﴿ہم استدلال کے بالائی مدارج میں الجھے رہتے ہیں ، جبکہ بسا اوقات اصل مسئلہ بنیادی مفروضات میں پنہاں ہوتا ہے﴾
نوٹ: اس مضمون میں حضرت عیساؑ کی وہ تصویر زیر بحث ہے جو متداول عیسائی بائبل میں ہے۔ قرآنی تصور عیساؑ اس سے بیحد مختلف ہے، جو یہاں زیر بحث نہیں۔
بائبل اور قرآن
افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ ہمارے عالمی شہرت یافتہ ، لائق و فائق مناظرین اور اسکالر جب عیسائی مولویوں سے عوامی مناظرہ یا مباحثہ کرتے ہیں تو بعض کھلی غلطیاں کرتے چلے جاتے ہیں۔ مثلاً، حضرت عیسا ؑکے رسول اکرمﷺ سے موازنے پر اور ’عیسائیوں کی بائبل‘ کے قرآن سے موازنے پر معترض نہیں ہوتے۔ نہیں کہتے کہ یہ موازنہ اپنی بنیاد میں غلط ہے۔ بلکہ ایسا لگتا ہے کہ وہ خود بھی اس موازنے کو درست سمجھتے ہیں۔ یہ بھی لگتا ہے کہ بائبل کے بارے میں بھی انکا ذہن کسی الجھاؤ کا شکار رہتا ہے۔عیسائی مناظرین یا اسکالروں کی طرح وہ بھی بلاتکلف ”عہد نامۂ قدیم“ اور ”عہدنامۂ جدید“ جیسی گمراہ کن اصطلاحات استعمال کرتے چلے جاتے ہیں، اس احساس کے بغیر کہ یہ اصطلاحات خالص عیسائی عقیدے کا اظہار ہیں، نہ کہ معروضی علمی یا تاریخی زُمرہ بندی۔
یہودی بائبل
بائبل نامی کتاب کے دو حصے ہیں، جو ایک دوسرے کی نفی ہیں۔ ایک اصلی بائبل جو یہودی بائبل ہے، ۲۴ کتابوں کا مجموعہ، جس کی آخری کتاب ”ملاخی“ ہے۔ ملاخی اللہ کے رسول تھے جو یہودیوں کے عقیدے کے مطابق ”آخری“ نبی تھے، اور جو اندازاً ۴۲۰قبل مسیح کے آس پاس گزر چکے۔ اب انکے بعد کسی کو نہیں آنا سوائے موشیاخ (مسیح موعود و منتظَر) کے۔ چوبیسویں کتاب ”ملاخی“ پر اصل بائبل ختم ہو جاتی ہے۔ اسکے ساتھ عیسائی بائبل کو نتھی کرنے پر اور اسکی کتابوں (سورتوں) کی ترتیب یا تعداد بگاڑنے پر یہودی سخت معترض ہوتے ہیں، اس عمل کوگستاخی اور گناہ عظیم مانتے ہیں، اور اس اہانت آمیز حرکت کویکسر مسترد کرتے ہیں۔ ویسے ہی جیسے اگر بَہائی اپنے بہاءاللہ کی لکھی ہوئی ”کتاب اقدس“ کو یا شیعے ”مصحف ِ فاطمہ“ کو قرآن کے ساتھ نتھی کردیں، قرآنی سورتوں کی ترتیب یا تعداد بدل دیں، اور دونوں کے مجموعے کو قرآن کہیں تو عام مسلمان ناقابل برداشت اذیت محسوس کریں گے۔ اس یہودی بائبل کو عیسائی ”عہد نامۂ قدیم“ کہتے ہیں، اور اسے تلاوت اور مطالعے کی حد تک قابل قبول مگر اسکے شرعی احکام کو عملاً منسوخ مانتے ہیں۔ یہودی اسکو ”عہد نامۂ قدیم“ نہیں کہتے بلکہ ’صرف ‘اسی بائبل کو اصلی اور ابدی، الہامی عہد نامہ جانتے ہیں، جو ہمیشہ کے لیے قابل عمل اور غیر منسوخ ہے۔ وہ اس کے ساتھ یا اس کے بعد کسی ”عہدنامۂ جدید“ کے قائل نہیں۔ چوبیس کتابوں کے اس مجموعے کو یہودی مختصراً ”تناخ“Tanakh کہتے ہیں۔” تناخ “ مخفف ہے ”توراہ، نوی ییم، اور کِتُبیم“ نامی تین حصوں کا جن میں یہودی بائبل تقسیم ہے۔ تورات یعنی قانون، نبیین یعنی ا نبیاء، اور کُتُب“ (Torah), Na (Nevi’im), Kh (Ketuvim) Ta ۔ خود لفظ ”بائبل “ کا سادہ سا مطلب ہے ”کتابیں“۔
عیسائیوں نے اصل یہودی بائبل کی کتابوں کی تعداد میں حذف و اضافہ کر رکھا ہے۔ احتجاجی (پروٹسٹنٹ) عہد نامۂ قدیم میں ۳۹ کتابیں شامل ہیں، رومی آفاقی (رومن کیتھولک) میں ۴۶، اور مشرقی صحیح العقیدہ (ایسٹرن آرتھ ڈاکس) میں ۴۹۔ تعداد کا یہ فرق اسلیے کہ ایک کے ہاں جو کتابیں غیر مستند apocryphal ہیں وہ دوسرے کے ہاں مستند canonical۔ جیسے ہمارے ہاں بخاری میں حدیثوں کی تعداد کچھ اور، مسلم میں کچھ اور۔ اسلیے کہ بعض حدیثیں بخاری کے لیے مستند اور مسلم کے لیے غیر مستند، اور بالعکس۔ یا شیعوں کی ”الکافی“ سنیوں کے لیے غیر مستند اور شیعوں کے لیے سنیوں کی ”صحاح ستہ“ بیشتر غیر مستند۔
عیسائی بائبل
متداول بائبل کا دوسرا حصہ عیسائی بائبل ہے، جس میں ۲۷ کتابیں ہیں۔ عیسائی اسکو ”عہد نامۂ جدید“ کہتے ہیں۔یہ اسلیے کہ شریعتِ موسوی کی پابندی کا پرانا عہد جو خدا نے یہودیوں سے لیاتھا، منسوخ ہوا۔ اب نیا عہد نامہ یہ ہے کہ صلیب پر بہائے گئے خدا کے اکلوتے بیٹے کے خون پر ایمان لانا ہے،جو اب نجات کی واحد شرط اور واحد ضمانت ہے، اعمالِ صالحہ نہیں۔ عیسائی بائبل یا ”عہد نامۂ جدید“ کی ابتدائی چار کتابیں عربی اور اردو میں ”اناجیل اربعہ“ اور انگریزی میں Gospels کہلاتی ہیں۔ اس انگریزی لفظ کا مطلب ہے “بُشریٰ”، یعنی خوشخبری ۔ ان میں (اناجیل بمطابق مارقس، متی، لوقا اور یوحنا شامل ہیں۔ (Gospels according to Mark, Matthew, Luke, and John)۔ یہ حضرت عیساؑ پر نازل شدہ وحی نہیں ہے، بلکہ حضرت عیساؑ کی سوانح عمریاں (hagiographies) ہیں جنکو ہماری اصطلاح میں ”کتب سیرت“ کہا جاتا ہے۔ یہ چاروں جابجا آپس میں متضاد بھی ہیں۔ انھیں حضرت عیساؑ کے منظر سے ہٹنے کے کئی عشروں بعد سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر مرتب کیا گیا۔ سب سے پہلی مارقا کی انجیل ہے جو اندازاً واقعۂ صلیب کے چالیس سے پچاس سال بعد لکھی گئی اور آخری یوحنا ہے جو اندازاً ستّر سال بعد لکھی گئی۔ انکے مصنفین ”نامعلوم“ anonymous ہیں۔ اور چاروں میں سے کوئی نہ حضرت عیساؑ کا ہمعصر تھا، نہ انکا صحابی، نہ کسی واقعے کا چشم دید گواہ۔
ان کتب اربعہ کی مثال ہمارے ہاں کتب سیرت جیسی ہے، مثلاً سیرت ابن اسحاق و ابن ہشام، طبقات ابن سعد، اور بلاذری کی انساب الاشراف۔ اس فرق کے ساتھ کہ ہمارے سیرت نگار نامعلوم یا فرضی نہیں، بلکہ معروف شخصیات ہیں۔ ہماری کتب سیرت کے مؤلفین بھی رسول اکرمؐ کے ہمعصر نہ تھے، اور پہلی جامع “سیرت ابن اِسحاق“ رسول اکرم ؐ کی رحلت کے ۷۵ یا ۸۰ برس بعد لکھی گئی۔ جس طرح ہماری سیرت کی کتابیں وحی الٰہی نہیں ، اسی طرح عیسائی ”کتب اربعہ“ بھی وحی الٰہی نہیں، بلکہ انسانوں کی لکھی ہوئی ہیں۔ دونوں کی حیثیت ’سماعی ‘ ہے، چشم دیدی نہیں۔ حضرت عیساؑ کو جو ”انجیل“ بذریعۂ وحیِ الٰہی عطا فرمائی گئی تھی، جسکا قرآن میں ذکر ہے (وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ، ”اور ہم نے اسکو انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور روشنی ہے“)، وہ غائب ہے۔ کہیں نہیں پائی جاتی۔ عیسائیوں نے اسکو محفوظ نہیں رکھا۔ یہانتک کہ موجودہ اناجیل اربعہ تک کا ایک بھی اصل نسخہ دنیا میں پایا نہیں جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ قدیم ترین ورژن جو موجود ہےوہ بائبل کے Codex Sinaiticus نامی نسخے میں شامل ہے جو عیسا ؑ کے بعد چوتھی صدی میں لکھا گیا، اور جو جزیرہ نمائے سینا کے سنت کیتھرین خانقاہ میں پایا گیا۔
ان چار کتابوں کے علاوہ بھی بہت سی انجیلیں تھیں جن کو عیسائی مولویوں نے ”اسفار محرفہ“ apocrypha یعنی ”مشکوک، وضعی، اور غیر مستند“ قرار دے کر مسترد کردیا۔ ان میں سے متعدد آج بھی موجود ہیں جیسے انجیل یہوداہ اسکریوتی، انجیل تامس، انجیل مریم مقدالینی، انجیل فِلِپ، انجیل پطرس، انجیل نِکوڈیمَس،جیمس کی انجیل طفولیت، ودیگر۔ ان میں حضرت عیساؑ کے متعلق جو تفاصیل ہیں وہ کتب اربعہ کی تفاصیل سے خاصی مختلف ہیں، بلکہ چونکانے والی ہیں۔ ان میں تامس کی انجیل Gospel of Thomas واحد کتاب ہے جس میں ۱۱۴ کے قریب حضرت عیسؑا کے اقوال درج کر دیے گئے ہیں۔ یہ ویسی ہی ہے جیسے ہمارے ہاں حدیث کی کتابیں ہوتی ہیں، یعنی رسول اکرم ؐسے منسوب اقوال ، اس فرق کے ساتھ کہ اس میں اسناد نہیں ہیں، غالباً اسلیے کہ حضرت تامسؒ، حضرت عیساؑ کے براہ راست صحابی تھے اور ان سے اسقدر مشابہ کہ لوگ انھیں عیساؑ کا جڑواں کہتے تھے۔ اسکی مثال یہ ہے کہ حضرت ابوبکر ؓکی جمع کردہ پانچ سو احادیث کا مجموعہ اگر محفوظ رہ جاتا تو اس میں اسناد نہ ہوتیں کہ وہ انکے راست سامع تھے۔
عیسائیوں نے اپنی بائبل کو یہودی بائبل کے آخر میں نتھی کر رکھا ہے ، جسے وہ اپنے ”عقیدۂ کفارہ“کی رعایت سے ”عہد نامۂ جدید “ کہتے ہیں، اور دونوں کو ملا کر بائبل کہتے ہیں۔ اسکے برعکس یہودی اصل بائبل (عہد نامۂ قدیم) سے عیسائی بائبل کے حصے کو خارج رکھتے ہیں، اور اُسے ”عہد نامۂ جدید“ نہیں گردانتے بلکہ باطل سمجھتے ہیں۔ مسلمان اُس انجیل پر ایمان رکھتے ہیں جو حضرت عیساؑ پر بطور وحی نازل ہوئی تھی اور جو اب ناپید ہے، اُن اناجیل، یا نام نہاد ”عہد نامۂ جدید“ پر نہیں جو متداول ہے مگر انسان ساختہ ہے۔ مسلمانوں میں عموماً یہ حساسیت نہیں پائی جاتی کہ ”عہد نامۂ جدید“ اور ”عہد نامۂ قدیم“ کی اصطلاحات دراصل عیسائی عقیدے کی نمائندہ ہیں، نہ کہ علمی یا تاریخی درجہ بندی کی۔ یہ عقیدہ یہودیوں اور مسلمانوں کا نہیں ہے، بلکہ اسلامی عقیدے کی ضد ہے۔ اسلامی ”عہد“ testament سناتنی ہے جو جدید اور قدیم کی تفریق نہیں رکھتا۔ یہ حضرت آدم ؑکے زمانے سے ایک ہی چلا آتا ہے ، اور بہت سادہ ہے۔ وہ یہ کہ خدا ایک ہے اور صرف وہی عبادت یعنی نوکری کے لائق۔ جب اس عہد میں بوجوہ بگاڑ پیدا ہوتا تھا تو نبی اور رسول آتے تھے جو اسی سناتنی عہد کواپنی اصل شکل میں بحال کردیتے تھے۔ پرانا منسوخ کر کے کوئی نیا عہد باندھنے نہیں آتے تھے۔ اسی عہد کو قرآن کی صورت میں معجزانہ محفوظ کر دیا گیا، چنانچہ کسی نئے نبی یا رسول کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ بعض مسلمان متکلمین محض عیسائی بیانیے کے تتبع میں قرآن کے لیے ”عہد نامۂ نہائی“ final testament کی اصطلاح استعمال کر کے خوش ہوتے ہیں، جبکہ قرآن سناتنی (ازلی و ابدی ) عہد نامے کی محفوظ ، نا قابل تحریف، نہائی شکل ہے، عہدناموں کی فہرست میں آخری عہد نامہ نہیں۔ یہودی ان عیسائی اصطلاحات کے تئیں حساس ہیں اور انکے استعمال سے عموماً پرہیز کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو بھی اپنے علمی مناظروں، مباحثوں اور تصنیفوں میں اِن ’عقیدہ مرکزی‘ dogma-centred اصطلاحات کی بجائے غیر جانبدار اور غیر مذہبی اصطلاحات جیسے ”یہودی بائبل“ اور ”عیسائی بائبل“ استعمال کرنی چاہیے۔
عیسائی بائبل اور قرآن
عیسائی بائبل کا موازنہ قرآن سے سراسر غیر حقیقی ہے۔ قرآن رسول اکرمؐ کی سوانح نہیں ہے۔ نہ اس میں انکے والدین ؒکا ذکر ہے، نہ اعزاء کا، نہ اصحابؓ کا۔ نہ انکے یوم پیدائش کا، نہ مقام پیدائش کا، نہ یوم وفات کا، نہ مقام وفات کا۔ نہ پیدائش کے وقت کسی قسم کے معجزات کا، نہ محیر العقول یا مافوق الفطرت واقعات کا۔ یہانتک کہ پوری کتاب میں انکا اپنا اسم گرامی ”محمدؐ“ بھی صرف چار مرتبہ آیا ہے۔ سورت محمدؐ بھی انکی سوانح نہیں ہے۔ لے دے کے صرف ایک صحابی ”زیدؓ“ کا نام آیا ہے جو انکے اعلان شدہ بیٹے (لَے پالک) تھے، اور ابنِ محمدؐ کہلاتے تھے۔ وہ بھی میری رائے میں اس اشد مصلحت کے تحت کہ انکے اندر اس تعلق کے حوالے سے رسول اکرمؐ کے بعد کسی سیاسی یا روحانی وراثت کا ڈول ڈالنے کا خیال نہ پیدا ہوجائے۔ (انکی مطلقہ زینبؓ سے نکاح میں بھی یہی مصلحت کارفرما نظر آتی ہے، تاکہ زید سے حقیقی بیٹےجیسا ورا ثتی رشتہ ہونے کا شائبہ بھی ختم ہو جائے)۔ اسی سورتِ احزاب میں یہ صاف اعلان کر دیا گیا کہ ”محمؐد تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں بلکہ اللہ کے پیغامبر اور نبیوں کی مہر ہیں۔“ چنانچہ قرآن کسی بھی حیثیت سے رسول اکرمﷺ کی سوانح عمری نہیں ہے، جبکہ اناجیل اربعہ سراسر حضرت عیساؑ کی سوانح عمریاں ہیں، جن میں جہاں تہاں ان سے منسوب اقوال بھی مِل جاتے ہیں۔ انکا موازنہ اگر کرنا ہے تو صرف سیرت ”ابن اسحاق و ہشام“ یا ”طبقات ابن سعد“ یا واقدی کی ”مغازی“ وغیرہ سے کیا جا سکتا ہے۔ قرآن سے ہر گز نہیں۔ قرآن تو درکنار، اناجیل اربعہ کا درجۂ استناد اُس سے بھی کم ہے جو ہماری کتب سیرت کا ہے کہ اناجیل نامعلوم افراد کی طرف بلا سند منسوب ہیں اور کتبِ سیرت معروف شخصیات کی تصانیف۔ دراصل قرآن کے متوازی کوئی کتاب عیسائیت میں سرے سے موجود ہی نہیں۔
