کیا پختون کبھی ترقی کرسکیں گے؟-اے وسیم خٹک

میں آج جو بات لکھنے جا رہا ہوں، بہت سے لوگوں کو بری لگے گی۔ کچھ مجھے قوم دشمن کہیں گے، کچھ متعصب، کچھ نفرت پھیلانے والا۔ لیکن مجھے اس کی زیادہ پرواہ نہیں، کیونکہ میں برسوں سے سوشل ایشوز پر لکھتا آ رہا ہوں، اور جتنا میں نے اپنے معاشرے کو قریب سے دیکھا، سمجھا اور محسوس کیا ہے شاید ہی کسی اور نے کیا ہو۔ میں نے غربت دیکھی، بے روزگاری دیکھی، تعلیم کی کمی دیکھی، مگر ان سب سے بڑھ کر میں نے وہ رویّے دیکھے جو اس قوم کو اندر سے تباہ کر رہے ہیں۔ وہ رویّے جنہیں ہم “غیرت”، “روایت”، “انا” اور “ثقافت” کے نام پر سینے سے لگائے بیٹھے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہی چیزیں ہماری تباہی کی اصل بنیاد بن چکی ہیں۔

آج میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ اگر یہی سوچ، یہی ضد، یہی انا اور یہی فرسودہ ذہنیت برقرار رہی تو پختون ایک ہزار سال میں بھی ترقی نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ ترقی صرف سڑکوں، پلوں، گاڑیوں، موبائل فونز یا بڑے گھروں کا نام نہیں ہوتی۔ ترقی دراصل سوچ، برداشت، تعلیم، اجتماعی شعور، نظم و ضبط اور رویّوں کا نام ہے۔ اور بدقسمتی سے ہم نے ان تمام چیزوں کو جذباتی نعروں اور جھوٹی غیرت کے نیچے دفن کر دیا ہے۔

پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں بھی لوگ بستے ہیں۔ وہاں بھی مسائل ہیں، غربت ہے، ناانصافیاں ہیں، لیکن پختون معاشرے میں بعض سماجی رویّے اس شدت کے ساتھ موجود ہیں کہ انہوں نے زندگی کو مستقل ذہنی دباؤ میں بدل دیا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم ان رویّوں کو بیماری سمجھنے کے بجائے اپنی پہچان سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی ان پر تنقید کرے تو فوراً اسے دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔

چند دہائیاں پہلے تک پختون معاشرہ مختلف تھا۔ جوائنٹ فیملی سسٹم موجود تھا، وسائل کم تھے مگر سکون زیادہ تھا۔ دو کمروں کے گھروں میں پورے پورے خاندان رہ لیتے تھے۔ مہمان آتے تھے، رشتہ دار ٹھہرتے تھے، اور لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے۔ شادی بیاہ کئی کئی دن جاری رہتے تھے۔ میت کو اپنی میت اور خوشی کو اپنی خوشی سمجھا جاتا تھا۔ لوگ غربت میں بھی خوش تھے کیونکہ دلوں میں نفرتیں کم تھیں۔

اس دور میں بزرگوں کی عزت تھی۔ بچے بڑوں کے سامنے اونچی آواز میں بات نہیں کرتے تھے۔ رشتے رحمت سمجھے جاتے تھے، بوجھ نہیں۔ اگرچہ اس وقت سہولیات کم تھیں، مگر خاندان متحد تھے۔ لوگ ایک دوسرے کیلئے وقت نکالتے تھے۔ محلے ایک خاندان کی طرح ہوتے تھے۔

مگر آج صورتحال مکمل طور پر بدل چکی ہے۔

آج ہر شخص صرف اپنے لیے سوچتا ہے۔ بھائی بھائی سے دور ہے، بہن بہن سے بدگمان ہے، ماں باپ اولاد سے نالاں ہیں اور اولاد والدین کو بوجھ سمجھنے لگی ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر رشتے ختم ہو جاتے ہیں۔ دلوں میں نفرتیں رکھی جاتی ہیں۔ انا اس قدر بڑھ چکی ہے کہ معافی مانگنا کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ لوگ بات چیت کے بجائے دشمنی پالنا پسند کرتے ہیں۔

