جمہوریت کا حسن اس بات میں نہیں کہ عوام ہر پانچ برس بعد ووٹ ڈال کر اپنے نمائندے منتخب کر دیں، بلکہ اس کا اصل حسن یہ ہے کہ منتخب نمائندے خود کو عوام کا خادم سمجھیں، نہ کہ ان کے وسائل کے مالک۔ افسوس کہ ہمارے ہاں سیاست کی عملی تصویر اس تصور سے مسلسل دور ہوتی جا رہی ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں اراکین کے اختیارات، استحقاق اور مراعات سے متعلق منظور ہونے والے نئے قانون نے ایک مرتبہ پھر اس بنیادی سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ کیا عوامی نمائندگی خدمت کا نام ہے یا مراعات کے ایک ایسے نہ ختم ہونے والے سلسلے کا، جس کی کوئی حد مقرر نہیں؟ اگر منتخب نمائندے عوام کی خدمت کے لیے ایوانوں میں آتے ہیں تو انہیں اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے مناسب تنخواہ، ضروری الاؤنس، دفتری سہولیات اور سرکاری ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے درکار وسائل ضرور ملنے چاہییں، کیونکہ ایک مؤثر قانون ساز کو وسائل سے محروم رکھنا بھی درست نہیں۔ لیکن جب یہ سہولیات تاحیات مراعات، وی آئی پی کلچر، خصوصی پاسپورٹ، ذاتی سفری رعایتوں، اضافی استحقاقات اور ایسی آسائشوں میں تبدیل ہونے لگیں جن کا عوامی خدمت سے براہِ راست کوئی تعلق نہ ہو، تو پھر یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ اس کا بوجھ آخر کون اٹھائے گا؟ اس کا جواب واضح ہے: وہی عام پاکستانی، جو مہنگائی، بے روزگاری، بجلی اور گیس کے بلوں، بڑھتے ہوئے ٹیکسوں اور محدود آمدنی کے باوجود ریاستی خزانے کو بھرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
پاکستان میں اشرافیہ کی مراعات پہلے ہی دنیا کے بہت سے ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ سرکاری رہائش گاہیں، پروٹوکول، سرکاری گاڑیاں، ایندھن، عملہ، سفری سہولیات، سکیورٹی، طبی سہولتیں، پنشنیں، خصوصی الاؤنس، مختلف استثنیٰ اور بے شمار غیر مالی فوائد پہلے ہی موجود ہیں۔ ایسے میں اگر مزید تاحیات مراعات، خصوصی پاسپورٹ، وسیع ٹول ٹیکس استثنیٰ اور دیگر خصوصی رعایتیں بھی شامل کی جائیں تو یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ قانون سازی کا رخ عوامی مسائل کے بجائے حکمران طبقے کی سہولتوں کی طرف زیادہ ہے۔ دنیا کی مضبوط جمہوریتوں میں پارلیمانی استحقاق کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ منتخب نمائندہ حکومتی دباؤ سے آزاد ہو کر قانون سازی کر سکے، نہ کہ اسے عوام سے ممتاز ایک مستقل اشرافیہ کا حصہ بنا دیا جائے۔ اسی لیے بیشتر ممالک میں سرکاری پاسپورٹ صرف سرکاری ذمہ داری تک محدود رہتا ہے، ذاتی فائدے کے لیے نہیں، اور عہدہ ختم ہونے کے ساتھ بہت سی سرکاری سہولتیں بھی ختم ہو جاتی ہیں۔ یہی اصول ریاستی مساوات اور احتساب کا تقاضا بھی ہے۔
اصل المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں مراعات کا یہ کلچر کسی ایک جماعت، ایک صوبے یا ایک ادارے تک محدود نہیں رہا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مسئلہ صرف خیبر پختونخوا میں ہے تو وہ حقیقت کا صرف ایک رخ دیکھ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والا تقریباً ہر طاقتور طبقہ، خواہ وہ سیاست دان ہوں، جاگیردار ہوں، بڑے سرمایہ دار ہوں، صنعت کار ہوں، طاقتور ٹھیکیدار ہوں، اعلیٰ بیوروکریسی ہو یا دیگر بااثر حلقے، سب کسی نہ کسی صورت میں ریاستی وسائل سے غیر معمولی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ سندھ کے وڈیرے، بلوچستان کے سردار، پنجاب کے چوہدری، قبائلی علاقوں کے بااثر ملک، مختلف علاقوں کے روایتی بااثر خاندان، ہر دور کی سیاسی اشرافیہ اور ریاستی طاقت سے وابستہ مختلف حلقے، سب پر عوام کی جانب سے وقتاً فوقتاً یہی سوال اٹھایا جاتا رہا ہے کہ کیا ریاست صرف طاقتور طبقوں کی سہولت کے لیے ہے یا عام شہری کے لیے بھی؟ اگر ہر طبقہ اپنی اپنی طاقت کے مطابق قومی وسائل میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کی دوڑ میں شامل رہے گا تو پھر عوام کے لیے بچتا ہی کیا ہے؟
ریاست کی پائیداری اس وقت ممکن ہوتی ہے جب حکمران طبقہ اپنے لیے نہیں بلکہ عوام کے لیے مثال قائم کرے۔ دنیا کی کامیاب ریاستوں میں سیاسی قیادت نے مشکل معاشی حالات میں اپنی مراعات کم کیں تاکہ قوم کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ قربانی سب سے پہلے حکمران دیں گے۔ اس کے برعکس اگر ہر بحران کے دوران عوام سے مزید ٹیکس، مزید قربانی اور مزید برداشت کا مطالبہ کیا جائے، جبکہ طاقتور طبقات اپنی سہولتوں میں اضافہ کرتے رہیں، تو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ عوام انصاف کا مطالبہ صرف عدالتوں سے نہیں کرتے بلکہ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ قانون بنانے والے خود بھی اسی معیار پر پورے اتریں جو وہ دوسروں کے لیے مقرر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے قوانین پر تنقید صرف سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی اور جمہوری بنیادوں پر بھی کی جا رہی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی معاشرہ صرف معاشی بحرانوں سے نہیں ٹوٹتا بلکہ اس وقت ٹوٹتا ہے جب لوگوں کو محسوس ہونے لگے کہ قانون، وسائل اور ریاست سب کے لیے برابر نہیں رہے۔ جب عام آدمی کو علاج، تعلیم، روزگار اور انصاف کے لیے دربدر ہونا پڑے جبکہ اقتدار کے ایوان اپنے لیے نئی نئی مراعات تراشتے رہیں تو مایوسی بڑھتی ہے، اور مایوسی اگر مسلسل نظرانداز کی جائے تو وہ اجتماعی بے چینی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے میں تبدیلی کا راستہ آئین، قانون، ووٹ، عدالتی احتساب، آزاد میڈیا اور عوامی دباؤ ہونا چاہیے، نہ کہ تشدد یا انتقام۔ اس لیے آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ریاستی ادارے اور تمام بااثر طبقات اپنے طرزِ عمل کا ازسرنو جائزہ لیں، اپنی غیر ضروری مراعات محدود کریں اور یہ ثابت کریں کہ ریاست کے وسائل سب سے پہلے عوام کی امانت ہیں، نہ کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے افراد کی ذاتی ملکیت۔ یہی راستہ جمہوریت کی ساکھ کو مضبوط کرے گا، عوام کے اعتماد کو بحال کرے گا اور ریاست کو اس احساس سے بچائے گا کہ اس میں دو پاکستان بستے ہیں، ایک مراعات یافتہ اور دوسرا محروم۔
محمد امین اسد


