار گھر سنبھالنا، بچوں کی پرورش کرنا اور ایک موزوں و مالدار شخص کو اپنی خوبصورتی سے ریجھا کر اس سے شادی کرنا ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر 2011 میں ریلیز ہوئی ہالی ووڈ مووی The Help جس میں دکھایا گیا ہے کہ 1963–1964ء کے دوران امریکی ریاست مسیسیپی کے شہر جیکسن میں سیاہ فام لوگوں کو کیسے نسلی تفریق کا سامنا تھا۔یہ فلم ان سیاہ فام گھریلو ملازماؤں (maids) کی زندگیوں پر مرکوز ہے جو سفید فام خاندانوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں اور روزمرہ زندگی میں انہیں جس امتیازی سلوک، تحقیر اور ناانصافی کا سامنا کرنا پڑتا تھا، اسے نمایاں کرتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے یہ فلم ساتھ ہی سفید فام خواتین کی معاشرتی زبوں حالی اور ان کی objectification کو بھی بھرپور طریقے سے دکھاتی ہے جہاں معاشرے میں مرد ایک نہایت برتر مخلوق گردانا جاتا تھا جبکہ عورت کا اس سے کوئی تقابل ہی نہیں سمجھاجاتا تھا اور عورت کی زندگی کا سب سے ترجیحی مقصد مرد کی توجہ حاصل کرنا ہوتا تھا، اور توجہ کے حصول کے لیے عورت پر اس قدر معاشرتی دباو ہوتا تھا کہ صحیح غلط کی پروا کیے بغیر وہ ہر ممکن جائز و ناجائز طریقہ اپناتی تھی۔
اس زمانے کی موویز، ناولز، کہانیاں پڑھیں، مغربی معاشرے کی عورت ایک بالکل بےکار شے نظر آتی ہے جو کچھ نہیں فقط اپنی کم عقلی، نافہمی اور کوڑھ مغزی کے سبب سے مرد پر بار ہوتی تھی، اس کے رائے کی اہمیت ہونا کجا اسکی سرے سے کوئی رائے سمجھی ہی نہیں جاتی تھی۔ اور اس میں بہت کچھ ہاتھ بائبل کی محرف تعلیمات کا بھی تھا جہاں عورت ہر برائی کی جڑ اور انسانوں کے جنت سے بے دخل ہونے کی اصل وجہ قرار پاتی ہے۔ ایسے میں عیسائی تعلیمات کی بنیادوں پر کھڑے معاشرتی قوانین میں عورت ایک بوجھ، ایک مجرم ہی گردانی جانی تھی۔
گویا اس دور کے مغربی معاشروں میں عورتیں استحصال کے اس اسفل ترین درجے پر پہنچ چکی تھیں جس درجے میں شاید دور جاہلیت میں بھی خواتین نہ ہوتی ہونگی۔ کبھی نیٹ فیلیکس اور امیزون پرائم پر موجود سیریز Bridgerton، Downton Abbey، The Gilded Age، Belgravia، Queen Charlotte: A Bridgerton Story دیکھیے، حیرت زدہ رہ جائینگے کہ مرد کو ریجھانے کے معاملے میں ایک شریف گھر کی عورت اور ایک بازاری عورت میں کوئی فرق نظر نہیں محسوس ہوتا۔
عورتوں کے اسی معاشرتی استحصال اور میل شووینسٹ سوسائٹی کا رد عمل فیمینزم کی تحریک کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یہ تحریک اپنے ہر ناحیے سے ایک مقامی تحریک تھی جو کہ مغربی معاشرے کے تناظر میں ردعملی طور پر جنمی تھی اور عورتوں کے استحصال کی افراط میں ایک دوسری تفریط پر کھڑی تھی۔ اس تحریک کو ایسے کسی معاشرے میں درآمد کرنے کی قطعی حاجت نہیں تھی جہاں خواتین کو خود معاشرہ یا معاشرہ جن تعلیمات کی بنیادوں پر کھڑا ہے، تمام حقوق ودیعت کرتا ہے۔
مغرب سے فیمینزم نکل کر برصغیر میں نہایت پھلا پھولا اور اسکی وجہ بھی فطری تھی۔ برصغیر میں بدھ مت، جین مت اور ہندوازم کا زور تھا اور یہ معاشرے انہیں مذاہب کی تعلیمات سے متاثر قوانین پر قائم تھے اور شومئی قسمت کہ ان تمام مذاہب میں خواتین کی حیثیت داسی اور ستی سے زیادہ نہ تھی، حتی کہ کبھی اسے دیوی بھی بنایا گیا تو اسکی اصل شخصیت کو بالکل مٹا کر ایک نئی شخصیت تخلیق کردی گئی۔ پس برصغیر کا معاشرہ بھی مغربی معاشرے کی طرح میل شووینسٹ معاشرہ تھا، جہاں عورت مرد کے زندہ رہتے اسکی داسی ہوتی تھی اور اسکے مرتے ہی یا تو ستی یا پھر اسکے نام پر زندگی کی ہر نعمت کو خود پر حرام کرکے سسکتے سسکتے ساری زندگی گزارنا ہوتی تھی۔ برصغیر کی یہ معاشرتی اقدار اس خطہ زمین میں کچھ ایسے پیوست تھیں کہ اسلام کے آنے سے ان میں بعض مذہبی جاھلانہ رسومات کی منسوخی تو ہوگئی لیکن برصغیر کی مسلم عورت کا مرتبہ ہندو عورت سے کچھ زیادہ بلند نہ ہوسکا۔ فرق بس اتنا آگیا کہ پہلے معاشرتی اقدار کے نام پر عورت کا استحصال ہوتا تھا اور بعد از اسلام اسلامی تعلیمات کی من مانی تشریحات کرکے معاشرتی اقدار کو اسلام کے تحت ڈھالنے کے بجائے اسلام کو معاشرتی اقدار کے تحت ڈھال دیا گیا۔ پس عورت پہلے بھی پس رہی تھی اور بعد میں بھی پستی رہی۔ صرف ایک مثال سے یہ بات سمجھ آجائے گی کہ طلاق جو ناپسندیدہ ہونے کے باوجود بھی دور خیرالقرون میں بکٹرت واقع ہوتی تھیں اور مسلم مرد و عورت دونوں ہی ایک دوسرے کے ناروا سلوک کو زندگی بھر جھیلنے کے بجائے طلاق کا راستہ اپنانے کو ترجیح دیتے تھے، اسی طلاق کو برصغیر کے معاشرے میں ہندووں کی نقالی میں گالی بنادیا گیا کہ بچی کو بیاہتے ہوئے تاکید کی جاتی کہ ڈولی میں جارہی ہو ارتھی میں آنا۔ اور پھر وہ بچی بیچاری ساری زندگی گھٹ گھٹ کر گزارنے کو ترجیح دیتی لیکن طلاق کا سوچتی بھی ناں۔ طلاق کو گالی بنادینے کی کرشمہ سازی ہی رہی کہ برصغیری معاشرے میں مطلقہ کا عقد ثانی محال تصور ہوتا ہے، اور طلاق کا سنتے ہی مطلقہ خاتون کے اخلاق و کردار کو فورا جج کرلیا جاتا ہے۔
جب کہ عرب معاشروں میں دور خیر القرون کی طرح آج بھی طلاق ایک عام فعل ہے جو ضرورت پڑنے پر لی جاسکتی ہے اور ایسا ہونے پر نہ لڑکا لڑکی کے گھرانوں میں کوئی چپقلش ہوتی ہے اور نہ ان کے عقد ثانی میں کوئی مسئلہ۔ اور یہی ایک بنیادی وجہ ہے کہ عرب معاشروں میں کم از کم خانگی و عائلی سطح پر مرد بیویوں سے برے سلوک روا رکھنے میں نہایت احتیاط برتتے ہیں کیونکہ انکو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مستقل طور پر روا رکھنے والے کسی قسم کے ظلم و زیادتی یا ناروا سلوک کے نتیجے میں خاتون خانہ کے پاس طلاق کا راستہ موجود ہے جس کو اختیار کرنے کے سلسلے میں اس پر کسی قسم کا کوئی معاشرتی دباو نہیں۔ جبکہ برصغیر کی خواتین کی نفسیات میں پہلے دن سے یہ بات بٹھادی جاتی ہے کہ شریف عورتیں ناچاقیاں ہونے پر طلاقیں نہیں لیتیں، اور اسی نفسیات کا فائدہ اٹھا کر برصغیر کے مرد حضرات جو سلوک چاہے روا رکھتے ہیں۔ حیرت تو اس امر پر ہے کہ برصغیر کے ہمارے اہل علم طلاق کو جس قدر کریہہ و ناپسندیدہ فعل بنا کر اس کے جائز استعمال میں بھی قدغنیں ڈالتے ہیں، یہ کراہت و ناپسندیدگی دور خیر القرون میں بڑے بڑے صحابہ و تابعین کو نظر نہ آتی تھی۔ سوچئیے کہ سیدنا زبیر بن العوام اور سیدہ اسماء بنت ابی بکر کی ادھیڑ عمری میں طلاق ہوئی، سیدنا زید کو نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سیدہ زینب کو نکاح میں رکھنے کی مسلسل تلقین کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود ایک آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ آپسی تعلقات نہ بن پانے پر نبی صلی علیہ والہ وسلم کی اس شریف المرتبت و اعلی نسب آزاد خاتون پھوپھی زاد کو طلاق دینے پر آمادہ ہے جس کا رشتہ خود نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان سے کروایا تھا۔ اور وجہ کیا تھی فقط یہی کہ معاشرتی رتبوں کے تفاوت کے سبب سے زوجین میں بن نہیں پارہی تھی۔ ہمارے آج کے برصغیر کے مسلمان اس دور میں ہوتے تو معاذ اللہ سیدنا زید پر حکم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خلاف ورزی کرنے کی پاداش میں توہین رسالت کا فتوی لگا کر واجب القتل ہی قرار دے ڈالتے۔
ایام جاہلیت ہو یا دور اسلام، عربوں میں بحیثیت مجموعی خواتین کی معاشرتی حیثیت کافی مضبوط و بلند تھیں، البتہ اس میں بہت کچھ ہاتھ عربوں کی اپنی فطرت و طبیعت کا بھی تھا، تاہم جہاں جہاں اس معاشرتی حیثیت میں نقب زنی کی جاسکتی یا کی جاتی تھی، اسلام نے آکر ان سب کا راستہ مسدود کردیا۔ ورنہ خود سوچئے کہ مغرب میں سترہویں اٹھارہویں صدی تک خواتین کو تجارت کا حق نہ تھا، جبکہ اسلام سے قبل سیدہ خدیجہ عرب کی ممتاز تاجر خواتین میں سے تھیں۔ وہ مغرب جہاں سترہویں اٹھارہویں صدی تک خواتین کو دفتروں میں کام کرنے یا انتظامی معاملات چلانے کی اجازت نہ تھی، اس کےمقابلے میں بقول علامہ ابن حزم ظاہری فی جمھرة انساب العرب خلافت راشدہ کے دور میں خلیفہ وقت سیدنا عمر مدینہ کے بازار کا نگران ایک خاتون سیدہ شفا بنت عبداللہ کو بناتے ہیں جو بازار میں اشیائے خورد و نوش کی کوالٹی اور قیمتوں کی نگرانی کرتی تھیں۔
یہی سبب رہا کہ عرب ممالک میں فیمینزم کا کبھی ویسا والہانہ استقبال نہیں ہوسکا جیسا کہ برصغیری معاشرے میں ہوا۔ کیونکہ عرب خواتین کے لیے فیمنزم میں کچھ نیا یا بہتر رکھا ہی نہیں تھا جو ان کے پاس پہلے سے موجود نہ ہو۔ آپ کبھی خلیجی ممالک کی کسی ماڈرن سے ماڈرن خاتون سے فیمنزم کی تعریف یا اسکا ابلاغ نہیں سنیں گے۔ ایسا نہیں کہ انکوفیمنیزم سے کوئی پرخاش یا کد ہے بلکہ ان کے لیے فیمینزم ایک بالکل غیر متعلق چیز ہے جو ان کی زندگیوں میں مزید کوئی بہتری نہیں لاسکتی۔
جبکہ برصغیر کا معاملہ مختلف رہا کیونکہ وہاں فیمینزم جہاں اپنے ساتھ بہت سی غلط چیزیں لایا وہیں کئی اچھی باتیں بھی ہوئیں اور غلط طریقے سے ہی سہی لیکن عورت کو کسی قدر راحت و سکون میسر آیا، وہ الگ بات ہے کہ اس راحت و سکون کے ساتھ بے راہ روی اور ذمہ داریوں سے فرار کی لعنت بھی ساتھ آئی۔
خیر تحریر پھر کافی طویل ہوگئی۔ بتانا فقط یہ مطلوب تھا کہ برصغیر کا معاشرہ آج بھی اپنی اصل میں ایک میل شووینسٹ معاشرہ ہے جہاں خواتین کو دبانا مردانگی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور افسوس اس بات کا ہے کہ وہی اسلام جس نے عورت کو آزادی اور مرد کے مقابلے میں مقام و مرتبہ دیا تھا، اسی اسلام کی تعلیمات کی من و معاشرہ چاہی تاویلات کرکے مسلم عورت کو عرب کی باوقار اور خود مختار عورت کے مرتبے سے اتار کر ہندوستان کی دکھیاری و بےبس و لاچار عورت بنادیا گیا ہے۔ اسکی ادبی مثال دیکھنی ہو تو دبیر و انیس کے مرثیوں میں خاندان حسین کی خواتین کی تصویر کشی ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔

بشکریہ فیس بک وال

اپنا تبصرہ لکھیں