“اگر شاعر کے کلام نے اندھیرا نہیں پھیلایا تو وہ قابل قدر ہے، ذاتی کردار جو بھی ہو”
اگر وہ صرف “شاعر ” ہوتا تو واقعی یہ کلیہ اس پہ صادق آتا ۔ ہم نے کبھی اس کے معاصر ناصر کاظمی ، مختار صدیقی ، شکیب جلالی ، قتیل شفائی ، میرا جی ، مجید امجد وغیرہ وغیرہ کی ذاتی زندگی اور کردار میں جھانکنے کی کوشش نہیں کی ۔ ان سے کبھی نہیں پوچھا کہ وہ دوسری جنگ عظیم میں کیپٹن یا کرنل کی وردی پہنے تھے کہ نہیں ، آل انڈیا ریڈیو پر انھوں نے کوئی گیت برٹش سرکار کے لیے لکھ کر دیے تھے کہ نہیں ،محکمہ پروپیگنڈا ہائے جنگ کی نوکری کی تھی کہ نہیں ۔
ہم نے ناصر کاظمی کو مشرقی بنگال پر
وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے ؟
جیسے consciously unconscious یعنی تجاہل عارفانہ کی صفت لیے شعر پر اعتراض وارد نہیں کیا تھا ۔
میں نے چند دن پہلے “بشیر بدر ” کی موت پر عدالت لگانے والوں کی خوب خبر لی تھی ، اسی لیے کہ بشیر بدر شاعر تھا اور بس شاعر تھا ۔
لیکن جب سوال ترقی پسند تحریک کے معمار ادیبوں ، شاعروں اور لکھاریوں کا آئے گا تو پیمانہ نقد فقط ان کے شاعر و ادیب ہونے کا نہیں رہے گا بلکہ اس تحریک میں جو “سماجی وابستگی ” کا سوال ہے وہ ہی بنیادی پیمانہ نقد بنے گا ۔
یہاں کچھ شاعر اور ادیب جن میں ترقی پسند عناصر خوب موجود تھے لیکن وہ تنظیمی وابستگی کے دائرے میں نہیں آتے تھے تو ان کی سماجی اور ذاتی زندگی کو بھی استثناء حاصل ہوگا جیسے “جوش ملیح آبادی ” تھے ، “فراق گورکھپوری ” تھے ۔ ہم نے ان کی زندگی میں بھی جھانک کر نہیں دیکھا اور ان کے سامنے بھی سوال نہیں رکھے ۔
لیکن ہمارا موضوع بحث شخص “وابستگی ” کے سوال سے جڑا ہوا تھا ، اس لیے سماجی ، سیاسی آشوب کے زمانوں میں اس کا کردار ، موقف ، اس کی داخلیت جسے ذاتی زندگی کہا جاتا ہے وہ ضرور زیر بحث آئے گی ، پیمانہ نقد پر اس کا وزن بھی کیا جائے گا ۔
کمیونسٹ آئیڈیالوجی سے وابستہ شخص تو اس پیمانہ نقد سے استثنا پا ہی نہیں سکتا چاہے وہ کتنا ہی بڑا شاعر ، ادیب اور دانشور کیوں نہ ہو ۔ اس کی ذات کے کمزور پہلو کسی بلنڈر سے کم نہیں ہوں گے ۔
یہ اس کا ذاتی کردار نہیں تھا ۔
وہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے بنائے پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن محاذ کا نائب صدر تھا ۔
پاکستان پوسٹل یونین کا جنرل سیکرٹری تھا ۔ نظریاتی اعتبار سے کمیونسٹ بلاک کے ساتھ خود کو کھڑا کرتا تھا ۔ استعمار دشمن قوتوں سے خود کو جوڑتا تھا ۔
