(بحیثیتِ تکمیلِ میثاقِ مدینہ و تطبیقِ اصولِ خلافت)
تمہید (Preamble)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد خاتم النبیین، وعلی آلہ و صحبہ اجمعین۔
1. حاکمیت و ملکیت الٰہی
یہ دستور اس عظیم الشان حقیقت پر قائم ہے کہ زمین و آسمان کی بادشاہی اور تمام تر حکومت صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے ہے۔ کوئی انسان، کوئی کونسل، کوئی پارلیمنٹ، اور کوئی ادارہ اپنی ذات سے حاکمیت کا مالک نہیں۔ حقیقی حاکم صرف اللہ ہے، اور سب سے بہترین فیصلہ کرنے والا وہی ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے:
“لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ” (سورۃ النور: 42)
اسی طرح، حقیقی ملکیت بھی صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ زمین اور اس کی تمام چیزیں اللہ کی مملوک ہیں۔ انسان (خواہ وہ خلیفہ ہو، کونسل کا رکن ہو، یا عام شہری) کسی بھی چیز کا حقیقی مالک نہیں ہے۔ اسے صرف استعمال کرنے کا حق (حقِ انتفاع) حاصل ہے، بطورِ امانت اور آزمائش۔
“لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَإِن تُبْدُوا مَا فِي أَنفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُم بِهِ اللَّهُ” (سورۃ البقرہ: 284)
لہٰذا، اس دستور کے تحت قائم ہونے والا نظامِ خلافت کسی انسان یا جماعت کی حکومت نہیں، بلکہ رب العالمین کی حکومت ہوگی۔ انسان (خلیفہ، کونسل، عدالت، اور عوام) صرف اس کے حکم کے نافذ کرنے والے، اس کے مال کے امانت دار، اور اس کے سامنے جواب دہ کارکن ہیں۔
2. معروف کی تعریف: اسلامی دستور کی بنیاد
قرآن مجید نے ہر معاملے میں “بالمعروف” کے حکم کو بار بار (36 مقامات پر) دہرایا ہے۔ یہی وہ کلیدی تصور ہے جو شریعت کے اطلاق کو معاشرتی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے۔
اس دستور کے مقاصد کے لیے “معروف” کی مندرجہ ذیل تعریف کی جاتی ہے:
“معروف وہ رائج طریقہ کار ہے جو قرآن کے اصولوں سے ہم آہنگ ہو اور معاشرے میں عام پہچان رکھتا ہو (یعنی اسے بھلائی اور انصاف سمجھا جاتا ہو)۔”
اس تعریف کے تحت:
· کوئی بھی طریقہ کار جو قرآن کی کسی نص کی صریح خلاف ورزی کرے، خواہ وہ کتنا ہی عام کیوں نہ ہو، معروف نہیں (مثال: سود، شراب، جوا)۔
· کوئی بھی طریقہ کار جو قرآن کے اصولوں سے مطابقت رکھتا ہو، خواہ وہ کسی معاشرے میں عام نہ ہو (مثال: پردہ، صدقہ)، وہ معروف ہے اور اسے اپنانا ضروری ہے۔
· معاشرتی رواج (عرف) صرف اس وقت معروف کہلائے گا جب وہ قرآن سے ٹکرائے نہیں۔
یہ دستور اسی “معروف” کے تصور کو اپنے تمام دفعات میں لاگو کرتا ہے۔
3. تاریخی نمونے: انبیاء کی خلافت اور نبوت کے خاتمے کے بعد اہل حل و عقد کی ذمہ داری
قرآن مجید میں مختلف انبیاء کے واقعات بیان کیے گئے تاکہ امت کے لیے نمونہ ہو۔ ان تمام نمونوں میں ایک واضح اصول یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو بھی خلافت یا امامت قائم ہوئی، وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے قائم ہوتی تھی۔
· حضرت داؤد علیہ السلام: اللہ نے خود فرمایا: “یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ” (ص: 26) – یعنی اللہ نے انہیں براہ راست خلیفہ بنایا۔
· حضرت سلیمان علیہ السلام: وہ اپنے والد کے جانشین بنے، یہ بھی اللہ کی طرف سے عطا کردہ تھا۔