ماہرینِ عمرانیات ہمیشہ کہتے آئے ہیں کہ کوئی بھی معاشرہ صرف معاشی وسائل سے ترقی نہیں کرتا بلکہ اس کے اجتماعی رویّے اس کی ترقی یا زوال کا فیصلہ کرتے ہیں۔ جرمن سوشیالوجسٹ میکس ویبر نے کہا تھا کہ قوموں کی ترقی کا تعلق ان کے سماجی اخلاقیات، نظم و ضبط اور اجتماعی رویّوں سے ہوتا ہے۔ ابنِ خلدون نے “عصبیت” کا تصور پیش کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ جب معاشروں میں اجتماعی یکجہتی، باہمی اعتماد اور مشترکہ مقصد کمزور پڑ جاتا ہے تو ان کا زوال شروع ہوجاتا ہے۔ ان کے مطابق کوئی بھی قوم صرف طاقت یا دولت سے زندہ نہیں رہتی بلکہ اس کی اصل قوت اس کا اجتماعی شعور اور داخلی اتحاد ہوتا ہے۔

فرانسیسی ماہرِ عمرانیات ایمائل درخائم نے بھی اس بات پر زور دیا تھا کہ معاشرے اس وقت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں جب ان میں مشترکہ اخلاقیات، سماجی اقدار اور اجتماعی ذمہ داری کا احساس ختم ہوجاتا ہے۔ درکھائم کے مطابق جب ہر فرد صرف اپنی ذات تک محدود ہوجائے اور اجتماعی مفاد پس منظر میں چلا جائے تو معاشرے میں اخلاقی انتشار پیدا ہوتا ہے، اور یہی انتشار آہستہ آہستہ سماجی تباہی میں بدل جاتا ہے۔

اسی طرح امریکی مفکر فرانسس فوکویاما نے اپنی کتاب Trust میں لکھا کہ قوموں کی ترقی کا راز صرف معیشت یا ٹیکنالوجی میں نہیں بلکہ “باہمی اعتماد” میں پوشیدہ ہے۔ جن معاشروں میں لوگ ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں، اجتماعی مفاد کیلئے کام کرتے ہیں اور قانون و اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں وہ معاشی اور سماجی طور پر مضبوط ہوتے ہیں، جبکہ بداعتمادی، انا، حسد اور مسلسل داخلی کشمکش قوموں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔

یہ تمام مفکرین ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ قوموں کی قسمت صرف حکومتیں نہیں بدلتی بلکہ قوموں کے رویّے، سوچ، برداشت، نظم و ضبط اور اجتماعی شعور ان کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس ہے۔
ہم نے تعلیم کو صرف ڈگری تک محدود کر دیا ہے۔ تحقیق کو فضول سمجھا جاتا ہے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی بنا دیا گیا ہے۔ جذبات کو عقل پر فوقیت دی جاتی ہے۔ نوجوان جذباتی تقریریں تو کر لیتے ہیں مگر مطالعہ نہیں کرتے۔ مذہب کے نام پر شور بہت ہے مگر برداشت کم ہوتی جا رہی ہے۔ غیرت کی باتیں بہت کی جاتی ہیں مگر اخلاقیات کم دکھائی دیتی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں ایک اور خطرناک بیماری حسد ہے۔
لوگ دوسروں کی کامیابی برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر کوئی نوجوان آگے بڑھنے کی کوشش کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کے بجائے اسے نیچے کھینچا جاتا ہے۔ اگر کوئی پڑھ لکھ جائے تو لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اگر کوئی کاروبار میں کامیاب ہوجائے تو اس کے خلاف باتیں شروع ہوجاتی ہیں۔ یعنی ہم دوسروں کو آگے بڑھتا دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں اجتماعی ترقی کا تصور تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ ہر شخص صرف اپنی ذات تک محدود ہے۔ خاندان ٹوٹ رہے ہیں، رشتے ختم ہو رہے ہیں، اور لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔

آج ایک عام پختون گھر میں غصہ، نفسیاتی دباؤ، بداعتمادی اور جھگڑے عام ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر تعلقات خراب ہو جاتے ہیں۔ لوگ دلوں میں نفرتیں جمع کرتے رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس بیماری کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اب ہر دوسرا شخص دانشور بنا بیٹھا ہے، مگر اپنے کردار پر نظر ڈالنے کو تیار نہیں۔

عیدوں اور تہواروں کی وہ مٹھاس بھی ختم ہوچکی ہے جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ کیونکہ خوشیاں صرف نئے کپڑوں یا کھانوں سے نہیں بنتیں بلکہ تعلقات سے بنتی ہیں۔ پہلے لوگ بنا بلائے ایک دوسرے کے گھروں میں چلے جاتے تھے، اب لوگ دروازے کی گھنٹی سے بھی پریشان ہوجاتے ہیں۔ پہلے مہمان رحمت سمجھے جاتے تھے، اب لوگ مہمانوں سے بچنے کیلئے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔

