پاکستان پیپلزپارٹی کی شان بھی نرالی ہے۔
اس کی قیادت کبھی تو اتنی سخی ہو جاتی ہے کہ ریپ کے مجرموں کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے کو بے تاب نظر آتی ہے۔ کبھی اپنے دورِ اقتدار میں جنرل ضیاء الحق کے وزیرِ اطلاعات و نشریات، اس کے گوئبلز جنرل مجیب الرحمن کو پس مرگ نشانِ امتیاز سے نواز دیتی ہے۔ کبھی خضدار کے ان کرداروں کو، جن پر بلوچوں کی گمشدگیوں اور اجتماعی قبروں کے سائے منڈلاتے رہے، ایوانِ صدر میں بلا کر عزت و وقار کا تاج پہنا دیتی ہے اور قومی اسمبلی کے ٹکٹ سے ڈھانپ لیتی ہے۔
یہی جماعت کبھی بھٹو کو “گھاسی رام” اور “طوائف کا بیٹا” کہنے والوں کو گلے لگا لیتی ہے۔ بیگم نصرت بھٹو کو کلب ڈانسر، بے نظیر بھٹو کو جنسی بہتانوں کا نشانہ بنانے والوں کو معاف کر دیتی ہے۔ آصف علی زرداری کو “مسٹر ٹین پرسنٹ” لکھنے والے کئی لوگ وقت آنے پر اسی جماعت اور اسی حکومت میں معزز مناصب پر فائز دکھائی دیتے ہیں۔
لیکن پھر اچانک اس کے اندر کا جمہوریت پسند آدمی کہیں گم ہو جاتا ہے۔
پھر ایک دستاویزی فلم بن جاتی ہے۔
پھر ایک یوٹیوب چینل سوال اٹھا دیتا ہے۔
پھر آزادیٔ اظہار کے سارے لیکچر الماری میں رکھ دیے جاتے ہیں۔
اور پھر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کا دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے۔
کہتے ہیں رفتار ٹی وی نے پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت پر جھوٹے، بے بنیاد اور من گھڑت الزامات لگائے ہیں۔ بہت ممکن ہے ایسا ہی ہو۔ دنیا میں جھوٹ بھی بولا جاتا ہے اور پروپیگنڈا بھی ہوتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر واقعی یہ سب جھوٹ ہے تو اس جھوٹ کا علاج ایف آئی آر ہے یا دلیل؟
میں تو صحافت کا ایک پرانا مزدور ہوں۔ میں نے تو یہی سیکھا تھا کہ خبر کا جواب خبر سے، تجزیے کا جواب تجزیے سے اور پروپیگنڈے کا جواب حقائق سے دیا جاتا ہے۔
اگر رفتار کی فلم جھوٹ کا پلندہ ہے تو سندھ حکومت کے پاس وسائل کی کون سی کمی ہے؟ اس کے پاس محکمۂ اطلاعات ہے، میڈیا سیل ہے، ڈیجیٹل ونگ ہے، ترجمانوں کی فوج ہے، ٹی وی چینلوں کے دروازے ہیں، اشتہارات کے خزانے ہیں۔
وہ ایک دستاویزی فلم کے جواب میں دس فلمیں بنا سکتی تھی۔
ایک الزام کے جواب میں سو دستاویزات پیش کر سکتی تھی۔
ایک سوال کے جواب میں ہزار ثبوت لا سکتی تھی۔
لیکن ہمارے ہاں سچ کا اعتماد کمزور اور ریاستی اختیار کا اعتماد بہت مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دلیل کی جگہ درخواست اور مکالمے کی جگہ مقدمہ لے لیتا ہے۔
مجھے یاد آتا ہے کہ کراچی کی سیاست کرنے والی نسل پرست جماعتوں نے پیپلزپارٹی پر کیا کیا الزامات نہیں لگائے۔ جماعتِ اسلامی نے کیا کچھ نہیں کہا۔ قوم پرست جماعتوں نے سندھ حکومت کو کن کن ناموں سے نہیں پکارا۔ مولانا راشد سومرو روزانہ سیاسی تیر برساتے ہیں۔ شہلا رضا کی شیعہ شناخت کو بنیاد بنا کر تکفیری سیاست کئی بار ان کے خلاف زہر اگل چکی ہے۔
پھر بھی سیاسی میدان میں سیاسی جواب دیے جاتے رہے۔
اور اگر ہم ماضی میں جائیں تو سلمان تاثیر کے خلاف چلنے والی نفرت انگیز مہم یاد آتی ہے۔ ایسی مہم جس نے آخرکار ایک انسان کی جان لے لی۔ شہباز بھٹی قتل کر دیے گئے۔ ان کے خلاف نفرت کا بازار گرم رہا۔
اس وقت تو کسی نے اظہارِ رائے کے خلاف سائبر کرائم کے ہتھیار اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
اصل مسئلہ رفتار نہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی تقریباً تمام سیاسی جماعتیں جب اپوزیشن میں ہوتی ہیں تو انہیں آزادیٔ اظہار ماں جیسی پیاری لگتی ہے، اور جب اقتدار میں آتی ہیں تو وہی آزادیٔ اظہار سوتیلی اولاد معلوم ہونے لگتی ہے۔
کل یہ مقدمہ کسی یوٹیوبر پر ہے۔
پرسوں کسی صحافی پر ہوگا۔
اس کے بعد کسی استاد، کسی طالب علم، کسی شاعر، کسی کارکن پر۔
اور پھر ایک دن سب حیران ہوں گے کہ ملک میں سوال پوچھنے والے اتنے کم کیوں رہ گئے ہیں۔
منٹو زندہ ہوتا تو شاید کہتا:
“حضرات! اگر آپ کے پاس سچ ہے تو اسے عدالت کے سپرد کیوں کرتے ہیں؟ سچ کو تو بازار میں چھوڑ دیجیے۔ وہ خود جھوٹ کا گلا پکڑ لے گا۔ لیکن اگر سچ کو بھی پولیس کی لاٹھی درکار ہو تو پھر مسئلہ رفتار نہیں، رفتار سے خوف ہے۔”
اور سیاست میں خوف ہمیشہ طاقت کی نہیں، کمزوری کی علامت ہوتا ہے۔


