خیبرپختونخوا کی مختلف جامعات میں نئے وائس چانسلرز کی تقرری کا عمل ایک مرتبہ پھر شروع ہو چکا ہے۔ ہر بار کی طرح اس مرتبہ بھی یونیورسٹیوں کے اساتذہ، ملازمین اور طلبہ میں ایک سوال گردش کر رہا ہے کہ اگلے چار سال کے لیے آنے والا سربراہ کون ہوگا؟ اس کا وژن کیا ہوگا؟ اس کی ترجیحات کیا ہوں گی؟ اور کیا وہ یونیورسٹی کو ایک حقیقی علمی و تحقیقی ادارہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہوگا؟
وائس چانسلر کا عہدہ صرف ایک انتظامی کرسی نہیں بلکہ پورے ادارے کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والی قیادت کا منصب ہے۔ ایک وائس چانسلر کے فیصلے صرف چار سالہ مدت تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات آنے والی نسلوں کے طلبہ، اساتذہ، تحقیق اور ادارے کے معیار پر پڑتے ہیں۔
دنیا کی بڑی جامعات میں وائس چانسلر، صدر یا ریکٹر کے انتخاب میں صرف یہ نہیں دیکھا جاتا کہ امیدوار کتنا بڑا سائنسدان، محقق یا پروفیسر ہے، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ وہ ایک بڑے ادارے کو چلانے، مالی وسائل پیدا کرنے، انسانی وسائل کو بہتر انداز میں منظم کرنے، عالمی روابط قائم کرنے اور مستقبل کے لیے جامع حکمت عملی بنانے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر یونیورسٹی قیادت کے انتخاب میں زیادہ توجہ تعلیمی عہدے، تحقیقی مقالوں اور سینیارٹی پر دی جاتی ہے، جبکہ جدید دور کی یونیورسٹی چلانا ایک مختلف نوعیت کی مہارت کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک شخص اپنی فیلڈ کا بہترین محقق ہو سکتا ہے، لیکن اربوں روپے کے بجٹ، ہزاروں ملازمین، مختلف شعبہ جات، طلبہ کے مسائل، حکومتی اداروں سے رابطوں اور ادارہ جاتی اصلاحات کو کامیابی سے چلانے کے لیے انتظامی اور قائدانہ صلاحیتیں بھی ضروری ہوتی ہیں۔
ماضی کے تجربات کی بنیاد پر جامعات کے اندر یہ سوالات بھی اٹھتے رہے ہیں کہ کیا آنے والے سربراہ کی اولین ترجیح تعلیم، تحقیق اور طلبہ کی بہتری ہوگی یا وہ زیادہ وقت مختلف انتظامی، سیاسی اور طاقتور حلقوں کو مطمئن رکھنے میں صرف کرے گا؟
ایک وائس چانسلر کے سامنے کئی اہم ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ اسے تحقیق کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوتا ہے، اساتذہ کو بہتر سہولیات فراہم کرنی ہوتی ہیں، طلبہ کے مسائل حل کرنے ہوتے ہیں، صنعت اور عالمی اداروں کے ساتھ روابط بڑھانے ہوتے ہیں، یونیورسٹی کے مالی وسائل میں اضافہ کرنا ہوتا ہے اور ہر فیصلے میں میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔
لیکن جب کسی ادارے کی قیادت کا زیادہ وقت اندرونی سیاست، سفارشات، مراعات کے معاملات، تقرریوں، منصوبوں اور صرف فائلوں کے انتظام میں صرف ہونے لگے تو یونیورسٹی ایک متحرک علمی مرکز کے بجائے ایک روایتی سرکاری دفتر بننے کا خطرہ پیدا کر لیتی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر یونیورسٹی سربراہ کو صرف ایک منتظم نہیں بلکہ ایک وژنری لیڈر سمجھا جاتا ہے۔ وہ سابق طلبہ (Alumni)، صنعت، حکومت اور عالمی اداروں کے ساتھ روابط پیدا کر کے یونیورسٹی کے لیے نئے مواقع پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے جدید دنیا میں وائس چانسلر کے انتخاب میں Strategic Planning، Fund Raising، Governance اور Leadership Skills کو بھی بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔
پاکستانی جامعات کو بھی اب اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ صرف ایک بہترین سائنسدان ہونا کافی نہیں۔ ایک جدید یونیورسٹی کو ایسے قائد کی ضرورت ہے جو تحقیق کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ ادارہ چلانے، مالی منصوبہ بندی، ٹیم مینجمنٹ اور طویل المدتی حکمت عملی بنانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔
اصل سوال یہ نہیں کہ آنے والا وائس چانسلر کس گروپ، علاقے یا سیاسی پس منظر سے تعلق رکھتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ:
کیا وہ یونیورسٹی کو طلبہ، تحقیق اور علم کے مرکز کے طور پر دیکھے گا یا صرف ایک انتظامی عہدے کے طور پر؟
خیبرپختونخوا کی جامعات کو ایسے سربراہان کی ضرورت ہے جو اپنے چار سالہ دور کو ذاتی اثر و رسوخ بڑھانے کے بجائے ادارے کی بنیاد مضبوط کرنے، تحقیق کا معیار بلند کرنے، طلبہ کے مستقبل کو بہتر بنانے اور عالمی سطح پر یونیورسٹی کا مقام بنانے کے لیے استعمال کریں۔
کیونکہ ایک اچھا وائس چانسلر صرف یونیورسٹی نہیں چلاتا، بلکہ وہ آنے والی نسلوں کے تعلیمی مستقبل کی سمت متعین کرتا ہے۔


