آج ایک بھائی سے نئے صوبوں کے معاملے پر بات ہو رہی تھی آپ جناب لاہور میں پیدا ہوئے اور وہیں رہے، پلے، بڑھے، پڑھے اور وہیں خراب ہوئے، فرماتے ہیں کہ پاکستان بنانے کے چکروں میں بھی صرف پنجاب تقسیم کیا گیا اور اب بھی لسانی بنیادوں پر پنجاب ہی تقسیم کیا جا رہا ہے؟؟
یہ پنجاب ہی کیوں ہے جو ہر بار تقسیم کیا جاتا ہے؟؟
میں نے بھائی سے پوچھا کہ آپ ملتان کتنی بار تشریف لائے ہیں؟؟ تو فرمایا کہ دو بار، میں نے پوچھا کہ بہالپور فرمایا کبھی نہیں ، ڈی کی خان کبھی نہیں، ساہیوال (پاکپتن حاضری کے لیے جارہے تھے تو گذرے تھے)، رحیم یار خان کبھی نہیں، خانیوال کبھی نہیں، ملتان میں کتنی راتیں گزاریں تو فرمایا کہ ایک !!!! جناب زندگی کی اڑتالیس بہاریں دیکھ چکے، معقول سے بہتر مالی حالات ہیں، رپورٹڈلی ہر سال شمالی علاقوں کی سیر کو جاتے ہیں، کراچی بہت پسند ہے، اور اسلام آباد تو جند جان ، ملتان آنے کی وجہ بھی ڈی ایچ اے کا وزٹ تھا اور رات رکنا یوں پڑا کہ فوگ بہت زیادہ ہو گئی تھی اور موٹر وے بند ہو گئی تھی، ملتان میں ایک خالہ بھی رہتی ہیں.
یہ سب تفصیل لکھنا اس لیے ضروری تھا کہ یہ ہے ان کا اس علاقے سے تعلق اور اس علاقے میں دلچسپی کا عالم، لیکن انکو پنجاب کی تقسیم چاہے کسی بھی بنیاد پر ہو قبول نہیں اور اکثر لاہور کے دوستوں کا یہی یا اس سے ملتا جٌلتا آرگومنٹ ہے اور تعلق اور دلچسپی کی نوعیت بھی یہی ہے، کیا کوئی ایسا بھائی جو یہی جذبات رکھتا ہو کبھی متحدہ پنجاب میں لاہور چھوڑ کر ملتان یا بہالپور یا رحیم یار خان، یا ڈی جی خان میں شفٹ ہونا پسند کرے گا نہیں!
جواب مانگو کہ کیوں ؟؟ کیونکہ وہاں نہ نوکری ہے نہ بزنس کی آپرچونیٹی نہ اچھے سکول ،کالج، نہ یونیورسٹی، نہ اچھی صحت کی سہولیات نہ بچوں کی سیکورٹی….
میں ایسے تمام دوستوں کو یہی بتانا چاہتا ہوں کہ یہاں کے لوگ بھی صوبہ انہی بنیادوں پر مانگتے ہیں جن کی وجہ سے آپ وہاں رہنا پسند نہیں کرتے…..
جب آپ کا اس جنوبی حصے سے تعلق ہی نہیں آپ یہاں آنا بھی مناسب نہیں سمجھتے یہاں رہنا تو ویسے ان کی شان کے خلاف ہے جو یہاں کے دیہاتوں سے اٹھ کر لاہور گئے اور اب عید بقر عید پر بھی واپس گاؤں جانا گوارا نہیں کرتے تو آپ جو پیدا ہی لاہور سنڈروم کے ساتھ ہوئے آپ کیا یہاں آئیں گے….
لیکن شاید آپ کو معلوم نہیں کہ صادق آباد جو کہ سندھ کے بارڈر پر ہے وہاں سے جب کسی سائل کو سیکریٹریٹ یا کسی عدالت میں پیش ہونا پڑتا ہے تو اس کو صادق آباد سے لاہور آتے آتے دس گھنٹے لگتے ہیں جبکہ اسکے پاس وہاں نہ رہنے کی جگہ ہوتی ہے نہ ایک چارپائی رات کرائے پر لینے کے پیسے لہذا وہ داتا صاحب سے کھانا کھاتا ہے، اور باہر بنے فٹ پاتھ پر سو جاتا ہے، اور ایک کروٹ اسکو مین ہول میں پہنچا دیتی ہے جہاں سے اسکی لاش بھی واپس نہیں آ پاتی جیسے کچھ عرصے پہلے ایک عورت داتا صاحب کے باہر مین ہول میں گر کر جاں بحق ہو گئی تھی….
آپ سرائیکی کو الگ زبان نہیں مانتے کوئی بات نہیں، اس کو الگ ثقافت نہیں مانتے کوئی بات نہیں، آپ نئے صوبے کی تقسیم لسانی بنیادوں پر نہیں کرنا چاہتے، اچھی بات انتظامی سطح پر تو آپ کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے لیکن مسئلہ یہ ہے ہی نہیں مسئلہ ہے لاہور کے تسلط کا، سب اختیار لاہور کے پاس رہے، گورنر ، وزیر اعلیٰ وہی ہوں کہ جو لاہور میں بیٹھے طاقتوروں کے منظورِ نظر ہوں، کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ ملتان بھی ایک ترقی یافتہ شہر ہے، جو لاہور سے مختلف ہے، یہ برداشت نہیں ہے،
دوسرے شہروں کو کم تر رکھ کر ہی تو لاہور کی برتری ثابت کی جا سکتی ہے….
لیکن ملتان کے عزت مآب بھی یہ خیال رکھیں کہ صوبہ بنا کر کہیں آپ اس کرسی پر ملتان کو تو نہیں بٹھا رہے جہاں آج تک لاہور بیٹھا ہے، کیا ملتان ایک نیا غاصب شہر ہوگا اور جنوبی صوبے کا سارا بجٹ ملتان پر ویسے ہی خرچ ہو جایا کرے گا جیسے آج متحدہ پنجاب کا بجٹ لاہور پر لگا جاتا ہے نئے صوبے کو لے کر مجھے سب سے بڑا خوف یہی لاحق ہے کہ کل کو خانیوال، بہالپور یا کسی اور شہر میں کوئی ریلی نکلے کہ جس میں یہ پوسٹر ہوں کہ
آساں قیدی تحت ملتان دے
بشکریہ فیسبک وال