· حضرت موسیٰ علیہ السلام: انہیں اللہ نے رسول بنا کر بھیجا، اور انہوں نے اپنی قوم کو منظم کیا۔
· حضرت یوسف علیہ السلام: اللہ نے ایک کافر بادشاہ کے ذریعے انہیں اقتدار میں لایا، اور پھر وہاں اسلامی نظام قائم ہوا۔
لیکن نبوت کے خاتمے کے بعد صورت حال بدل گئی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
“مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَ لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ” (الاحزاب: 40)
اس لیے اب اللہ کی طرف سے کوئی نیا نبی یا معصوم امام مقرر نہیں کیا جائے گا۔ خلافت قائم کرنے کی ذمہ داری امت کے اہل حل و عقد (فقہی، اہل علم، متقی پرہیزگار افراد) پر منتقل ہو چکی ہے۔
صحابہ کرام نے نبی کی وفات کے فوراً بعد سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہو کر باہمی مشورے سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کیا۔ یہ واقعہ ہمارے لیے اصول فراہم کرتا ہے: جب نبوت ختم ہو چکی ہو، تو امت خود اپنے لیے ایک خلیفہ کا تقرر اہل حل و عقد کے ذریعے کرے گی۔
4. مرحلہ وار حکمت عملی برائے نفاذ خلافت (اس دستور کی استراتیجی بنیاد)
تاریخی نمونوں (خاص طور پر محمدی نمونہ) کی روشنی میں، خلافت کے قیام کے لیے درج ذیل مرحلہ وار حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔ یہ حکمت عملی اس دستور کا حصہ نہیں بلکہ اس کے نفاذ کی راہنما ہے:
1. جماعت کا قیام: دنیا میں موجود کسی بھی اسلامی یا غیر اسلامی ریاست میں مسلمانوں کا ایک گروہ جو اہل حل و عقد کی شرائط پر پورا اترتا ہو (عالم، عادل، مدبر، صالح، متقی، پرہیزگار)، وہ باہمی مشاورت سے ایک شخص کو بطور خلیفہ نامزد کرے گا۔
2. بیعت خاص: اس نامزد خلیفہ کے ہاتھ پر ابتدائی طور پر اسی گروہ کے لوگ بیعت کریں گے، جیسا کہ صحابہ نے سقیفہ میں حضرت ابوبکر کی بیعت کی۔
3. تربیت اور تنظیم: خلیفہ اس جماعت کی تربیت کرے گا، انہیں قرآن و سنت کی تعلیم دے گا، اور ان کے ذریعے دوسرے مسلمانوں تک پیغام پہنچائے گا۔
4. مزاحمت اور جدوجہد: جب جماعت مضبوط ہو جائے گی، تو وہ موجودہ سیکولر اور ظالم نظاموں کے خلاف پرامن یا مسلح جدوجہد شروع کرے گی۔
5. بیعت عام: جب خلیفہ کی اتھارٹی کافی علاقے میں پھیل جائے گی، تو بیعت عام کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں مسلمان اپنی مرضی سے اس خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔
6. اسلامی سلطنت کا قیام: اس کے بعد ایک باقاعدہ اسلامی ریاست قائم ہو جائے گی، جس میں اللہ کے احکام نافذ ہوں گے، اور یہی خلافت راشدہ کے بعد والی سلطنتوں کی طرح ہوگی۔
یہ دستور اس منصوبے کے تیسرے مرحلے (خلیفہ کے تقرر اور اس کی اتھارٹی کے بعد) کے لیے آئینی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
5. مرکزی اتھارٹی (خلیفہ) کی ضرورت اور اس کی واضح تعریف
ہر دور میں جب بھی دین کی احیاء ممکن ہوئی، ایک مرکزی کردار (نبی یا خلیفہ) کی اتھارٹی موجود رہی۔ قرآن مجید میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے:
“یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ” (النساء: 59)
“اولی الامر” سے مراد وہ لوگ ہیں جنہیں مسلمانوں نے اپنا حاکم مقرر کیا ہو۔
خلیفہ کی واضح تعریف:
خلیفہ وہ شخص ہے جو اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہوتا ہے، اور اسی نیابت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین پر تفویض کردہ انتظامی اتھارٹی (Administrative Authority delegated by Allah) کا حامل ہوتا ہے۔ خلیفہ براہ راست اللہ کا نائب نہیں ہے (کیونکہ اللہ کا کوئی نائب نہیں ہوتا)، بلکہ وہ رسول اللہ کا جانشین ہے اور اسی حیثیت سے اسے اللہ کی طرف سے اختیار حاصل ہے۔
اسی طرح ارشاد ہے:
“وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا” (آل عمران: 103)
تفرقے سے بچنے اور اتحاد قائم رکھنے کے لیے ایک مرکزی اتھارٹی کا ہونا ضروری ہے۔ جب مسلمانوں کے پاس کوئی خلیفہ نہیں ہوتا، تو وہ خود بخود گروہوں میں بٹ جاتے ہیں۔
6. اس دستور کا مقصد و دائرہ کار
اس دستور کا مقصد ایک ایسے نظامِ خلافت کا قیام ہے جہاں:
· حاکمیتِ الٰہی اور ملکیتِ الٰہی کو عملی شکل دی جائے۔
· اہل حل و عقد کی مجلس (خلیفہ کونسل) خلیفہ کا انتخاب (اتفاقی یا ترجیحی ووٹ سے) اور معزولی (عدالت کی سفارش پر دو تہائی اکثریت سے) کرے۔
· وفاقی شرعی عدالت خلیفہ اور دیگر حکام کا احتساب کرے، اور اس کے فیصلے کونسل پر لازم ہوں۔
· فوری انتخاب (زیادہ سے زیادہ تین دن) کے ذریعے خلافت میں کوئی خلا پیدا نہ ہونے پائے۔
· بیعت خاص (اہل حل و عقد کی) اور بیعت عام (عوام کی) کا طریقہ کار شرعی اصولوں کے مطابق ہو۔
· معروف کی مندرجہ بالا تعریف کے تحت تمام معاملات طے پائیں۔
یہ دستور جمہوریت کو مسترد کرتا ہے کیونکہ جمہوریت میں حاکمیت عوام کی ہوتی ہے، جبکہ اسلام میں حاکمیت صرف اللہ کی ہے۔ خلیفہ اس حاکمیت کا نائب نہیں بلکہ رسول اللہ کا نائب ہوتا ہے، اور اسی نائب کے ذریعے اللہ کی تفویض کردہ انتظامی اتھارٹی استعمال کرتا ہے۔
7. سنت کی جامع تعریف: انتظامی اور عملی طریقہ کار
اس دستور میں جہاں بھی “سنت” کا لفظ آیا ہے، اس سے مراد درج ذیل جامع تعریف ہوگی:
“سنت سے مراد اللہ کے تمام انبیاء اور خلفائے راشدین کا وہ انتظامی اور عملی طریقہ کار ہے جو انہوں نے دین کے اطلاق (نفاذِ دین) میں اختیار کیا۔”
یہ تعریف درج ذیل قرآنی اصولوں پر قائم ہے:
(الف) انبیاء علیہم السلام کا طریقہ کار:
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ پچھلے انبیاء کے طریقہ کار کی پیروی کرو:
“أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ” (الأنعام: 90)
(ب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کار:
“لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ” (الأحزاب: 21)
(ج) خلفائے راشدین کا طریقہ کار:
اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام اور ان کے پیروکاروں کو رضایت سے نوازا:
“وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ” (التوبہ: 100)
خلفائے راشدین (ابوبکر، عمر، عثمان، علی رضی اللہ عنہم) نے رسول اللہ کے طریقہ پر چلتے ہوئے خلافت کا انتظامی ڈھانچہ قائم کیا۔ ان کا طریقہ کار (عدالتی نظام، اقتصادی نظم، احتسابی طریقہ کار) بھی سنت کا حصہ ہے۔
(د) سنت کی حجیت:
“مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ” (النساء: 80)
اور:
“وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا” (الحشر: 7)
