عید قربان تیز ٹرین کی طرح دھول اڑاتی آئی۔ دھول کی اصطلاح اس وجہ سے استعمال کرنا پڑی کہ لوگ جہاں جہاں بھی قربانی کے مویشی خریدنے گئے وہاں وہاں پانی سے پیاسی زمین اور دھوپ کی تمازت سے تپتی خاک، مٹی اور دھول نے مویشی منڈیوں کو اڑتی ریت اور گرد کے جلتے ذرات سے مویشی منڈیوں کو سجا رکھا تھا۔ خریداروں کے آگے بڑھتے تیز قدموں اور قربانی کے جانوروں کے بڑھتے داموں کے درمیان گھمسان کی لڑائی نے فروخت گاہ مویشیاں کو میدان جنگ بنا رکھا تھا۔ یوں ڈھائی دن کی مسافت کے دوران خرید و فروخت کے کڑے امتحان کے بعد عید قربان اختتام کو پہنچی۔ بکروں، بچھڑوں، بیلوں، مینڈھوں اور اونٹوں کی خریداریوں کے لئے قیمتوں پر ہونے والی بحث و تکرار کی صدائیں خاموش ہوگئیں۔ مویشی منڈیوں کی زینت بنے آن جانوروں میں سے بیشترگھروں میں اور بآقی اجتماعی قربانیوں کے مراکز میں منتقل ہو کر قربان گاہوں میں قربان ہو گۓ۔ مویشیوں کی قربانی کے پیچھے در اصل قربانی کرنے والوں کا جذبہ اور اتباع سنت حضرت ابراپیم کار فرما ہوتی ہے۔ قربانی کا فلسفہ ہی یہ ہے کہ اپنی عزیز تر متاع اللہ کی راہ میں قربان کردی جائے۔ ابتداۓ آفرینش سے پیسہ، مال و دولت بطور متاع حیات ہمیشہ عزیز تر رہی ہے۔ اس لئے اب بھی مسلمان صاحب حیثیت افراد قربانی کے لیۓ مہنگے ترین خوبصورت اور صحت مند مویشیوں کو عید الاضحیٰ کے موقع پر جوش و جذبے سے قربانی کرتے ہیں۔
قربانی کے بعد تقریباً ہر گھر میں بڑے اہتمام کے ساتھ دیگچیاں، کڑاہیاں، اور پریشر ککر کچھ نہ کچھ پکانے کی دھن میں سوارچولہوں پر سوار ہو جاتے ہیں۔ گھروں میں ایک طرف پریشر ککر کی چھک چھک آوزوں کا شور اور دوسری طرف کم گیس کے پریشر کے ما بین لڑائی کا پریشر بھی ہوئی کلیجی کا نہ گلنا بلڈ پرہشر کو ہائی کرنے کی وجہ بننے لگا۔۔ تاہم گھر کے بڑے بوڑھے کلیجی کو کم کھانے کی نصیحت کرتے ہیں۔ تاکہ بد ہضمی اور معدے کی خرا۔بی سے بچا جا سکے. لیکن کلیجی کو پسند کرنے والے جب تک کلیجی نہ کھا لیں، انکے کلیجے میں ٹھنڈک نہیں پڑتی۔ بکروں اور ییہڑھیوں کے پاۓ بونگ بنانے کا خاص طور پر انتظام کیا جاتا ہے۔ عام دنوں میں بھی ہمارے پنجاب میں زیادہ تر لوگ ناشتے میں نہاری پاۓ کھانے کو پسند کرتے ہیں۔ گھروں میں پکے ہوے نہاری پأۓ کے ذائقے کی بات ہی الگ ہوتی ہے۔ البتہ جن گھروں میں کم استطاعت کی وجہ سے قربانی نہیں ہوتی، ان کو بچوں کی فرمائش پوری کرنے کے لئےایسی مشکلات پیش آتی ہیں کہ نہ جاۓ رفتتن نہ پأ ۓ ماندن والا معاملہ ہوتا ہے۔ ہمیں ان کا خیال رکھنا چاہئے۔