اناجیل اربعہ کے علاوہ عیسائی بائبل میں ۲۳ کتابیں اور بھی شامل ہیں جن میں زیادہ تر مولوی پولوس St.Paul کے تبلیغی اور وضاحتی خطوط ہیں جو اس نے اپنے ایجاد کردہ عقیدے کی تبلیغ کی غرض سے یونان و روم کے مختلف گروہوں کی جانب بھیجے۔ بعض دیگر خطوط بھی ہیں۔ اس میں ”اعمال صحابہ“Acts of the Apostles بھی شامل ہے۔ دوسری جانب، رسول اکرمؐ نے جو خطوط ایران و روم و مصر بھیجے وہ اسلامی مقدس کتاب scripture کا حصہ نہیں ہیں، نہ ہی انکی تقدیسی حیثیت ہے۔ نہ ہی ابوبکرؓو عمرؓ و علیؓ و معاویہؓ یا کسی اور کے خطوط کی۔ اعمال صحابہ کے مجموعے بھی ہماری مقدس کتاب نہیں ہیں، نہ اُس کا جزو ہیں۔
سب سے اہم بات یہ کہ رسول اکرمؐ نے خود اپنی ذاتی نگرانی میں قرآن کی ترتیب و تدوین کا بھرپور اہتمام فرمایا، اور دنیا سے رخصت ہوتے وقت اسکو محفوظ و مدوّن شکل میں ”بین الدفتین“ between the covers چھوڑ کر گئے (صحیح البخاری) ۔ یہی نسخہ بعد میں آپکی زوجۂ مطہرہ حضرت حفصہ ؓ کے پاس محفوظ رہا، جس سے نقلیں تیار کی جاتی رہیں۔ حضرت عثمانؓ نے بھی اسی کی نقلیں بنوائی اور اطراف ریاست میں بھجوائی تھیں۔ یہ رسول اکرمؐ کا جمع کردہ قرآن ہی ہے جو ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ (حضرت ابوبکرؓ و عثمانؓ کے ذریعے جمعِ قرآن کے قصے بعد میں گڑھے گئے جوبوجوہ جھوٹ کا پلندہ ہیں، اور جوقرآنی متن کو مشکوک بنانے کے لیے مع وضعی اسناد مشتہر کر دیے گئے۔) عیسائیوں کی بائبل کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، حضرت عیسا ؑ کی چھوڑی ہوئی انجیل کسی بھی شکل میں ناپید ہے۔کوئی سراغ نہیں ملتا کہ آنجنابؑ نے اپنے تین سالہ دور نبوت میں نازل شدہ وحی کو مدون و محفوظ فرمانے کا انتظام کیا ہو۔
ایک اور بہت اہم فرق یہ بھی ہے کہ قرآن پہلے نازل ہونا شروع ہوا اور اس کی تعلیمات پر مبنی اسلامی عقائد و اعمال بعد میں استوار ہوتے چلے گئے۔ لیکن عیسائیت میں اسکے برعکس ہوا۔ مولوی پولوس نے الوہیت مسیح اور کفارے کا عقیدہ پہلے ایجاد کیا، اور اپنے خطوط اور تبلیغ کے ذریعے اسکو پھیلا دیا ۔ پھر اس پولوسی عقیدے کو درست ثابت کرنے اور اعتبار بخشنے کے لیے اناجیل لکھی گئیں ۔ یعنی عقیدہ پہلے آیا اوراس سے برآمد شدہ اناجیل بعد میں۔ اسلام میں کتاب مقدس پہلے اوراس سے برآمد شدہ عقیدہ بعد میں۔ مولوی پولوس کے خطوط، تمام کے تمام، سب سے پہلی انجیل مارقس سے بھی پہلے لکھے گئے (مولوی پولوس سنہ ۶۴/۶۵ تک مر چکا تھاجبکہ پہلی انجیل مارقس سنہ ۷۰ کے آس پاس لکھی گئی) ۔پھر اسی پولوسی عقیدے کے دفاع و ترویج کے لیے باقی اناجیل بھی لکھی جاتی رہیں۔ ان میں موجود داخلی ارتقاء اسی بات کا عکاس ہے۔ بالفاظ دیگر، انہی خطوں پر اناجیل اربعہ کی اساس ہے۔ عجب نہیں کہ پولوس کے خطوط عیسائی ”عہد نامۂ جدید“ کا مقدس حصہ ہیں۔ بالفاظ دیگر، یہ اساسی متن ہیں، اور اناجیل معاون متن۔ جبکہ قرآن اساسی متن ہے، معاون متن نہیں۔ چنانچہ کسی سطح پر بھی عیسائی مقدس کتب اور اسلامی کتابِ مقدس قرآن یکساں نہیں ہیں۔ بلکل الگ ہیں۔ انکا باہم موازنہ غیر حقیقی اور مغالطہ آمیز ہے، اور کنفیوژن کا آئینہ دار۔
محمدؐرسول اللہ اور عیساؑ رسول اللہ