لہٰذا سنت (رسول اللہ اور انبیاء کا طریقہ کار، اور خلفائے راشدین کا انتظامی منہاج) شریعت کا دوسرا ماخذ ہے اور اس دستور کی تمام دفعات کی تشریح اسی سنت کے مطابق ہوگی۔
(ہ) اس دستور میں سنت کا اطلاق:
· دفعہ 2 میں “خلیفہ کتاب و سنت کے مطابق حکومت کرے گا” کا مطلب ہے کہ خلیفہ کا انتظامی، عدالتی، معاشی، دفاعی اور خارجی طریقہ کار انبیاء علیہم السلام اور خلفائے راشدین کے طریقہ کار سے ہم آہنگ ہوگا۔
· دفعہ 3 میں “شرعی خلاف ورزی” کی تعریف میں سنت کے خلاف عمل بھی شامل ہوگا۔
· دفعہ 9 (دفاعی امور) اور دفعہ 10 (خارجی امور) میں سنت کے مطابق جنگ و امن کے قواعد لاگو ہوں گے۔
اس دستور کا ہر لفظ، ہر دفعہ، اور ہر فیصلہ مندرجہ بالا اصولوں کا پابند ہوگا۔
کوئی خلیفہ، کونسل، یا عدالت اس حاکمیتِ الٰہی اور ملکیتِ الٰہی سے بالا تر نہیں۔
دنیا کے تمام مسلمان ریاست کے پیدائشی شہری کہلائیں گے خواہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں آباد ہوں۔
ریاستی معیشت ربانی ملکیت پر قائم ہو گی اور کسی بھی مسلمان کو انفرادی یا اجتماعی سطح پر کسی بھی قسم کے مالکانہ حقوق حاصل نہ ہوں گے تاہم اشیاء پر تصرف کی غرض سے محض حق استعمال حاصل ہو گا۔
“قل لعفو” کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی معیشت ارتکاز سرمایہ کے بجائے تقسیم سرمایہ پر قائم کی جائے گی چنانچہ کسی بھی مسلمان کو انفرادی یا اجتماعی سطح پر کسی بھی طرح کا مال جمع کرنے یا ارتکاز دولت کا حق حاصل نہ ہو گا۔
چیزوں کی قیمتوں کا تعین محنت لاگت اور دس فیصد اضافی سر چارج کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
ریاست میں تمام اشیاء کسی بھی طرح کی ملاوٹ سے پاک اعلی معیار پر تیار کی جائیں گی تاہم مدت استعمال کے لحاظ سے کم یا زائد مدت استعمال کی اشیاء تیار کرنے کی اجازت ہو گی اور اس نسبت کو اشیاء کی قیمتوں کے تعین میں ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔
ایک مرکزی بینک قائم کیا جائے گا جو مجموعی قومی پیداوار کے متوازی زر مبادلہ جاری کرے گا جو باوقت ضرورت ریاستی عوام کو بلا سود قرض حسنہ جاری کرنے کا مجاز ہو گا۔
ریاست میں کسی بھی طرح کی نجی بینکاری کی اجازت نہ ہو گی اور نہ ہی کسی غیر ملکی بینک کو ریاستی سطح پر کام کرنے کی اجازت حاصل ہو گی۔
ملکی پیداوار کو مرکزی اہمیت حاصل ہو گی جسکے لیے عوام کی پیشہ وارانہ تربیت ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہو گی اور انتہائی ضرورت کی اشیاء کو ہی درآمد کرنے کی اجازت ہو گی۔
دفعہ 1: مجلس اہل حل و عقد (خلیفہ کونسل) کی تشکیل
1. رکنیت: مجلس ان ممتاز علماء، قضاۃ، معززین، اور ماہرین پر مشتمل ہوگی جو اہل حل و عقد کی شرائط پر پورا اترتے ہوں:
· عادل (انصاف پسند)
· شرعی علوم اور عصری معاملات کا عالم
· متقی، پرہیزگار، اور صالح
· مدبر (حکمت عملی بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو)
· امت کے معاملات طے کرنے کی اہلیت رکھتا ہو
2. تعداد: کم از کم 11 ارکان، زیادہ سے زیادہ 25۔
3. مدت: ارکان کی مدتِ کار سات (7) سال ہوگی، تاہم ان کی خدمات جاری رکھنے کے لیے دوبارہ اعتماد حاصل کرنا لازم ہے۔
