ہم کتابوں میں کہانیاں پڑھتے ہیں۔ بہت سے کرداروں سے واقف ہوجاتے ہیں۔ ہم انہی کہانیوں سے حقیقی زندگی میں بھی آگاہ ہوتے ہیں۔ ہم مختلف کرداروں سے بھی ملتے ہیں۔ جان پہچان بھی ہوجاتی ہے۔ کسی کو ہیرو بنا لیتے ہیں۔ کسی کا کردار بر عکس ہوتا ہے۔ پلاٹنگ کرتے ہیں۔ عروج پہ پہنچتے ہیں۔ دھکا لگتا ہے۔ گر جاتے ہیں۔ کھڑے نہیں ہو پاتے۔ آٹھ بار بھی گرو تو نویں بار کھڑے ہو جاؤ جیسی کہاوتیں یا گرتوں کو تھام لے ساقی جیسے ناتواں لیکن مزین مصرعوں سے ان کی واقفیت نہیں ہوتی، کم ہوتی ہے یا اہمیت ہی نہیں دیتے یا وہ جانتے ہی نہیں ہوتے: تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں ، وہ شاید واقف ہی نہیں ہوتے: وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اِک ٹوٹا ہوا تارا, یا شاید وہ نفسیاتی علت کے باعث بھول جاتے ہیں: خوبصورتی دیکھنے والی آنکھ میں ہوتی ہے، یا وہ بظاہر بہت معمولی لیکن حکمت سے بھرپور مکڑی کے جالوں، مکھی کے کرموں، یا مزید معمولی لیکن دانش بھری روز مرہ زندگی ، اتار چڑھاؤ ، تاریخ و ثقافت ، و دیگر ڈائیمنشنز پہ غور و تدبر نہیں کر پاتے۔۔ وہ جانتے ہی نہیں ہوتے کہ کتابیں جو منع ہیں, وہ پڑھی جاتی ہیں، جن لوگوں سے منع ہے، ان کے ڈیرے پہ چائے پیتے ہیں اور جس درخت کا پھل ممنوع ہے، وہ کھاتے ہیں تاکہ کہانی آگے بڑھے وگرنہ دنیا کا وجود ہی بے وجہ ہو جائے۔۔۔ وہ غور و خوض نہیں کر پاتے کیونکہ نظام ان کو دو وقت کی روٹی کمانے میں مصروف رکھتا ہے۔۔ کچھ دو جمع دو چار کے کلیے پہ کام کرتے ہیں اور اسی ڈبے میں ہی فنا ہو جاتے ہیں۔۔ فکشن، کلامیہ، ادب و لسانیات جیسی جادوئی چھڑیوں کا سہارا نہیں لیتے۔۔ پناہیں نہیں ڈھونڈتے، وہ شعور و لا شعور و تحت الشعور: اس آگ سے آگاہ نہیں ہوتے یا ہونا نہیں چاہتے۔۔ انتہاؤں کو چھونے کی کوشش میں توانائی ضائع کر بیٹھتے ہیں۔۔ بھول جاتے ہیں موسیٰ بھی فرعون کے دربار میں بات پہنچانے کے لیے عجز کا شربت پی کر گئے تھے۔۔ تاریخ ظلم و استبداد کا پہاڑ ہے لیکن تاریخ رحم و کرم کا بازار بھی ہے۔۔ ہم سائنسی و غیر سائنسی و سماجی علوم کو دھندے کے لیے ضرور کاٹ سکتے ہیں لیکن جو پتہ، بوٹا سائنسی حرکیات کا نتیجہ ہے ، وہی پتہ، بوٹا ادب و لسانیات میں بھی مختلف مقام رکھتا ہے۔۔ جو ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں یا ہم کسی تاریخی کردار کو کوٹ کرتے ہیں ، وہ اپنی جگہ اہم ہے ، ہونا بھی چاہیے لیکن علوم حقیقی دنیا کا عکس ہیں۔۔ وہ حقائق ماضی میں ہیں۔ حال میں ہیں۔ مستقبل میں ہیں۔ وہی حقائق کتابوں میں بھی ہیں۔ یہی لارجر ڈیٹا اے، آئی بھی حکم پہ مہیا کرتا ہے۔۔ البتہ، محض کتاب کام نہیں کرتی کیونکہ محض دوا و دعا سے مرض بڑھتا جاتا ہے۔۔۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔۔ کتاب میں بھوک کا سبق نہیں سمجھ آتا، بھوکا رہنا پڑتا ہے۔ کھڑکی سے موسم سے محظوظ ہونا ایک بات ہے۔ بارش میں بھیگنا دوسری بات ہے۔ بھیگنے کی اصل وجہ تیسری بات ہے اور زندگی بڑھتی رہتی ہے۔۔۔ یہ چوتھا ورق ہے! اصل مدعا یہ ہے دنیا ایک سٹیج ہے، اور لوگ کردار ہیں، ان کا کام کہانی بنانا ہے، اس کہانی میں اتار بھی ،اور چڑھاؤ بھی ہے۔ وہ کردار بولتے بھی ہیں۔ بلاغت کے ماہر بھی ہیں۔ آئیڈیاز بھی رکھتے ہیں، کنونس بھی کرتے ہیں اور ہو بھی جاتے ہیں۔۔۔ ہمیں تعلیمی نظام کے نام پہ، کلچرز کے نام پہ، تھیوریز کے نام پہ باندھ تو دیا گیا ہے، ہم بندھ بھی گئے ہیں، دھندے پسند آ ہی جاتے ہیں کیونکہ کوئی دھندا چھوٹا نہیں ہوتا، ایسی کوئی برائی بھی نہیں ہے لیکن بہرحال ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کچھ کردار کلاس رومز، لائبریریز یا اکادمیات کی دیواروں سے باہر بھی مقبول ہوتے ہیں، وہ زیادہ سمارٹ بھی ہوتے ہیں، دنیا میں تباہی و بربادی شاید ان کی وجہ سے بھی نہیں ہے کیونکہ شاید وہ مصروف رہتے ہیں۔۔ پناہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔۔ احتساب نہیں کرتے، خود بھی کٹہرے میں نہیں کھڑے ہوتے۔۔ کل میں بائیک پہ تھا۔ میں نے موڑ لیا اور گاڑیوں کے طوفان سے کنارے ہوا۔۔ جہاں گاڑیاں تھیں, وہاں رستہ بھی کٹھن نہیں تھا۔ جہاں خاموشی تھی, جہاں گاڑیوں کے باجے تنگ نہیں کر رہے تھے، وہ ایک جہان تھا لیکن وہاں چڑھائی تھی، آگے بڑھتے ہیں تو بائیک کے ٹائر میں کیل پڑ جاتی ہے۔۔ کہانی میں ٹوسٹ آجاتا ہے، بائیک آگے جا رہا ہے، سوچ کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔۔۔ جب کچھ مزید آ گے بڑھا, سوچ لینے واپس مُڑ گیا۔۔ لہذا آہستہ آہستہ ٹینکی پہ زور دیے چڑھائی سے اترنے لگا کیونکہ پورے مری میں قائد کے فرمان کے مطابق کام، کام، اور بس کام کی وجہ سے محض ایک کھوکھا ہی بچا ہے۔۔ وہ بھی کسی راہ چلتے کردار نے بتا دیا تھا۔۔ جب قریب پہنچا تو دیکھتا ہوں کہ وہ کھوکھا بھی نہیں ہے چونکہ سب دکانیں، کام، کاروبار نئی سوچ کی نظر ہو چکے ہیں۔۔ جھیکا سے لوئر ٹوپہ کی راہ لیں تو راہ میں ایک اکلوتی گاڑی تھی, جس میں ساز و سامان تھا۔۔بائیکس اور غالباً گاڑیوں کا کام کاج بھی ہوتا ہے۔۔ اب یہ کہانی چل رہی ہے، کوئی منتظر ہے لیکن انتطار مزید بڑھ رہا ہے۔۔ انتظام ہو چکا ہے لیکن ذاتی انتظام تھوڑا وقت مانگ رہا ہے۔۔۔ اس کہانی میں مکینک کا کردار بھی اہم ہے۔۔ مکینک کہتا ہے یاد رکھیں جب بھی ٹائر پنکچر جیسی مصیبت سے واسطہ پڑے تو فی الفور دیکھیں کہیں کیل تو نہیں ہے، کیل ہے تو نکال دیں تاکہ پوری ٹیوب متاثر نہ ہو پائے۔۔ پھر کہا کہ اپنا ٹائر نیا لگائیں، ٹیوب لیس ہونا چاہیے، یہ ٹائر فارغ البال ہے۔۔ اس کا بال بھی کوئی بیکا نہیں کر سکتا۔۔ اب وہ ٹائر کھولتے ہیں، ٹیوب نکالتے ہیں، میں دیکھتا ہوں، پھر مزید دیکھتا ہوں: ساتھ ایک مزید کردار ہے جو ریت میں چھریاں چلا رہا ہے، ان کی دیگچی چولہے پہ ہے، آگ بھڑک رہی ہے اور چھلیاں پک رہی ہیں، میں اس کردار کے پاس گیا اور علیک سلیک کے بعد چھلی مانگی، واپس آیا تو مکینک کہتا ہے کہ تین پنکچر ہیں، وہ کہتا ہے دو پٹیوں سے کام چل جائے گا۔۔ اور اجرت میں پانچ سو ہے۔۔ اب دو پٹیوں کے بعد پتہ چلتا ہے، دو اور بھی ہیں، وہ بھی جوڑتا ہے لیکن اس کے پاس ٹب اور پانی نہیں ہے جہاں وہ دیکھ سکے کہ کیا چند سوراخ ہیں یا ساری کشتی ہی پھٹ چکی ہے اور پانی اندر آرہا ہے۔۔ تین چار مزید لگانے کے بعد کہتا ہے کہ یہ ٹیوب بالکل فارغ ہے کیونکہ کیل نے قینچا مارا ہے۔۔ نئی لگے گی۔۔ چارا بھی نہیں ہے۔۔ نئی کتنے کی ہے؟ محض نو سو! لگا دیں پھر! لگ گئی ہے۔۔ اب اصولاً دو ہزار بن گئے ہیں کیونکہ مزدوری بھی شامل ہے۔۔ میں چند جملوں کے تبادلے کے بعد تیار بھی تھا لیکن انھوں نے خود ہی کہہ دیا کہ وہ غلطی چونکہ میری ہے لہذا صرف ہزار روپیہ دے دیں اور میں نے عنایت کر دیا۔۔ مقصد کہانی بنانا نہیں ہے، یہ بتانا ہے کہ بہت سی کہانیاں ہیں، آس پاس ہیں، دائیں، اور بائیں ہیں۔۔ اور بہت سے کردار ہیں جو اوپر، اور نیچے ہیں۔۔ ہر وہ کہانی جس کا اختتام نہ ہو، وہی اصل کہانی ہوتی ہے کیونکہ ہم اختتام نہیں کرتے، تکمیل ہوتی ہے۔