رسول اکرم ﷺ کی ذات اقدس کا موازنہ حضرت عیسا ؑ کی ذات اقدس سے کرنا بھی غیر حقیقی ہے۔ ا نکی حیات طیبہ ولادت سے لے کر رحلت تک جزوی تفصیلات کے ساتھ محفوظ ہے۔ اسکا کوئی گوشہ یا کوئی دور تاریخ کی نظروں سے اوجھل نہیں ہے۔ جبکہ حضرت عیساؑ کی زندگی کے ابتدائی ۱۲ سال کا بے حد سرسری تذکرہ اناجیل اربعہ و دیگراناجیل میں موجود ہے، جس کے بعد وہ عیسائی بائبل اور تاریخ کی نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ اور پھر ۱۸ برس کے ایک طویل غیاب کے بعد ۳۰ سال کی عمر میں دوبارہ بحیثیت رسول اللہ نمودار ہو جاتے ہیں۔ بارہ سال کی عمر سے تیس برس کی عمر تک وہ کہاں تھے، کیا کرتے رہے، یقینی طور پر نہیں معلوم۔ (آراء بہت سی ہیں، جن میں سے ایک یہ بھی کہ وہ ہندوستان میں، بدھوں کی صحبت میں ’ماورائی مراقبہ‘transcendental meditation اور آیوروید سیکھتے رہے۔ مگر سر دست یہ موضوع غیر متعلق ہے)۔ عیسائی روایت میں ان برسوں کو ”گمشدہ سال“ یا ”خفیہ سال“ کہتے ہیں۔ چنانچہ ایک ایسی شخصیت جو تاریخ کی نظروں سے کبھی اوجھل نہیں ہوئی اسکا موازنہ ایک ایسی شخصیت سےنہیں کیا جا سکتا جسکی زندگی کا بیشتر حصہ تاریکی میں گم ہے۔
عیسائی مناظرین بڑی آسانی سے کہ دیتے ہیں کہ عیساؑ نے صرف محبت کی تعلیم دی (love thy neighbour) اور کوئی جنگ نہیں کی، جبکہ حضرت محمد ؐ جنگیں کرتے رہے۔ اسکے جواب میں ہمارے مناظرین اور روایتی اسکالر مدافعانہ پہلو لیتے ہوئے کہنے لگتے ہیں کہ وہ دراصل موساؑ ، یوشع بن نونؑ، اور جدعونؑ جیسے نبی تھے، اسلیے انہی کی طرح جنگیں بھی کرتے تھے۔ حضرت عیساؑ اور رسول اکرمؐ کا اس سطح پر موازنہ بھی صریحاً غلط ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ ”پڑوسی سے پیار“ حضرت عیساؑ کا اپنا فلسفہ یا تعلیم نہیں، بلکہ یہودی بائبل کی کتاب ”احبار“(Leviticus 19:18) سے ماخوذ ہے، جہاں یہ خدا کے حکم کے طور پر آیا ہے (”اپنے ہمسایہ سے اپنی مانِند مُحبّت کرنا۔ مَیں خُداوند ہُوں“)۔ پھر یہ کہ حضرت عیساؑ کو رسالت کے صرف ڈھائی تین ابتدائی سال ملے، یعنی ۳۰ برس کی عمرسےتقریباً ۳۳ برس کی عمر تک، بس۔ اسکے بعد واقعۂ صلیب پیش آگیا اور آنجنابؑ منظر سے پھر غائب ہوگئے (سر دست یہ موضوع بحث سے خارج ہے کہ پھر غائب ہو کر کہاں چلے گئے)۔ دوسری جانب رسول اکرمؐ ۴۰ برس کی عمر سے تقریباً ۶۳ برس کی عمر تک یعنی ۲۳ برس برابر نبی و رسول کے طور پر متحرک رہے۔ اور اپنا مشن مکمل کر کے دنیا سے تشریف لے گئے۔ ان نبوی برسوں میں ظلم و ستم سہنے کا اذیت ناک دورانیہ بہت طویل ہے (جس میں انکی ذات کو اور انکی جماعت کو وجودی خطرات بھی لاحق ہوئے)، اور اس کے مقابلے جنگی دورانیہ انتہائی مختصر ۔ یعنی ۲۳ سالہ عہد نبوی میں سے کم و بیش ساڑھے سولہ سال کوئی جنگ نہیں۔ ان میں پہلے ۱۳ سال سخت تعذیب اور نا قابل برداشت مصیبتوں کے، پھر دو سال نسبتاً سہولت کے، اور پھر اسکے بعد کےچھے سالوں میں جنگی معرکے بھی پیش آئے، وہ بھی بیشتر دفاعی نوعیت کے یا بطور پیش بندی کے ۔ آخری ڈیڑھ، دو سال پھر نسبتا ًپرسکون۔
رسول اکرمؐ کی زندگی معجزوں سے عبارت نہیں۔ انتھک، جانگسل اور پر خطر جدوجہد سے عبارت ہے۔انھوں نے کبھی مبہوت کر کے بات منوانے کی کوشش نہیں کی، بلکہ مسلسل عقلی استدلال کیا۔ اس لحاظ سے رسولوں کی فہرست میں حضرت محمدؐ منفرد ہیں۔ قرآن کا بھی یہی رویہ ہے، یعنی معجزوں کے مطالبے کی پر زور ہمت شکنی اور دلیل و برہان پر زور۔ اس لحاظ سے، الہامی کتب کی فہرست میں قران منفرد ہے۔”اناجیل اربعہ“ معجزوں کی بنیاد پر الوہیت عیساؑ کو منوانا چاہتی ہیں، جبکہ قرآن محمدؐ کی رسالت کے حوالے سے معجزوں کی بجائے مسلسل اور بلا استثناء عقلی استدلال سے کام لیتا ہے، برہان پیش کرتا ہے اور برہان طلب کرتا ہے۔
رسول اکرمؐ کے مقابلے میں عیساؑ کو نبوت کے صرف تین ابتدائی سال میسر آسکے، جن میں موجودہ اناجیل کے مطابق انھوں نے فلسطین کے مختلف شہروں میں گوناگوں معجزے دکھائے، کبھی پانی پر چلے، کبھی سراپا شفاف نور بن گئے، وعظ کہے، تبلیغ کی، اور ایک بڑی خلقت مبہوت ہو کر انکی گرویدہ ہو گئی۔ ان تین سالوں کے آخری ہفتے میں بروز اتوار وہ یروشلم میں داخل ہوئے، اور صرف چھے دن بعد اگلے اتوار کو واقعۂ صلیب پیش آگیا، اور وہ منظر سے دوبارہ ہمیشہ کے اوجھل ہو گئے۔ اس موقعے پر مبہوت کردہ خلقت بھی غائب ہو گئی، اور واقعۂ صلیب کا ایک بھی چشم دید گواہ نہ ہوا۔ اگر رسول اکرم ؐ کی طرح انکو بھی بطور نبی و رسول پوری طبعی عمر گزارنےکا اور اپنے مشن کی تکمیل کا موقعہ ملا ہوتا تو اس دوران خدا معلوم کن کن مراحل سے گزرنا پڑتا۔ جنگیں بھی پیش آ سکتی تھیں، بلکہ وہ خود جنگی عزائم رکھتے تھے، خود کو بادشاہ بھی کہتے تھے (دیکھو یوحنا، باب ۱۸، آیت ۳۷)، اور نفرت و کشت و خون کے ذریعے حکومت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ جیسا کہ عیسائی بائبل میں انکے ارشادات سے اندازہ ہوتا ہے کہ:”
اگر کوئی آدمی میرے پاس آئے، اور اپنے باپ اور ماں، اور بیوی، اور بچوں، اور بھائیوں، اور بہنوں، اور اپنی زندگی سے نفرت بھی نہ کرے، وہ میرا شاگرد نہیں ہو سکتا۔ “ (لوقا ، باب ۱۴، آیت ۲۶)
”کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ میں زمین پر امن دینے کے لیے آیا ہوں؟ میں کہتا ہوں ‘نہیں’، بلکہ دراڑیں ڈالنے کے لیے۔۔۔باپ بیٹے کے خلاف کر دیا جائے گا اور بیٹا باپ کے خلاف، ماں بیٹی کے خلاف کر دی جائے گی اور بیٹی ماں کے خلاف، ساس بہو کے خلاف کر دی جائے گی اور بہو اپنی ساس کے خلاف“۔(لوقا، باب ۱۲، آیت ۵۱ تا ۵۳)
”میں زمین کو آگ لگانے آیا ہوں؛ کاش کہ وہ ابتک بھڑک اٹھی ہوتی“۔ ( لوقا، باب ۱۲، آیات 49 )
”مت سمجھو کہ میں زمین پر امن و سکون لانے آیا ہوں۔ میں امن و سکون لانے نہیں، بلکہ تلوار چلانے آیا ہوں۔ میں اسلیے آیا ہوں کہ آدمی کو اسکے باپ کے خلاف کردوں، اور بیٹی کو ماں کے خلاف، اور بہو کو اسکی ساس کے خلاف۔ اور آدمی کے دشمن خود اسکے گھر والے ہونگے“۔ (متی، باب ۱۰، آیات 34 تا 36)
”۔۔۔جس کے پاس تلوار نہ ہو وہ اپنا چغہ بیچ دے اور تلوار خرید لے“۔ (لوقا، باب ۲۲، آیت 36)
”لیکن میرے وہ دشمن جو نہیں چاہتے کہ میں ان پر حکومت کروں، لاؤ انکو یہاں، اور ذبح کر دو میرے سامنے “۔ (لوقا،باب۱۹، آیت۲۷)
عیساؑ کے ان ارشادات سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ آنجنابؑ کو نہ صرف جنگیں پیش آ سکتی تھیں بلکہ وہ خود برائے حصولِ حکومت، افتراق و انتشار و عداوت پر مبنی جنگی ایجنڈا رکھتے تھے۔ جسکا انھیں واقعۂ صلیب کے سبب موقعہ نہ مل سکا۔ لیکن وہ اسے پورا کرنے دوبارہ تشریف لائیں گے، جیسا کہ عیسائی بائبل کی آخری کتاب ”مکاشفاتِ یوحنا“Revelation to John سے ظاہر ہے، جو عیساؑ کی آمد ثانی کے بعد دنیا میں انکے کارناموں سے متعلق ہے۔ یہ کشت وخون اور بدترین تشدد کی روح فرسا منظر کشی سے بھری ہوئی ہے۔ یہ وہ کام ہیں جو عیساؑ اپنی پہلی زندگی میں پورے نہ کر سکے تھے، لیکن دوسری بار آکر اپنا نا مکمل جنگی ایجنڈا پورا کریں گے۔ بلکہ اسی مقصد کے لیے تشریف لائیں گے۔ اس سے بھی صاف ظاہر ہے کہ جنگی ایجنڈا انکا اصل مشن تھا، جو بوجہ واقعۂ صلیب پورا نہ ہوسکا۔ لیکن آخر کار آمد ِثانی کے دور میں پورا ہوگا۔ دوسری جانب پورے قرآن میں لفظ ”سیف“ یعنی تلوار آیا ہی نہیں۔ نہ رسول اکرمؐ کے کسی بیان سے لگتا ہے کہ وہ جنگی ایجنڈا رکھتے تھے۔ انھوں نے کبھی نہیں کہا کہ میں امن نہیں، تلوار لایا ہوں، اور افتراق پیدا کرنے آیا ہوں، دنیا میں آگ لگانے آیا ہوں، اور جو مجھے بادشاہ نہ مانے اسے میرے سامنے ذبح کردو۔ بلکہ یہ کہ میں انسانیت کو سلامتی اور امن والا (مسلم و مومن) بنانے آیا ہوں۔ انکی نبوت کے ابتدائی تین برسوں میں تو مسلح مزاحمت کا شائبہ بھی نہ تھا۔ ہاں ، جب آخری دور میں جنگیں پیش آئیں اور وجودی خطرات لاحق ہوئے تو کامیابی کے ساتھ انکا سامنا ضرور کیا گیا۔
چنانچہ اگر دونوں کا موازنہ کرنا ہی ہے تو حضرت عیساؑ کی تین سالہ نبوت کا مقابلہ رسول اکرم ؐ کی نبوت کے صرف اور صرف ابتدائی تین سال سے کیا جانا چاہیے۔ یعنی عیسوی نبوت کے تین سال بمقابلہ محمدی نبوت کے تین سال۔ یہ ابتدائی تین سال صرف خاموش تبلیغ، شرک کی مذمت، توحید کی دعوت، اور یوم حساب کی جوابدہی کے موضوعات سے عبارت ہیں۔ اور اسکے جواب میں دوسروں کی عداوت اور پھر تعذیب کو برداشت کرنے کے طویل دورانیے سے۔ ان تین سالوں میں نہ آپ کی زبان پر جنگ کا لفظ آیا، نہ ہی قرآن میں کوئی عبارت نازل ہوئی جس میں جنگ کرنے کا حکم یا کم از کم ترغیب ہی دی گئی ہو۔ اور اسکے بعد جو عام تبلیغ کے دس سال ہیں ان میں تو آپکو بد ترین تشدد، ظلم و ستم، ہراسانی، عداوت، بائیکاٹ، بھوک، پیاس، یہاں تک کہ قتل کے منصوبے کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن بدترین اذیت کے ان دس سالوں میں بھی آپ کے قول و عمل میں کوئی جنگی رجحان نہیں دیکھا گیا۔ نہ صرف یہ بلکہ قرآن نے جنگ سے باز رہنے کا واضح حکم دیا (کُفّوا اَیدیَکُم)۔ پھر مدینے کے ابتدائی دو سالوں میں یا انکی زندگی کے آخری ڈیڑھ دو سالوں میں بھی جنگ پیش نہیں آئی۔ جو جنگی عزائم حضرت عیساؑ نے صرف تین سالہ دور نبوت میں برملا ظاہر کر دیے، اور وہ بھی سخت الفاظ میں، وہ رسول اکرمؐ نے اپنی ۲۳ سالہ نبوت کے ابتدائی ۱۵ سال میں بھی ظاہر نہیں کیے۔ اگر انکی جماعت کو جنگی یلغار کا سامنا نہ ہوتا تو شاید سیرت حربی عنصر سے خالی ہوتی۔ جو انتہائی پر تشدد نوعیت کے جنگی کارنامے عیساؑ اپنی آمد ثانی میں انجام دیں گے، انکے مقابلے میں رسول اکرمؐ کی جنگیں بہت ہلکی پھلکی نظر آتی ہیں۔ چنانچہ کیسی مہمل بات ہے یہ کہنا کہ حضرت عیساؑ نے صرف محبت کی تبلیغ کی اور حضرت محمدؐ نے جنگوں کی۔
خلاصۂ کلام
خلاصہ یہ کہ نہ قرآن کا مقابلہ موجودہ اناجیل اربعہ سے (یا عیسائیوں کی بائیبل سے مجموعی طور پر) کیا جا سکتا ہے، نہ ہی رسول اکرم ؐ کی نبوت کے مکمل طویل دورانیے کا عیساؑ کی نبوت کے نا مکمل، انتہائی مختصر دورانیے سے۔ تین سال بمقابلہ ۲۳ سال ،کیسی نامناسب بات ہے؟ ایک جہاز وہ کہ جس نے ہوائی پٹی پر رفتار پکڑنے کی کوشش ہی کی تھی کہ اسے حادثہ پیش آگیا۔ اور دوسرا جہاز وہ جو ہوائی پٹی سے اڑا، فضا میں بلند ہوا، پرواز کے دوران کبھی بادلوں میں سے گزرا، کبھی ہچکولےبرداشت کیے، کبھی غوطے کھائے، کبھی توازن بگڑا۔ لیکن بالآخر وہ کامیابی سے اپنی پرواز پوری کر کے منزل مقصود پرجا اترا۔ اب اگر یہ کہا جائے کہ دوسرے جہاز میں جھٹکے بہت لگے، بادلوں میں تھرتھرایا بہت، ڈانواڈول بھی ہوتا رہا، وغیرہ ، جبکہ پہلے جہاز میں ایسا کچھ نہیں ہوا، تو یہ ایک احمقانہ بات ہوگی۔ وہ اُڑ ہی نہ سکا کہ اُسے یہ مراحل پیش آتے۔
توازن کے لیے عیساؑ کےتین سالہ دورِ نبوت کا موازنہ رسول اکرمؐ کے ابتدائی تین سالہ دور نبوت سے ہی کیا جاسکتا ہے، اور بس۔ اور اس موازنے میں عیساؑ مزاج کے تیز ، غصیلے، سخت گو، اور مائل بہ تشدد نظر آئیں گے۔ اناجیل اربعہ کا مقابلہ حد سے حد سیرت کی کتابوں سے کیا جا سکتا ہے، حالانکہ وہ سیرت کے درجۂ استناد یا درجۂ تکمیل تک بھی نہیں پہونچتیں۔ سیرت کی ابتدائی کتابیں آپس میں متضاد نہیں ہیں، گو کہ ان میں بعض غیر مستند باتیں در آئی ہیں۔ لیکن اناجیل اربعہ آپس میں خاصی متضاد بلکہ متصادم ہیں، اور ساری کی ساری غیر مستند اور نامعلوم افراد کی لکھی ہوئی۔ اس افسوسناک حد تک کہ انجیل متی اور انجیل لوقا میں عیساؑ کے طویل شجرہ ہائے نسب بھی بلکل مختلف ہیں۔ (شجرے، جو کہ عیسائی عقیدے کے مطابق ہونا ہی نہیں چاہیے۔ صرف اتنا ہونا چاہیے کہ ”عیساؑ ابن خدا“)۔ شاید آپکو یہ گمان گزرے کہ اس اختلاف کی وجہ یہ ہو گی کہ ایک شجرہ والدہ کی طرف سے ہو گا اور دوسرا باپ کی طرف سے، تو افسوس ایسا نہیں ہے۔ دونوں شجرے باپ یعنی یوسف بڑھئی کی طرف سے ہیں۔ یہ فرق بھی غیر اہم نہیں کہ سیرت کی کتابوں کے مصنف معروف ہیں، جبکہ اناجیل اربعہ کے مصنف نامعلوم (anonymous) ۔سیرت کی کتابیں رسول اکرمؑ کی پوری زندگی کا بھرپور احاطہ کرتی ہیں، جبکہ اناجیل اربعہ سے عیساؑ کی زندگی کا بیشتر حصہ یعنی کُل ۳۳ سالہ عمر میں سے ۱۸ سال غائب ہیں۔
