گرے لائنز کی تلاش/خطیب احمد

کیا ٹھیک ہے اور کیا غلط، کیا اچھا ہے اور کیا برا، کیا گناہ ہے اور کیا ثواب ، ان باتوں کے معنی و مفہوم زمان و مکان کے بدلنے کے ساتھ، عمر کے بڑھنے کے ساتھ، علم کے حصول کے ساتھ، شعور و آگہی کے ساتھ، اور اہلِ علم کی قربت کے ساتھ ساری عمر بدلتے رہتے ہیں۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے، میں ایک عالمِ دین کی خدمت میں پیش ہوا۔ مجھے دو باتیں اکثر الجھائے رکھتی تھیں کہ میں نے ٹھیک کیا یا غلط؟ کہیں میں مجرم تو نہیں؟

ایک فیملی مجھے ملنے میرے گھر آئی۔ ان کا بچہ معذوری کی ایک ایسی نایاب قسم کے ساتھ تھا کہ اس کا مسلسل علاج بھی اسے زندہ رکھنے کے لیے ضروری تھا۔ بچے کے والد کی ملازمت گھر کا چولہا جلانے کے لیے بھی ناکافی تھی۔ اولاد کا صدمہ اس باپ کی ہمت توڑ چکا تھا، مگر ماں چاہ کر بھی ہمت نہیں ہار سکتی تھی۔

میں نے بچے کے والد سے پوچھا کہ آپ کیا کام کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا لیڈیز کپڑوں کی ایک دکان پر سیلز مین ہوں، پچیس ہزار روپے تنخواہ ہے۔ بچے کی والدہ نے کہا کہ انہوں نے پرائیویٹ اسکول میں ٹیچنگ شروع کی تھی، دس ہزار روپے تنخواہ تھی، پھر چھوڑ دی۔

میں نے اس بھائی سے پوچھا کہ آپ کی دکان پر مردانہ کپڑے بھی ہوتے ہیں؟ بولے: جی ہوتے ہیں۔ میں نے کہا: وہاں آپ کی مسز کو ملازمت مل سکتی ہے؟ بولے: آج تک اپنی زندگی میں ایسی روایتی تھان والی لوکل دکانوں میں کہیں بھی کسی عورت کو مردانہ کپڑوں کی سیلز میں نہیں دیکھا۔ ملازمت کا کیا ہے، مل جائے گی، مگر یہ بہت ہی عجیب کام ہوگا۔ سارا خاندان باتیں کرے گا، دوست یار مجھے بے غیرت کہیں گے۔ اچھے برے لوگوں کا آنا جانا دکان پر لگا رہتا ہے، تو گندی نظروں سے یہ کیسے بچ پائے گی؟ اسلام میں بھی عورت کو گھر رہنے کا حکم ہے، کمانا مرد کے ذمے ہے۔ میں جاب بدل لوں گا مگر اسے کہیں ملازمت نہیں کرواؤں گا، وغیرہ وغیرہ۔

میں نے بچے کی والدہ سے بات کی کہ آپ کو زیادہ پیسوں کی ضرورت ہے۔ چھوٹی موٹی ملازمت سے کچھ نہیں ہوگا۔ آپ خود سوچیں، آپ کیا کر سکتی ہیں۔ آپ کو اب کچھ کرنا ہے۔ ماں ہیں آپ، اتنی بے بس نہ بنیں۔ آپ کی ذات سے ہی صفا و مروہ کی سعی منسوب ہے۔

انہوں نے کہا: آپ ہی بتائیں سر، جو کہیں گے میں کروں گی۔ ان کو چھوڑیں آپ۔

میں نے کہا: آپ کے خاوند کو بارہ سال کا کپڑوں کی سیلز کا تجربہ ہے۔ آپ دونوں کو مل کر یہی کام اپنا کرنا چاہیے۔ مگر آغاز میں آپ بھی ملازمت کر لیں۔ یہ وردی پہن کر کسی برانڈ میں سیلز گرل بن کر کھڑے ہونے اور عام دکان میں کپڑے بیچنے کا فرق آپ مجھے بتا دیں؟ وہاں برانڈز نے بھی ہزاروں جوان لڑکیاں کھڑی کر رکھی ہیں، وہاں کیا مرد نہیں جاتے؟ کیا وہ مردوں کو کپڑے نہیں دکھاتیں؟

وہ بھائی بولے کہ وہ لیڈیز کپڑے دکھاتی ہیں سر، یہ مارکیٹ الگ ہوتی ہے، کام الگ ہے۔

میں نے کہا: جانتا ہوں یار، مگر جو آپ کا مالی مسئلہ ہے وہ یہیں سے حل ہوگا، اور آپ کی بیوی آپ کے پاس ہوگی، ایک ہی کاؤنٹر پر۔ دونوں میاں بیوی کھڑے رہنا۔ بات اسے کرنے دینا۔ بات اور تھوڑی کھل کر کروں تو ان آپی سے گاہک جلدی مطمئن ہوں گے۔ ایک نیا ٹرینڈ ہوگا۔

میں نے ان کو تو نہیں کہا، مگر مجھے خود اپنے معاشرے کی نفسیات کا اندازہ تھا۔ ان آپی کی شکل پیاری تھی، رنگ ڈھنگ اور بول چال اچھی تھی۔ اس کا جائز فائدہ لیا جا سکتا تھا۔ گنجائش یہ تھی، یا جواز یہ تھا کہ حرام سے یہ قدرے بہتر ہے۔

میں نے ان کو بتایا کہ سیلری پر کام نہیں کرنا، دکان کے مالک سے میری کال پر بات کروائیں۔ کمیشن پر آپی سیلز کریں گی۔

وہ لوگ اس دن تو چلے گئے، دو ماہ بعد ان کی کال آئی کہ وہ اپنا ذہن میرے مشورے کے مطابق بنا چکے ہیں، لیکن وہ یہ کام شہر بدل کر کریں گے۔ وہ لوگ راولپنڈی شفٹ ہو گئے۔ وہاں یہ بات شاید اتنی عجیب نہ لگی۔

جہاں انہوں نے ملازمت کی بات کی، وہاں مالک سے میری بات کروائی۔ سیلز کا بیس فیصد میں نے ڈیمانڈ کیا اور چودہ فیصد پر ڈیل طے ہوئی۔ ڈیوٹی ٹائمنگ فکس نہیں تھی کیونکہ فکس تنخواہ نہیں تھی۔ لمبی ڈیوٹی دینا آپی کے لیے ممکن نہیں تھا، دو بچے بھی گھر تھے۔

مالک کا اپنا پرافٹ مارجن سو فیصد تھا، اسی میں سے چودہ فیصد آپی کو ملنا تھا۔ بھائی کی سیلری چالیس ہزار طے ہوئی۔

فارمولا وہی تھا: مردانہ سائیڈ پر آپی کھڑی ہوں گی، چاہیں تو زنانہ سائیڈ پر بھی چلی جائیں۔ اگر کوئی مشکل پیش آئے یا زیادہ ہی بدتمیز قسم کے گاہک آ جائیں تو پیچھے ہٹ جائیں۔ کمیشن دونوں سائیڈز پر یہی رہے گا۔

میرے گمان کے مطابق وہی کچھ ہوا جو میں نے سوچا تھا۔ گاہک یعنی بھائی اور انکل لوگ آتے اور آپی سے ہی کپڑے لیتے۔ وجہ صاف تھی ، آپ کو بھی پتا ہے، مجھے بھی۔

پہلے مہینے میں آپی کی سیلز چار لاکھ روپے رہی، دوسرے مہینے ساڑھے چھ لاکھ، اور تیسرے مہینے عید کا تھا تو نو لاکھ۔ میں نے ہی کہا تھا کہ پہلی تنخواہ تین ماہ بعد عید پر لینی ہے۔

عید پر آپی کو کمیشن کے حساب سے دو لاکھ تہتر ہزار روپے ملے، یعنی تقریباً اکیانوے ہزار ماہانہ۔ ایک سال بعد اوسط تنخواہ بیاسی ہزار رہی۔

بعد میں آپی نے اپنی دکان کھول لی۔ آمدن دو سے اڑھائی لاکھ تک پہنچ گئی۔ پھر اللہ کی کرنی دیکھیں، اس بچے کی وفات ہو گئی۔

میں راولپنڈی گیا اور ان سے کہا: یہ بچہ آپ کے حالات بدلنے آیا تھا۔ یہ آپ کے لیے نعمت اور ہجرت کا سبب بنا۔

اکثر سپیشل بچوں کے والدین مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ایسے بچے کیوں پیدا ہوتے ہیں؟ میں کہتا ہوں: اس “کیوں” کا جواب خود تلاش کریں۔

بہرحال، مجھے لگتا تھا کہ شاید میں نے غلط مشورہ دیا۔ ایک پردہ دار لڑکی کو چہرہ نہ چھپانے کا کہا — یہ بات مجھے پریشان کرتی رہی۔ مگر ایک عالمِ دین نے مجھے کہا: آپ نے کچھ بھی غلط نہیں کیا۔

اب جب میں عمان میں رہتا ہوں اور یہاں خواتین کو ہر شعبے میں دیکھتا ہوں تو وہ احساس کم ہو گیا ہے۔

زندگی کے ساتھ بہت سی باتیں بدلتی رہتی ہیں۔ ابھی بھی کئی معاملات ایسے ہیں جہاں میرے لیے سفید اور سیاہ واضح نہیں۔ امید ہے کہ وقت، علم اور تجربہ ان میں وضاحت لے آئے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں