غدیر یاد ہے نا؟-علی عباس کاظمی

تاریخ کے کچھ دن کیلنڈر کے اوراق پر نہیں رہتے، وہ قوموں کے حافظے، تہذیبوں کے شعور اور دلوں کی دھڑکنوں میں زندہ رہتے ہیں۔ وقت کی گرد انہیں دھندلا نہیں سکتی، اختلافات کی آندھیاں ان کی روشنی بجھا نہیں سکتیں اور صدیوں کا فاصلہ بھی ان کی معنویت کم نہیں کر سکتا۔ غدیر بھی ایسا ہی ایک دن ہے۔ ایک ایسا دن جو صحرا کی تپتی ریت پر رقم ہوا مگر جس کی بازگشت آج بھی زمانے کے سینے میں سنائی دیتی ہے۔جب کبھی غدیر کا ذکر آتا ہے تو ذہن میں ایک سوال ابھرتا ہےکہ کیا ہم نے غدیر کو صرف ایک تاریخی واقعہ سمجھ کر کتابوں میں محفوظ کر دیا ہے یا اس کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں بھی جگہ دی ہے؟ کیا غدیر صرف ماضی کی ایک یادگار ہے یا حال اور مستقبل کی رہنمائی بھی؟

حجۃ الوداع کے بعد واپسی کا سفر جاری تھا۔ عرب کی جھلسا دینے والی گرمی، تپتی ہوئی ریت اور دور تک پھیلا ہوا صحرا۔ کاروانِ نبوت اپنے گھروں کی طرف رواں تھا کہ اچانک ایک مقام پر رکنے کا حکم دیا گیا۔ یہ مقام غدیر خم تھا۔ جو آگے نکل چکے تھے انہیں واپس بلایا گیا، جو پیچھے رہ گئے تھے ان کا انتظار کیا گیا۔ بظاہر یہ ایک مختصر سا پڑاؤ تھا، مگر درحقیقت تاریخ اسلام کا ایک عظیم موڑ بننے والا تھا۔اونٹوں کے کجاووں سے ایک بلند جگہ تیار کی گئی۔ رسولِ اکرم ﷺ نے ایک جامع خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپ ﷺ نے پہلے امت کو اپنی ذمہ داریوں، قرآن اور اہلِ بیتؑ کی اہمیت اور اسلامی اصولوں کی یاد دہانی کرائی۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؑ کا ہاتھ بلند کیا اور وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جو قیامت تک تاریخ کے صفحات پر روشن رہے گا۔

“مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا عَلِيٌّ مَوْلَاهُ”

“جس کا میں مولا ہوں، اُس کا علی بھی مولا ہیں۔”

پھر آپ ﷺ نے دعا فرمائی:

“اے اللہ! جو علیؑ سے محبت کرے تو اس سے محبت فرما، جو علیؑ سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما، جو علیؑ کی مدد کرے تو اس کی مدد فرما اور جو علیؑ کو چھوڑ دے تو اسے چھوڑ دے۔”

یہ اعلان محض ایک جملہ نہیں تھا۔ یہ ایک شخصیت کی عظمت، قربانی، علم، اخلاص اور وفاداری کا اعتراف تھا۔ یہ اس ہستی کا تعارف تھا جس نے بچپن سے لے کر آخری لمحے تک رسول اللہ ﷺ کا ساتھ نبھایا۔ جس نے ہجرت کی رات اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر رسولِ اکرم ﷺ کے بستر پر سونا قبول کیا۔ جس نے بدر، احد، خندق اور خیبر میں اسلام کے پرچم کو سربلند رکھا۔ جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ “میں علم کا شہر ہوں اور علیؑ اس کا دروازہ ہیں۔”

حضرت علیؑ کی شخصیت کو صرف تلوار کے حوالے سے سمجھنا ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ وہ صرف میدانِ جنگ کے فاتح نہیں تھے بلکہ محرابِ عبادت کے عاشق بھی تھے۔ وہ صرف بہادر سپاہی نہیں بلکہ عظیم مفکر، عادل حکمران اور انسانیت کے خیرخواہ بھی تھے۔ ان کے اقوال آج بھی حکمت کے سمندر معلوم ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی عدل کا ایسا استعارہ ہے جس کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے۔لیکن افسوس کہ ہم نے غدیر کے پیغام کو سمجھنے کی بجائے اکثر اسے اختلاف کا عنوان بنا دیا۔ حالانکہ غدیر اختلاف نہیں، اتفاق کا عنوان ہے۔ غدیر نفرت نہیں، محبت کا پیغام ہے۔ غدیر تقسیم نہیں، امت کی وحدت اور اخلاقی قیادت کا استعارہ ہے۔

یہ عجیب انسانی نفسیات ہے کہ ہم شخصیات سے محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر ان کے کردار کی پیروی سے گریز کرتے ہیں۔ ہم ناموں کے پرچم اٹھاتے ہیں مگر اصولوں کو بھول جاتے ہیں۔ ہم تاریخ کے واقعات یاد رکھتے ہیں مگر ان کے پیغامات فراموش کر دیتے ہیں۔آج اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں غدیر کے پیغام کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں قیادت کا بحران ہے۔ سیاست میں قیادت کا بحران، معاشرے میں قیادت کا بحران، اداروں میں قیادت کا بحران اور گھروں میں بھی قیادت کا بحران۔ ہر شخص اختیار چاہتا ہے مگر ذمہ داری نہیں۔ ہر شخص عزت چاہتا ہے مگر خدمت نہیں۔ ہر شخص حکم دینا چاہتا ہے مگر قربانی دینے کے لیے تیار نہیں۔حضرت علیؑ کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ قیادت تخت و تاج کا نام نہیں بلکہ امانت کا نام ہے۔ حقیقی رہنما وہ ہوتا ہے جو دوسروں کے حقوق کا محافظ بنے، جو کمزوروں کے لیے سایہ بنے، جو انصاف کے ترازو کو اپنے مفاد پر قربان نہ کرے۔

