کچھ تعلقات کا تعارف لفظوں میں نہیں کروایا جا سکتا۔ وہ وقت کے ساتھ بنتے ہیں، خاموشی سے دل میں جگہ بناتے ہیں اور پھر ایک دن احساس ہوتا ہے کہ یہ محض تعلق نہیں، زندگی کے سفر کا ایک حصہ بن چکے ہیں۔مکالمہ سے میرا تعلق بھی کچھ ایسا ہی ہے۔
یکم ستمبر کو مکالمہ اپنی دسویں سالگرہ منا رہا ہے۔ دس برس مکمل کرنا یقیناً کسی بھی ادبی پلیٹ فارم کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے، مگر میرے لیے یہ صرف مکالمہ کی سالگرہ نہیں، بلکہ ان دس برسوں کی یاد بھی ہے جن میں میں نے اسے ایک آن لائن پیج سے بڑھتے ہوئے ایک ایسے ادبی و فکری خانوادے کی صورت اختیار کرتے دیکھا جہاں لفظوں کی آمدورفت کے ساتھ دلوں کا رابطہ بھی قائم رہا۔
مکالمہ کے ساتھ میرا سفر کسی ایک دن یا کسی ایک تحریر سے شروع ہوا ہو، شاید یہ بتانا میرے لیے آسان نہ ہو۔ لیکن اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اس پلیٹ فارم نے مجھے صرف لکھنے کی جگہ نہیں دی، پڑھنے والوں تک رسائی کا ایک راستہ بھی دیا۔ میری تحریروں کو ایک ایسا قاری ملا جو صرف داد دینے والا نہیں تھا بلکہ کبھی سوال کرتا، کبھی اختلاف کرتا اور کبھی کسی جملے کو پکڑ کر ایک نئی گفتگو شروع کر دیتا۔اور شاید یہی مکالمہ کی اصل روح ہے۔
ہم ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جہاں ہر شخص بولنا چاہتا ہے مگر سننا کم چاہتا ہے۔ ہر شخص اپنی رائے کو آخری سچ سمجھنے لگا ہے۔ اختلاف اب دلیل کا دروازہ کھولنے کے بجائے اکثر تعلق کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔ ایسے ماحول میں ”مکالمہ“ کا نام ہی اپنے اندر ایک خوب صورت پیغام رکھتا ہے۔بات کیجیے،……دوسرے کو سنیے،……اختلاف کیجیے، مگر احترام کے ساتھ۔……اور اگر ممکن ہو تو اختلاف کے بعد بھی ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کی جگہ باقی رکھیے۔
میرے نزدیک”مکالمہ“ کی دس سالہ سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ اس نے لفظوں کو محض اظہار نہیں رہنے دیا بلکہ انہیں رابطے کا وسیلہ بنایا۔ان دس برسوں میں ”مکالمہ“ پر بے شمار موضوعات آئے، مختلف لہجوں میں لکھا گیا، مختلف نسلوں اور مختلف ادبی مزاج رکھنے والے لوگوں نے اپنی اپنی آواز کو ”مکالمہ“ کی آواز میں شامل کیا۔ یہاں ادب بھی ہے، سماج بھی،تاریخ بھی ہے، عصری مسائل بھی، فکشن بھی ہے، شاعری بھی؛ تنقید بھی ہے اور شخصی تاثرات بھی۔یہ تنوع مکالمہ کی طاقت ہے۔ایک اچھے ادبی پلیٹ فارم کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ صرف اپنے پسندیدہ موضوعات یا مخصوص حلقے کے لوگوں کو جگہ نہ دے بلکہ خیالات کے لیے دروازے کھلے رکھے۔ ”مکالمہ“ نے اس حوالے سے ایک قابلِ قدر کردار ادا کیا ہے۔
خاص طور پر نئے لکھنے والوں کے لیے ایسا پلیٹ فارم بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ہر لکھنے والا کتاب کے ذریعے اپنی آواز دُنیا تک نہیں پہنچا سکتا۔ بہت سے قلم کار ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے مگر انہیں صرف ایک مناسب وسیلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مکالمہ نے کئی قلم کاروں کے لیے ایک ایسا ہی موئثر وسیلہ بننے کی کوشش کی ہے۔کسی نئے لکھنے والے کی پہلی تحریر کا شائع ہونا شاید ادارے کے لیے ایک معمولی سا واقعہ ہو، مگر اس لکھنے والے کے لیے یہ ایک پوری دُنیا کا دروازہ کھلنے کے مترادف ہوتا ہے۔
