پوسٹ کی گئی تصویر ایک ایسے جرمن شہری کی ہے جس نے ناسی سلوٹ (Nazi Salute) کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ویسے تو یہ ایک سیاسی موضوع ہے لیکن میں اس تصویر کا استعمال نفسیاتی پہلو کو زیرِ بحث لانے میں کروں گی۔
ہرمیٹسزم (Hermeticism) کا ایک اصول ہے ”جیسا سطح پر ویسا گہرائی میں“ (As Above So Below) مطلب یہی کہ جوسطح (macro-level) پر ہوتا ہے، وہی گہرائی (micro-level) پر بھی ہوتا ہے۔ (مجھے اکثر پاکستان کی حکومت، اسکی فارن پالیسی اور حکومت کا عام عوام کی جانب رویے کا مائیکرو ورژن ہمارے گھروں کے ماحول میں دیکھنے کو ملتا ہے، پیٹرن وہی ہے بس سطح الگ ہے)
یوں سوچیے کہ ا.ی۔ڈ۔ا۔ی۔ل۔ف۔ہ۔ٹ۔ل۔ر ایک نظام یا ایسے سائیکل کی علامت ہیں جسے کوئی ایک گھر صدیوں سے مانتا اور اس پر عمل کرتا آرہا ہے۔ تصویر میں موجود عوام وہ تمام نسلیں ہیں جو اس نظام کو سلوٹ کررہی ہیں یعنی کہ مانتی اور عمل کرتی آرہی ہیں، لیکن……..
کوئی ایک نسل ایسی ہوتی ہے، کوئی ایک انسان کسی جنریشن میں ایسا ہوتا ہے جو اس نظام کے آگے سر جھکانے سے انکار کردیتا ہے، جو سوال کرتا ہے، دیکھ سکتا ہے کہ نظام بوسیدہ ہے اور ٹروما سے جھونجھ رہا ہے، وہ دیکھ لیتا ہے کہ اسکی اور اس کے آس پاس والوں کی جدوجہد اور جذباتی اور ذہنی اذیتیں کس طرح اس پوری فیملی کو جکڑے ہوئے ہیں۔ اور یہی وہ انسان ہوتا ہے جو پہلی بار ٹروما کے ”پیٹرن“ دیکھ کر ان کی نشاندہی کرتا ہے۔ جس طرح یہ شخص اس تصویر میں سب سے علیحدہ اور منفرد نظر آرہا ہے، ایک عجیب سی الجھن (discomfort) اس شخص کو دیکھ کر اجاگر ہوسکتی ہے، اور اسی قسم کی الجھن، مخالفت اور اعتراض اس انسان کو بھی سہنے کی ملتی ہے اس کے خاندان والوں کی جانب سے جو ٹروما کے پیٹرن کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے۔
رابرٹ گرین نے اپنی کتاب ”طاقت کے اڑتالیس اصول“ میں ایک اہم اصول نہیں لکھا جو کسی بھی انسان کو سب سے بڑی طاقت دیتا ہے اور وہ ہے ”پیٹرن کی شناخت“ کرنا……. میں یہی سکھاتی ہوں سائیکو تھراپی میں کیونکہ سائیکوتھراپی کا ایک بہت اہم حصہ لاشعوری پیٹرن کو تلاشنا ہی ہے، کیونکہ جب تک پیٹرن دکھیں گے نہیں تو توڑیں گے کیسے!!!
دنیا میں سائنسی یا انسانی نفسیات کی کھوج کرنے والوں کے پاس کئی طاقتوں میں ایک طاقت اور بھی تھی اور وہ تھی ”پیٹرن“ کو نوٹس کرنا….. کیونکہ پیٹرن لاشعوری ہوتے ہیں، بہت پیچیدہ ہوتے ہیں تبھی انہیں نوٹ کرنا مشکل کام ہوتا ہے کیونکہ ”جو شعور میں ہی نہیں“ اسے نوٹ کیسے کریں گے؟؟؟؟
سائیکو انالسٹ ڈاکٹر گیلیٹ اٹلس کہتی ہیں ہر فیملی کے اپنے راز ہوتے ہیں، جو صدیوں سے چلے آتے ہیں، ان پر کوئی بات نہیں کرتا، کچھ رازوں پر جان بوجھ کر بات نہیں کی جاتی جبکہ کچھ راز ہماری نفسیات کے لاشعور میں ہمیں ہمارے آباء و اجداد سے ملے ہوتے ہیں۔ آپ کی جدوجہد، پریشانیاں، مسائل، بیماریاں اور زندگی گزارنے کے انداز میں وہ راز چھپے ہوئے ہیں جسے یا تو آپ نفسیات کی مدد سے خود یا کسی بہترین سائیکوتھراپسٹ کے ساتھ ایک لمبا عرصہ تھراپی میں رہ کر معلوم کرتے ہیں۔
