کسی کا رنگ و روپ، شکل و صورت اور نین نقش قدرتی طور پر اتنا خوبصورت ہوتا ہے کہ ہر دیکھنے والا اسے دیکھ کر دیکھتا ہی رہ جاۓ۔ جبکہ بعض چہرے خود کو میک اپ کے سہارے مصنوئی طور پر خوبصورت بن کر سب سے تعریف و ستائش کے جملے سن کر خوش ہوتے ہیں۔
ظاہر ہے ہر شخص کو بننے سنورنے اور دیدہ زیب دکھائی دینے کا پورا حق حاصل ہوتا ہے۔
جس طرح خوبصورت اور جاذب نظرقدرتی نظارے ، یا د ل میں اتر جانے والی حسین و جمیل تصویر کو دیکھ کرانسان کھو جاتا ہے اور دوسروں کے سامنے اس کی توصیف بیان کرتے ہوۓ خوشی محسوس کرتا ہے، اسی طرح تحریر بھی جو خوبصورتی اور تخلیقی حسن میں بے مثال اور متاثر کن ہو تو ؤہ بھی تصویر کی طرح ہمارے دل میں کشش اور پسندیدگی کے پھول کھلاتی ہے۔ تصویر اور تحریر میں البتہ کچھ قدریں مشترک ہونے کے باوجود ان کے درمیان ایک افتراق بھی واضح ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ تصویر کچھ عرصے بعد اوراق و قرطاس کی بوسیدگی اور زمانے کی دست برد سے اپنی جاذبیت کھو بیٹھتی ہے۔ فوٹو البم کے بار بار دیدار سے بھی دل بھر جاتا ہے۔ جبکہ ایسی تحریر جو اپنی لائق توجہ خاصیت اور تعریفی وصف رکھتی ہو، اس کی خوشگوار یادیں قلب و ذہن میں تا دیر متمکن رہتی ہیں۔ تحریر خواہ عمدہ رسم الخط اور خوش خطی کے قالب میں ڈھلی ہویا کیلی گرافی کے خوبصورت نقوش سے مزین و مرصع ہو، کسی قلعے یا محل میں کندہ ہو، ایک جھلک دیکھ کر بھی اس کا تصور ایک عرصے تک محل نظر رہتا ہے۔
یہاں ہمارے پیش نظر وہ تحریریں ہیں جو اہل ذوق قلمکاروں نے قلمی نسخوں، کتابوں اور اخبارات و رسائل کے صفحات میں قلم کی جولانیوں کے ساتھ تحریری فن پاروں کی صورت میں محفوظ کی ہیں۔ کچھ بھی لکھنے کے لئے، چاہے قلم کارکا انداز ادبی نوعیت کا ہو یا تحریر کسی مضمون، کہانی، افسانے یا مقالے کی شکل میں ہو، اس وقت تک پڑھنے والوں کو متاثر نہیں کرتی جب تک اس میں نفس مضمون واضح، سادہ، سلاست و روانی اور الفاظ و جملوں کی دلکش ترتیب سے مرصع نہ ہو۔
تحریر کے یہ تمام لوازمات لکھاریوں کی مہارت، عمیق مطالعے، زبان پہ دسترس اور لکھنے کے متاثر کن ہنر سے مشروط ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ماضی میں بہت سے اردو پرداز ادیب، کہانی نویس، مضمون نگاراور کتابوں کے تخلیق کار نا صرف اپنی با کمال تحریر کی روشنی بکھیرتے رہے ہیں، بلکہ اب بھی بہت سارے نثر نگاروں کی نفیس تحریریں جلوہ افروز ہوتی ہیں جن میں سلاست، حلاوت، بلاغت، لفظوں کے انتخاب میں نفاست اور ادبی اسلوب کی حلاوت با ذوق قارئین کو عش عش کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ بسا اوقات معروف لکھنے والے بھی پیچیدہ اور غیر مربوط الفاظ، املاء اور طرز تحریر میں سقم کے مرتکب ہوتے ہیں، وہ مقفی و مجسع تحریر میں بھی ایسے لفظوں کی غیر ضروری شمولیت کو لازم سمجھتے ہیں جو نفس مضمون سے میل نہیں کھاتے۔ جس کے باعث قبل اس کے کہ تحریر کو پڑھنے والے تحسین کا اظہار کریں، ان کے ذہن میں پسند و نا پسند کی کھچڑی پکنے لگتی ہے۔ یاد رکھئیے اچھی تحریر وہ کہلاتی ہے، جس میں الفاظ کا استعمال قابل فہم ہو، اس مین غیر ضروری اصطلاحات کا اختلاط نہ ہو، تحریر کے جملوں میں روانی ہو اور اسلوب میں کشش ہو۔ کیونکہ تحریر کا کام صرف راقم کی بات قارئین تک پہنچانا نہیں ہوتا بلکہ اسے دل میں اترنے والی خوبی کے ساتھ پیش کرنا ہوتا ہے۔ یہی تحریر کا خوش کن پہلو ہوتا ہے۔
اچھا اسلوب اور صاف خط قاری کو بین السطور دلچسپی اور گونا گوں راحت فراہم کرتا ہے۔ اس کے برخلاف اسلوب میں خوب صورتی اور مربوط جملوں کی آمیزش تحریر میں دلچسپی کا عنصر پیدا کرتی ہے۔ یہ خصوصیات تحریر میں نہ ہوں تو تحریر کی اٹھان ناقص اور ٹیڑھی دیوار کی طرح ہو جاتی ہے۔ ایسی تحریر قاری کے لئے ابتداء سے ہی عدم دلچسپی کا باعث بن جاتی ہے۔ عمدہ اسلوب ہی تحریر کی نفاست کو اجاگر کرتا ہے اور راقم تحریر کی توقیر و عظمت سے، پڑھنے والے کے دل کو ہم کنار کرتا ہے۔ یہ بات وزن رکھتی ہے کہ الفاظ کی عمدہ ترتیب، موزوں تسلسل اورنفیس طرز تحریر سے ناصرف علمی وسعت اور ابلاغ کا مقصد حاصل ہوتا ہے بلکہ مطالعے کی گہرائی اور مشاہدے کی رسائی کا بھی پتا چلتا ہے۔
تحریرمیں خوبصورتی اور نفاست کے ساتھ سلاست ہو توتحریر کو چار چاند لگا دیتی ہے اور پڑھنے والے کی نا صرف علم اور معلومات کی پیاس بجھتی ہے بلکہ اس کی دلچسپی اور ذوق کی بھی تسکین ہوتی ہے۔ ہمارے اسلاف کی تحریروں میں ان خصوصیات کی جھلک نظر آتی ہے۔ وہ الفاظ اور محاورات کا کثیر ذخیرہ رکھنے کے باوجود غیر ضروری تاویلات اور الفاظ کی زبردستی نمائش سے احتراز کیا کرتے تھے۔ ان اسلاف میں حضرت مولانا یوسف بنوری مرحوم، مولانا یوسف لدھیانوی مرحوم ، حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی رحمہ اللہ تعالیٰ شامل ہیں۔ حال ہی میں انتقال کر جانے والی صحافت سے وابستہ شخصیات میں تحریری حسن کا مزاج رکھنے والوں میں جناب عرفان صدیقی مرحوم اور جناب الطاف حسین قریشی مرحوم کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔
ہمارے نثر نگاروں ، قلم کاروں اور فصیح و بلیغ اور سحر انگیز تحریروں میں مہارت رکھنے والے بے شمار ادیب اور نثر نگاروں کی طویل فہرست ہے جن میں سے درج ذیل چند ایک ناموں کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔: ان میں مرزا غالب ( اپنے خطوط کے حوالے سے)، سرسید احمد خان، منشی پریم چند، مولانا ابوالکلام آزاد، اشفاق احمد، ابن انشا،، مستنصر حسین تاڑراور مشتاق احمد یوسفی جیسے کہنہ مشق نثر نگار اور شاعر حضرات شامل ہیں۔ اہل ذوق ان کو پڑھتے اور سنتے ہیں اور سر دھنتے ہیں۔


