صحت کا شعبہ یا منافع کی منڈی؟- میر احمد کامران مگسی

صحت کا شعبہ کبھی انسانیت کی خدمت کا مقدس ترین میدان سمجھا جاتا تھا، مگر آج یہ شعبہ بدقسمتی سے بے رحم سرمایہ کاروں اور طاقتور مافیاز کے شکنجے میں جکڑا جا چکا ہے۔ بڑے بڑے مگرمچھ اپنے کالے دھن کو سفید کرنے کے لیے میڈیکل کالجوں اور نجی ہسپتالوں کی چمکتی عمارتیں کھڑی کر چکے ہیں، جہاں علاج ایک خدمت نہیں بلکہ منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔

نجی ہسپتالوں کی صورتحال یہ ہے کہ اگر کوئی غریب یا متوسط طبقے کا مریض ایک مرتبہ ان کے جال میں پھنس جائے تو مختلف ٹیسٹوں، طریقۂ علاج اور انتظامی اخراجات کے نام پر اس کے اہلِ خانہ کو کوڑی کوڑی کا محتاج بنا دیا جاتا ہے۔ ہسپتال سے واپسی پر مریض شاید صحت یاب ہو جائے، مگر اس کا خاندان مالی طور پر اس حد تک ٹوٹ چکا ہوتا ہے کہ گویا خود معاشی وینٹی لیٹر پر پہنچ گیا ہو۔

مریض ہی نہیں، ڈاکٹر بھی استحصال کا شکار

یہ مافیا صرف مریضوں کی جیبیں ہی خالی نہیں کرتا بلکہ اپنے اداروں میں کام کرنے والے نوجوان ڈاکٹروں کا بھی بدترین معاشی استحصال کرتا ہے۔

وہ نوجوان جو ملک کی مشکل ترین اور مہنگی ترین تعلیم مکمل کر کے روشن مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے میدانِ عمل میں قدم رکھتے ہیں، جلد ہی ایک ایسے استحصالی نظام سے ٹکرا جاتے ہیں جو ان کی صلاحیتوں اور محنت کی کوئی قدر نہیں کرتا۔ شب و روز کی طویل ڈیوٹیوں، ذہنی دباؤ اور مسلسل مشقت کے باوجود ان اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹروں کو محض تیس سے چالیس ہزار روپے ماہانہ کا ’’وظیفہ‘‘ دے کر ان کی محنت کا استحصال کیا جاتا ہے۔

غصہ سرمایہ دار کماتے ہیں، مار ڈاکٹر کھاتے ہیں

اس المیے کا ایک اور بھیانک پہلو بھی ہے۔

نجی ہسپتالوں کی اندھی لوٹ مار نے عوام کے دلوں میں پورے نظامِ صحت کے خلاف شدید نفرت اور اشتعال پیدا کر دیا ہے۔ ہسپتالوں کے مالکان اور سرمایہ دار تو ایئرکنڈیشنڈ دفاتر میں سکیورٹی حصار کے اندر محفوظ بیٹھے رہتے ہیں، لیکن مریضوں اور ان کے لواحقین کے غصے کا سامنا فرنٹ لائن پر موجود جونیئر ڈاکٹرز کو کرنا پڑتا ہے۔

گالیاں، دھمکیاں، ہراسانی اور بعض اوقات جسمانی تشدد بھی انہی نوجوان ڈاکٹروں کے حصے میں آتا ہے۔ نتیجتاً یہ طبقہ شدید نفسیاتی دباؤ، عدم تحفظ اور مالی مشکلات کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے۔ ملک کا سب سے زیادہ تعلیم یافتہ اور ذہین طبقہ ایک ایسے بحران سے گزر رہا ہے جس پر ریاستِ پاکستان خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

آؤٹ سورسنگ نے رہی سہی امید بھی چھین لی

صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب حکومتِ پنجاب نے سرکاری ہسپتالوں کو آؤٹ سورس کرنے کی پالیسی اختیار کی۔

اس اقدام نے نوجوان ڈاکٹروں کے لیے سرکاری ملازمت کے حصول کو تقریباً ایک ناممکن خواب بنا دیا ہے۔ روزگار کا تحفظ ختم ہو رہا ہے اور مستقبل مزید غیر یقینی بنتا جا رہا ہے۔

میڈیکل تعلیم: متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر

سرمایہ دارانہ نظام کی ہوس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ میڈیکل کی تعلیم اب عام اور متوسط طبقے کے خاندانوں کی دسترس سے تقریباً باہر ہو چکی ہے۔

پنجاب بھر میں سرکاری میڈیکل کالجوں کی صرف تین ہزار نشستیں موجود ہیں اور اس سال میرٹ 93 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی ذہین طالب علم کے نمبر محض ایک فیصد بھی کم ہوں تو معیاری اور نسبتاً سستی تعلیم کے دروازے اس پر بند ہو جاتے ہیں۔

دوسری جانب نجی میڈیکل کالجوں کی پانچ ہزار نشستیں ہیں جہاں تعلیم کو مکمل طور پر منافع بخش کاروبار میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ چند سال پہلے تک جو فیس پانچ سالہ تعلیم کے لیے تقریباً ساٹھ لاکھ روپے بنتی تھی، آج وہ بڑھتے بڑھتے ایک کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس میں ہاسٹل، کتابوں اور دیگر اخراجات شامل نہیں۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنی بھاری فیسوں کے باوجود ان اداروں کا تعلیمی معیار یا انفراسٹرکچر ایسا کوئی غیر معمولی نہیں ہوتا جو اس خطیر رقم کا جواز پیش کر سکے۔ وہی روایتی تدریسی انداز، وہی عام کلاس رومز اور وہی معمول کے کلینیکل پریکٹیکلز۔ گویا تعلیم کے نام پر عوام کی جیبوں پر کھلا ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔

ایک کروڑ لگا کر تیس ہزار کی نوکری؟

اصل بحران میڈیکل کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے۔

ابتدائی دن سے لے کر ڈگری حاصل کرنے تک ایک ڈاکٹر جتنی محنت کرتا ہے، اس کی مثال شاید ہی کسی اور شعبے میں ملتی ہو۔ مگر جب یہی نوجوان ڈاکٹر پانچ سالہ دشوار تعلیم اور کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بعد عملی میدان میں قدم رکھتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس کے لیے کوئی واضح مستقبل موجود نہیں۔

نوکری آسانی سے ملتی نہیں، اور اگر سرکاری ہسپتال میں ملازمت مل بھی جائے تو طویل سفارشوں اور جدوجہد کے بعد بمشکل پچھتر ہزار روپے ماہانہ تنخواہ حاصل ہوتی ہے۔ نجی ہسپتالوں میں حالات اس سے بھی بدتر ہیں جہاں تیس یا چالیس ہزار روپے میں ان سے مزدوروں کی طرح کام لیا جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کون سا باشعور انسان ایک کروڑ روپے خرچ کر کے اور اپنی زندگی کے بہترین سال قربان کر کے ایسی نوکری اختیار کرنا چاہے گا؟

اسی لیے نوجوان ڈاکٹروں کے سامنے اب صرف دو راستے رہ جاتے ہیں: یا تو وہ ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک چلے جائیں، یا پھر ذاتی کلینک قائم کرنے کی جدوجہد میں مزید آٹھ سے دس سال مالی مشکلات اور کسمپرسی برداشت کریں، تاکہ شاید چالیس سال کی عمر کے بعد ان کی پریکٹس مستحکم ہو سکے۔

خالی نشستیں: مافیا کے خلاف خاموش ریفرنڈم

نجی میڈیکل کالجوں کے مالکان نے فیسیں بڑھاتے وقت یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کی کہ وہ جس ’’پروڈکٹ‘‘ یعنی ڈاکٹر کو تیار کر رہے ہیں، ملک میں اس کے لیے مستقبل موجود بھی ہے یا نہیں۔

انہوں نے فیسیں تو کروڑوں میں پہنچا دیں مگر ڈاکٹر کا معاشی مستقبل تقریباً صفر کر دیا۔

اس اندھی ہوس کا نتیجہ اب کھل کر سامنے آ رہا ہے۔ اخبارات کی سرخیاں بتا رہی ہیں کہ ملک بھر کے نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کی 743 نشستیں خالی رہ گئیں، جن میں صرف پنجاب کی 426 نشستیں شامل ہیں۔ میرٹ میں نرمی اور داخلوں کی تاریخ میں 45 روز کی توسیع کے باوجود طلبہ ان اداروں کا رخ نہیں کر رہے۔

یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ والدین اور طلبہ اب اس کاروباری ماڈل کو سمجھ چکے ہیں۔ آنے والے برسوں میں یہ رجحان مزید بڑھے گا اور ممکن ہے کہ لوگ نجی میڈیکل کالجوں میں بچوں کو داخل کروانے سے مکمل اجتناب برتنے لگیں۔

ایسے میں ہر متاثرہ والدین کے دل سے ایک ہی سوال ابھرتا ہے:

کیا اپنے بچوں کو اتنی محنت اور اتنے بڑے سرمائے سے ڈاکٹر بنا کر ہم نے کوئی سنگین غلطی کر دی ہے؟

اس بحران سے نکلنے کا راستہ

اس خطرناک دلدل سے نکلنے اور ملک کے قیمتی انسانی سرمائے کو تباہی سے بچانے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

سب سے پہلے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور ہیلتھ کیئر کمیشن کو نجی ہسپتالوں میں جونیئر ڈاکٹرز کی کم از کم تنخواہ کا ایک باوقار اور لازمی معیار مقرر کرنا چاہیے اور خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے لائسنس منسوخ کرنے چاہئیں۔

اسی طرح نجی میڈیکل کالجوں کی پانچ سالہ فیسوں کی ایک واضح بالائی حد مقرر کی جائے تاکہ میڈیکل تعلیم بلیک منی کو وائٹ کرنے کا ذریعہ نہ بنے اور متوسط طبقے کے لیے بھی قابلِ رسائی رہے۔

مزید برآں، ہسپتالوں میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں کے تحفظ کے لیے خصوصی پروٹیکشن ایکٹ نافذ کیا جانا چاہیے تاکہ وہ خوف اور عدم تحفظ کے ماحول میں کام کرنے پر مجبور نہ ہوں۔

سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری اور آؤٹ سورسنگ کے بجائے پبلک سیکٹر کے ہیلتھ بجٹ میں اضافہ کیا جائے اور نوجوان ڈاکٹروں کے لیے مستقل، باوقار اور محفوظ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔

اس کے ساتھ معاشرتی رویوں میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اصل مسئلہ ہسپتالوں کے مالکان اور سرمایہ دار ہیں، نہ کہ وہ جونیئر ڈاکٹر جو خود اسی استحصالی نظام کی چکی میں پس رہے ہیں۔ لہٰذا نظامِ صحت کے خلاف غصہ ڈاکٹروں پر نکالنے کے بجائے متعلقہ اداروں اور حکام تک پہنچایا جانا چاہیے۔

اگر ریاست نے اب بھی اس مافیا کے سامنے ہتھیار ڈالے رکھے تو وہ دن دور نہیں جب ملک کا کوئی باشعور شہری اپنے بچے کو ڈاکٹر بنانے کا خواب دیکھنے سے بھی گریز کرے گا، اور ہمارا پورا نظامِ صحت بتدریج زمین بوس ہو جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں