ریاستِ پاکستان کے موجودہ معاشی ڈھانچے پر یہ تنقید کی جاتی ہے کہ اس میں سرمایہ دارانہ نظام کے اثرات نمایاں ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ معاشی اشاریے کیا بتاتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ترقی کے ثمرات کس طبقے تک پہنچ رہے ہیں۔ اگر معاشی استحکام اور خوشحالی کا فائدہ صرف چند افراد یا مخصوص طبقے تک محدود رہے، جبکہ محنت کش، نچلا متوسط اور متوسط طبقہ مسلسل مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کا شکار ہوتا جائے، تو عدم مساوات بڑھتی ہے اور ریاست کی سماجی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔
جب معاشی مواقع اور وسائل کی تقسیم غیر متوازن ہو جائے تو عوام کا ریاست پر اعتماد آہستہ آہستہ کمزور پڑنے لگتا ہے۔ لوگ قومی مفاد اور اجتماعی ذمہ داری کے بجائے ذاتی مفاد کو ترجیح دینے لگتے ہیں، جس کے نتیجے میں حب الوطنی، قومی یکجہتی اور سماجی ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
اس کے اثرات سب سے زیادہ نوجوان نسل پر مرتب ہوتے ہیں۔ اگر نوجوانوں کو ریاستی اداروں میں میرٹ، عزت، بہتر مستقبل اور معاشی تحفظ نظر نہ آئے تو سرکاری ملازمت، مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں شمولیت کا جذبہ بھی کم ہو سکتا ہے۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے رجحانات صرف سرمایہ دارانہ نظام کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ ان پر حکومتی پالیسی، تعلیم، روزگار کے مواقع، ٹیکنالوجی، آبادی اور قومی سلامتی کی ضروریات سمیت کئی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔
کسی بھی ریاست کی حقیقی طاقت صرف مضبوط معیشت میں نہیں بلکہ اس سماجی انصاف میں پوشیدہ ہوتی ہے جہاں ترقی کے ثمرات ہر شہری تک پہنچیں، محنت کو عزت ملے، میرٹ کو فروغ دیا جائے اور ہر فرد خود کو ریاست کا برابر کا شریک محسوس کرے۔ یہی وہ راستہ ہے جو قومی اعتماد، مضبوط اداروں اور پائیدار ترقی کی بنیاد بنتا ہے۔


