ڈاکو ہیرو سیریز کے تناظر میں چند گذارشات/سائرہ رباب

میرے کچھ محترم دوستوں کی طرف سے یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ میں اپنی *ڈاکو ہیرو سیریز” کے زریعے سدھو موسے والا یا سنجے دت جیسے کرداروں کو کہیں نہ کہیں ڈاکو ہیرو یا گینگسٹر کلچر کے تناظر میں گلیمرائز کر رہی ہوں، یا اسلحہ اور گینگ کلچر کو جواز دے رہی ہوں۔ یہ ایک اہم سوال ہے، لیکن میری اس سیریز کا مقصد کسی بھی صورت میں نہ تشدد کو خوبصورت بنانا ہے، نہ جرائم کو نارملائز کرنا۔

اصل بات یہ ہے کہ اگر ہم کسی بھی کردار کو اس کے سماجی اور سیاسی سیاق و سباق (context) سے کاٹ کر صرف اخلاقی یا قانونی لیبلز میں دیکھیں گے تو ہم اس کی اصل حقیقت کو سمجھ ہی نہیں سکیں گے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جسے آج کے محققین “decontextualization” کہتے ہیں۔۔۔۔یعنی کسی مظہر (phenomenon) کو اس کے ماحول، تاریخ اور ساخت سے الگ کر دینا۔ نو آبادیات کسی سماج میں اسکے ہیروز اور آزادی کی جدوجھد کو متنازع بنانے کے لئے یہ تیکنیک استمال کرتی ہے۔

پنجاب کے تناظر میں دیکھیں تو سدھو موسے والا کو صرف “نوجوانوں کو بھٹکانے والا” یا “اشتعال انگیز” کہنا، یا “گینگ کلچر پروموٹ کرنے والا” کہہ دینا ایک بہت محدود اور سطحی فریم بن جاتا ہے۔ کیونکہ یہاں اصل حقیقت زیادہ پیچیدہ ہے: کسانوں کا بحران، دیہی معیشت کی کمزوری، بے روزگاری، ریاستی اداروں پر کمزور اعتماد، پولیس اور طاقت کے ڈھانچوں سے فاصلے، اور ایک تاریخی مزاحمتی و ثقافتی روایت۔۔۔یہ سب مل کر ایک ایسا سماجی ماحول بناتے ہیں جہاں آوازیں سماجی اظہار بن جاتی ہیں۔

یہاں ایک بنیادی بات سمجھنا ضروری ہے۔۔۔ پہلے زمانے میں لوگ زیادہ تر اپنے قبیلے، برادری یا مقامی سطح پر اپنی حفاظت خود کرتے تھے۔ طاقت اور تشدد بکھرا ہوا تھا۔ پھر جدید ریاست وجود میں آئی، جس نے یہ دعویٰ کیا کہ اب طاقت اور تشدد کا استعمال صرف ریاست کرے گی۔ یعنی ریاست “محافظ” بن گئی اور لوگوں سے یہ حق لے لیا گیا کہ وہ خود اپنی حفاظت طاقت کے ذریعے کریں۔ نظریاتی طور پر یہ امن اور نظم کی طرف قدم تھا، لیکن عملی طور پر مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب یہی ریاست طاقت، ٹیکس اور قانون کی اجارہ داری کے ذریعے خود بھی استحصال کا ایک منظم نظام بن جاتی ہے۔ اسی لیے بعض مفکرین اسے “منظم ڈاکہ زنی” بھی کہتے ہیں۔

اسی بڑے ڈھانچے کے اندر مردانگی (masculinity) کا بحران بھی پیدا ہوتا ہے۔ Slavoj Žižek سمیت کئی مفکرین کے مطابق جدید سرمایہ دارانہ اور نیو لبرل نظام نے مردانگی کے روایتی کردار کو بہت حد تک کمزور کر دیا ہے۔ پہلے مرد کی شناخت محافظ، محنت کرنے والا، جنگجو یا اجتماعی ذمہ داری لینے والے فرد کے طور پر واضح تھی۔ لیکن اب نیو لبرل نظام کو ایسے فرد کی ضرورت ہے جو اجتماعی مزاحمت نہ کرے، احتجاج نہ کرے، اور کسی بڑے اجتماعی مقصد کے لیے طاقت نہ بنے۔۔۔بلکہ مارکیٹ میں ایک انفرادی صارف (consumer) اور مقابلہ کرنے والا فرد بن کر رہے۔

اس تبدیلی کے نتیجے میں بہت سے معاشروں میں ایک خلا پیدا ہوا۔۔ پرانی شناخت ٹوٹ جاتی ہے مگر نئی مکمل شناخت وجود میں نہیں آتی۔ اسی خلا میں کچھ لوگ طاقت، غصہ ، جارحیت یا “ روایتی مردانگی” کی طرف مائل ہوتے ہیں۔۔۔۔ کبھی ثقافتی اظہار میں، کبھی علامتی طاقت کے طور پر، اور کبھی مجرمانہ یا نیم مجرمانہ نیٹ ورکس میں۔ اس لیے ایسے کردار کسی خلا میں پیدا نہیں ہوتے بلکہ ایک پورے ساختی دباؤ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

اسی لیے آج کے محققین کہتے ہیں کہ ایسے کرداروں کو صرف جرم پیشہ کے خانوں میں بند کرنا درست نہیں۔ حقیقت ہمیشہ ان دو انتہاؤں کے درمیان ایک پیچیدہ اور غیر واضح لکیر پر موجود ہوتی ہے۔ یہ وہی “grey area” ہے جہاں سماجیات ہمیں سکھاتی ہے کہ انسانی عمل کے پیچھے صرف انفرادی نیت نہیں بلکہ تاریخی اور ساختی حالات بھی ہوتے ہیں۔

پوسٹ کولونیل نقطۂ نظر کے مطابق طاقت صرف ریاستی قانون یا براہِ راست جبر کے ذریعے ہی کام نہیں کرتی بلکہ یہ ثقافتی بیانیے اور اخلاقی لیبلنگ کے ذریعے بھی اپنا اثر قائم رکھتی ہے، جہاں کسی بھی اختلاف یا مزاحمت کو پہلے غیر اخلاقی یا خطرناک بنا کر اس کی سیاسی معنویت کو کمزور کر دیا جاتا ہے۔ یہ ایک طرح کی علامتی خاموشی (symbolic silencing) ہوتی ہے، جس میں آواز کو براہِ راست ختم نہیں کیا جاتا بلکہ اس کی ساکھ اور قبولیت کو متنازع بنا دیا جاتا ہے۔ تاریخ میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف ادوار میں اختلاف کرنے والی آوازوں۔۔۔چاہے وہ فنکار ہوں، موسیقار ہوں یا سیاسی شخصیات۔۔۔۔کو مکمل طور پر خاموش کرنے کے بجائے ان کے گرد اخلاقی تنازع یا شخصیت پر سوالات پیدا کر کے ان کے اثر کو محدود کیا گیا۔ اس لیے ضروری ہے کہ کسی بھی ثقافتی یا سیاسی اظہار کو صرف لیبلز کے ذریعے نہیں بلکہ اس کے تاریخی اور سماجی سیاق و سباق میں سمجھا جائے۔

یہی بات ہمیں اس طرف بھی لے جاتی ہے کہ اس طرح کے کرداروں کے بارے میں عوامی پسندیدگی یا “craze” بھی صرف جذباتی نہیں ہوتی۔ وہ بھی ایک سماجی اظہار ہوتا ہے۔۔۔۔کبھی شناخت کی تلاش، کبھی محرومی کا ردِعمل، اور کبھی اس نظام کے خلاف علامتی احتجاج جس میں فرد خود کو غیر نمائندہ محسوس کرتا ہے۔

اسی لیے مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی آواز پسند کی جاتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اسے ہم کس تناظر میں سمجھ رہے ہیں۔ decontextualization کے ذریعے اگر ہم اسے صرف ایک یونیورسل اخلاقی یا مجرمانہ خانوں میں بند کر دیں تو ہم اس کی وہ سماجی حقیقت کھو دیتے ہیں جس نے اسے پیدا کیا تھا۔

لہٰذا اس پورے تجزیے کا مقصد کسی بھی قسم کی گلوریفکیشن (glorification) نہیں بلکہ یہی ہے کہ ہم پنجاب کی زمینی حقیقتوں، کسانوں کے بحران، ریاستی ڈھانچوں، تاریخی مزاحمت، اور جدید سرمایہ دارانہ نظام کے اثرات کو ایک ساتھ رکھ کر سمجھیں۔۔۔تاکہ ہم کسی بھی ثقافتی یا سیاسی آواز کو اس کے کونٹیکسٹ سے کاٹ کر نہیں بلکہ اس کے اندر سے دیکھ سکیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں