میں اوائل عمری سے ہی دبلا پتلا، سنگل پسلی اور دھان پان سا تھا۔ بقول کسے کانگڑی پہلوان بنا ہوا تھا۔ قدرتی طور پر میرا جسمانی اسٹرکچر ایسا تھا۔ سو ڈاکٹرز کو کبھی نہیں دکھایا کہ اپنے پاس دمڑی تھی نہ پیسا تھا۔ لیکن فکر مندی کی کوئی بات بھی نہیں تھی۔ اس مرتبہ جب میں مثانے کے آپریشن کے سلسلے میں ہسپتال گیا تو پہلے ایک علیحدہ کمرے میں وہینگ مشین پہ میرا وزن کیا گیا۔ کچھ عرصہ پہلے ایک اور عارضے کے سلسلے میں جو اپنا وزن ہوا تھا، مجھے یاد تھ۔ا۔ اب جب وزن ہو گیا، تو یہ دیکھ کر زور بازو کا نشہ ہرن ہوگیا۔ مشین کی اس خبر سے مجھے سہم ہو چکا تھا کیوںکہ میرا وزن پورے دس کلو کم ہو چکا تھا۔ ساتھ ہی مجھ جیسےمنحنی کوصحت کی گرآوٹ کا وہم ہو چکا تھا۔ یہ تو ہونا تھا کیونکہ گذشتہ چار ماہ میں چار بار مختلف میڈیکل پروسیجرز ہو چکے تھے۔ صحت گڑبڑ ہو جاۓ تو کھانا کھایا جاۓ نہ پی جاۓ چائے۔ دوسرے، دواؤں کے مضر اثرات وزن کو یوں گراۓ جیسے سی ڈی اے کے بلڈوزر کسی غیر قانونی عمارتوں کو گراۓ۔
جس طرح جسم کے وزن کا غیر معمولی کم ہونا لائق فکر ہوتا ہے، اسی طرح وزن کا غیر معمولی بڑھنا بھی بہت سی بیماریوں کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ یہ تو انسانی وزن کی بات ہوئی۔ لیکن عملی زندگی میں بھی کسی چیز کا وزن کم یا زیادہ ہو جأۓ تو پریشانی لاحق ہوجاتی ہے۔ آپ اگر ہوائی جہاز سے سفر کر رہے ہوں تو پہلے آپکے سامان کو تولا جاتا ہے۔ وزن زائد از ضرورت ہو تو جرمانہ ادا کرنے کا بولا جاتا ہے۔ اس سے ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح جب کوئی خریدار سبزی، پھل یا کوئی اور شے خرید رہا ہو اور اسے پتہ چلے کہ اس کآ سودا اس کے درکار وزن سے کم تولا گیا ہے تو ناصرف دکاندار کے ساتھ تو تو میں میں ہوتی ہے بلکہ ذہنی خلجان سے الگ گزرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا وزن کی کمی بیشی جسم کو ہی متاثر نہیں کرتی ہے، بلکہ دنیاوی معاملات میں بھی تکلیف دہ ثابت ہوتی ہے۔ گھر میں موجود سامان کی بہتات اگرچہ گھر والوں کے لئے باعث آرام ہوتی ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ سامان گھر والوں پہ بلا وجہ وزنی بوجھ بن جاتا ہے۔ جو با لآخر گھر کی ماسیوں میں خوشی خوشی بانٹ دیا جاتا ہے۔
وزن کو بوجھ نہ سمجھیں۔ یہ تو روزگار کا ذریعہ ہوتا ہے۔ مزدور اپنے سر پر پچاس اینٹیں اٹھا کر زیر تعمیر مکان کی دوسری منزل پہ لیجانا ہے۔ وہ باربار اس بارکو اٹھا تا ہے۔ اور شام ڈھلے بچوں کی روزی روٹی کے پیسے لیکر گھر لوٹتا ہے۔ آپ نے آٹے کے گوداموں سے دو، ڈھائی من کی بوری کو اپنی کمر پر لاد کر ٹرک میں رکھتا ریکھا ہوگا، اسطرح وہ اپنی مزدوری سے بچوں کا پیٹ بھرتا۔ ہے۔ یہ ہیں وہ لوگ جو وزن شناس اور وزن کے قدر دان ہوتے ہیں۔ یہی ان کا وژن ہوتا ہے کہ روزی لگی رہے اور گھر کی دال روٹی چلتی رہے۔
اب آئیے ذکر ہو جاۓ اس سہ حرفی وزن کے ہم وزن، وژن کا۔ وژن کسی چیز کو دیکھنے کو کہتے ہیں۔ اسی سے لفظ ٹیلی وژن بنا ہے۔ ویژن کا ایک مطلب آئیڈیا اور تصور کا ہے۔ کہتے ہیں ہر مرد و عورت کی زندگی کا محور ان کا وژن ہوتا ہے۔ وژن ندرت خیال کا ماحصل ہوتا ہے، کسی سوچ کی پرچھائیں یا کسی ایسے تصور کا پھیلاؤ ہوتا ہے، جو اس سے پہلے کسی نے نہ پیش کیا ہو، یا مونہہ سے نکلی کوئی ایسی بات جس کو کچھ حلقوں میں پذیرائی اور مقبولیت ملی ہو, وژن بن جاتی ہے۔
عمومآ سیاسی حلقوں میں وژن کےچرچے ان کے وزن سے زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی سیاسی جماعت، گروہ، یا سماجی حلقوں کا امیر، یا سربراہ اپنے معتقدین یا پیروکاروں سے خطاب کے دوران جو بات کہتا ہے خواہ وہ ان کی سوچ کا نچوڑ ہو یا بلا سوچے سمجھے مونہہ سے نکلی بات ہو، وہ لوگوں میں پسندیدہ اور مشہور ہو کر ان کا وژن بن جاتی ہے اس میں متعلقہ شخص کی سحر انگیزی شامل حال ہوتی ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ زیادہ تر وژن اور اس کی تعمیل کے درمیان تضاد اور فاصلے دکھائی دیتے ہیں۔ مثلآ کوئی یہ کہے کہ وہ صاف شفاف اور بد عنوانی سے پاک نظام قائم کرنا چاہتا ہے، وہ اس کا وژن بن جاتا ہے۔ مگر عملاً جب وہ اس کا اختیار رکھتا ہو تو بد دیانتی اور بد عنوانی کا ارتکاب کرتا رہے، پھر بھی اس کا وژن دھڑآم سے نیچے گر جاتا ہے۔ ایسی بے شمار مثالیں ہماری سیاسی تاریخ کا حصہ ہیں۔
وژن کا ورژن (ورشن) ہر کسی کے خیال میں مختلف ہو سکتا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ وژن کتنا وزنی ہوتا ہے اور کتنا بے وزن ہوتا ہے، اس پر’ مکالمے ‘ میں بحث ہو سکتی ہے۔ وزن اور وژن اگرچہ ملتے جلتے الفاظ ہیں، مگران میں فقط ز اور ژ کا معمولی فرق ہوتا ہے۔ صرف نقاط کا فرق ہوتا ہے۔ اس نکتے پہ بھی بحث کی جا سکتی ہے۔ معلوم نہیں فی زمانہ وژن کی اہمیت زیادہ ہے یا وزن کی۔ وزن کی طرح وژن بھی ذریعہ معاش بنتا ہے کیونکہ یہ بکتا ہے۔ ہم اگر سیاست کے میدان کے ماہر کھلاڑی ہوتے تو وژن کے حق میں دلائل کے ڈھیر لگا دیتے۔ یا ہمیں شاعری سے گہرا شغف ہوتا تو ردیف قافیے، بحر اور وزن پر، ہم بھی سید ابرار حسین صاحب کی تقلید میں علم عروض پر کوئی کتاب لکھ بیٹھتے۔ خیر! ہم بات کر رہے تھے وزن کی۔ وزن کا ہماری زندگی میں بڑا عمل دخل ہے۔ وزن ایک پیمانہ ہے، جس کی بغیر ہمیں پتہ نہیں چلتا ہے کہ سامنے پڑی ہوئی چیز کا بوجھ کتنا ہے۔ وزن کی ناپ تول کے لئے جس آلے کا استعمال کیا جاتا ہے اسے ترازو یا کانٹا کہتے ہیں۔ اس لئے کسی شے کے وزن کی جانچ، مقدار اور بار کو معلوم کرنے کے لئے تولنے کے عمل سے گزارنا پڑتا ہے۔ بشرطیکہ تولنے سے پہلے چیک کر لیا جاۓ کہ ترازو کے دونوں پلڑے برابر ہیں یا نہیں، یعنی پہلے دیکھو، پھر تولو۔ یہ کام اسی طرح ضروری ہے جیسے ہمارے بڑے بزرگ ناصحانہ انداز میں کہتے ہیں کہ پہلے تولو پھربولو۔ ۔سنہار کی دکان پہ سونا تولنے سے قبل ترازو کی چیکنگ بہت ضروری ہوتی ہے۔ اسکا ایک فائدہ بہرحال یہ ہوتا ہے کہ وزن میں کمی کا کسی کو رتی برابر شک نہیں ہونا ۔ ویسے وزن میں ماشے، رتی اور گراموں میں ذرا سا بھی فرق آجأۓ تو وہ روپوں میں ہزاروں کی ڈز پڑتی ہے۔
ترازو میں سودے والے پلڑے کو نیچا رکھنے کا گر، ہمارے آلو پیاز بیچنے والے کچھ تاجروں کو خوب آتا ہے۔ وہ تولنے میں ڈنڈی ضرور مارتے ہیں۔ آنہیں جب بھی کرنا ہو نیچا ترازو، تھوڑا سا کر لیتے ہیں ٹیڑھا بازو۔ ہمارے سبزی فروش سبزیوں پر پانی کا چھڑکاؤ کرتے رہتے ہیں۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ سبزی سوکھتی نہیں۔ لیکن خریدار کو اس کا نقصان تر بتر سبزی کے وزنی ہونے کی صورت میں اٹھانا پڑتا ہے۔ اسی طرح قصاب حضرا ت بھی پانی ملا گوشت فروخت کرتے ہیں تاکہ زیادہ وزن سے زیادہ کمائی ہو سکے۔ ایسا کرنا صریح گناہ اور بدی کا فعل ہے۔


