ٹیکنالوجی اور عظیم دہشت کا دور تحریر و تدوین/ محمد شاہ زیب صدیقی

ماس میڈیا (اخبار، انٹرنیٹ، پرنٹنگ پریس) انسانی تاریخ کی وہ ایجادات ہیں، جنہوں نے معاشرے کا رخ موڑ کر رکھ دیا۔ ان ایجادات کے ذریعے دور دراز علاقوں میں بیٹھے افراد یکساں موضوعات پر بات کرنے کے قابل ہوئے، جس کے باعث بادشاہی نظام کمزور پڑا اور جمہوری نظام کی راہ ہموار ہوئی۔ ماس میڈیا کے باعث حکمرانوں کو عوام الناس تک رسائی آسان ہوئی،اس کو ایسے سمجھیے کہ دو ہزار سال پہلے لاکھوں کلومیٹرز پر پھیلی یونانی سلطنت کا بادشاہ جب اپنی رعایا سے خطاب کرتا تو اس کو سننے والے گنے چُنے لوگ ہی ہوتے تھے، اس کی مملکت کے کونے میں موجود کسی کسان کو اس سے غرض نہیں ہوتی تھی کہ بادشاہ کیا کہہ رہا ہے، اگر کوئی بہت ہی اہم پیغام ہوتا تو اس کو سلطنت کے کونے کونے تک پہنچنے میں مہینوں لگ جاتے مگر پھر سولہویں صدی میں پرنٹنگ پریس کا زمانہ آیا اخبارات اور پمفلٹس کی بھرمار ہونا شروع ہوئی، حکمرانوں کے ہر فیصلے پر تبصرے ہونا شروع ہوئے، حکمرانوں کے الفاظ مملکت بھر میں گھوڑے کی رفتار سے پہنچنا شروع ہوگئے۔ کچھ وقت مزید گزرا تو اس رفتار میں مزید بہتری ہوئی، مثلاً 19 نومبر 1863ء کو امریکی صدر ابراہم لنکن نے تاریخی خطاب کیا (جس میں غلامی کے خاتمے کا اشارہ دیا)، ابراہم لنکن کے الفاظ ٹیلی گراف اور اسٹیم انجنز کی رفتار سے ملک کے کونے کونے تک پہنچے، اگلے ہی دن یہ خطاب امریکا بھر کے اخبارات میں شائع ہوچکا تھا، ملک بھر میں اس پر طرح طرح کے تبصرے ہورہے تھے۔ اگلے صرف سو سال کے بعد 1960ء میں جب نیکسن اور کینیڈی کے مابین صدارتی مباحثہ ہوا تو اسے سات کروڑ امریکیوں نے براہ راست ٹی وی پر ایسے دیکھا جیسے سامنے بیٹھے ہوں، انفارمیشن کی یہ رفتار صرف انقلابی نہیں بلکہ انسانی تاریخ کی سب سے طاقتور اور خطرناک قوت بن چکی تھی۔
انفارمیشن کی اس رفتار نے جہاں جمہوری نظام کو مضبوط کیا وہیں آمرانہ نظام نے اس سے خوب فائدہ اٹھایا مثلاً ہزاروں سال قبل کا بادشاہ جتنا مرضی ظالم و جابر ہوتا، اس کی اپنی سلطنت میں ہر ایک تک رسائی مشکل ہوتی تھی، نیرو یہ فرمان جاری کرسکتا تھا کہ جو اس کی توہین کرے تو اس کو سزا دی جائے مگر اس پر مکمل اور فوری عمل کروانا اس کے لیے انتہائی مشکل تھا، یہی وجہ ہے نیرو جتنا بھی ظالم تھا مگر اس کا رعب دبدبہ ایک حلقے تک محدود تھا، اسی خاطر اُس وقت کے بادشاہوں کو باہر سے زیادہ اپنے وفاداروں سے ہی خطرہ رہتا تھا اور زیادہ تر قریبی دوست رشتہ داروں کے ہاتھ ہی مارے جاتے تھے لیکن انفارمیشن کی رفتار بڑھنے سے آمرانہ مزاج کے حکمرانوں کو اپنی عوام پر کنٹرول کرنے کا وہ ٹول ہاتھ لگ گیا جو صدیوں سے دیوانے کے خواب جیسا تھا۔ اس کو سٹالن کے دور سے سمجھ سکتے ہیں۔ بیسویں صدی میں صنعتی انقلاب کے اثرات اور جدید بیوروکریسی کے قیام نے حکومتوں کے لیے بڑے پیمانے پر ایڈمنسٹریٹرز (مقامی عہدیدار) رکھنا ممکن بنا دیا۔ رہی سہی کسر ٹیکنالوجی نے ٹیلی گراف اور ریڈیو کی شکل میں پوری کردی، یوں ایسا حکومتی نیٹ ورک تشکیل پا گیا جو ہر وقت فعال رہتا تھا۔
سٹالن کے پاس سب سے پہلے تو ساڑھے تین کروڑ افراد پر مشتمل ایک فوج اور حکومتی مشینری تھی، دوسرے نمبر پر کمیونسٹ پارٹی کے ڈھائی کروڑ ممبر الگ فعال تھے، ان سب کے علاوہ لاکھوں افراد پر مشتمل خفیہ پولیس NKVD بھی تھی (جسے آج KGB کہا جاتا ہے)۔ یہ سب ملکر جاسوسی کا ایسا مربوط نیٹ ورک قائم کیے ہوئے تھے، جس میں حکومتی عہدیداروں سے لے کر عوام الناس تک جو بھی سٹالن کے خلاف جانے کا سوچتا تو اسے ختم کردیا جاتا۔