تصویر میں موجود اس شخص کی مانند اپنی نفسیات میں موجودہ نظام کو چیلنج کرتے ہوئے وہ پیٹرن اور راز معلوم کرنا جن کی وجہ سے آپ کو دقت کا سامنا ہے، جس طرح ایک بیالوجسٹ ڈی-این-اے کا نقشہ (DNA Map) بناتا ہے کسی بھی انسان کی حیاتیاتی تاریخ کو سمجھنے کے لیے، ویسے ہی آپ کی نفسیات کا بھی ایک نقشہ ہوتا ہے (جسے بنانے میں بہت محنت لگتی ہے، درد اور رنج الگ) جسے بنانا آپ کو مسائل کا حل فراہم کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
اگر آپ کی فیملی یا آپ کچھ ایسے مسائل کا شکار ہیں جن کا حل آپ کی سمجھ سے بالاتر ہے، یا پھر کچھ رویوں کا سامنا آپ کو ہمیشہ کرنا پڑتا ہے چاہے آپ ان سے کتنا ہی دور کیوں نہ بھاگیں، یا کچھ حادثات آپ کے ساتھ ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں چاہے آپ کتنا ہی خود کو بچانے کی کوشش کریں، یا پھر آپ کتنا ہی کوشش کرلیں کچھ معاملات کبھی درست نہیں ہو پاتے…… بہت ممکن ہے کہ اس کے لیے آپ کو گہرے لاشعوری پیٹرن کو سمجھنا ہو جسے ایک بار دیکھنے کے بعد آپ کبھی اَن دیکھا نہیں کر پائیں گے اور آپ کو سمجھ آنے لگی کہ کچھ معاملات کیوں اور کس وجہ سے بار بار ہوتے ہیں۔
ایک مثال دے کر سمجھاتی ہوں…… فرض کریں کہ ایک لڑکا جس کی اپنے باس سے نہیں بنتی، ہمیشہ اتھارٹی فگر (authority figure) کے ساتھ اس کے جھگڑے اور مسئلے مسائل چلتے رہتے ہیں، یہ نوجوان لڑکا اپنا سارا وقت انہی جھگڑوں میں ضائع کرتا ہے…… لیکن ایک دن (ایک دن نہیں ہوتا بلکہ اس کا پورا ایک پراسس ہوتا ہے) اسے اس پیٹرن کا پتہ چلتا ہے کہ وہ پہلا اتھارٹی فگر جس کے ساتھ اس کے مسائل تھے وہ اس کے والد تھے اور جیسا رشتہ والد کے ساتھ ہے بہت ممکن ہے کہ زیادہ تر اتھارٹی فگر کے ساتھ وہی پیٹرن آپ دہراتے رہیں گے…… یہ نوجوان لڑکا لاشعوری طور پر جنگ کا میدان سجاتا ہے جہاں وہ پھر سے ایک چھوٹا بچہ اور باس اس کے والد کی جگہ براجمان ہوجاتے ہیں اور یہ اس ٹروما کو بار بار جیتا ہے، وہی ڈراما وہی جھگڑے، بار بار وہی سب ہوتا ہے… لیکن جب اسے پیٹرن کا علم ہوتا ہے تو وہ تھم جاتا ہے اور میدانِ جنگ سے واپس مڑ جاتا ہے، اب یہ لڑکا اپنی توانائی، جذبات اور وقت تینوں کو بچا لے گا کیونکہ اس نے ایک لاشعوری پیٹرن کی شناخت کرکے اسے توڑ دیا……
(میں نہیں جانتی کہ یہ سب میں سمجھا پارہی ہوں یا نہیں، لیکن یہ ایک سرسری مثال ہے)
سگمنڈ فرائیڈ جنہوں نے پہلی مرتبہ لاشعور کی ساخت تشکیل دی اور اس کے ذریعے نفسیاتی علاج کو ترجیح دی حالانکہ فرائیڈ ایک نیورولاجسٹ تھے اور انکا کام نفسیاتی بیماریوں کو جسمانی سطح پر پڑھنا اور سمجھنا تھا لیکن چونکہ وہ بہت باریک بینی سے مشاہدہ کرنے اور تفصیلات کو گہرائی میں پرکھنے کے لیے جانے جاتے تھے، تو انہوں نے کلینک میں آنے والے مریضوں کا بہت باریک بینی سے مشاہدہ کیا اور بار بار دہرائے جانے والے پیٹرن نوٹ کیے…… اور وہیں سے آغاز ہوا ”سائیکوانالیسس“ کا۔
جو بھی فطرت یا اپنی ذاتی زندگی یا پھر ذاتی نفسیات (ہرمیٹسزم کا اصول یاد رکھیے گا جو چھوٹی اور بڑی دونوں سطح کی بات کرتا ہے) میں پیٹرن نوٹ کرے گا، اور اگر ضرورت پڑی تو اسے توڑے گا تو اسے یا پھر اس کی آنے والی نسلوں کو اسکا انعام ضرور ملتا ہے۔