سوویت یونین کی حکومت سے انعام و اکرام لیتا تھا ۔ بہت سارے مادی فائدے حاصل کرتا تھا ۔ سب سے بڑھ کر اس ملک کے مزدور ، کسان ، طالب علم ، انقلابی دانشور ، ادیب آمریتوں اور عوام دشمن حکمران اشرافیہ کے خلاف اسے اپنے ساتھ کھڑا دیکھنا چاہتے تھے ۔
اس کا فرض بنتا تھا کہ وہ دور ابتلاء میں مصلحتوں کا شکار نہ ہوتا اور خاموش نہ رہتا بلکہ وہ زبان اور قلم دونوں کو استعمال کرتا ۔
اس نے آمر ایوب خان ، جمہوری حکومت دونوں ادوار میں فسطائی اقدامات پر نہ صرف خاموشی اختیار کی بلکہ وہ سرکار کا تنخواہ دار بنا رہا ۔اس کا یہ کردار ذاتی اس لیے نہیں تھا کہ اس کردار کے ساتھ وہ ظالموں کے کیمپ میں کھڑا تھا ۔
اس سے کسی مزدور اور کسان نے یہ مطالبہ نہیں کیا تھا کہ وہ حبیب جالب کے رنگ میں شعر کہے یا تنویر سپرا بن جائے ۔ کسی نے نہیں کہا تھا کہ وہ شعر کے نام پر پمفلٹ بازی شروع کر دے ۔
بات اس کی شاعری کی قدر و قیمت کی ہو ہی نہیں رہی ۔ بات اس وابستگی کی ہورہی ہے جس کی تائید وہ خود بھی کرتا تھا کہ ادیب کی سماج میں وابستگی اس کے ترقی پسند ہونے نہ ہونے کا تعین کرتی ہے ۔
اگر ڈاکٹر رشید جہاں زندہ ہوتیں تو اس کے بخئیے ادھیڑ کر رکھ دیتیں ۔
وہ
تیرا حسن اب بھی دلکش ہے مگر کیا کیجیے
کچھ عشق کیا کچھ کام کیا
جیسے مصرعوں کو اس کے منہ پر دے مارتیں ۔
اس نے کہا تھا کہ اپنی ذات اور ذاتی واردات دل کو سنبھال کر رکھو اسے اپنے فن کا امتیازی نشان مت بناؤ ۔۔۔ جاو جاکر امرتسر کے ریلوے مزدوروں ، پوسٹل ورکرز اور کسانوں میں کام کرو ، اس نے اس شاعر کو وہاں جانے پر مجبور بھی کیا تھا ۔۔۔۔ اس نے اس کے عورتوں کے رسیا ہونے کی عادت پر شدید تنقید کی تھی ۔ اس کے مرنے کے بعد اسے لوگوں نے ہتھیلی کا چھالا بنا لیا اور اس کی تربیت درمیان میں رہ گئی ، یہ بار بار اپنی پیٹی بورژوازی سوچ اور کردار تلے دب کر رہ جاتا تھا ۔ یہ خوامخواہ اقبال کا دفاع کیا کرتا تھا ۔ اس کے پاکستانیت اور پاکستانی کلچر کے نام پر لکھے گئے مضامین اٹھا کر دیکھیں اس میں اور آج کے پاکستانی لبرل میں کوئی فرق نظر نہیں آئے گا ۔ مشرقی پاکستان کے المیے پر اس کی اپروچ تو دیکھیں
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد
اس سے پوچھیں مغربی پاکستان والوں نے کب بنگالیوں کو برابر کا انسان سمجھ کر ملاقاتیں کی تھیں جنوری 1948ء میں ان کا سواگت گولیوں سے کیا تھا اور انتہا نسل کشی پر کی تھی اور اس انتہا کو یہ کہتا ہے کہ
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
یہ سمجھتا تھا کہ اس کی 71ء کے فوجی آپریشن پر خاموشی اور بنگالیوں کی نسل کشی پر ایک حرف مذمت تک کہنے یا لکھنے سے گریز کے بعد علیحدگی پر اس کے آنسوؤں کی بارش سے اس کا جرم دھل جائے گا ۔۔۔ بنگالی دانشور اور شاعر نذر الاسلام نے ٹھیک کہا تھا کہ “جناب ! خون کے دھبے برساتوں سے دھلنے والے نہیں ہیں ” ۔۔۔۔ اسے رعایتی نمبر اس لیے نہیں دیے جاسکتے کہ اسے آگاہی تھی ، علم تھا اور شعور تھا کہ کیا ہورہا ہے یہ تب بھی چپ رہا ۔۔۔۔ اس کی ندامت اس وقت ڈھونگ لگتی ہے جب یہ 74ء کے آپریشن پر خاموش رہا اور نیپ کی حکومت کے خاتمے کے باوجود سرکاری نوکری سے چمٹا رہا ۔ اس نے تو اپنے مزدور شاعر حبیب جالب کو حیدرآباد سازش کیس میں مرکزی ملزمان میں شامل کرنے پر احتجاجا استعفی تک نہ دیا ۔۔۔۔۔ جس میر رسول بخش تالپور کا یہ مہمان ہوا کرتا تھا اس کے زیر عتاب آنے پر بھی اس نے بھٹو سے باز پرس تک نہ کی ۔
جس حکمران نے اسے نوکری دی اسے جس ڈکٹیٹر نے نکال باہر کیا تو یہ تب بھی احتجاج کرتا ہوا مستعفی نہیں ہوا جب تک اس آمر نے اسے نوکری سے نکال نہ دیا۔ ترقی پسند ادب سے وابستہ شاعر اور ایک مزدور کمیونسٹ ٹریڈ یونینسٹ کے یہ اطوار اور رنگ ڈھنگ نہیں ہوا کرتے۔
یہ وابستہ ترقی پسند انقلابی شاعر سے کہیں زیادہ ایک ” لبرل برانڈ ” تب بھی تھا جب اس کی بیٹیوں نے اسے “برانڈ ” بناکر دلال سرمایہ داروں کو بیچنا شروع نہیں کیا تھا ۔ محاورتن کہوں تو اس کے مراسم حسین سے بھی تھے اور یزید سے بھی تھے ۔ اور زیادہ سے زیادہ اپنے وقت کا محض “فرزدق” تھا اور کچھ نہیں تھا۔
میں نے اس کے پاکستانیت ، پاکستانی کلچر ، تہذیب ، زبان اور ادب پر مضامین پڑھے تو میرا خون کھول اٹھا ، مجھے سمجھ آیا کہ کیوں حسن عسکری صاحب یہ کہتے تھے کہ کلچر اور تہذیب پر کسی کو پڑھنا ہو تو فیض کو پڑھو ، کیوں وہ مظفر علی سید ، سجاد باقر رضوی ، سجاد میر ، سلیم احمد جیسوں کے لیے قابل قبول ٹھہرا تھا ؟ کیوں وہ کیفی ، علی سردار جعفری اور دیگر ترقی پسندوں کی طرح ان کے طنز کے نشتروں سے محفوظ رہا تھا ۔
ابھی تو میں نے اس کی مداح اور عشق میں گرفتار عالیہ امام کا قصہ نہیں لکھا۔ دل بھی نہیں کرتا کہ تلخی کو اور بڑھاؤں۔ دل تو چاہتا ہے کہ اس کے پیٹی بورژوازی رومان پرور انقلابیت کے تصور شاعری کی رد تشکیل بھی لگے ہاتھ لکھ ڈالوں پھر خیال آتا ہے کہ کتنے نازک آبگینوں کو چوٹ لگے گی ۔ کتنے دوست ناراض ہو جائیں گے ۔ میں تو پہلے ہی قدیر طاہر کے اس شعر کی تجسیم بنا پھرتا ہوں
ایک تو عالم غربت ہے رہ جاناں میں
اور تو خواہش بھی نایاب لیے پھرتا ہے
دوستوں کے معاملے میں ، میں پہلے ہی غریب تر ہو چکا ہوں ۔ غالب کو تو اس کی تلخ نوائی پر لوگ معاف کردیا کرتے تھے ، مجھ غریب کو “معافی ” ملنا مشکل ہے۔