سویت یونین کے ہر محلے، ہر گاؤں میں سرکاری افسران، کمیونسٹ پارٹی کے عہدیدار اور خفیہ پولیس کے مخبر موجود تھے اور یہ سب مل کر عوام الناس کی زندگی کے ہر پہلو کو کنٹرول کرتے تھے مثلاً کاروبار سے لے کر کھیتوں تک، تمام اخبارات اور ریڈیو اسٹیشن، یونیورسٹیاں اور سکول، کھیلوں سے لے کر سائنسی اداروں تک، یہاں تک کہ عجائب گھر اور سنیما گھر بھی ان کی نگرانی سے محفوظ نہیں تھے۔ یہ معاشرے میں اتنا سرایت کرچکے تھے کہ اگر دو درجن لوگ بھی اکٹھے ہو کر فٹ بال کھیلتے یا جنگل میں سیر کو جاتے تو کمیونسٹ پارٹی یا خفیہ پولیس کے ایجنٹ ان میں لازمی موجود ہوتے۔ یہاں تک کہ بچوں کو والدین کی باغیانہ سرگرمیوں کی اطلاع دینے پر باقاعدہ انعام دیا جاتا، بعدازاں مذکورہ والدین کو ملک دشمن قرار دے کر مار دیا جاتا تھا۔
سویت حکام کی جانب سے مشکوک افراد اور سرگرمیوں کے بارے میں معلومات کیٹلاگز میں جمع کی جاتی تھیں جنہیں “کارٹو ٹیکی” (kartoteki) کہا جاتا تھا۔ ان میں ملازمت کے ریکارڈ، پولیس فائلیں، رہائشی کارڈز اور دیگر سماجی رجسٹریشن کے ذرائع سے حاصل کردہ معلومات شامل ہوتی تھیں، اور 1930ء کی دہائی تک یہ نظام سوویت آبادی کی نگرانی اور اس پر کنٹرول کا بنیادی ذریعہ بن چکا تھا۔ اس دوران بے تحاشا افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا جن میں 15 ہزار سویت فوجی، آٹھ ایڈمرل، تیرہ جنرل، تین مارشل شامل تھے (جو خفیہ پولیس یہ سب کالے کارنامے انجام دے رہی تھی، اس کے سربراہان کو بھی بعدازاں ایک ایک کرکے ختم کردیا گیا)۔ سٹالن کے اس دور کو آج بھی The Great Terror یعنی “عظیم دہشت کا دور” کہہ کر یاد کیا جاتا ہے۔
اس “عظیم دہشت کا دور” میں سٹالن کی جانب سے “کولاک” (kulaks) نامی اصطلاح متعارف کروائی گئی۔ بظاہر “کولاک” ایسے افراد کو قرار دیا گیا جو بقیہ کی نسبت خوشحال ہیں لیکن عوام الناس میں یہ زہر پھیلایا گیا کہ “کولاک” سویت یونین کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، ان کے پاس جتنی دولت ہے وہ عام عوام کی لُوٹی ہوئی ہے۔ سوویت حکام کے نزدیک کولاک کو شناخت کرنا انتہائی آسان کام تھا۔ مثال کے طور پر، اگر کسی گاؤں میں زیادہ تر لوگوں کے پاس صرف ایک گائے تھی، تو وہ چند خاندان جن کے پاس تین گائیں تھیں، “کولاک” سمجھے جاتے تھے۔ اگر زیادہ تر لوگ مزدوروں کو ملازمت پر نہیں رکھتے تھے، لیکن کوئی ایک خاندان فصل کی کٹائی کے وقت دو مزدور رکھتا تھا، تو اسے “کولاک خاندان” قرار دیا جاتا تھا۔آگے جا کر “کولاک” کو صرف دولت تک محدود نہیں کردیا گیا بلکہ کولاک کو لالچی، خود غرض اور ناقابلِ اعتماد شخص بھی قرار دے دیا گیا کیونکہ سویت حکام کے نزدیک، مارکسی نظریے کے حساب سے دیکھا جائے تو لوگوں کی مالی حالت ان کے سماجی اور روحانی کردار کا تعین بھی کرتی ہے لہٰذا قدرتی طور پر امیر افراد نہ صرف لالچی، خود غرض اور ناقابلِ اعتماد ہوتے ہیں بلکہ ان کی اولاد بھی ایسی ہی ہوتی ہے۔ لہٰذا سٹالن کے دور میں کسی کو “کولاک” قرار دینا گویا اس کی بنیادی فطرت کے بارے میں ایک گہرا انکشاف سمجھا جاتا تھا جیسے یورپی لوگ سولہویں صدی میں کسی کو بھی چڑیل قرار دے کر اس کی زندگی اجیرن کردیتے تھے۔
چونکہ یورپ کے پاس سولہویں صدی میں ٹیکنالوجی کا فقدان تھا لہٰذا یورپ میں تین سو سال میں پچاس ہزار افراد کو ہی “چڑیل” قرار دے کر موت کے گھاٹ اتارا گیا (ان واقعات کا ہم پچھلے مضمون میں بہت تفصیل سے ذکر کرچکے ہیں)۔ اس کے برعکس، “کولاک” کا شکار ایسے ریاستی ادارے کر رہے تھے جن کے پاس ٹیلیگراف، ٹرینیں، ٹیلیفون اور ریڈیو جیسی ٹیکنالوجی اور ایک وسیع بیوروکریسی موجود تھی لہٰذا چند سالوں میں پچاس لاکھ “کولاک” ختم کردیے گئے!
