لیڈر بننے کاسفر-خود احتسابی: باوقار قیادت کا معیار(16)-مصورخان

آج کے دور میں قیادت کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ بہت سے لیڈرز خود کو خود احتسابی سے ماورا سمجھنے لگے ہیں۔ وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے دوسروں پر ڈال دیتے ہیں اور اپنی ناکامیوں کا ذمہ قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ یہی رویہ قیادت کو کمزور کرتا ہے اور قوموں کو زوال کی طرف لے جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک سچا لیڈر وہی ہوتا ہے جو سب سے پہلے خود کو کٹہرے میں کھڑا کرے اور اپنے اعمال کا جائزہ لے۔ یہی صفت خود احتسابی کہلاتی ہے، اور یہی حقیقی قیادت کا نقطۂ آغاز ہے۔
خود احتسابی دراصل انسان کو اپنی حدود کا احساس دلاتی ہے۔ یہ اسے غرور، خود پسندی اور غلط فیصلوں سے بچاتی ہے۔ ایک لیڈر جب اپنے فیصلوں، اپنے رویوں اور اپنی نیتوں کا جائزہ لیتا ہے تو وہ نہ صرف اپنی اصلاح کرتا ہے بلکہ اپنی قیادت کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ اس کے برعکس جو لیڈر خود احتسابی سے دور ہو جائے، وہ آہستہ آہستہ حقیقت سے کٹ جاتا ہے اور اس کے فیصلے قوم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
حضرت محمد ﷺ کی زندگی خود احتسابی کی سب سے اعلیٰ مثال ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال وہ واقعہ ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں سورۃ عبس میں آتا ہے۔ ایک موقع پر آپ ﷺ قریش کے سرداروں کو دین کی دعوت دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک نابینا صحابی آئے اور رہنمائی کی درخواست کی۔ بظاہر آپ ﷺ کی توجہ بڑے لوگوں کی طرف رہی، جس پر اللہ تعالیٰ نے فوراً اصلاح فرمائی۔ اس واقعے کے ذریعے نہ صرف آپ ﷺ کی رہنمائی کی گئی بلکہ پوری امت کو یہ سبق دیا گیا کہ ایک عظیم ترین لیڈر بھی خود احتسابی سے بالا نہیں ہوتا۔ یہ واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حقیقی قیادت اپنی اصلاح کو قبول کرنے اور اس سے سیکھنے میں ہے۔
حوالہ: قرآن مجید، سورۃ عبس آیات 1تا 10

تاریخ میں  حضرت عمر بن خطابؓ (Umar ibn al-Khattab )کی شخصیت خود احتسابی کی ایک روشن مثال ہے۔ وہ ایک عظیم حکمران ہونے کے باوجود ہمیشہ اپنے اعمال کا جائزہ لیتے تھے۔ ان کا یہ قول کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر جائے تو عمر اس کا ذمہ دار ہوگا، دراصل ان کے احساسِ جوابدہی کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ راتوں کو گشت کرتے، عوام کے حالات دیکھتے اور خود کو ہر معاملے میں ذمہ دار سمجھتے تھے۔ یہی خود احتسابی انہیں ایک مثالی حکمران بناتی ہے۔
برصغیر کے خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان ( Abdul Ghaffar Khan)کی زندگی بھی خود احتسابی کی ایک بہترین مثال ہے۔ وہ عدم تشدد کے علمبردار تھے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اپنی ذات اور اپنے کارکنوں کا مسلسل جائزہ لیتے تھے۔ اگر تحریک میں کہیں غلطی ہوتی تو وہ سب سے پہلے اپنی ذمہ داری تسلیم کرتے اور اصلاح کی کوشش کرتے۔ ان کی قیادت اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک سچا رہنما اپنی انا کے بجائے اپنی اصلاح کو ترجیح دیتا ہے۔
اسی طرح عالمی سطح پر  ابراہم لنکن(Abraham Lincoln) کی قیادت بھی خود احتسابی کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔ انہوں نے ایک مشکل دور میں امریکہ کی قیادت کی، مگر اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے اور ان سے سیکھنے کا حوصلہ رکھا۔ وہ اپنے فیصلوں پر نظرِ ثانی کرتے اور اگر کوئی فیصلہ درست نہ ہوتا تو اسے بدلنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے۔ یہی خوبی انہیں ایک عظیم رہنما بناتی ہے۔
عصرِ حاضر میں  جیسنڈا آرڈرن (Jacinda Ardern)کی قیادت بھی خود احتسابی کی ایک نمایاں مثال ہے۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کی قیادت کرتے ہوئے نہ صرف ہمدردی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا بلکہ جب انہیں محسوس ہوا کہ وہ اپنی ذمہ داری کو پہلے جیسا مؤثر طریقے سے ادا نہیں کر پا رہیں، تو انہوں نے خود عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ یہ قدم اس بات کی علامت ہے کہ ایک سچا لیڈر اپنی ذات سے زیادہ اپنی ذمہ داری کو اہم سمجھتا ہے۔
ان تمام مثالوں سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ خود احتسابی کے بغیر قیادت کمزور ہو جاتی ہے۔ ایک لیڈر جو اپنی غلطیوں کو تسلیم نہ کرے، وہ نہ صرف خود نقصان اٹھاتا ہے بلکہ اپنی قوم کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے برعکس ایک خود احتسابی کرنے والا لیڈر مسلسل سیکھتا ہے، بہتر ہوتا ہے اور اپنی قیادت کو مضبوط بناتا ہے۔
آج کے دور میں خود احتسابی کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ قیادت کے مواقع زیادہ ہیں مگر چیلنجز بھی بڑھ گئے ہیں۔ ایسے میں ایک لیڈر کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے فیصلوں کا مسلسل جائزہ لے، اپنی کمزوریوں کو پہچانے اور اپنی اصلاح کرتا رہے۔ یہی عمل اسے بہتر فیصلے کرنے کے قابل بناتا ہے۔
میری ناقص رائے کے مطابق خود احتسابی وہ آئینہ ہے جس میں ایک لیڈر اپنی اصل صورت دیکھتا ہے۔ یہ وہ صفت ہے جو اسے غرور سے بچاتی ہے، اسے حقیقت سے جوڑے رکھتی ہے اور اسے مسلسل بہتر بننے کی ترغیب دیتی ہے۔ ایک لیڈر جو خود احتسابی کرتا ہے، وہی دوسروں کی حقیقی رہنمائی کر سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ خود احتسابی قیادت کی روح ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جو ایک لیڈر کو اندر سے مضبوط بناتی ہے اور اسے درست راستے پر قائم رکھتی ہے۔ یہی وہ صفت ہے جو قیادت کو وقتی کامیابی سے نکال کر دائمی عظمت تک پہنچاتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں