قیادت صرف فیصلے کرنے اور جرات دکھانے کا نام نہیں بلکہ مختلف خیالات کو ایک جگہ جمع رکھنے کا فن بھی ہے۔ جہاں لوگ ہوں گے وہاں اختلاف ہوگا، اور جہاں اختلاف ہوگا وہاں برداشت کی ضرورت پیدا ہوگی۔ وژن راستہ دکھاتا ہے، کردار بنیاد فراہم کرتا ہے، دیانت اعتماد پیدا کرتی ہے، فیصلہ سازی عمل کو جنم دیتی ہے، جواب دہی اسے اخلاقی وزن دیتی ہے اور جرات اسے قائم رکھتی ہے—مگر برداشت اس پورے نظام کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے۔ ایک لیڈر کا اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب اس کے سامنے وہ بات رکھی جائے جو اسے پسند نہ ہو۔
برداشت کا مطلب اپنی بات چھوڑ دینا نہیں، بلکہ دوسرے کو بولنے دینا ہے۔ جو رہنما اختلاف سے گھبراتا ہے وہ حقیقت سے دور ہو جاتا ہے، اور جو اختلاف سنتا ہے وہ حقیقت کے قریب آتا ہے۔ اسی لیے برداشت قیادت کو نرم مزاج بھی بناتی ہے اور مضبوط بھی۔
حضرت محمد ﷺ کی زندگی میں ایک موقع پر ایک دیہاتی نے مسجد میں بے ادبی کر دی۔ صحابہ سخت ردعمل کے لیے آگے بڑھے مگر آپ ﷺ نے انہیں روک دیا اور نرمی سے سمجھایا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ایک رہنما فوری ردعمل کے بجائے اصلاح کو ترجیح دیتا ہے۔ طاقت کے باوجود برداشت اختیار کرنا دلوں کو قریب کرتا ہے۔
تاریخ میں صلاح الدین ایوبی کی مثال ملتی ہے کہ بیت المقدس کی فتح کے بعد انہوں نے دشمنوں کو عام معافی دے دی۔ وہ انتقام لے سکتے تھے مگر انہوں نے امن کو ترجیح دی۔ یہ فیصلہ سیاسی بھی تھا اور اخلاقی بھی، اور اسی نے ان کی قیادت کو عظمت دی۔
خلافتِ بنو امیہ کے حکمران عمر بن عبدالعزیز کے پاس ایک شخص نے آ کر سخت تنقید کی۔ دربار میں موجود لوگ اسے روکنے لگے مگر انہوں نے کہا: “اگر مجھے سچ نہ بتایا جائے تو میں درست کیسے رہوں گا؟” اس ایک جملے نے واضح کر دیا کہ طاقتور لیڈر وہ ہے جو اختلاف سننے کا حوصلہ رکھے۔
عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے عراق بحران کے دوران جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور دیا۔ شدید دباؤ کے باوجود وہ بات چیت کے حق میں کھڑے رہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ طاقت آخری راستہ ہونا چاہیے، پہلا نہیں۔
جنوبی افریقہ میں ڈیسمنڈ ٹوٹو نے سچائی اور مفاہمت کمیشن میں متاثرین اور مجرموں کو ایک ہی کمرے میں بٹھایا۔ مقصد سزا سے زیادہ اعتراف اور شفا تھا۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا مگر اسی نے معاشرے کو خانہ جنگی سے بچایا۔
برداشت کی کمی قیادت کو تنہا کر دیتی ہے۔ جب لیڈر صرف اپنی پسند کی بات سننے لگے تو وہ آہستہ آہستہ حقیقت سے دور ہو جاتا ہے۔ اس کے فیصلے محدود ہو جاتے ہیں اور اعتماد ختم ہونے لگتا ہے۔
آج کے دور میں، جہاں ہر شخص اپنی رائے فوراً ظاہر کرتا ہے، لیڈر کے لیے برداشت پہلے سے زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔ اختلاف کو دبانا آسان ہے مگر سننا مشکل۔ مگر وہی رہنما دیرپا ثابت ہوتا ہے جو مشکل راستہ اختیار کرتا ہے۔
برداشت اور رواداری قیادت کو انسانی بناتی ہے۔ یہ صفت لیڈر کو سخت فیصلے کرتے ہوئے بھی نرم رکھتی ہے۔ جب رہنما اختلاف کو برداشت کرتا ہے تو وہ صرف مسائل حل نہیں کرتا بلکہ لوگوں کو جوڑتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قیادت طاقت سے نکل کر اعتماد میں بدل جاتی ہے اور “لیڈر بننے کا سفر” اپنی پختگی کو پہنچتا ہے۔


