ترجمہ ایک مشکل کام ہے لوگ اسے تخلیق نہیں مانتے اور اسے مشقت کا نام دیتے ہیں۔ہم نے سب سے پہلے جو پوری کتاب پڑھنے کی کوشش کی وہ بھی ایک ترجمہ تھا۔یہ کتاب ایک فیلڈ مارشل کی سیاسی سوانح تھی اور اس کا نام Friends not Masters تھا۔عجیب بات ہے جو دوست ہو اس کو دعوی’ کرنے کی کیا حاجت۔چور ایسے ہی پکڑے جاتے ہیں۔اس کا ترجمہ غلام عباس نے کیا تھا۔غلام عباس کو بعض لوگ غلام عباس آنندی والے اور بعض غلام عباس اوورکوٹ والا کہتے ہیں۔ہم انہیں غلام عباس جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی والا کہتے ہیں۔یہیں سے ہمیں معلوم ہوا کہ ترجمہ کو اگر تخلیق بنانا ہے تو کچھ آزادی کا تصور تو ہونا چاہیے۔لفظ بہ لفظ ترجمے کے بڑے بڑے شائقین ہیں اور مکھی پر مکھی مارنے کے قائل ہیں۔اگر مکھی پر مکھی مارکہ ترجمہ ہو گا تو اس کے قاری محض ادیب وغیرہ ہی ہوں گے۔عام آدمی کو بات ذرا آسان ہو تو زیادہ لطف آتا ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ کتاب ایوب خان کی لکھی ہوئی تھی ہی نہیں۔یہ الطاف گوہر کے قلم کی کارستانی تھی۔اس قسم کی تحریر کو بزبان انگریز صاحب Ghost Writing کہتے ہیں۔اصل میں ایوب خان اور الطاف گوہر دونوں گھوسٹ ہی تو تھے۔
اس کو حکومتی ادب کہنا زیادہ بہتر ہے۔گھوسٹ کا مطلب مکھی پر مکھی مارکہ ترجمہ نگاروں سے پوچھیے۔یہ کتاب سن سڑسٹھ میں لکھی گئی تھی۔البتہ ذوالفقار علی بھٹو باقاعدہ تخلیق کار تھے ان کی چار طبع زاد کتب ہیں۔جن میں تین ان کی زندگی میں اور ایک آدھ ان کی وفات کے بعد اشاعت پذیر ہوئی۔مانا جاتا ہے کہ اگر میں قتل کیا گیا کا مسودہ جیل سے اسمگل کر کے باہر بھیجا گیا تھا۔ان کی کتاب عظیم المیہ نامی تھی جس کے پبلشر وہ اور ان کی پارٹی تھی۔عظیم المیہ پاکستان کے دو لخت ہونے کی کہانی ہے جس میں بھٹو نے اپنی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔مگر جس طرح ایوب خان نے دوست ہونے کا دعویٰ کیا تھا اسی طرح بھٹو نے یہاں بچ نکلنے کی کوشش کی ہے۔سچ اور مشک کب چھپے رہتے ہیں۔اب ایوب کے حواریوں کا بھی کہنا ہے کہ وہ بڑی طاقتوں کو کہہ رہے تھے ہم آقا واقا کی پالیسی تسلیم نہیں کرتے۔مگر آقا آقا کرتے ہی انہوں نے جہان سے کوچ کیا۔جن کو وہ بظاہر آقا نہیں کہتے تھے مگر ان کی آقائیت پر مکمل ایمان رکھتے تھے۔ ان آقاوں نے جو کتب لکھی ہیں وہ پڑھنےکے لائق ہیں۔اردو میں ان کا ترجمہ نہیں ہوا اور ضرورت بھی نہیں۔البتہ وہ تمام کتب پڑھنے والی ہیں۔اوبامہ کی A Promised Land میں صدر زرداری کا بھی ذکر ہے اور اشفاق پرویز کیانی کا بھی۔اوبامہ لکھتے ہیں کہ ان کا خیال تھا کہ ایبٹ آباد آپریشن کے بارے میں زرداری سے گفتگو شاید تلخ ہو جائے۔مگر زرداری تو فون سنتے ہی حلوہ بنے بیٹھے تھے اور ” ڈریکٹ“ ہی اوبامہ کو مبارک باد دے دی۔انہیں کا کام ہے جن کہ حوصلے ہیں زیاد اسی کو کہتے ہیں۔اوبامہ نے بھی کتاب لکھی اور تو اور ان کی بیگم نے بھی Becoming کے نام سے کتاب لکھ ماری۔صولت پاشا کی زبان میں سارے ہی لکھے پڑھے ہیں سالے۔ بل کلنٹن کی اسی سال ایک کتاب The First Gentleman شائع ہوئی ہے۔کمال ہے یہ سارا فکشن ہے۔ہے یہ ایک جرم اور تجسس سے بھرا فکشن ہے جسے Crime Thriller
