تو تنخواہ لیتے ہو/مصور خان

پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ میں صرف فوجی جوان ہی نہیں بلکہ پولیس اہلکار، ایف سی، رینجرز، ریسکیو اہلکار، ڈاکٹر، صحافی، اساتذہ اور ہزاروں عام شہری بھی دہشت گردی کا نشانہ بنے اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ افسوس اس وقت ہوتا ہے جب سیاسی اختلافات اس حد تک پہنچ جائیں کہ شہداء کی قربانیوں کو بھی سیاسی بحث کا حصہ بنا دیا جائے۔

13 جولائی 2026 کو قصور میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ “فوجی تنخواہ لیتا ہے، یہ اس کی نوکری ہے۔ اگر وہ شہید ہوتا ہے تو یہ اس کی ڈیوٹی کا حصہ ہے، اس پر کسی کے احسان کی بات نہ کی جائے۔” اس بیان پر ملک بھر میں شدید بحث چھڑ گئی۔ بعد میں اس بیان کی مختلف تشریحات اور وضاحتیں بھی سامنے آئیں، مگر ایک بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

ہم مولانا صاحب کی ایک بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ فوجی واقعی تنخواہ لیتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا تنخواہ لینے سے کسی کی خدمت، قربانی، بہادری اور شہادت کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے، تو پھر یہی اصول ہر شعبے پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔

اگر ایک ڈاکٹر مریضوں کا علاج کرنے کی تنخواہ لیتا ہے اور وبا کے دوران مریضوں کی جان بچاتے ہوئے خود جان کی بازی ہار جاتا ہے، تو کیا ہم کہیں گے کہ وہ تو صرف اپنی تنخواہ کے لئے یہ کر رہا تھا اس لیے اس کی قربانی کی کوئی اہمیت نہیں؟ اگر ایک فائر فائٹر آگ بجھانے کی تنخواہ لیتا ہے اور آگ میں پھنسے بچوں کو بچاتے ہوئے اپنی جان قربان کر دیتا ہے، تو کیا اس کی بہادری صرف اس لیے بے معنی ہو جائے گی کہ وہ تنخواہ دار ملازم تھا؟ اگر ایک پولیس اہلکار دہشت گردوں سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو جائے، تو کیا اس کے اہلِ خانہ سے کہا جائے کہ وہ تو صرف اپنی ملازمت کر رہا تھا؟ اگر ایک ریسکیو اہلکار سیلاب، زلزلے یا کسی حادثے میں لوگوں کی جان بچاتے ہوئے خود جان دے دے، تو کیا اس کی قربانی کو صرف تنخواہ کی بنیاد پر نظر انداز کر دیا جائے؟

اسی طرح ایک استاد بچوں کو پڑھانے کی تنخواہ لیتا ہے، ایک جج انصاف کرنے کی تنخواہ لیتا ہے، ایک سرکاری ملازم عوامی خدمت کی تنخواہ لیتا ہے۔ کیا ان تمام افراد کی عزت اور خدمات کو صرف اس لیے کم تر سمجھا جائے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کے عوض معاوضہ حاصل کرتے ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر یہی معیار صرف فوجی جوان کے لیے کیوں؟

اب چند سوالات مولانا فضل الرحمان صاحب سے بھی ہیں۔

مولانا صاحب! آپ کئی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں اور اب بھی ہے، قومی خزانے سے تنخواہیں اور مراعات بھی حاصل کیں اور اب بھی لے رہے ہوں۔ قوم کو یہ جاننے کا حق ہے کہ آپ نے اپنے پارلیمانی ادوار میں کتنے نجی بل پیش کیے؟ کتنی مؤثر قانون سازی کی؟ کتنے ایسے اقدامات کیے جن سے عام آدمی کی زندگی میں حقیقی بہتری آئی؟ اگر کئے ہیں تو یہ آپ کی زمہ داری تھی تو پھر اس پر احسان کیوں جتا رہے ہو؟ اور اگر نہیں کی ہے تو پھر آپ نے اپنی بنیادی زمہ داری پوری نہیں کی تو اس تنخواہ کا کیا جو آپ نے اس کے عوض لی ہیں؟گر  کوئی منتخب نمائندہ اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہ کرے تو کیا صرف تنخواہ لینا کافی ہے؟ اگر نہیں، تو پھر اس اصول کا اطلاق سب پر یکساں کیوں نہ ہو؟

اسی طرح آپ کے والد محترم مولانا مفتی محمودؒ نے پارلیمانی سیاست میں اہم کردار ادا کیا، اور آج بھی ان کی خدمات کو احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کیا وہ  بطور عوامی نمائندہ تنخواہ نہیں لیتے تھے؟ اگر لیتے تھے، تو پھر ان کی خدمات پر فخر کیوں کیا جاتا ہے؟ کیونکہ وہ تو تنخواہ کے عوض یہ کر رہے تھےکیا یہ کہنا درست ہوگا کہ وہ تو صرف اپنی تنخواہ کے لئے یہ سب کر رہے تھے؟ یقیناً نہیں، کیونکہ قوم خدمت کو تنخواہ سے نہیں بلکہ کردار اور نتائج سے جانچتی ہے۔

ایک اور سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ مساجد کے ائمہ، خطباء، دینی مدارس کے اساتذہ اور علماء بھی اپنی دینی خدمات کے عوض تنخواہ یا معاوضہ حاصل کرتے ہیں۔ کیا کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ چونکہ وہ تنخواہ لیتے ہیں، اور امامت، تدریس، وعظ و نصیحت اور دینی خدمات تنخواہ کے لئے کرتے ہیں اس لئے اس کی کوئی اہمیت نہیں؟ اگر ایسا کہنا درست نہیں، تو پھر ایک فوجی کی قربانی کو صرف اس بنیاد پر کیوں دیکھا جائے کہ وہ تنخواہ لیتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ تنخواہ کسی بھی ملازم کا قانونی اور شرعی حق ہے، جبکہ فرض شناسی، اخلاص، بہادری اور جان کی قربانی اس کے کردار کی عظمت ہے۔ تنخواہ اور قربانی کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا نہ منطقی ہے، نہ اخلاقی اور نہ ہی قومی مفاد میں۔

اختلافِ رائے ہر سیاسی رہنما کا حق ہے، لیکن جب بات شہداء کی ہو تو الفاظ کا انتخاب انتہائی ذمہ داری سے ہونا چاہیے۔ شہداء کسی ایک حکومت، جماعت یا ادارے کے نہیں ہوتے، بلکہ پوری قوم کے ہوتے ہیں۔ ان کی قربانیوں کا احترام ہم سب کی مشترکہ قومی ذمہ داری ہے۔

اگر آج ہم یہ اصول قائم کر دیں کہ “جو تنخواہ لیتا ہے، اس کی قربانی صرف اس کی نوکری ہے” تو کل یہی اصول ڈاکٹر، استاد، پولیس، ریسکیو اہلکار، جج، عالمِ دین، رکنِ اسمبلی اور ہر سرکاری ملازم پر بھی لاگو ہوگا۔ پھر کسی کو بھی اس کی خدمت پر خراجِ تحسین پیش کرنے کا جواز باقی نہیں رہے گا۔

اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ “کون تنخواہ لیتا ہے؟” بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ “کون اپنی ذمہ داری دیانت، اخلاص اور جانفشانی سے نبھاتا ہے؟”

قومیں اپنے محافظوں، معلموں، معالجوں اور محسنوں کی تنخواہیں نہیں گنتیں، بلکہ ان کی خدمات اور قربانیوں کو یاد رکھتی ہیں۔ یہی زندہ قوموں کی پہچان ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں