کہتے ہیں کسی بھی قوم کی ترقی کا اندازہ اس کی بلند و بالا عمارتوں، کشادہ شاہراہوں یا جدید پلوں سے نہیں لگایا جاتا، بلکہ اس کے ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور انصاف کی فراہمی سے لگایا جاتا ہے۔ اگر کسی ملک کا مریض علاج کی امید میں ہسپتال پہنچ کر مزید مایوس ہو جائے، اگر ایک ماں اپنے بیمار بچے کو گود میں اٹھائے ڈاکٹر کے دروازے پر گھنٹوں انتظار کرتی رہے، اگر ایک مزدور علاج کے اخراجات سن کر اپنی بیماری سے زیادہ اپنی غربت پر رو پڑے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ صرف بیماری کا نہیں، پورے نظام کا ہے۔پاکستان بھی انہی ممالک میں شامل ہے جہاں صحت کا شعبہ کئی دہائیوں سے توجہ، منصوبہ بندی اور مؤثر اصلاحات کا منتظر ہے۔ ہر آنے والی حکومت صحت کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنے کے دعوے کرتی ہے، نئے منصوبوں اور جدید ہسپتالوں کے اعلانات بھی ہوتے ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ لاکھوں پاکستانی آج بھی بنیادی طبی سہولتوں سے محروم ہیں۔ دیہی علاقوں میں ایسے بے شمار خاندان ہیں جنہیں ایک مستند ڈاکٹر تک پہنچنے کے لیے کئی کئی کلومیٹر سفر کرنا پڑتا ہے، جبکہ شہروں میں ہسپتال مریضوں سے اس قدر بھر چکے ہیں کہ علاج سے پہلے انتظار ہی ایک آزمائش بن جاتا ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں بیماری صرف جسم کو نہیں، پورے خاندان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ کسی گھر میں اگر ایک فرد کینسر، دل، گردوں یا جگر کی بیماری میں مبتلا ہو جائے تو اکثر گھرانے اپنی جمع پونجی، زیورات، زمین اور دیگر اثاثے بیچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یوں بیماری صرف ایک انسان کو نہیں، پورے خاندان کی معاشی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال بھی ایک پیچیدہ تصویر پیش کرتی ہے۔ یہاں کام کرنے والے بے شمار ڈاکٹر، نرسیں اور طبی کارکن محدود وسائل کے باوجود اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر مریضوں کا بے پناہ دباؤ، ادویات کی کمی، بوسیدہ عمارتیں، خراب مشینیں اور انتظامی کمزوریاں ان کی محنت کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ دوسری طرف نجی ہسپتال جدید سہولتیں تو فراہم کرتے ہیں، لیکن ان کے اخراجات عام آدمی کی پہنچ سے کہیں باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ یوں غریب سرکاری ہسپتال کی لمبی قطاروں میں کھڑا رہتا ہے، جبکہ متوسط طبقہ علاج اور قرض کے درمیان ایک مشکل انتخاب کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔دیہی پاکستان کی صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویش ناک ہے۔ بنیادی مراکز صحت، دیہی مراکز صحت اور چھوٹے سرکاری ڈسپنسریاں کاغذوں میں تو موجود ہیں، مگر کئی جگہوں پر ڈاکٹر مستقل موجود نہیں ہوتے، ضروری ادویات ناپید ہوتی ہیں، لیبارٹری کی سہولت دستیاب نہیں ہوتی اور نہ ہی جدید تشخیصی آلات۔ ایسے میں ایک معمولی بخار، انفیکشن یا زچگی کا معاملہ بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
صحت صرف بیماری کے علاج کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی ریاستی ذمہ داری ہے جو ہر شہری کو محفوظ زندگی کا حق دیتی ہے۔ جب بجٹ میں صحت کا حصہ مسلسل محدود رہے، جب پالیسیوں سے زیادہ سیاسی نعروں پر توجہ دی جائے اور جب علاج کو خدمت کے بجائے منافع بخش کاروبار سمجھا جانے لگے، تو پھر مریض صرف بیماری سے نہیں، پورے نظام سے لڑ رہا ہوتا ہے۔شاید اسی لیے آج پاکستان کا سب سے بڑا طبی مسئلہ صرف ہسپتالوں کی کمی نہیں، بلکہ اعتماد کی کمی بھی ہے۔ مریض کو یقین نہیں کہ اسے بروقت علاج ملے گا، ڈاکٹر کو یقین نہیں کہ اسے مطلوبہ وسائل دستیاب ہوں گے اور ریاست کو شاید اب بھی اس بحران کی سنگینی کا مکمل احساس نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک قوم اپنے شہریوں کی صحت کی حفاظت نہ کر سکے، تو کیا وہ واقعی ترقی یافتہ کہلانے کا حق رکھتی ہے؟
پاکستان میں صحت کے بحران کی ایک اور تلخ تصویر اس وقت سامنے آتی ہے جب بیماری کے بجائے علاج خود ایک آزمائش بن جاتا ہے۔ ایک عام شہری کے لیے ڈاکٹر کی فیس، لیبارٹری ٹیسٹ، ایکسرے، سی ٹی اسکین، ایم آر آئی اور ادویات کے اخراجات اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ بعض اوقات مریض بیماری سے پہلے اپنے بجٹ کا حساب لگانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں انسان اپنے جسم کے درد سے پہلے اپنی جیب کی کمزوری محسوس کرتا ہے؟ادویات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے لاکھوں خاندانوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ شوگر، بلڈ پریشر، دمہ، دل اور گردوں کے مریض ایسی ادویات استعمال کرتے ہیں جو روزانہ لینا ناگزیر ہوتی ہیں۔ جب ان دواؤں کی قیمتیں ہر چند ماہ بعد بڑھ جائیں تو سب سے پہلے غریب مریض علاج ادھورا چھوڑنے پر مجبور ہوتا ہے۔ بیماری پھر خاموشی سے جسم کو کھاتی رہتی ہے اور ایک ایسا مرحلہ آ جاتا ہے جہاں علاج پہلے سے کہیں زیادہ مہنگا اور پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
صحت صرف ہسپتالوں تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ صاف پانی، متوازن غذا، حفظانِ صحت، ماحولیاتی آلودگی اور عوامی شعور بھی اس کا اہم حصہ ہیں۔ افسوس کہ ہمارے معاشرے میں بیماری کی روک تھام کے بجائے علاج پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ گلیوں میں گندا پانی جمع رہتا ہے، سیوریج کا نظام ناکارہ ہوتا ہے، پینے کا صاف پانی ہر شہری کو میسر نہیں، جبکہ فضائی آلودگی اور ملاوٹ زدہ خوراک نئی بیماریوں کو جنم دے رہی ہیں۔ جب ماحول بیمار ہو تو انسان کب تک صحت مند رہ سکتا ہے؟تشویش ناک بات یہ بھی ہے کہ ذہنی صحت اب ایک بڑا قومی مسئلہ بنتی جا رہی ہے، مگر اس پر بات کرنے سے آج بھی لوگ ہچکچاتے ہیں۔ معاشی دباؤ، بے روزگاری، مہنگائی، خاندانی تنازعات، تعلیمی مقابلہ اور سوشل میڈیا کا مسلسل دباؤ نوجوانوں میں ذہنی بے چینی، ڈپریشن اور اضطراب کو بڑھا رہا ہے۔ بدقسمتی سے ذہنی امراض کو اکثر کمزوری یا بدنامی سے جوڑ دیا جاتا ہے، جس کے باعث بہت سے افراد بروقت مدد لینے سے محروم رہ جاتے ہیں۔اس تلخ حقیقت کے درمیان ہمارے ڈاکٹر، نرسیں اور دیگر طبی کارکن بھی اپنی جگہ کئی مشکلات کا شکار ہیں۔ طویل ڈیوٹیاں، محدود وسائل، حفاظتی سہولیات کی کمی اور پیشہ ورانہ دباؤ ان کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یقیناً بعض مقامات پر غفلت، بدانتظامی یا غیر پیشہ ورانہ رویے بھی دیکھنے میں آتے ہیں، لیکن پورے شعبے کو ایک ہی نظر سے دیکھنا انصاف نہیں۔
اصل ضرورت ایک ایسے نظام کی ہے جہاں مریض کو باوقار علاج ملے اور طبی عملے کو عزت، تحفظ اور وہ سہولتیں فراہم کی جائیں جن کے بغیر معیاری خدمات کی توقع کرنا مشکل ہے۔یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ آخر ہم بیماریوں کو پھیلنے سے پہلے کیوں نہیں روکتے؟ اگر ویکسینیشن، غذائیت، صاف پانی، صحت کی تعلیم اور بنیادی طبی مراکز پر مؤثر سرمایہ کاری کی جائے تو بڑے ہسپتالوں پر بوجھ بھی کم ہو سکتا ہے اور لاکھوں زندگیاں بھی بچائی جا سکتی ہیں۔ ترقی یافتہ قومیں صرف جدید ہسپتال بنا کر کامیاب نہیں ہوئیں، بلکہ انہوں نے بیماری کے اسباب ختم کرنے پر بھی برابر توجہ دی۔ شاید ہمیں بھی اب علاج کے ساتھ ساتھ احتیاط کو قومی ترجیح بنانا ہوگی، ورنہ بیمار ہسپتالوں میں صحت مند معاشرہ تلاش کرنا محض ایک خوش فہمی رہے گی۔اگر ہم واقعی اس بحران سے نکلنا چاہتے ہیں تو محض نئے ہسپتالوں کی عمارتیں تعمیر کرنا کافی نہیں ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صحت کو قومی سلامتی، تعلیم اور معیشت کی طرح ریاست کی اولین ترجیح بنایا جائے۔ بنیادی مراکز صحت کو فعال کیا جائے، دیہی علاقوں میں مستند ڈاکٹرز اور نرسنگ عملے کی دستیابی یقینی بنائی جائے، ضروری ادویات کی فراہمی کو شفاف بنایا جائے، اور صحت کے بجٹ کو محض اعداد و شمار کا کھیل بنانے کے بجائے عوامی ضرورت کے مطابق بڑھایا جائے۔ ایک ایسا نظام تشکیل دینا ہوگا جہاں مریض کو سفارش، تعلق یا مالی حیثیت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ صرف ایک انسان ہونے کے ناتے علاج ملے۔
اسی کے ساتھ عوام کی ذمہ داریاں بھی کم نہیں۔ ہم اکثر بیماری کو اس وقت سنجیدگی سے لیتے ہیں جب وہ جسم کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا چکی ہوتی ہے۔ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، صاف پانی، بروقت ویکسینیشن، صفائی کا خیال اور باقاعدہ طبی معائنہ وہ عادات ہیں جو ہزاروں بیماریوں کو جنم لینے سے پہلے روک سکتی ہیں۔ ایک صحت مند معاشرہ صرف حکومتیں نہیں بناتیں، باشعور شہری بھی اس کی بنیاد ہوتے ہیں۔آج دنیا مصنوعی ذہانت، روبوٹک سرجری، ٹیلی میڈیسن اور جدید تشخیصی ٹیکنالوجی کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے بہت سے سرکاری مراکزِ صحت اب بھی بنیادی سہولتوں، ادویات اور عملے کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ فرق صرف وسائل کا نہیں، ترجیحات کا بھی ہے۔ جب تک منصوبہ بندی طویل المدت نہیں ہوگی، احتساب مؤثر نہیں ہوگا، اور صحت کو سیاسی نعروں سے نکال کر قومی پالیسی کا مستقل حصہ نہیں بنایا جائے گا، تب تک تبدیلی کے دعوے کاغذوں تک محدود رہیں گے۔
ہر بجٹ میں صحت کے لیے نئی امیدیں باندھی جاتی ہیں، ہر حکومت اصلاحات کا اعلان کرتی ہے، ہر بحران کے بعد وعدے دہرائے جاتے ہیں، مگر عام آدمی کے لیے ہسپتال کی قطار آج بھی اتنی ہی طویل ہے، دوا آج بھی اتنی ہی مہنگی ہے اور علاج آج بھی بہت سے گھروں کے لیے ایک ایسا خواب ہے جس کی قیمت ان کی پوری زندگی کی کمائی سے بھی زیادہ ہے۔کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے ہتھیاروں، بلند عمارتوں یا معاشی اعداد و شمار سے پہلے اس کے صحت مند شہری ہوتے ہیں۔ اگر ایک مزدور بیماری کے باعث روزگار سے محروم ہو جائے، ایک طالب علم مناسب علاج نہ ملنے سے تعلیم چھوڑ دے، ایک ماں بروقت طبی سہولت نہ ہونے کے باعث جان کی بازی ہار جائے، یا ایک بچہ قابلِ علاج بیماری سے زندگی ہار جائے، تو یہ صرف ایک فرد کا نقصان نہیں، پوری قوم کے مستقبل کا نقصان ہے۔یہاں غور طلب بات صرف یہ نہیں کہ ہمارے ہسپتال کتنے ہیں، ڈاکٹر کتنے ہیں یا بجٹ کتنا ہے۔۔۔ کیا اس ملک میں ایک عام شہری کی جان واقعی اتنی قیمتی ہے جتنی تقریروں، منشوروں اور سرکاری بیانات میں بیان کی جاتی ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر آج بھی ایک غریب مریض علاج کی پرچی ہاتھ میں لیے دروازے دروازے کیوں بھٹک رہا ہے؟ اور اگر جواب نہیں ہے، تو پھر ہمیں خود سے یہ پوچھنے کا حوصلہ بھی پیدا کرنا ہوگا کہ آخر بیمار کون ہے۔۔۔ مریض، ہسپتال یا ۔۔۔پورا نظام؟


