یہ بیسویں صدی کے اواخر کا واقعہ ہے جب مصر کے فرعون مرنپتاح کی ممی (Mummi) پر تحقیق کے لیے دنیا کے مایہ ناز فرانسیسی سرجن ڈاکٹر مورس بوکائے کی خدمات حاصل کی گئیں۔ مورس بوکائے نے جب جدید ترین خوردبینی ٹیکنالوجی کی مدد سے اس لاش کا معائنہ کیا، تو وہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ اس کی ہڈیوں کے اندر نمک کے اثرات موجود تھے، جو یہ ثابت کر رہے تھے کہ یہ شخص سمندر میں ڈوب کر مرا تھا۔ مورس بوکائے کے لیے اصل حیرت کا جھٹکا اس وقت تھا جب اسے بتایا گیا کہ مسلمانوں کی کتاب “قرآنِ مجید” میں چودہ سو سال پہلے ہی یہ لکھ دیا گیا تھا کہ فرعون ڈوب کر مرا تھا اور اللہ اس کی لاش کو دنیا کے لیے عبرت کی نشانی بنا کر محفوظ کر لے گا۔ مورس بوکائے اس مائیکروسکوپک اور میڈیکل سچائی کے سامنے مغلوب ہو کر سجدہ ریز ہو گیا اور اسلام قبول کر لیا۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ جب انسانی علم اپنی انتہا کو چھوتا ہے، تو وہیں سے قرآنی معجزے کی سرحدیں شروع ہوتی ہیں۔
اللہ رب العزت کا یہ ازلی قانون رہا ہے کہ اس نے ہر دور میں انبیاء کو ان کی قوم کی مروجہ علمی یا مادی مہارت سے کہیں بلند تر معجزہ عطا کر کے عاجز کیا۔ فیس بک کے عام قاری کو یہ بات سمجھنے کے لیے تاریخ کے ان چار بڑے واقعات پر غور کرنا ہوگا، جہاں اللہ نے انسانی عقل کو مغلوب کیا:
1۔ سیدنا آدم علیہ الصلاۃ والسلام کو اس وقت کی نوری مخلوق کے سامنے “علمِ اسماء” (کائنات کی پوشیدہ حقیقتوں کے علم) کا وہ معجزہ دیا گیا جس کے آگے فرشتوں کی علمی بالادستی مغلوب ہو گئی اور انہوں نے اپنی کم علمی کا اعتراف کیا۔ یہ مروجہ علمی بالادستی کے ذریعے ایک بڑی مخلوق کو مغلوب کرنے کا پہلا الٰہی مظاہرہ تھا۔
2۔ سیدنا موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کے دور میں مصر کی قدیم تہذیب انجینئرنگ اور سائنس کے عروج پر تھی۔ وہ 80 80 ٹن کے وزنی پتھروں کو ایسی پراسرار مہارت سے اٹھا کر اوپر لے جاتے تھے کہ اہرامِ مصر کھڑے کر دیے، جنہیں دیکھ کر آج کی عقل بھی حیران ہے۔ یہی نہیں، اہرام کے اندرونی تاریک حصوں میں مشعلوں یا دھوئیں کا کوئی نشان نہیں ملتا، جس سے جدید متبادل سائنس (Alternative History) کے محققین یہ مفروضہ پیش کرتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی شکل میں کیمیائی بیٹریاں بنا کر بجلی کی روشنی استعمال کرتے تھے۔ اس سائنسی تحقیق اور مفروضے کے مطابق، ان کے پاس بجلی کا یہی علم رسیوں اور لاٹھیوں کو متحرک کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا تھا۔ وہ ان چیزوں کے اندر ایسے کیمیائی مادے اور دھاتیں استعمال کرتے تھے جن میں جب وہ بیٹریوں سے بجلی منتقل کرتے، تو وہ برقی لہروں اور کرنٹ کی وجہ سے اس طرح تڑپتی اور مڑتی تھیں کہ دیکھنے والوں کی آنکھوں کو شدید دھوکا لگتا تھا اور جب تک بجلی کا کرنٹ ان میں دوڑتا رہتا، وہ بالکل زندہ سانپوں کی طرح حرکت کرتی نظر آتی تھیں اور عوام کو دہشت زدہ کرتی تھیں۔ اس سائنسی مفروضے کی مناسبت ہمیں قرآنِ مجید کے بیانات میں بھی ملتی ہے کہ اللہ رب العزت نے سیدنا موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کو معجزات ہی ایسے برقی اور مادی جلال والے دیے (جیسے بغیر کسی ایندھن یا بیٹری کے لائٹ کی طرح چمکنے والا یدِ بیضا، لکھنے کے لیے تورات کی لکھی لکھائی آسمانی تختیاں، اور کوہِ طور کا اہرامِ مصر سے بڑے وزنی پتھر کی طرح ان کے سروں پر آ کھڑا ہونا) جس سے صاف لگتا ہے کہ اس دور میں ان علوم کا مادی وجود واقعی موجود تھا، لیکن جب ان کی بیٹریاں ڈاؤن ہوتیں یا انسانی تدبیر ختم ہوتی، تو ان کا علم فیل ہو جاتا۔ چنانچہ جب ان کے سائنسدانوں نے بجلی سے چارج شدہ اپنی رسیاں اور لاٹھیاں دوڑائیں، تو سیدنا موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کی بے جان لکڑی (عصا) نے زمین پر گرتے ہی ایک حقیقی اژدھے کی شکل اختیار کی اور ان کے تمام برقی و مصنوعی سانپوں کو نگل لیا۔ سائنسی جادو کے وہ امام فوراً سمجھ گئے کہ یہ کوئی بجلی کا کرنٹ، کیمیکل یا آنکھوں کا دھوکا نہیں بلکہ خالص ربانی طاقت ہے، اور وہ وہیں سجدے میں گر گئے۔
3۔ قومِ ثمود کا علم یہ تھا کہ وہ پتھروں کو موم کی طرح تراش کر پہاڑوں کے اندر ایسے محلات بناتے تھے جو گرمی اور سردی سے محفوظ (Environment Controlled) ہوتے تھے۔ اللہ نے ان کی اس مادی مہارت کے آگے بے جان پتھر کے پیٹ سے ایک زندہ، گوشت پوست کی اونٹنی برآمد کر کے ان کے فنِ سنگ تراشی کو ہمیشہ کے لیے عاجز کر دیا۔
4۔ سیدنا عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کے عہد میں طب اور سرجری عروج پر تھی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس دور میں پیٹ کاٹ کر بچہ پیدا کرنے (سیزیرین آپریشن) اور آنکھوں و دانتوں کی سرجری تک کی تفاصیل ملتی ہیں۔ لیکن اس ترقی یافتہ طب کے پاس کوڑھ (برص) اور موت کا کوئی علاج نہیں تھا، وہ کوڑھیوں کو بستی سے باہر نکال دیتے تھے۔ چنانچہ سیدنا عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام نے کوڑھیوں پر ہاتھ پھیر کر انہیں فوراً شفا دی اور مردوں کو زندہ کر کے اس دور کی میڈیکل سائنس کو گھٹنوں کے بل لا کھڑا کیا۔
پچھلے انبیاء کے مادی معجزات مخصوص وقت کے لیے تھے جو ان کے ساتھ ہی رخصت ہو گئے۔ لیکن رسول کریمﷺ کی امت اور آپﷺ کی نبوت چونکہ تا قیامت ہے، اس لیے اس آخری امت کو فکری طور پر مغلوب رکھنے کے لیے اللہ نے “قرآنِ مجید” کی صورت میں ایک ایسا ابدی اور زندہ معجزہ نازل فرمایا جس کی سائنسی سچائیاں مائیکروسکوپ کی ایجاد کے بعد کھلنا شروع ہوئیں۔ آج سے 1400 سال پہلے کی دنیا جینیٹکس، فزکس اور ایمبریولوجی کے نام سے بھی ناواقف تھی، لیکن قرآن نے مائیکرو بائیولوجی اور جسمانی ٹشوز کے ایسے باریک حقائق بیان فرمائے جن کا مروجہ زمانوں سے تقابل درج ذیل ہے:
1۔ جنین کی تین خلیاتی تہیں
• قرآنی آیت:سورہ الزمر (آیت: 6) میں فرمایا گیا کہ اللہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ میں “تین اندھیروں” کے اندر مرحلہ وار بناتا ہے۔
• سائنسی دریافت کا زمانہ: یہ حقیقت 1817ء سے 1828ء کے دوران مائیکروسکوپک تحقیق کے بعد سامنے آئی کہ ماؤں کے رحم میں بچے کی ابتدا بنے بنائے اعضاء سے نہیں ہوتی، بلکہ وہ تین باریک تہوں یعنی جرمینل لیئرز (Ectoderm, Mesoderm, Endoderm) کے اندر چھپ کر رفتہ رفتہ وجود اختیار کرتا ہے۔ ان تین پوشیدہ خلیاتی تہوں کے بغیر انسان کا کوئی عضو بن ہی نہیں سکتا۔
2۔ علقہ اور مضغہ کے مائیکروسکوپک مراحل
• قرآنی آیت: سورہ المومنون (آیت: 14) میں جنین کی ابتدائی اشکال کے لیے “علقہ” (جونک کی طرح چمٹنے والی چیز) اور “مضغہ” (دانتوں سے چبائے ہوئے گوشت کی مانند) کے الفاظ استعمال کیے گئے۔
• سائنسی دریافت کا زمانہ:یہ خوردبینی منظر بیسویں صدی (1950ء کے بعد) میں الیکٹران مائیکروسکوپ کی مدد سے دیکھا گیا کہ حمل کے ابتدائی دنوں میں بچہ ہوبہو ایک جونک کی طرح رحم کی دیوار سے چمٹ کر خون چوس رہا ہوتا ہے اور چوتھے ہفتے میں اس پر گوشت کے ابھار نمودار ہوتے ہیں جیسے کسی چیز کو دانتوں سے چبا دیا گیا ہو۔
3۔ جلد میں درد کے خلیات (Pain Receptors)
• قرآنی آیت: سورہ النساء (آیت: 56) میں فرمایا گیا کہ جہنم میں جب کافروں کی جلد جل جائے گی، تو ہم اس کی جگہ دوسری جلد بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں۔
• سائنسی دریافت کا زمانہ:یہ دریافت انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں ہوئی کہ درد کو محسوس کرنے والے اصل اعصابی ریشے اور خلیات صرف ہماری جلد (Skin) میں ہوتے ہیں۔ اگر جلد پوری طرح جل جائے تو درد کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔ قرآن نے صدیوں پہلے ہی درد کا تعلق جلد کے بدلنے سے جوڑ دیا تھا۔
4۔ مخلوط نطفہ اور جینیاتی انتخاب (Zygote)
• قرآنی آیت:سورہ الدہر (آیت: 2) میں انسانی تخلیق کی شروعات کو “نطفۃ امشاج” (مخلوط خلیات یا ملے جلے مائع) سے تعبیر کیا گیا۔
• سائنسی دریافت کا زمانہ:یہ مائیکروسکوپک عمل 1875ء میں دریافت ہوا جب نطفے اور انڈے کے ملاپ سے بننے والے پہلے مخلوط سیل (Zygote) اور کروموسومز کے یکجا ہونے کا مشاہدہ کیا گیا۔
5۔ پیشانی کے پیچھے فیصلے اور جھوٹ کا مرکز
• قرآنی آیت: سورہ العلق (آیت: 16) میں ابو جہل کے سر کے اگلے حصے کو “جھوٹی اور خطا کار پیشانی” کہا گیا۔
• سائنسی دریافت کا زمانہ: یہ حیاتیاتی راز 1990ء کی دہائی میں fMRI ٹیکنالوجی کے آنے کے بعد کھلا کہ ماتھے کے بالکل پیچھے دماغ کا جو حصہ (Prefrontal Cortex) ہے، وہی انسان کے فیصلے کرنے، جھوٹ بولنے اور گناہ کی منصوبہ بندی کرنے کا اصل مرکز ہے۔
آج جو لوگ نادانی میں یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ “اسلام نے کیا ایجاد کیا؟”، وہ دراصل تاریخ کے سب سے بڑے سچ سے منہ چھپاتے ہیں۔ ہمیں آج دنیا کو یہ بتانا ہے کہ مائیکرو بائیولوجی، جینیٹک انجینئرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی حقیقی بنیاد اسلام نے رکھی ہے! اسلام کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے انسانی عقل کو جمود سے نکالا اور کائنات پر مشاہدے اور تحقیق کا وہ رخ دیا جس کی وجہ سے یہ مائیکروسکوپ بنی اور جینیات کے بند دروازے کھلے۔ قرآن نے بار بار “افلا تبصرون” (کیا تم دیکھتے نہیں؟) اور “افلا تتفکرون” (کیا تم غور نہیں کرتے؟) کہہ کر انسان کو مادی اور جسمانی حقائق کی کھوج میں لگایا۔
جب پوری دنیا اندھیروں میں ڈوبی تھی، یہ مسلم سائنسدان ہی تھے جنہوں نے ان علوم کی شروعات کی:
• محمد بن موسیٰ الخوارزمی (780ء – 850ء): ریاضی دان، فلکیات دان اور جغرافیہ دان، جنہیں کمپیوٹر سائنس کا بانی اور دادا کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے الجبرا اور الگورتھم (Algorithm) کی بنیاد رکھی۔ آج جینیٹک انجینئرنگ میں جس ڈی این اے (DNA) سیکونسنگ اور جینیاتی ڈیٹا کے تجزیے پر کام ہو رہا ہے، وہ الخوارزمی کے الگورتھم اور حسابی قوانین کے بغیر ناممکن تھا۔
