جیسے جیسے ہمارے کرہ ارض کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اس میں رہنے والے انسانوں کے لئے جینے کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ تپش فزوں تر ہے۔ موسموں کے موڈ بھی بدلتے جا رہے ہیں۔ گرمی سے، جلتی موم بتی کے موم کی طرح گلیشئر پگھل رہے ہیں، دریاؤں کی خوبصورتی جو اس کی روانی میں جھلکتی تھی اب بد ترین طغیانی کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ پہلے بادل برس کر چھٹ جاتے تھے اب بادل چھاتے ہیں تو بودے کپڑے کی طرح پھٹ پڑتے ہیں۔ بارش، جو برکھا رت میں کبھی خوشی کبھی غم کے انداز میں ٹہر ٹہر کر برسا کرتی تھی اور باران رحمت کہلاتی تھی، اب یا تو ظالم و جابر حکمرانوں کی طرح انسانوں برستی ہے یا ہم سے اپنے نالہ دل سنانے کو پرنالوں کی شکل میں بہتی ہے۔ چھاجوں برستی بارشوں کے دن آ گئے ہیں۔ پانی کے غصے کے آ گے گھروں کا سامان ہاتھ جوڑ جوڑ کر بہہ جانے سے پناہ مانگتا ہے۔ مگر اب گھر گھر میں دریا بہے جا رہے ہیں۔ برسات ہوتی تھی تو پانی پلوں کے نیچے سے بہتا گزرتا تھا، مگر اب پلوں کے اوپر سے بہتا ہے۔ خوف سے کانپتے لوگ ایش شاباش کہہ کر حیرت کا اظہار کرتے ہیں، بلکہ شور مچاتا شوریدہ پانی پل بھر میں پلوں کو بہا کر لیجاتا ہے۔ یورپ کے سرد ترین ملکوں کے لوگ گرمی سے بلبلا رہے ہیں ۔ فرانس میں یخ بستہ برفانی ہواؤں میں چلتے پھرتے شہریوں کو گرمی سے جان چھڑانا مشکل ہو رہی ہے۔ ان میں گرمی کی برداشت نہیں رہی۔ وہ اس گرما گرم آفت کے شکار ہو رہے ہیں۔ برطانیہ کے ٹھنڈے ماحول کے عادی گرم ہواؤں کی لپٹوں سے پسینے پسینے ہو رہے ہیں۔ گرم موسموں نے انسانوں کے ذہنوں پر بھی اثر انداز ہونا شروع کردیا ہے۔ ہم بات بات پہ یہ گرمی کھا جانے ہیں، یہ ہماری فطرت بن گئی ہے۔ ہمارے یہاں لوگوں نے گرما گرم سموسے، پکوڑے کھانا اور کھولتی چاۓ کی چسکیاں لینے سے انکار کر دیا ہے۔ کوئی اس موسم میں گرما کھانے کی تواضع کرے تو صاف انکار کر دیتے ہیں۔ پھر بھی گرمی کھا کر لڑتے رہتے ہیں۔ الغرض موسموں اور انسانوں کی برہمی نے دنیا کا امن و سکون درہم برہم کر دیا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب اب موسموں نے انسانوں سے گرم مزاجی سیکھ لی ہے یا انسانوں نے موسموں کی طرح گرمی کھانا شروع کر دی ہے۔ مزاج دونوں کا۔ ایک۔ سا بن گیا ہے۔ گرم علاقوں کے مکینوں کے مزاجوں میں پہلے سے بڑھ کر گرم مزاجی پیدا ہو گئی ہے۔ کاریگروں اور مزدوروں نے مرمتی اور تعمیراتی کاموں کے ریٹ بڑھا دئے ہیں۔ ناصرف بڑھا دیئے ہیں بلکہ انکے رویوں میں ایسی سختی پیدا ہو گئی ہے گویا وہ جلتے توے پر کھڑے ہوں۔ ڈر ہے کہ گرمی بڑھتی رہی تو کیا انگاروں پہ کھڑے ہو کرغصہ اتاریں گے۔ ان سے کوئی مزدوری میں رعائت مانگ کر دیکھے تو کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں۔ عام لوگوں میں غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ دنیا بھر کے حکمرانوں کی سرگرمیوں میں گرمیوں کی حرارت نے تپش پیدا کر دی ہے کہ ان پر تنقید کرنے والوں کے پاؤں یہ سوچ کر جلتے ہیں کہ کہیں اعتراضات الٹے گلے نہ پڑ جائیں۔ سیاسیات میں ایسی گرما گرمی کی بنا ڈل گئی ہے کہ کوئی اپنے مخالف کی بات سننے کو تیار نہیں۔ عدم برداشت مہنگائی کے نقش قدم پر چل کر عروج پر پہنچ رہی ہے۔ وہ، جن کے رویئے پہلے سرد ہوا کرتے تھے ان کے برتاؤ اب گرم لو کے تھپیڑوں کی مانند آتش فشاں بنے ہوۓ ہیں۔ موسم اور معاشرے دونوں جنم جنم کے ساتھی ہوا کرتے ہیں ان پر دوستانہ مراسم کی چھاپ ہوا کرتی تھی۔ مگر اب ان کی بری صحبت کے برے اثرات پڑ رہے ہیں۔ گرمی کھاتے لوگ لڑنے بھڑنے پر تیار رہتے ہیں۔ ذرا سی کوئی بات ناگوار گزرے تو آنکھیں شعلہ بار ہو جاتی ہیں۔ محبت کے الفاظ مونہہ سے نکلتے ہی چنگاریاں بن جاتے ہیں۔
طاقت کے نشے میں چور حکمرانوں کے رویوں میں بھی گرم ہوائیں اس طرح سرائت کر گئی ہیں کہ وہ خلق خدا پر گرجنے برسنے اور انسان کش آگ برسانے کو اپنی قوت سمجھ بیٹھے ہیں۔ بموں، جنگی ساز و سامان کے ذریعے دشمنی کی آتش کو ٹھنڈا کرنے کی بجاۓ بھڑکانے والے خطوں اور ملکوں میں زور پکڑ رہے ہیں۔ حکمران کسی بھی خطے کے ہوں مسلمانوں پر ظلم و عناد کی آگ میں خود تو جلتے ہی ہیں، آگ سلگانے سے باز نہیں آتے۔ دنیا کو دوزخ بنانے والوں کا کیا انجام ہوگا؟ اس کا فیصلہ اللہ نے کرنا ہے۔ اللہ ظلم و زیادتی کرنے والوں کو جہنم رسید کرے گا۔
آئیے ہم جائزہ لیتے ہیں کہ ہم پہ افتاد کیسے آن پڑی ہے۔ کیا اس آفت کے شکار ہونے کے عمل کے ہم خود ذمے دار نہیں؟ کیا ہم جگہ جگہ پہاڑوں پہ پھیلے جنگلات کو جلتا نہیں دیکھ رہے، ان جلتے جنگلات کو آگ لگانے میں ہم خود ملوث نہیں؟ کیا ہمارے لالچ اور لکڑی کے حصول کی ہوس نے جنگلوں کو جلا کر ا پنے پیٹ کی دوزخ کو ٹھنڈا نہیں کرر ہے۔ کیا ہمارے کارخانوں کی چمنیوں سے خارج ہوتے سیاہ دھوئیں سے ماحول کو خراب نہیں کر رہے ہیں۔ کیا گاڑیوں اور بار برداری کے ٹرکوں اور ثرالوں میں سستا آئل استعمال کر کے فضا کو آلودہ نہیں کر رہے۔ کیا ہم اینٹوں کے بھٹوں سے اٹھتے زہریلے دھویں اور فصلوں کی باقیات کو جلانے کے غیر صحت مندانہ دود سیاہ سے ہواؤں کو مکدر نہیں کر رہے۔ یہ سب خرابیاں زمین کے گرد ماحول کی دبیز چادر کو چاک کرنے کے مترادف نہیں۔ کیا انسانوں کے غیض وغضب نے اس دنیا پر میزائلوں ، بارود بھرے بموں، آگ برساتے گولوں اور انسان کش کیمیکلز بھرے ہتھیاروں سے تباہی کے دہانے پہ نہیں پہنچا دیا۔ یہی ہماری خطا ہے جس کی سزا ہم مسلسل بھگت رہے ہیں۔ اللہ ہمارے حال پہ رحم فرماۓ۔ آمین۔