خواتین اور مردوں کے تعلقات میں بھی شدید تناؤ پیدا ہوچکا ہے۔ پہلے اگرچہ خواتین کو سماجی آزادی کم تھی، لیکن خاندان متحد تھے۔ اب آزادی کے نام پر نہ اعتماد باقی رہا اور نہ سکون۔ شوہر بیوی سے بدظن ہے، بیوی شوہر سے نالاں ہے، اور بچے اس ماحول میں ذہنی مریض بن کر پروان چڑھ رہے ہیں۔

ہماری سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو ماننے کیلئے تیار نہیں۔ ہم ہر ناکامی کا الزام حکومت، امریکہ، حالات یا سازشوں پر ڈال دیتے ہیں، مگر کبھی اپنے رویّوں پر غور نہیں کرتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صرف جذباتی نعرے لگا کر ترقی حاصل کی جا سکتی ہے، حالانکہ ترقی کیلئے نظم و ضبط، تحقیق، برداشت، تعلیم اور اجتماعی سوچ کی ضرورت ہوتی ہے۔

قومیں صرف دشمنوں سے تباہ نہیں ہوتیں، بلکہ اپنی سوچ کی بندش سے تباہ ہوتی ہیں۔
جب ایک معاشرہ تنقید برداشت کرنا چھوڑ دے، جب وہاں ہر شخص خود کو عقلِ کل سمجھنے لگے، جب انا عقل سے بڑی ہوجائے، تو پھر زوال یقینی ہوجاتا ہے۔

آج اگر آپ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کو دیکھیں تو وہاں قانون کی عزت ہے، وقت کی قدر ہے، تعلیم کی اہمیت ہے، اور سب سے بڑھ کر اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی جاتی ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں صورتحال یہ ہے کہ ہر شخص صرف اپنے فائدے کیلئے سوچتا ہے۔ لوگ قانون توڑنے کو ہوشیاری سمجھتے ہیں۔ سفارش، جھوٹ، منافقت اور دھوکہ عام ہوچکا ہے۔

یہ رویّے نسل در نسل منتقل ہو رہے ہیں۔
بچہ وہی سیکھتا ہے جو گھر میں دیکھتا ہے۔ اگر گھر میں ضد، انا، نفرت، حسد اور لڑائیاں ہوں گی تو اگلی نسل بھی یہی کچھ سیکھے گی۔ یوں ایک بیمار سوچ مسلسل آگے بڑھتی رہے گی۔

میں یہ سب نفرت میں نہیں بلکہ دکھ میں لکھ رہا ہوں۔ کیونکہ میں خود اسی معاشرے کا حصہ ہوں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے لوگوں کو اپنی انا کی خاطر رشتے برباد کرتے دیکھا ہے۔ میں نے معمولی باتوں پر خاندان ٹوٹتے دیکھے ہیں۔ میں نے لوگوں کو اپنی جھوٹی غیرت کی خاطر اپنی زندگیاں تباہ کرتے دیکھا ہے۔

اور افسوس یہ ہے کہ ہم اپنی تباہی کو تباہی ماننے کیلئے بھی تیار نہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ صرف لمبی لمبی تقریریں، جذباتی نعرے اور غیرت کے دعوے ہی عظمت ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا علم، تحقیق، برداشت، نظم و ضبط اور اجتماعی شعور سے آگے بڑھتی ہے۔

میں آخر میں پھر وہی بات دہراتا ہوں جو شاید بہت سے لوگوں کو زہر لگے گی۔ اگر پختونوں نے اپنے یہ رویّے تبدیل نہ کیے، اگر انہوں نے تعلیم، برداشت، تحقیق، خود احتسابی اور اجتماعی شعور کو اہمیت نہ دی، تو یہ زوال یونہی چلتا رہے گا۔ نسلیں بدل جائیں گی مگر حالات نہیں بدلیں گے۔

اور آج میں پیشن گوئی کرتا ہوں کہ ان رویّوں، اس انا، اس جھوٹی غیرت اور اس فرسودہ سوچ کے ساتھ یہ قوم ایک ہزار سال میں بھی ترقی نہیں کر پائے گی۔ کیونکہ قومیں باہر کے دشمنوں سے کم اور اپنی سوچ کی تباہی سے زیادہ برباد ہوتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں