خدشات کی جنگ: ایک نفسیاتی مطالعہ/ڈاکٹر اختر علی سید

جنگ جب کسی خطے پر سایہ ڈالتی ہے تو سب سے پہلے سچ کی سانس رکتی ہے۔ سچ ایک ایسا مسافر ہے جو جنگ کے ابتدائی دھماکے میں ہی زخمی ہو جاتا ہے، اور پھر باقی سفر آدھے اور مکمل جھوٹ، پروپیگنڈے، تعصبات، خواہشات اور خوف کے کندھوں پر طے ہوتا ہے۔ ایران کے گرد جو جنگی فضا بنی ہے، اس میں بھی یہی ہوا ہے۔ خبر اور افواہ کے درمیان لکیر اتنی دھندلی ہو چکی ہے کہ لوگ اب سچ کو پہچاننے کے بجائے اس سے بچنے لگے ہیں۔ ہر طرف ایک شور ہے، ایک بے چہرہ ہجوم ہے جو سوشل میڈیا کی اسکرینوں پر چیختا ہے، اور حقیقت اس شور میں دب کر رہ جاتی ہے۔
جعلی خبروں کا یہ سیلاب کسی ایک ملک یا ایک طاقت کا نہیں، یہ پوری دنیا کے ذہنی نظام پر حملہ ہے۔ ایک طرف گالیاں بکتا، کف بہاتا اور دھمکیاں دیتا پگھلتی ہوئی سپر پاور کا سربراہ ہے تو دوسری طرف عقائد میں لپٹے مقاصد اور بیانات، کوئی پرانی ویڈیو نئے واقعات کے نام پر پھیلائی جاتی ہے، کوئی تصویر کسی اور ملک کی ہوتی ہے مگر اسے ایران کی تباہی کا ثبوت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ لوگ بغیر سوچے سمجھے اسے آگے بڑھاتے ہیں، جیسے جنگ کی آگ میں مزید تیل ڈال رہے ہوں۔ اس عمل میں نہ صرف سچ مر رہا ہے بلکہ انسان کی وہ بنیادی صلاحیت بھی کمزور ہو رہی ہے جسے ہم شعور کہتے ہیں۔ جنگیں اب میدانوں میں نہیں لڑی جاتیں، وہ ذہنوں میں لڑی جاتی ہیں، اور ذہنوں کو فتح کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہی ہے کہ انہیں جھوٹ سے بھر دیا جائے۔
لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک وہ لمحہ ہے جب لوگ اپنی خواہشات اور نظریات کو حقیقت کا لبادہ پہنا دیتے ہیں۔ ہر شخص اپنی پسند، اپنے خوف، اپنے نظریے اور اپنی امید کے مطابق خبر کو موڑ لیتا ہے۔ کچھ کے نزدیک امریکہ کے ہائی ٹیک جہازوں کو مار گرانا بڑی کامیابی تھا جبکہ بعض کے نزدیک امریکہ کا ان جہازوں کے عملے زندہ بچا لینا ایران کی ایسی ناکامی تھی جس پر اسے سرینڈر کردینا چاہیے تھا۔
نفسیات کے ایک طالب علم کو یوں لگتا ہے جیسے حقیقت کوئی ٹھوس شے نہیں رہی، بلکہ ایک نرم موم ہے جسے ہر ہاتھ اپنی مرضی کے مطابق شکل دے رہا ہے۔ ایران کے گرد بنتی ہوئی اس جنگی فضا میں یہ رجحان اور بھی شدید ہو گیا ہے۔ کوئی ایک واقعہ ہوتا ہے، مگر اس کی دس تشریحات سامنے آتی ہیں، اور ہر تشریح اپنے قائلین کے لیے “سچ” بن جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر بیٹھے لوگ اب صرف پیغامات فارورڈ کرنے والے رپورٹر نہیں رہے، بلکہ وہ اب “سینیر دفاعی تجزیہ کار” بن چکے ہیں جبکہ ایک بڑی تعداد خود کو مورخ سمجھنے لگی ہے۔ ایسے مورخ جو اپنی
مرضی کی تاریخ لکھنے پر قادر بھی ہیں اور مصر بھی۔ ایسا ہر شخص اپنی خواہش اور تعصب بلکہ بغض کو خبر بنا کر آگے بڑھا دیتا ہے، جیسے جنگ کی آگ میں اپنی طرف سے ایک اور چنگاری ڈال رہا ہو۔
طاقت ور ریاستوں کے بیانات، دھمکیاں اور سخت لہجہ اس نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں۔ ایران کو جہنم بنانے کا اعلان قانون اور انسانیت سے کہیں ماورا طاقت کا اعلان اور اس کا اعادہ ہے۔ طاقت کا یہ اظہار صرف میزائلوں یا فوجی تیاریوں کا نہیں ہوتا، یہ اعصاب پر قبضہ کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ دنیا کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ طاقت کی زبان یہی ہے، اور اسے سمجھنا ہی پڑے گا۔ ایسے بیانات صرف ایران کے لیے نہیں ہوتے، بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک علامتی پیغام ہوتے ہیں کہ عالمی سیاست میں سچ کی کوئی حیثیت نہیں، صرف طاقت کی گونج ہی حقیقت سمجھی جاتی ہے۔
ایران کے اندر عوام کا ردِعمل ایک ہی رنگ کا نہیں۔ کوئی اپنے وطن کے دفاع کی بات کرتا ہے، ایران میں ہزاروں ہر رات اپنے اپنے شہر کے اہم مقامات پر اکھٹا ہو کر یہ پیغام دیتے ہیں کہ “مار سکو تو مار لو”۔ اس کو قومیت کہیں یا مذہبیت۔ اس کو دیکھا جا سکتا ہے اور سمجھنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ وہیں بہت سے اپنے ہی نظام سے تھکے ہوئے ہیں اور چپ ہیں، کوئی خوف میں ہے، کوئی غصے میں، اور کوئی خاموش۔ یہ خاموشی سب سے زیادہ بولتی ہے، کیونکہ کبھی کبھی خوف زبان کو کھا جاتا ہے۔ ایرانی عوام ایک دوہری جنگ لڑ رہے ہیں۔ ایک بیرونی خطرے کے خلاف، اور ایک اندرونی بے یقینی کے خلاف۔ ان کے دلوں میں ایک مستقل سوال ہے کہ یہ سب کب رکے گا، اور کیا کبھی رکے گا بھی یا نہیں۔
دنیا بھر میں پھیلے ایرانیوں کے دل میں ایک عجیب سا تضاد ہے۔ وہ اپنی مٹی سے محبت بھی کرتے ہیں اور اسی مٹی پر قائم نظام سے ناراضی بھی رکھتے ہیں۔ ان کے لیے یہ جنگ صرف سیاسی نہیں، وجودی ہے۔ وہ اپنے وطن کو جلتا دیکھ کر ٹوٹتے ہیں، مگر اس نظام کی غلطیوں پر بھی دل میں بوجھ رکھتے ہیں۔ ڈائسپورا ہمیشہ دو حصوں میں بٹا رہتا ہے۔ ایک حصہ وطن، دوسرا حصہ آزادی مانگتا ہے۔ جنگ ان دونوں حصوں کو مزید دور کر دیتی ہے۔ اور اس تقسیم کے اندر بھی ایک اور تقسیم ہے: کوئی کہتا ہے کہ یہ جنگ حکومت کی غلطیوں کا نتیجہ ہے، کوئی کہتا ہے کہ یہ بیرونی طاقتوں کی سازش ہے، کوئی کہتا ہے کہ عوام اس سب کے اصل شکار ہیں۔ ہر شخص اپنی شناخت، اپنی تاریخ اور یادوں اور اپنے زخموں کے مطابق حقیقت کو سمجھتا ہے۔
میرے لیے زیادہ دلچسپ صورتحال پاکستان میں ہے۔ یہاں بھی رائے ایک سمت میں بہتا ہوا دریا نہیں۔ یہ ایک ٹوٹا ہوا آئینہ ہے جس کے ہر ٹکڑے میں ایک الگ منظر ہے۔ کوئی ایران کو مظلوم سمجھتا ہے، کوئی اسے طاقت کے کھیل کا حصہ کہتا ہے، کوئی اسے مذہبی استبداد کے طور پر دیکھتا ہے اور کوئی جغرافیائی سیاست کے تناظر میں۔ ہر شخص اپنی عقیدت، اپنی وابستگی، تعصب، اپنی تاریخ اور اپنے خوف کے مطابق خبر کو معنی دیتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جا رہی، بلکہ ہر شخص کے ذہن میں ایک الگ محاذ کھل چکا ہے۔
نظریات، تعصبات اور بغض کس طرح سچ کو دھندلاتے ہیں اس کا مظاہرہ ان تحریروں میں صاف دکھائی دیتا ہے جہاں لکھنے والے ایران کی مخالفت میں اسریل کی حمایت کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ (ان میں اسریل کے اعلانیہ اور خفیہ سپانسرڈ دورے کرنے والے شامل نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے تو بہر طور یہ کرنا ہی ہے) بات بے پیسے کے وکیلوں کی ہورہی ہے جو ایران کے اندرونی معاملات(جو ناقابل دفاع ہیں) کی آڑ میں اسریل جیسی ریاست کو “زمہ دار” ریاست قرار دیتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ یہ وہ ریاست ہے جس کے منتخب سربراہ کو عالمی عدالت انصاف نسل کشی جیسے بڑے جرم کا مرتکب قرار دے چکی ہے۔ دنیا کے قانون پسند ریاستوں میں داخلے کی صورت میں وہ سیدھا جیل جائے گا۔
تعصبات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی کا یہ دھواں سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ یہ مستقبل کی آنکھوں میں جلن پیدا کرتا ہے۔ لوگ سوچتے ہیں کہ کل کیا ہوگا، یہ آگ کہاں تک پھیلے گی، کیا مشرق وسطی کبھی سکون دیکھے گا۔ یہ سوالات کسی ایک ملک کے نہیں، پوری انسانیت کے سوالات ہیں۔ جنگ کا سب سے بڑا زخم وہ نہیں ہوتا جو جسم پر لگتا ہے، وہ ہوتا ہے جو مستقبل پر لگتا ہے۔
صرف ایران نہیں، پورا مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا ایک نفسیاتی دباؤ میں ہے۔ دنیا بھر میں لوگ اس جنگ کو اپنی اسکرینوں پر دیکھتے ہوئے ایک عجیب سا وجودی خوف، اور اضطراب محسوس کر رہے ہیں، جیسے انسانیت کسی بڑے موڑ پر کھڑی ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ اگلا قدم کس سمت پڑے گا۔
آخر میں سچ اب بھی کہیں موجود ہے، مگر وہ زخمی ہے، تھکا ہوا ہے، اور جنگ کے شور میں اس کی آواز بہت مدھم ہو گئی ہے۔ جنگیں صرف جسموں کو نہیں مارتی، وہ سچ کو بھی زخمی کر دیتی ہیں۔ اور جب سچ زخمی ہو جائے تو انسانیت ایک ایسی دھند میں بھٹکنے لگتی ہے جہاں ہر شخص اپنی مرضی کا راستہ بناتا ہے، مگر منزل کسی کو نظر نہیں آتی۔
جنگ ضرور تھمے گی مگر انسانی ذہن میں اس کے دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کبھی مدھم نہیں ہوں گے۔
نفسیات کے طالب علم کے لیے ان خدشات کے سائے میں زندہ رہنا بمباری کے دوران کسی بنکر یا خندق میں زندگی گزارنے سے کم ہولناک نہیں ہوگا کیونکہ بمباری رک جائے گی خدشات نہ صرف باقی رہیں گے بلکہ اگلی نسل کو منتقل بھی ہوں گے۔

بشکریہ فیس بک وال

اپنا تبصرہ لکھیں