میں خود اس احساس سے گزرا ہوں۔اسی لیے ”مکالمہ“ کے لیے میری قدر محض ایک ادبی ویب پیج یا فیس بک پلیٹ فارم کی حیثیت سے نہیں۔ میرے لیے یہ ایک ایسے پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتا ہے جہاں لفظ کو جگہ ملتی ہے، اور لفظ کے ساتھ لکھنے والے کو بھی۔
”مکالمہ“کی ایک اور خوبی اس کا معیار برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔ آن لائن دُنیا میں آج مواد کی کمی نہیں۔ ہر لمحہ ہزاروں تحریریں ہماری اسکرینوں سے گزر رہی ہیں۔ ایسے میں کسی تحریر کو رُک کر پڑھنا، اسے اہمیت دینا اور اسے دوسروں تک پہنچانا ایک ذمہ داری ہے۔ ”مکالمہ“ نے دس برس تک اس ذمہ داری کو نبھانے کی کوشش کی ہے اور یہ اس میں کامیاب بھی رہا ہے۔
ہر زندہ ادارہ اپنے سفر میں خود کو نئے سوالوں سے دوچار کرتا ہے۔ میری خواہش ہے کہ آنے والے برسوں میں ”مکالمہ“ نئی نسل کے لکھنے والوں کے لیے مزید کشادگی پیدا کرے، نوجوان قلم کاروں اور بزرگ اہلِ قلم کے درمیان مزید رابطے کا ذریعہ بنے، کتابوں اور ادبی مباحث پر زیادہ سنجیدہ گفتگو سامنے لائے اور ان موضوعات کو بھی جگہ دے جن پر معاشرہ بات کرنے سے گریز کرتا ہے۔کیونکہ مکالمہ صرف وہاں نہیں ہوتا جہاں سب متفق ہوں۔اصل مکالمہ تو وہاں شروع ہوتا ہے جہاں دو مختلف خیالات ایک دوسرے کے سامنے بیٹھتے ہیں۔
”مکالمہ“ کا دس سال کا سفر پیچھے مڑ کر دیکھنے کا موقع بھی دیتا ہے اور آگے دیکھنے کی ذمہ داری بھی۔میں مکالمہ کے تمام منتظمین، مدیران، لکھنے والوں، قارئین اور ان بے شمار لوگوں کو دل سے مبارک باد دینا چاہتا ہوں جنہوں نے اپنے اپنے حصے کا ایک ایک لفظ اس سفر میں شامل کیا۔
ادبی سفر کبھی ایک شخص کا سفر نہیں ہوتا۔ایک تحریر لکھنے والا، اسے شائع کرنے والا، اسے پڑھنے والا، اس پر تبصرہ کرنے والا اور اسے آگے پہنچانے والا۔سب مل کر ادب کی ایک اجتماعی دنیا بناتے ہیں۔”مکالمہ“ اسی اجتماعی دنیا کا ایک خوب صورت نام ہے۔دس سال پہلے شاید کسی نے یہ سوچا ہوگا کہ ایک آن لائن پلیٹ فارم شروع کیا جائے گا۔لیکن دس برس بعد محسوس ہوتا ہے کہ صرف ایک پیج شروع نہیں ہوا تھا؛ ایک گفتگو شروع ہوئی تھی۔اور میری دعا ہے کہ یہ گفتگو کبھی ختم نہ ہو۔لفظ آتے رہیں۔نئے قلم کار سامنے آتے رہیں۔اختلاف زندہ رہے مگر احترام کے ساتھ۔سوال اٹھتے رہیں۔جواب تلاش کیے جاتے رہیں۔اور سب سے بڑھ کر، انسان کا انسان سے رابطہ قائم رہے۔
مکالمہ کو دسویں سالگرہ مبارک!…………
یہ صرف دس برس مکمل ہونے کی خوشی نہیں، اس یقین کی تجدید بھی ہے کہ اچھا لفظ کبھی ضائع نہیں جاتا۔ وہ کسی نہ کسی دل میں اترتا ہے، کسی ذہن میں سوال پیدا کرتا ہے، کسی خاموش شخص کو بولنے کا حوصلہ دیتا ہے اور کبھی کبھی ایک پوری نسل کے فکری سفر کا حصہ بن جاتا ہے۔”مکالمہ“ نے گزشتہ دس برسوں میں جو کچھ کہا، لکھا اور لوگوں کو کہنے کا موقع دیا، وہ اسی اُمید کی ایک شکل ہے۔ دُعا ہے کہ یہ”مکالمہ“ اگلے دس برسوں میں اور وسیع ہو، اور گہرا ہو، اور زیادہ بے باک ہو۔مگر اپنی تہذیب، اپنے ادبی وقار اور اپنے نام کی رُوح کو ہمیشہ زندہ رکھے۔کیونکہ جب تک ہم ایک دوسرے سے بات کرتے رہیں گے،تب تک امید باقی رہے گی۔اور جب امید باقی ہو تو”مکالمہ“ کبھی ختم نہیں ہوتا۔