• ابن الہیثم (965ء – 1040ء):جنہیں فزکس اور آپٹکس (Optics) کا بانی مانا جاتا ہے۔ انہوں نے لینس (Lenses) اور روشنی کے جو قوانین دریافت کیے، اسی بنیاد پر آگے چل کر دنیا مائیکروسکوپ اور کیمرہ بنانے کے قابل ہوئی، جس سے آج ہم خلیات اور جینیٹک کوڈز کو دیکھتے ہیں۔
• ابن النفیس (1213ء – 1288ء):جنہوں نے انسانی جسم میں دورانِ خون (Pulmonary Circulation) کو سب سے پہلے دریافت کیا اور ٹشو لیول پر انسانی ایناٹمی کا دروازہ کھولا۔
• ابوالقاسم الزہراوی (936ء – 1013ء): سرجری کے وہ امام، انہوں نے ایسے جراحی کے آلات ایجاد کیے جن کی بدولت انسانی جسم کے اندرونی ٹشوز اور اعضاء پر باریک مائیکروسکوپک تحقیقات اور آپریشن ممکن ہوئے۔
یہاں پہنچ کر کائنات کے سب سے بڑے سچ اور اس پورے مقالے کے اصل فکری عروج پر غور کیجیے؛ پچھلے انبیاء کی اقوام مخصوص دور کے لیے تھیں، اس لیے ان کے مادی معجزات بھی اسی وقت تک محدود رہے اور تاریخ کا حصہ بن گئے۔ لیکن رسول کریمﷺ کی امت چونکہ تا قیامت ہے اور آپﷺ کی نبوت کا سورج کبھی غروب نہیں ہونا، اس لیے اس آخری امت کو فکری طور پر مغلوب رکھنے کے لیے اللہ رب العزت نے آقاﷺ کی زبانِ اقدس سے قرآنِ مجید کی صورت میں ایک ایسا لافانی معجزہ جاری فرمایا جو کسی ایک صدی کا پابند نہیں ہے بلکہ تا قیامت زندہ ہے۔ یہ وہ کلام ہے جس کی سائنسی، طبی اور خلیاتی حقیقتیں پندرہ سو سال تک انسان کی نظروں سے اوجھل رہیں کیونکہ انسان کے پاس وہ مائیکروسکوپ یا آلات ہی موجود نہیں تھے جن سے وہ ان حقائق کو دیکھ پاتا۔ کائنات چودہ سو سال تک جس جینیٹکس اور مائیکرو بائیولوجی سے بالکل اندھی تھی، اس کی اتنی باریک تفاصیل رسول کریمﷺ نے اس دور میں دنیا کے سامنے رکھیں جب دنیا جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ پھر جیسے ہی وقت بدلا اور انسان نے بالکل اس آخری صدی میں مائیکروسکوپ ایجاد کی، تو انسان دنگ رہ گیا کہ جن پوشیدہ خلیاتی تہوں، درد کے ریشوں اور رحمِ مادر کے مائیکروسکوپک مراحل کو وہ آج دیکھ رہا ہے، وہ تو پندرہ سو سال پہلے ہی رسول کریمﷺ کی زبانِ مبارک سے بیان ہو چکے تھے۔
لیکن یاد رکھیے، یہ مائیکرو بائیولوجیکل اور جینیاتی حقائق تو اس لازوال معجزے کی صرف ایک ابتدائی جھلک ہیں۔ قرآنِ مجید کا یہ اعجاز ابھی رکا نہیں ہے، بلکہ یہ تو وقت کے ساتھ ساتھ مزید کھلتا جا رہا ہے۔ جیسے جیسے صدیاں آگے بڑھیں گی اور انسان فلکیات (Astronomy)، کوانٹم فزکس، کیمسٹری اور کائناتی علوم میں نئی مادی تحقیقات کرے گا، ویسے ویسے قرآن کی پوشیدہ آیات کے بند دروازے کھلتے چلے جائیں گے اور کائنات کی ہر نئی سائنسی دریافت دراصل قرآنِ مجید کی ایک نئی تشریح بن کر دنیا کے سامنے آئے گی۔ یہ اس الٰہی کتاب کا وہ ابدی سفر ہے جو رہتی دنیا تک کائنات کے ہر ترقی یافتہ علم اور انسانی عقل کو مغلوب کرتا رہے گا اور پکار پکار کر کہتا رہے گا کہ یہ کلام کسی انسان کا نہیں بلکہ اسی ذات کا ہے جو ہر شے پر محیط ہے۔
حوالہ جات (References):
1. القرآن الکریم (سورہ الزمر، سورہ المومنون، سورہ النساء، سورہ الدہر، سورہ العلق)۔
2. ڈاکٹر مورس بوکائے، کتاب: The Bible, The Qur’an and Science۔
3. کیتھ ایل مور، کتاب: The Developing Human: Clinically Oriented Embryology۔
4. کرسچن پانڈر اور کارل ارنسٹ وان بیئر، تین جرمینل تہوں کی دریافت کی سائنسی تاریخ (1817ء-1828ء)۔
5. فنکشنل ایم آر آئی (fMRI) ریسرچ جنرلز، دماغ کے حصے Prefrontal Cortex اور انسانی جھوٹ کا تعلق (1990ء کی دہائی)۔