سوویت حکام نے پہلے اندازہ لگایا کہ سوویت یونین میں کتنے “کولاک” ہونے چاہئیں۔ ٹیکس ریکارڈ، ملازمت کے ریکارڈ اور 1926ء کی مردم شماری جیسے ڈیٹا کی بنیاد پر انہوں نے فیصلہ کیا کہ دیہی آبادی کا 3 سے 5 فیصد کولاک ہے۔ مقامی حکام کو مخصوص کوٹے دے دیے گئے۔اکثر مقامی حکام نے اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے “کولاکوں”کے اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ اعداد و شمار دینے کے بعد ہر مقامی عہدیدار کو اپنے زیر انتظام گاؤں میں مقررہ تعداد کے کولاک خاندانوں کی شناخت کرنا پڑتی تھی۔ یہ شناخت کیسے کی جاتی تھی؟ بعض گاؤں میں کمیونسٹ پارٹی کے مقامی ارکان نے جائیداد کی بنیاد پر “دیانتداری” سے شناخت کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں اکثر محنتی اور کامیاب کسان نشانہ بنے۔ بعض جگہ مقامی کمیونسٹوں نے اس موقع کو اپنے ذاتی دشمنوں سے بدلہ لینے کے لیے استعمال کیا۔ کچھ گاؤں میں قرعہ اندازی کی گئی، جبکہ کچھ میں ووٹنگ کے ذریعے کسانوں، بیواؤں اور بوڑھوں کو منتخب کیا گیا۔ “کولاک” ہوجانے کے بعد انہیں ان کے گھروں سے نکال دیا گیا اور پھر ان کی درجہ بندی کے مطابق کچھ کو کہیں اور آباد کیا گیا، کچھ کو حراستی کیمپوں میں قید کیا گیا جبکہ بیشتر کو موت کی سزا سنا دی گئی۔
جو کوئی اس نظام کے خلاف آواز اٹھاتا، اسے خود کولاک کہہ کر ریاست کا دشمن قرار دیا جاتا اور مار دیا جاتا۔
آپ اندازہ لگائیں کہ 1933ء تک تقریباً پچاس لاکھ “کولاکوں” کو ان کے گھروں سے نکال دیا گیا۔ تقریباً تیس ہزار خاندانوں کے سربراہوں کو گولی مار دی گئی۔ تقریباً بیس لاکھ افراد کو دور دراز علاقوں میں جلاوطن کیا گیا یا جبری مشقت کے کیمپوں میں قید کیا گیا۔
سویت یونین کے کئی بڑے منصوبے (جیسے وائٹ سی کینال کی تعمیر اور آرکٹک کی کانیں) انہی قیدیوں کی مشقت سے مکمل ہوئے۔ یہ انسانی تاریخ میں “غلام” بنانے کی سب سے بڑی اور تیز مہم تھی۔
ایک بار کولاک قرار دیے جانے کے بعد، یہ داغ کبھی نہیں مٹتا تھا۔ یہ حیثیت اگلی نسل تک بھی منتقل ہوتی تھی۔ کولاک بچوں کو فوج، یونیورسٹیوں اور اچھی ملازمتوں میں داخلے سے محروم رکھا جاتا تھا۔ سرکاری ادارے اور خفیہ پولیس اس معلومات کو “کارٹو ٹیکی” ریکارڈ میں محفوظ رکھتے تھے۔ کولاک انسانوں کی ایجاد کردہ ایسی “انٹرسبجیکٹو ریالٹی” تھی، جسے ریاستی طاقت کے ذریعے دہائیوں تک ایک ناقابلِ تردید حقیقت بنا کر پیش کیا گیا۔ یہ یقیناً ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے انسانی سفاکیت کی المناک داستانوں میں سے ایک ہے۔
زیب نامہ

اپنا تبصرہ لکھیں