اساطیری مبحث/ اقتدار جاوید

پاکستان کیا جہاں جہاں اردو بولی ہولی جاتی ہے وہاں ہر سال درجنوں شاعروں کا جنم ہوتا ہے اور درجنوں شاعر موت کے گھاٹ اترتے ہیں۔یہ ایک کارِ مسلسل ہے نہ شاعر جنم لینا بند ہوتے ہیں اور نہ بے موت مرنے والے شاعر کم ہوتے ہیں۔اس بدیہی حقیقت سے شاعر خود بھی واقف نہیں ہو پاتا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ کیونکہ شاعر تو اپنی پوری صلاحیت بروئے کار لا کر کوئی شے تخلیق کر رہا ہوتا ہے۔
ظفر اقبال ایک بہت سینئر شاعر کے بارے میں، جس کی درجنوں کتب شائع ہو چکی ہیں کہا کرتے ہیں اس نے شاعری سے باز نہیں آنا اور میں نے اس کے فلیپ لکھنے نہں چھوڑنے۔شاعر بزعم خود سالم” اقبال“ ہوتا ہے۔ہمارے ایک دوست شاعر ہیں جو مرحوم ہو چکے ہیں اپنی ہر غزل سناتے وقت کہا کرتے تھے بس میرا یہ مجموعہ آنے دو خدا دی قسمے تھرتھلی پے جانی اے یعنی دھرتی لرز اٹھنی ہے۔تنقید اور تنقید نگار کا مسئلہ الگ ہے۔تنقید نگار کہیں کہیں ہوتا ہے اور اگر ہوتا ہے تو بہت ہوتا ہے۔اس کی بنیادی وجہ وہی بالاستعیاب مطالعہ ہے جو ہم شاعروں میں فصلِ ممنوعہ ہے۔تنقید نگار نے اگر اب تک کی تمام تنقیدی تھیوریوں سے نابلد ہو گا تو وہ لکھنے سے ذرا دور ہی رہے تو اس کے لیے اچھا ہو گا۔یوں تو کہا جاتا ہے کہ برا شاعر اچھا نقاد بن سکتا ہے۔ تاریخ ادب اردو میں اچھا نقاد برا شاعر ہی ثابت ہوا ہے۔اب نقادوں کی دو رویں ہیں ایک وہ جو بے ضرر سی تنقید ہے جس سے نہ کسی کا بھلا اور نہ کسی کا نقصان کا احتمال ہوتا ہے۔اس وقت اس قبیل کی تنقید کے سرخیل فتح محمد ملک ہیں۔اس قسم کی تنقید کو تنقید کہنا بھی مناسب نہیں یہ عام تاثرات کا اظہار ہوتا ہے جو ہم ادبی تقریبات میں آئے روز دیکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس قسم کی تنقید سے گریز کرنے والے انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ہر بڑے ادبی مرکز میں انہی بے ضرر اور ہومیو پیتھک نقادوں کا سکہ چلتا ہے۔
سب سے بڑی قباحت یہ کہ وہ بایں ہمہ خود کو نقادوں کی فہرست میں بھی شامل سمجھتے ہیں اور آئے دن ان کی تحاریر دیکھنے کو ملتی بھی ہیں۔اب جیسے تنقید لکھنا ان کی صوابدید ہے ویسے ہی ان کی تحریر کو تنقید نہ سمجھنا بھی کسی کا Preogative ہو سکتا ہے۔
ساجد علی امیر اب تک ضرور ڈاکٹر ہو چکے ہوں گے ان نایاب تنقید نگاروں میں شامل ہیں جن کے مضامین کا ایک آدھ پیرا گراف پڑھ کر ہی ان کی تنقیدی صلاحیت کا معترف ہونا پڑتا ہے۔نقادوں کی اس نوجوان نسل میں الیاس بابر اعوان سرِ فہرست ہیں جنہیں ایک آزاد، خود مختار اور تعصب سے پاک سمجھا جا سکتا ہے۔انہیں معاصر تنقید پر لکھنا چاہیے تا کہ تنقید میں بھی یبوست کا قلع قمع ہو۔ڈاکٹر ساجد علی امیر کی کتاب اساطیری مباحث اور دوسرے مضامین حال میں شائع ہوئی ہے۔
ڈاکٹر امیر نے اپنا تھیسز سبط حسن کے ” متھ قدیم انسان کا فلسفہ ِحیات و کائنات ہے۔متھ ہی کی مدد سے وہ تخریبی طاقتوں کو خیالی طور پر تسخیر کرتا تھا اور مہربان طاقتوں کی حمایت حاصل کرتا تھا۔متھ قدیم انسان کی پروازِ تخیل کی معراج ہے“۔ یہاں مصنف مذہب کی بھی توضیح کرتا ہے کہ قدیم انسان کا مذہب رسومات اور جنتر منتر تھا اور اسی جنتر منتر کے ذریعے وہ ماورائی طاقتوں کی خوشنودی حاصل کرتا تھا۔جیسے جادو سائنس کی بنیاد بنا ویسے ہی وہ مذہبی عقیدہ بھی بن گیا۔اسی مذہبی عقیدے سے سائنس کی روح نے جنم لیا۔اِس مذہب کا اس مذہب سے کچھ لینا دینا نہیں جو علما مراد لیتے ہیں۔جیسے اسطور سائنس کی بنیاد بنے سائنس بھی تو فی الحقیقت ایک اسطور اور ناممکن سی شے لگتی ہے۔سائنس میں وہ ساری قوتیں موجود ہیں جو کسی زمانے میں دیوتاؤں سے منسوب تھیں یا ان کے دائرہِ اختیار میں سمجھی جاتی تھیں۔اس مضمون میں ڈاکٹر امیر نے خوبصورت نکتے دریافت کیے ہیں اور بحث کو آگے بڑھایا ہے۔ اس کتاب میں ایک اور بحث اقبال کے علم الاقتصاد کے متعلق ہے۔یہ قدرے مختصر ہے اور اسے مزید باثروت بنایا جا سکتا ہے۔یہ درست کہ معاشیات اقبال کے دائرے سے باہر ہی رہی ہے مگر اقبال نے تاریخی تسلسل کے مطالعہ روزمرہ کے مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر دریافت کیا ہے کہ جس طرح مذہب انسان کو داخلی اور خارجی حوالے سے متاثر کرتا ہے روزی روٹی کمانے کا دھندا بھی اسے اپنے سانچے میں ڈھالتا چلا جاتا ہے۔
یوں تو ہر نقاد کی اپنی پسند ناپسند اور اپنے حصے کا تعصب ہوتا ہے مگر عہد کی صورت احوال کو ادب کی وساطت سے ہی محفوظ کیا جاتا ہے اور اسی کی بارِدگر حفاظت کا ذمہ دار نقاد ہی ہوتا ہے۔جونہی ادیب تحریر کے بعد اس سے آزاد ہو جاتا ہے وہی تحریر نقاد کا فرض بن جاتی ہے۔اسی لیے ڈاکٹر امیر نے اپنے ہم عصروں پر قلم اٹھایا اور دوسرے نقادوں پر اس کی اہمیت وا کی ہے کہ اپنے عہد کو نظر انداز کر کے نقاد خود بھی تو نظر انداز ہوتے ہیں۔عامر عبداللہ، عابد خورشید، اعجاز روشن اور غافر شہزاد اب جوان تو نہیں سینئر ادبا ہیں مگر مصنف کے ہم عصر ہیں۔ان کی تخلیقات کو زیرِ بحث لانا ان کے فن کی توصیف بھی ہے اور دوسرے نقادوں کا فرض بھی۔ہم تو پہلے ہی یہ سمجھتے تھے کہ متھ ہی انسان کی اولین تخلیق اور ذہنی سرگرمی ہے مگر اب اس کتاب کے مطالعے کے بعد گویا مہرِ تصدیق ثبت ہو گئی ہے۔ڈاکٹر امیر نے اس کتاب میں کسی ادیب شاعر سے کسی قسم کا تعصب روا نہیں رکھا ہے۔جس موضوع جس کتاب اور جس شخصیت پر لکھا ہے اپنے تعصب سے آزاد ہو کر لکھا ہے۔اسی قسم کی ایک اور کتاب ناہید قمر کی ثقافتی شعریات اور نو تاریخیت بھی موصول ہوئی ہے۔وہ ایک اچھی شاعرہ یعنی اچھی نظم نگار ہیں۔ہم پر اس کتاب پر بھی لکھنا ضروری ہی نہیں فرض سمجھیے۔ہم نے فیس بک پر بھی اپنا پیج اپنی ڈفلی بجانے کے لیے نہیں رکھا ہوا ہمیں جس شاعر یا ادیب کی کوئی تخلیق پسند آتی ہے تو اسے وہاں پوسٹ کر دیتے ہیں۔بعینیہ اچھی کتب پر بھی لکھنا ہم اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔برا شاعر اچھا نقاد تو بن سکتا ہے مگر اچھا نقاد بھی اگر شاعری کی طرف آئے گا تو برا شاعر ہی بنے گا۔یہ روزِ ازل کی تحریر سمجھیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں