وجودیت/ پروفیسر فضل تنہا غرشین

زیست خود اپنی رضا، اپنی ہی تعزیر وفا
اس کا ہر لمحہ گریزاں ہے خود اپنی تقدیر

وجودیت کو یورپ کی فکری تاریخ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد نیچرلزم اور عینیت پسندی کے خلاف شہرت نصیب ہوئی۔ ‏وجودیت انسانی وجود کی اتھاہ گہرائیوں میں پہنچنے کی ایک دلیرانہ کوشش ہے۔ اس کا تعلق “ہے” کے مقابلے میں زیادہ تر “میں ‏ہوں” سے ہے۔ وجودیت کے تانے بانے قدیم یونانی فلسفے “خود کو پہچانو” سے ملتے ہیں۔ وجودیت ایک فلسفہ ہے، اور فلسفہ تعقل ‏کے ذریعے زندگی کو سمجھنے کی کوشش کا نام ہے۔ عموما وجودیت کی دو اقسام ہیں: دینی وجودیت اور لادینی وجودیت۔ اول الذکر کا ‏پیشوا کرکیگارڈ ہے اور ثانی الذکر کا پیشوا ہیڈیگر ہے۔ اول الذکر خدا کے وجود کو تسلیم کرتا ہے، جب کہ ثانی الذکر نہیں کرتا۔ ‏وجودیت میں مرکزی حیثیت زندہ فرد کے وجود کو حاصل ہے۔ اس کے برعکس، نیچرلزم اور عینیت پسندی میں فرد کی اہمیت کو ‏تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ وجودیوں کے نزدیک وجود جوہر پر مقدم ہے، انسان آزاد ہے اور اپنے جملہ اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔
سارتر لادینی وجودیت کا بڑا علم بردار ہے۔ لادینی وجودیت میں کلام خدا کی نفی سے شروع ہوتا ہے، جب کہ عینیت پسندی اور دینی ‏وجودیت میں خدا کو وجود مطلق اور بہت بڑا سہارا تسلیم کیا جاتا ہے، اور اس کے وجود میں مکمل جذب یعنی اپنی انفرادیت کی مکمل نفی ‏کو انسانیت کی معراج قرار دیا گیا ہے۔ لادینی وجودیت کے مطابق فرد اپنی زندگی کا خود مالک ہے اور اسے کسی آسمانی یا فطری کنٹرول ‏کی ضرورت نہیں ہے۔
سارتر کے مطابق نفی خدا سے یقینا انسانی زندگی میں بےچارگی، بے بسی اور تنہائی کا احساس پیدا ہوتا ہے، مگر تنہائی کا احساس خود ‏مرکزیت پیدا کرتا ہے اور یہ احساس انسانی تکمیل کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس طرح سارتر کے مطابق بے بسی اور بے چارگی ‏انسان کو عمل پر آمادہ کرتی ہے۔ تنہائی اور بے بسی وجود کی اہمیت بڑھاتی ہے۔ اس حوالے سے سارتر نے انسان کو کرب مجسم کہا ‏ہے۔ سارتر کے مطابق موت وجود کا لازمی حصہ ہے۔ موت دراصل روزگار زندگی سے جلد از جلد نمٹنے کی انتباہ اور خبرداری ہے، جو ‏فعالیت کو تیز کرتی ہے۔ وجودی فلسفیوں کا اجتماعی پیغام یہ ہے کہ فرد کو چاہیے کہ یا تو وہ لگام کو اپنے ہاتھ میں رکھے یا پھر تباہی کے لیے ‏تیار ہو جائے۔ یہ اس لیے کہ احساس ذمہ داری کرب پیدا کرتا ہے۔ وجودی کا مستقبل وہی ہوگا جیسا وہ چاہے گا، مگر وہ کسی خوش فہمی ‏میں نہیں رہتا۔ وجودی کی خصوصیت اور پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے آپ سے لامحدود علاقہ اور بے انتہا دل چسپی رکھتا ہے۔ وہ اپنے ‏ہونے کا احساس اور ایک خاص مقصد رکھتا ہے، جس کی تحصیل کے لیے وہ مسلسل مصروف عمل رہتا ہے۔ اسی طرح وہ محدود میں ‏لامحدود کے شہود کا نام ہے، یعنی وحدت میں کثرت کا حامل ہوتا ہے اور اپنے اعمال و فکر میں آزاد بھی ہوتا ہے۔ کارل جسپرز کے ‏مطابق شخصی آزادی اور انفرادیت کو سب سے زیادہ خطرہ مذہبی عقائد کے بجائے مشینی اور صنعتی نظام سے ہے، جو انتہائی طور پر منظم ‏ہے۔ مادی اور سائنسی دور میں انسان کی انفرادیت اور داخلیت بہت داؤ پر لگی ہے۔ وجودیت ایک رجائی فلسفہ ہے، جو عمل پر مبنی ‏ہے۔ وجودیت میں انسان کی زندگی میں غم، خوشی، نفع، نقصان، جنت اور جہنم کا تعین انسان کا اپنا عمل کرتا ہے۔ انسان کی نجات ‏عمل میں ہے۔ ایک وجودی کی زندگی میں مقصد خاص کا ہونا اور کم سے کم وقت میں اس کو سر انجام دینا لازمی ہوتا ہے۔ وجودی خیر، ‏نیکی اور اقدار کو اپنا رہنما بناتا ہے۔
دوستووسکی نے کہا تھا “اگر خدا موجود نہ ہو تو پھر ہر چیز ہمارے لیے ممکن ہو جائے۔” اگر خدا موجود نہیں ہے تو پھر وہ احکامات، ‏معیارات اور اقدار کہاں سے آئی ہیں، جنھیں سامنے رکھ کر ہم اپنے اعمال کو جانچنے کی کوشش کرتے ہیں؟ انسان نہ مختار کل ہے نہ ‏مجبور محض۔
وجودیت پر لاکھ اعتراضات سہی، مگر ہم میں سے کتنے لوگ ہیں، جن کو اپنے ہونے کا احساس ہے؟ وجودیت کا اور فائدہ ہو نہ ہو کم ‏سے کم انسان کو خود سے ملانے کا کام کر سکتی ہے۔ انسان تب تک دوسروں کے لیے مفید ثابت نہیں ہو سکتا جب تک وہ خود کے لیے مفید نہ ‏ہو۔ انسان تب مفید بن سکتا ہے جب وہ خود سے واقف ہو، اپنی ضروریات سے آگاہ ہو، اپنی حیثیت و افادیت سے خبردار ہو اور ہمہ ‏وقت مقصد خاص کے حصول کے لیے حرکت میں ہو۔
فلسفہ میں وجودیت کا ماحصل یہ ہے:‏
انسان خدا ہے
اور
خدا لافانی انسان ہے!‏

اپنا تبصرہ لکھیں