4. تقرر ارکان: مجلس کے ارکان کا تقرر معروف طریقے سے ہوگا، یعنی موجود ارکان باہمی مشاورت سے نئے ارکان کی نامزدگی کریں گے، اور وفاقی شرعی عدالت کی توثیق سے ان کا تقرر عمل میں آئے گا۔
دفعہ 2: تقرر خلیفہ کا طریقہ کار
1. اتفاقی نامزدگی: مجلس اہل حل و عقد کے ارکان باہمی مشاورت اور شوریٰ سے صرف ایک امیدوار پر اتفاق کریں گے جسے وہ خلافت کے لیے موزوں سمجھیں۔ ہر امیدوار کو شرعی اہلیت (مسلمان، بالغ، عادل، صاحب علم، صاحب صلاحیت، شریعت کا پابند) حاصل ہوگی۔
2. کثیر امیدواروں سے اجتناب: مجلس کسی بھی صورت میں تین یا اس سے زیادہ نامزد امیدوار پیش نہیں کرے گی، کیونکہ اس سے امت میں اختلاف و تفرقہ پیدا ہوتا ہے جیسا کہ حضرت علی و معاویہ رضی اللہ عنہما کے دور میں ہوا۔ مجلس اپنی حکمت عملی سے ایک ہی شخص پر متحد ہونے کی کوشش کرے گی۔
3. اگر اتفاق نہ ہو سکے: اگر مجلس باہمی مشاورت کے باوجود کسی ایک شخص پر متفق نہ ہو سکے، تو وہ ترجیحی ووٹنگ کے ذریعے فیصلہ کرے گی۔ اس طریقہ کار میں ہر رکن اپنی ترجیح کے مطابق ایک نام لکھے گا۔ جس شخص کو دو تہائی (2/3) سے زائد ارکان کی ترجیح حاصل ہو، وہ خلیفہ منتخب ہوگا۔ اگر دو تہائی سے زائد کسی کو حاصل نہ ہو، تو سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو افراد میں سے ایک کو دوبارہ ووٹنگ کے ذریعے سادہ اکثریت (50%+1) سے منتخب کیا جائے گا۔
4. خلیفہ کی حیثیت (واضح تعریف): منتخب شدہ خلیفہ اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہوگا، اور اسی نائب کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین پر تفویض کردہ انتظامی اتھارٹی کا حامل ہوگا۔ وہ براہ راست اللہ کا نائب نہیں ہے۔
5. بیعت خاص: منتخب خلیفہ کے ہاتھ پر مجلس کے تمام ارکان بیعت کریں گے۔ یہ بیعت اس شرط پر ہوگی کہ خلیفہ کتاب و سنت کے مطابق حکومت کرے گا۔
6. بیعت عام: جب خلیفہ کی اتھارٹی کافی علاقے میں پھیل جائے گی، تو عوام کی طرف سے بیعت عام کا انعقاد کیا جائے گا۔ بیعت عام کا طریقہ کار معروف ہوگا (مثلاً اجتماعی اجتماعات، خطبات، یا نمائندوں کے ذریعے)۔
7. بیعت کا شرعی تصور: قرآن میں ہے: “اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ ۭ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ” (الفتح: 10)۔ لہٰذا خلیفہ سے بیعت کرنا دراصل اللہ سے بیعت کرنا ہے، بشرطیکہ خلیفہ صحیح راہ پر ہو۔
8. خلیفہ کی مدت: خلیفہ کی مدت کسی بھی جسمانی یا ذہنی ضعف کے ظاہر ہونے تک ہوگی۔ جسمانی صحت کے اعتبار سے ضعف کی تشخیص وفاقی شرعی عدالت کے زیر نگرانی ایک طبی بورڈ کرے گا۔ جب طبی بورڈ یہ رپورٹ دے کہ خلیفہ اپنے فرائض انجام دینے سے جسمانی یا ذہنی طور پر نااہل ہو چکا ہے، تو یہ رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے گی، اور عدالت اس کی بنیاد پر معزولی کا عمل شروع کر سکتی ہے (دفعہ 4 کے تحت)۔
دفعہ 3: وفاقی شرعی عدالت کا کردار و اختیارات (احتساب)
1. آزادی عدلیہ: وفاقی شرعی عدالت مکمل طور پر خود مختار ہوگی، اور اس کے فیصلے کسی قسم کے سیاسی دباؤ سے بالاتر ہوں گے۔
2. احتساب کا دائرہ: عدالت صرف ان مقدمات کا جائزہ لے گی جن میں خلیفہ یا مجلس کے کسی رکن کے خلاف کھلی شرعی خلاف ورزی (مثلاً: نماز ترک کرنا، شراب نوشی، رشوت، ظلم، یا قرآن و سنت کی نفی) کا الزام ہو۔