ان کتابوں کی شان نزول یہ ہے کہ پہلے مولوی پولوس نے کفارے کا موجودہ عیسائی عقیدہ گڑھا اور پھر اپنے خطوط کے ذریعے اس کو مشتہر کر دیا۔ وہی عقیدہ جس سے عیساؑ کے صحابی پطروسؒ اور بھائی یعقوبؒ کو شدید اختلاف تھا۔ پھر اسی عقیدے کو ثابت اور مستحکم کرنے کے لیے اناجیل بطور ’معاون متون‘ لکھی گئیں۔ یعنی ،ایسا نہیں تھا کہ اناجیل نے جو عقیدہ پیش کیا اُسی کی تبلیغ و تشہیر مولوی پولوس نے اپنے خطوط کے ذریعے کی۔ اناجیل میں داخلی ارتقاء کی یہی وجہ ہے ۔ یعنی جو بات عیساؑ سے قریب ترین دور، یعنی صرف چالیس، پچاس سال بعد لکھی جانے والی پہلی ”انجیل لوقا“ میں سرسری یا ناپختہ انداز میں آئی ہے، وہ ستّر، اسّی سال بعد لکھی جانے والی آخری ”انجیل یوحنا“ تک پہونچتے پہونچتے کامل عقیدہ یا بھرپور قصہ بن گئی ہے۔ مثلاً الوہیت عیساؑ کا عقیدہ جو ”مارقس“ میں ویسا نہیں ہے جیسا کامل اور واضح ”یوحنا“ میں جا کر ہو جاتا ہے۔ یہانتک کہ حضرت عیساؑ کی اصل تعلیمات پر مبنی ”دینِ عیسوی“کی جگہ ”دینِ پولوسی“ وجود میں آگیا جس کو ، حضرت عیساؑ کی اصل تعلیمات کے علی الرغم، انہی کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔
اسکی متوازی مثال ہمارے ہاں شیعی روایت میں ملتی ہے، جس میں پہلے حضرت علیؓ کی الوہیت کی حد کو چھوتی ہوئی فضیلت گڑھی گئی۔ پھر اسکو قائم و مستحکم کرنے کے لیے ہزاروں جعلی اقوال رسول ؐگڑھے گئے، ”کتاب سلیم بن قیس“ گڑھی گئی، ”مصحف فاطمہ“ نامی کتاب وضع کی گئی اور اسکا مصدر وحیِ جبریل کو بتایا گیا، (مھبط فاطمہؓ کو، اور کاتب علیؓ کو)، نہج البلاغہ کے نام سے حضرت علیؓ کے جعلی خطبے وضع کر کے مشتہر کیے گئے، وغیرہ، تاوقتیکہ ”محمدی اسلام“ کے بالمقابل ایک متوازی ”علوی اسلام“ وجود میں آگیا۔ جس میں مرکزی اہمیت محمدؐ کو نہیں، علیؓ و آل علیؓ (بواسطۂ حسینؓ ) کو حاصل ہے۔علاوہ ازیں، حدیثی ادب میں بھی ایسی مثالیں ہیں۔ مثلاً، رسول اللہؐ کے زمانے سے قریب ترین کتاب ”المؤطا“ میں صرف اتنا ہے کہ مسیح ابن مریم ؑکو رسول اکرمؐ نے خواب میں طواف کعبہ کرتے دیکھا، لیکن ڈھائی صدی بعد بخاری ؒ تک آتے آتے یہ آسمان سے نزول عیساؑ کی اور انکے کارناموں کی، عیسائی تصور سے مشابہ، ایک پوری کہانی بن گئی۔
اسلامی مآخذ میں سیرت سے اوپر کے دو مصادر اور ہیں۔ ایک حدیث کی کتابیں اور اسکے اوپر قرآن۔ اناجیل اربعہ ان دو اسلامی مآخذات کی کسی اعتبار سے ہم پلہ نہیں۔ بلکہ پوری عیسائی بائبل میں نہ حدیث کے ہم پلّہ کوئی کتاب ہے جن میں اسناد کی شدید چھان پھٹک کے بعد ہی حدیثوں کو درج کیا گیا ہو، نہ قرآن کے ہم پلّہ کوئی کتاب جو براہ راست وحی الٰہی ہے اور جس میں رسول اکرمؐ کے اپنے الفاظ شامل نہیں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، قرآن میں رسول اللہ کی سوانحی تفاصیل، یا انکے خطوط یا اعمال صحابہ شامل نہیں ہیں، نہ ہی یہ چیزیں اسلام میں مقدس صحیفے کا درجہ رکھتی ہیں (آپ نے کبھی کسی قاری کو رسول اللہ ؐ کے خطوط کی تلاوت کرتے نہیں سنا ہوگا) ۔جبکہ عیسائی بائبل کا غالب حصہ (عیساؑ کے بھی نہیں) مولوی پولوس کے خطوط پر مشتمل ہے، جو انکی زندگی میں انکے مشن کا شدید مخالف تھا۔ چنانچہ قرآن کا عیسائی بائبل سے موازنہ یا حضرت محمدؐ کا حضرت عیساؑ سے موازنہ اپنی بنیاد میں غیر حقیقی اور مغالطہ آمیز ہے۔ اسکالروں، محققین، اور مناظرین کو پہلے بنیادی مفروضات میں موجود مغالطوں کو صاف کرنا چاہیے تاکہ درست تناظر میسر آ سکے۔ اسکے بعد ہی بحث کے بالائی استدلال پر درست اور نتیجہ خیز گفتگو ممکن ہے۔
————– ختم شد ————–

ایڈیٹر نوٹ: مکالمہ کا مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔ اگر کوئی جواب دینا چاہے تو مکالمہ کا پلیٹ فارم حاضر ہے۔