کہا جاتا ہے۔یہ کہانی تو پہلی امریکی خاتون صدر کی ہے چونکہ صدر کی فرسٹ لیڈی کہلاتی ہے۔اس کے خاوند کو اسی مناسبت سے فرسٹ جینٹلمین کہا گیا ہے۔اس کا ترجمہ شریف النفس انگریزی لفظ سے بھی خوبصورت ہے۔گیتانجلی ہماری فیورٹ شاعری کی کتاب ہے۔اسی کا ترجمہ ییٹس نے کیا تھا۔کہا جاتا ہے کہ اسی ترجمے کی بدولت ٹیگور کو سب سے بڑا انعام ملا تھا۔وہی بڑا انعام جس کے لیے قبلہ وزیر اعظم ٹرمپ کو دلوانے کے الٹ پلٹ ہوتے رہتے ہیں۔ویسے سو سال سے ادبی نقاد اس بات پر لڑ رہے ہیں کہ ییٹس بڑا شاعر تھا ایلیٹ۔ییٹس کی شاعری پر تو ہم کوئی فتویٰ نہیں دے سکتے البتہ اس کے گیتانجلی کے ترجمے کے بارے میں ضرور کہہ سکتے ہیں کہ اس سے کہیں بہتر ترجمہ علامہ نیاز فتح پوری نے کیا تھا۔اگر آپ شاعری کا تخلیقی ترجمہ پڑھنا چاہتے ہیں تو اس ترجمے کے چند صفحوں کی ورق گردانی ضرور کریں۔ ویسے امریکی صدور بھی عجیب چیزیں ہیں ادھر دنیا کو تباہ بھی کر رہے ہیں مگر ذاتی طور پر حلقہِ ارباب ذوق والی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔اس حلقے کی پالیسی وہی ہے جسے ادب برائے ادب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔چھوٹے بش نے بڑے بش کے لیے بھی ایک کتاب لکھی ہے۔A Portrait of Father
باپ بیٹے کی محبت کی ہی کہانی تو ہے۔پچھلے دنوں ہم ںے انہی کالموں میں علی خامنہ ای کی سوانح کا بھی ذکر کیا تھا۔خامنہ ای کا ذکر ہوتے رہنا ہے کبھی کسی شکل کبھی کسی روپ میں۔وہ شاعر بھی تھے اور سوانح نگار بھی۔ان کی آپ بیتی سیل نمبر چودہ کا اردو میں ترجمہ ” زنداں سے پرے رنگ چمن“ کے نام سے ہوا ہے۔عربی میں یہ سوانح ان مع الصبر ِ نصرا اور فارسی ”خون دلے کہ لعل شد“ کے نام سے ہوا۔ان کے پیشرو آیت اللہ خمینی تو خیر ایک مجتہد شخصیت تھے۔انہوں نے مذہبی کتب تو لکھیں مگر انہوں نے دنیا میں ایک نیا فقہی تصور بھی دیا۔ ولائیت فقیہہ ایک نئی سوچ تھی۔شاہ کے دور میں ان کی ایک کتاب کشف الاسرار بھی شائع ہوئی تھی اس میں انہوں نے سیکولر اعتراضات کے جواب دیے تھے۔مگر ان کی درجنوں کتابوں میں سے ہمیں ان کا دیوان امام پسند ہے۔ہماری فارسی سے رغبت شاید ازلی اور ابدی ہے۔اسی فارسی زبان کا دیا ہوا اردو شعرا کھا رہے ہیں۔آیت اللہ خمینی بھی شاعر تھے اور خامنہ ای بھی۔خمینی صاحب کا سب سے مشہور شعر
من بہ خالِ لبت ای دوست گرفتار شدم
چشمِ بیمارِ تو را دیدم و بیمار شدم
ہے۔حیرت کی بات ہے کہ امریکی صدور شاعر بھی ہو گزرے ہیں۔جمی کارٹر کی نظموں کی کتاب
“Always a Reckoning and Other Poems”
ان کی بچپن کی یادوں اور خاندان سے متعلق ہے۔یہ عین ادب ہے حکومتی ادب نہیں۔ادب سے زعما کا تعلق معاشرے کو تخلیقی طور پر توانا رکھتا ہے اور تخلیقی طور پر بانجھ ہونا قوموں کو قعر مذلت میں گرا دیتا ہے۔ہیں جی!