بقرعید کے بعد دعوتوں کا سیزن شروع ہو جاتا ہے۔ تقریبا ہر گھر میں بار بی کیو کی محفل سجتی ہے۔ باری باری یہ محفلیں آس لیے منعقد ہوتی ہیں کیوںکہ ہم مہمان نوازی اور وضع داری کو اچھا سمجھتے ہیں، شائقین لطف اٹھاتے اور دہکتے انگاروں پہ جلتے بھنتے گرما گرم تکوں اور سیخ. کبابوں کی اشتہا انگیز خوشبوؤں سے محظوظ ہوتے ہیں۔ گوشت کے کھانوں کی کثرت سے نوزیا میں مبتلا مہمانوں کے لئے سمجھ دار میزبان پہلے سے ہی چکن اور دال سبزی کا بندوبست کیے رکھتے ہیں۔ بریانی، پلاؤ، مٹن کڑاہی، نہاری، قورمہ ، کوفتے، شامی کپاب اور نمکین گوشت جیسے کھانوں کی تیاری سے لگتا ہے جسے گھر گھر فوڈ اسٹریٹ سج گئی ہوں۔ یہ فیسٹیویٹی لطف اور تفریح فراہم کرتی ہے۔
بقرعیید کے موقعے پر ڈاکٹرز زیادہ گوشت نہ کھانے کی تنبیہ کرتے ہیں۔ کیونکہ اس سے، معدے کی خرابی، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کے امراض کا خدشہ ہوتا ہۓ۔ اکثر ان کی سنی کو ان سنی کر دیا جاتا ہے۔ ہم گوشت کھاتے رہتے ہیں لیکن قربانی کے مقصد کو فراموش کر جاتے ہیں۔ ہمیں صرف گاۓ، بکروں کی قربانی سے دلچسپی ہوتی ہے۔ جبکہ ہم سے قربانی دیگرمعاملات میں بھی تقاضا کرتی ہے۔
ہم اپنے وطن سے والہانہ محبت کرتے ہیں. اسکی حرمت پہ آنچ آۓ تو ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار رہتے ہیں. مگر ہمارے سماج کے کچھ عںاصر ایسے بھی ہیں جو ذاتی مقآد پر قومی مفاد کو قربان کر دیتے ہیں. کچھ ہیں جو اپنی فرائض اور ذمے داری کی ادائی کے لیےاپنے آرام و آسایش کو قربان نہیں کرتے. چوری اور ڈاکے ڈالنے والے اپنی مذموم وارداتوں کو قربان کرنے کو آمادہ نہیں ہوتے. رشوت خور اور کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوث کے مرتکب افراد اپنی ناجائز آمدنی کی قربانی دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہمارا عمومی حال اور خیال یہ ہوتا جا رہا ہے کہ زندگی مفاد پرستی اور ہوس کی تابع رہے، اس وجہ سے اپس کی محبت اور ایثار کے جذبے سرد پڑتے جا رہے ہیں. لہذا جہان آنسانی نفسیات پدل جائیں وہاں دوسروں کے لیے خیرخواہی اور ایثار کی گنجائش نہیں رہتی، یہی وجہ ہے کہ ہمارے شعور کی دہلیز پہ دوسرے کے لیے قربانی دینے کے پھاٹک پر قفل پڑا رہتآ ہے.
نادار، مستحق مگر خود دار افراد کسی کے سامنے ہاتھ پھیلآے بغیر ہماری مدد کی آس میں مضطرب رہتے ہیں مگر بمشکل تمام کویی ثھنڈی ہوا کا جھونکا ان تک پہنچ پاتا ہے. بسا اوقات ہم دنیا کے جھمیلون میں اس قدر محو ہو جاتے ہیں کہ اپنے رشتے داروں، دوستوں اور ہمسایوں کو بھول جاتے ہیں. ایسے میں دوسروں کے لیے قربانی کا خیال آنا بھی عبث ہے.
قربانی کا جذبہ جن لوگوں میں موجود ہوتا ہے وہ بیک وقت اپنے معاملات اور آرام و آس ائش کا خیال نہیں رکھتے بلکہ انکے دل کو دوسروں کی تکلیف، پریشانی، مشکل اور افتاد بھی بے چین کئے رکھتی ہے۔ وہ دوسروں کو بد حال اور مضمحل دیکھ کر جذبہ ایثار سے سرشار انکے لئے مالی، وقت کی اور قولی و فعلی قربانی و ہمدردی کی تصویر بن جاتے ہیں۔ اللہ انہیں جزا دے۔ آمین۔