3. مقدمہ کی شرط: مجلس (باقاعدہ پٹیشن کے ذریعے) یا کوئی بھی عادل شہری عدالت میں درخواست دے سکتا ہے۔ البتہ خلیفہ کی معزولی سے متعلق مقدمہ صرف مجلس کی دو تہائی اکثریتی پٹیشن پر عدالت میں قابل سماعت ہوگا۔
4. فیصلے کی اقسام: عدالت درج ذیل احکام صادر کر سکتی ہے:
· توبہ یا اصلاح کی ہدایت
· مالی جرمانہ (جو بیت المال میں جمع ہو)
· عوامی معافی
· شرعی بنیاد پر معزولی کی سفارش (صرف اس صورت میں جب خلیفہ کا فعل اتنا سنگین ہو کہ اس کی بیعت ساقط ہو جائے)
5. معروف کی تطبیق: عدالتی کارروائی کے تمام مراحل (سماعت، گواہی، فیصلہ) معروف طریقوں پر مبنی ہوں گے، یعنی شفاف، منصفانہ، اور عام فہم۔
دفعہ 4: معزولی کا طریقہ کار
1. عدالت کی سفارش: جب وفاقی شرعی عدالت معزولی کی سفارش کرے، تو یہ سفارش مجلس اہل حل و عقد کو بھیجی جائے گی۔
2. مجلس کا فیصلہ: مجلس عدالت کی سفارش پر غور کرے گی اور دو تہائی (2/3) اکثریت سے معزولی کا باضابطہ فیصلہ کرے گی۔
· اگر مجلس دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکے، مگر عدالت کی سفارش موجود ہو، تو عدالت خود عوام کے سامنے استفتاء (رائے شماری) کروا سکتی ہے (فطری انصاف کے تحت)۔ اگر 60% عوام معزولی کے حق میں ہوں تو خلیفہ خود بخود معزول سمجھا جائے گا۔
3. طبی نااہلی کی صورت میں: اگر طبی بورڈ (عدالت کے زیر نگرانی) خلیفہ میں جسمانی یا ذہنی ضعف کی رپورٹ دے تو عدالت براہ راست معزولی کا حکم دے سکتی ہے، جس کے لیے مجلس کی دو تہائی اکثریت کی ضرورت نہیں ہوگی۔
4. نئے خلیفہ کا فوری تقرر (دفعہ 5 ملاحظہ کریں)
دفعہ 5: نئے خلیفہ کا فوری انتخاب (تقرر کی معیاد)
شرعی اصول: خلیفہ کا انتخاب بلا تاخیر اور فوری طور پر کیا جائے گا تاکہ امت میں خلاء اور فتنہ پیدا نہ ہو۔
1. معزولی یا خلیفہ کی وفات کے فوراً بعد، مجلس کا اجلاس اسی دن (زیادہ سے زیادہ 24 گھنٹوں کے اندر) بلایا جائے گا۔
2. مجلس تاخیر کیے بغیر، زیادہ سے زیادہ تین (3) دن کے اندر نئے خلیفہ کا انتخاب مکمل کرے گی۔
3. انتخاب کے عمل کے دوران کوئی بھی غیر ضروری تاخیر شرعاً ناجائز ہوگی۔
4. اگر مجلس جان بوجھ کر تاخیر کرے تو وفاقی شرعی عدالت انہیں معزول کر کے عارضی انتظامیہ مقرر کر سکتی ہے جو تین دن کے اندر انتخاب کرائے۔
دفعہ 6: عمل درآمد کی ذمہ داری (عدالت کے حکم پر مجلس کا کردار)
1. وفاقی شرعی عدالت کا کوئی بھی حکم (سوائے معزولی کی سفارش کے) مجلس اہل حل و عقد پر لازم ہوگا۔
2. مجلس عدالت کے احکامات پر عمل درآمد کرائے گی، خواہ وہ خلیفہ کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔
3. اگر مجلس عدالت کے حکم پر عمل نہ کرے تو عدالت خود اس حکم کو نافذ کرنے کے لیے ایگزیکٹو اختیار استعمال کر سکتی ہے، اور مجلس کے ارکان خلاف ورزی پر عہدے سے معزول ہو سکتے ہیں۔
دفعہ 7: تعطل (Gridlock) سے نمٹنے کی دفعات
· اگر مجلس عدالت کی معزولی کی سفارش پر دو تہائی اکثریت سے معزولی سے انکار کر دے، لیکن عدالت کا فیصلہ واضح اور متفقہ ہو، تو عدالت عوام کے سامنے رائے شماری (استفتاء) کروا سکتی ہے۔ اگر 60% عوام معزولی کے حق میں ہوں تو خلیفہ خود بخود معزول سمجھا جائے گا۔
· اس صورت میں مجلس کو نئے خلیفہ کے انتخاب کے لیے دفعہ 5 کے مطابق فوری کارروائی کرنی ہوگی۔
دفعہ 8: ترمیم اور تشریح