غدیر کا ایک اور عظیم سبق محبت ہے۔ محبتِ اہلِ بیتؑ دراصل ان اقدار سے محبت کا نام ہے جن کی نمائندگی اہلِ بیتؑ نے کی۔ سچائی، دیانت، عدل، شجاعت، صبر، وفا اور انسان دوستی۔ افسوس کہ آج محبت بھی گروہوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ لوگ اپنے اپنے دائروں میں محبت کے دعوے کرتے ہیں مگر کردار میں اس محبت کی جھلک نظر نہیں آتی۔ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں معلومات کی فراوانی ہے مگر حکمت کی کمی ہے۔ موبائل فون کی اسکرین پر دنیا سمٹ آئی ہے مگر دلوں کے فاصلے بڑھ گئے ہیں۔ ہم دین پر بحث تو بہت کرتے ہیں مگر دین کے اخلاق کو زندگی میں جگہ نہیں دیتے۔ ہم اختلاف کو دشمنی سمجھنے لگے ہیں اور تنقید کو بغاوت۔ایسے ماحول میں غدیر کا پیغام ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اختلاف کے باوجود اخوت برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ محبت کے ساتھ اصولوں پر قائم رہا جا سکتا ہے۔ طاقت کے باوجود عاجزی اختیار کی جا سکتی ہے۔

تاریخ کا ایک عجیب المیہ ہے۔ قومیں اپنے ہیروز کے نام تو محفوظ رکھتی ہیں مگر ان کے کردار کو کھو دیتی ہیں۔ عمارتیں باقی رہ جاتی ہیں مگر اقدار ختم ہو جاتی ہیں۔ مزارات آباد رہتے ہیں مگر تعلیمات ویران ہو جاتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی صحرا کی وہ تپتی دوپہر ہمیں پکارتی محسوس ہوتی ہے۔گویا غدیر کے میدان سے ایک صدا آج بھی بلند ہو رہی ہے:

تم نے محبت کو کہاں کھو دیا؟

تم نے اخوت کو کیوں تقسیم کر دیا؟

تم نے قیادت کو خدمت کے بجائے اقتدار کا ذریعہ کیوں بنا لیا؟

تم نے عدل کی جگہ مفاد کو کیوں بٹھا دیا؟

اگر حضرت علیؑ کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی سب سے بڑی عظمت صرف ان کی بہادری نہیں بلکہ ان کا انصاف تھا۔ وہ انصاف جو دوست اور دشمن میں فرق نہیں کرتا تھا۔ وہ عدل جو رشتہ داریوں سے بلند تھا۔ وہ دیانت جو اقتدار کے باوجود متزلزل نہ ہوئی۔آج دنیا کو ایسے ہی کرداروں کی ضرورت ہے۔ آج انسانیت کو ایسے ہی رہنماؤں کی ضرورت ہے۔ آج امتِ مسلمہ کو ایسے ہی اصولوں کی ضرورت ہے۔ غدیر ہمیں ایک بنیادی حقیقت سمجھاتا ہے کہ طاقت عارضی ہے مگر کردار دائمی۔ حکومتیں بدل جاتی ہیں، سلطنتیں مٹ جاتی ہیں، نامور حکمران تاریخ کے اندھیروں میں گم ہو جاتے ہیں، مگر وہ شخصیات ہمیشہ زندہ رہتی ہیں جو انسانیت کے لیے روشنی کا مینار بن جائیں۔

غدیر دراصل اسی روشنی کا نام ہے۔یہ ایک اعلان بھی ہے، ایک پیغام بھی۔یہ ایک واقعہ بھی ہے، ایک فکر بھی۔یہ ایک تاریخ بھی ہے، ایک ذمہ داری بھی۔یہ ایک عقیدت بھی ہے، ایک کردار بھی اور شاید غدیر کو یاد کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہم اسے صرف منائیں نہیں، اسے سمجھیں بھی۔ ہم صرف اس کا ذکر نہ کریں بلکہ اس کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں جگہ دیں۔ ہم حضرت علیؑ سے محبت کا دعویٰ ہی نہ کریں بلکہ ان کے عدل، علم، شجاعت، دیانت اور انسان دوستی کو بھی اپنانے کی کوشش کریں۔کیونکہ تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ یہ نہیں کہ لوگ واقعات بھول جاتے ہیں۔اصل سانحہ یہ ہے کہ لوگ واقعات کو یاد رکھتے ہیں مگر ان کے معنی کھو دیتے ہیں۔

سوچئے۔۔۔اگر آج غدیر خم کا وہ منظر دوبارہ ہماری آنکھوں کے سامنے آ جائے، اگر وہ تاریخی اعلان پھر ہمارے کانوں میں گونجے، تو کیا ہم صرف اسے سنیں گے یا اس کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں بھی اتاریں گے؟یہ سوال چودہ سو سال پہلے بھی موجود تھا۔یہ سوال آج بھی موجود ہے۔۔۔اور شاید آنے والی نسلوں سے بھی یہی سوال پوچھا جائے گاکہ۔۔۔ غدیر یاد ہے نا؟

اپنا تبصرہ لکھیں