1. ترمیم کا طریقہ کار: اس دستور میں ترمیم صرف وفاقی شرعی عدالت کی تجویز پر ممکن ہوگی۔ عدلیہ کو دستور کے قرآنی جائزے کا حتمی حق حاصل ہوگا۔
2. عدالت کی تجویز: جب عدالت کو کسی دفعہ میں قرآنی اصولوں کے خلاف کوئی بات نظر آئے، یا وہ کسی بہتری کی تجویز پیش کرنا چاہے، تو وہ تحریری طور پر ترمیم کی تجویز مجلس اہل حل و عقد کو بھیجے گی۔
3. مجلس کا رد یا قبول: مجلس اس تجویز پر غور کرے گی۔ اگر مجلس دو تہائی (2/3) اکثریت سے ترمیم کو مسترد کر دیتی ہے، تو وہ نافذ نہیں ہوگی۔ اگر مجلس مسترد نہیں کرتی (یعنی ایک تہائی سے کم ارکان مسترد کریں، یا خاموشی اختیار کی جائے) تو ترمیم خود بخود نافذ ہو جائے گی۔
4. شرعی تشریح: کسی بھی شق کی شرعی تشریح کے لیے وفاقی شرعی عدالت حتمی مرجع ہوگی۔ عدالت یہ اختیار کسی بھی وقت، بغیر کسی درخواست کے، خود بھی استعمال کر سکتی ہے۔
5. ترمیم کی حد: ترمیم کرتے وقت معروف کی تعریف (جو اس دستور میں بیان کی گئی ہے)، حاکمیتِ الٰہی کے اصول، اور سنت کی جامع تعریف کو مدنظر رکھا جائے گا۔ کوئی بھی ترمیم قرآن و سنت کے خلاف نہیں ہو سکتی، اور عدالت اس بات کی نگران ہوگی۔
دفعہ 9: دفاعی امور (نظامِ دفاع)
اسلامی ریاست کا دفاع خلیفہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ریاست اپنے حدود،领土، جان، مال اور عزت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن شرعی اقدام کرے گی۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
“وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ” (الأنفال: 60)
9.1 اعلیٰ دفاعی کونسل: خلیفہ کی زیر صدارت ایک اعلیٰ دفاعی کونسل قائم ہوگی، جس میں فوجی کمانڈرز، سٹریٹجک ماہرین، اور مجلس کے دو نامزد ارکان شامل ہوں گے۔ یہ کونسل تمام دفاعی فیصلے کرے گی۔
9.2 مستقل فوج: ریاست ایک پیشہ ورانہ، تربیت یافتہ اور عقیدہ پر مبنی مستقل فوج رکھے گی۔ فوج کا بنیادی مقصد جہاد فی سبیل اللہ، سرحدوں کا تحفظ، اور مسلمانوں کی حفاظت ہے۔
“إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ” (الصف: 4)
9.3 جہاد کا تصور: جہاد صرف دفاع کے لیے نہیں بلکہ ظلم و استبداد کے خاتمے اور اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کے لیے بھی ہے۔ البتہ ابتدائی جہاد صرف خلیفہ کے حکم سے ہوگا، جسے مجلس کی توثیق درکار ہوگی۔
“وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ ۖ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ” (البقرہ: 193)
9.4 دفاعی بجٹ: ریاست کے سالانہ بجٹ کا کم از کم 15% سے 25% دفاعی امور کے لیے مختص ہوگا، جسے دفاعی کونسل تجویز کرے گی اور مجلس منظور کرے گی۔
9.5 شہری دفاع: ہر بالغ مسلمان پر فرض کفایہ ہے کہ وہ ضرورت پڑنے ریاستی دفاع میں حصہ لے۔ خلیفہ عام متحرک کاری (عام mobilization) کا اعلان کر سکتا ہے، جس پر تمام اہل افراد کو لبیک کہنا ہوگا۔
“انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ” (التوبہ: 41)
9.6 دفاعی صنعت: ریاست اپنی ضرورت کا زیادہ سے زیادہ ہتھیار خود تیار کرنے کی کوشش کرے گی۔ غیر مسلم ریاستوں سے ہتھیاروں کی درآمد صرف انتہائی ضرورت اور شرعی طور پر جائز حد تک ہوگی، بشرطیکہ اس کے بدلے میں ریاست کی خودمختاری یا عقیدہ کو خطرہ نہ ہو۔
9.7 امن کی دعوت: کسی بھی جنگ سے پہلے دشمن کو اسلام کی دعوت دی جائے گی، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا۔ قرآن فرماتا ہے:
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً” (البقرہ: 208)
دفعہ 10: خارجی امور (خارجہ پالیسی)
اسلامی ریاست کی خارجہ پالیسی قرآن کے اصولوں پر مبنی ہوگی: عدل، امن، وفائے عہد، اور مسلمانوں کی حمایت۔
10.1 اصول خارجہ: ریاست تمام غیر مسلم ریاستوں کے ساتھ پرامن تعلقات قائم کرے گی، جب تک وہ مسلمانوں کے خلاف جارحیت یا ظلم نہ کریں۔ قرآن فرماتا ہے:
“لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ” (الممتحنہ: 8)
10.2 جنگی ریاستوں سے تعلقات: جو ریاستیں مسلمانوں سے لڑیں، انہیں جبراً نکالیں، یا ان پر ظلم کریں، ان سے قتال کیا جائے گا:
“إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَىٰ إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ ۚ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ” (الممتحنہ: 9)
10.3 معاہدے اور امن: ریاست بین الاقوامی معاہدوں کو شریعت کے تحت پابند سمجھے گی۔ جب تک دشمن معاہدے پر قائم ہے، مسلمان بھی قائم رہیں گے:
“فَمَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا لَهُمْ” (التوبہ: 7)
معاہدہ کی خلاف ورزی کی صورت میں، ریاست دشمن کو مناسب نوٹس دے گی اور پھر کارروائی کرے گی۔
10.4 سفارتی تعلقات: ریاست تمام ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر سکتی ہے، بشرطیکہ وہ ریاستی عوام کے ایمان اور خودمختاری کے خلاف نہ ہوں۔ سفیروں کا تقرر خلیفہ مشاورت سے کرے گا۔
10.5 مسلمانوں کی حمایت: جہاں کہیں بھی مسلمان مظلوم ہوں، ریاست ان کی مدد کرے گی، چاہے وہ کسی بھی خطے میں ہوں۔ تاہم یہ مدد بین الاقوامی قوانین اور شریعت کے تحت ہوگی:
“وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ” (النساء: 75)
10.6 جاسوسی اور انٹیلی جنس: ریاست اپنی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی قائم کرے گی، جو دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھے، لیکن مسلمانوں کی جاسوسی (بدون شرعی سبب) حرام ہے۔
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا” (الحجرات: 12)
10.7 پناہ گزینوں کا حق: ہر وہ شخص جو ظلم سے بچ کر ریاست میں پناہ مانگے، اسے پناہ دی جائے گی:
“وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ” (التوبہ: 6)
اختتامیہ
یہ دستور میثاقِ مدینہ کی توسیع اور قرآن کے اصولوں (معروف، شوریٰ، عدل، احتساب، بیعت) اور سنت کی جامع تعریف (انبیاء و خلفائے راشدین کا انتظامی و عملی طریقہ کار) کا عملی اطلاق ہے۔ یہ کوئی الٰہی کتاب نہیں بلکہ ایک اجتہادی فریم ورک ہے، جو وقت کے ساتھ مزید بہتری کی گنجائش رکھتا ہے، بشرطیکہ کوئی بھی ترمیم قرآن و سنت کے خلاف نہ ہو۔
اس پر عمل درآمد سے قبل مزید فقہی مباحث اور امت کے اہل علم کی منظوری ضروری ہے۔
ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ امت مسلمہ کو صحیح راہ دکھائے، اہل حل و عقد کو اس فریضے کے لیے اٹھائے، اور عنقریب ہمیں خلافت راشدہ کی صورت میں امن و عدل کا وہ نظام عطا فرمائے جس کا وعدہ اس نے اپنے نبی سے کیا تھا:
“وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ” (النور: 55)


